Al-Risala · October 1994

خوار از مہجوری قرآن شدی شکوہ سنج گردش دوراں شدی

Al-Risala, October 1994, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کے تمام علماء اور دانشور پچھلے تقریباً سترسال سے اس شعر کو دہرا رہے ہیں۔ کسی ایک شخص کو بھی اس سے اختلاف یا اعتراض نہیں۔ اب غور کیجئے کہ قرآن کو چھوڑنے کا مطلب کیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ قرآن مسلمانوں کے گھروں میں موجود نہیں۔ یا اس کی طباعت و اشاعت بند کر دی گئی ہے۔ یا اس کی تلاوت کرنے والے دنیا میں نہیں رہے۔ ان پہلوؤں سے آج بھی مسلمان اس کتاب الہی کو پکڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان پہلوؤں سے قرآن کا رواج اب پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مسلمانوں نے نماز، روزہ، حج اور زکوۃ کے احکام ترک کر دئیے ہیں۔ عبادتیں آج دھوم کی حد تک مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں۔ مقامی مسجدوں سے لیکر کہ اور مدینہ کی مسجد تک ہر جگہ توسیع ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود مسجدیں نمازیوں کے لئے تنگ ہو رہی ہیں۔

اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اسلامی ادارے، اسلامی جماعتیں، اسلامی تحریکیں، اسلامی کانفرنسیں آج کی دنیا میں نہیں ہو رہی ہیں۔ یہ سب کام بھی آج ہمیشہ سے زیادہ ہو رہے ہیں۔ اسلام پر آج جتنا زیادہ لکھا اور بولا جا رہا ہے اتنا زیادہ چودہ سو سال میں بھی اسلام پر لکھا یا بولا نہیں گیا تھا۔ حتیٰ کہ جہاد و قتال کا عمل بھی تقریباً تین سو سال سے مسلسل جاری ہے۔

پھر قرآن کو چھوڑنے کا مطلب کیا ہے۔ غور کیجئے تو قرآن کی ایک ہی تعلیم ایسی ہے جس کو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے مطلق طور پر چھوڑ رکھا ہے۔ اور وہ صبر کا حکم ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان صبر کے شعور سے اتنا زیادہ بیگانہ ہو چکے ہیں کہ وہ صبر کو بزدلی اور پسپائی کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن میں تمام عبادات اور احکام سے زیادہ صبر پر زور دیا گیا ہے۔ مسلمانوں نے سارے قرآن کو نہیں چھوڑا۔ انھوں نے قرآن کی صرف ایک تعلیم (صبر) کو چھوڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ قرآن کی تمام برکتوں سے محروم ہوگئے(ومایلقاھاالاالذین صبروا)

Printed page