موافق میدان
Al-Risala, October 1994, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ تعالیٰ کی ایک خصوصی مدد یہ ہے کہ اس نے دعوت کے میدان کو ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کا اپنا موافق میدان (ground of one's own choice) بنا دیا ہے۔ کسی اور میدان میں ان کا حریف ان کے اوپر فائق ہو سکتا ہے۔ مگر جب ان کا اور ان کے حریف کا مقابلہ دعوت کے میدان میں ہوگا تو لازمی طور پر وہ اپنے حریف کے اوپر غالب ثابت ہوں گے۔ قرآن اور پیغمبر کی تاریخ کا مطالعہ واضح طور پر اس کو ثابت کر رہا ہے۔ پیغمبر اسلام نے جب قدیم عرب میں اسلام کی دعوت دی تو عرب کے لوگ آپ کے مخالف ہو گئے۔ آپ کے خلاف مسلح لڑائیاں چھڑ دیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان کئی بار ٹکراؤ ہوا، مگر آخری فیصلہ نہیں ہو پایا تھا۔ اس وقت پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفوں کے درمیان وہ معاہدہ پیش آیا جس کو تاریخ اسلام میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ تقریباً یکطرفہ تھا۔ اس میں یکطرفہ طور پر مخالف فریق کی تمام شرطوں کو مان لیا گیا تھا۔ پیغمبر اسلام یہ معاہدہ کر کے لوٹے تو راستہ میں ہی سورۃ الفتح نازل ہوئی جس میں کہا گیا کہ ہم نے تم کو کھلی فتح دیدی یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ صلح حدیبیہ تو تمام تر فریق ثانی کے مطالبات پر مبنی تھی پھر اس کو فتح مبین کیوں کہا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس صلح میں ایک دفعہ یہ تھی کہ اب سے دس سال تک مسلمانوں اور قریش کے درمیان لڑائی اس اعتبار سے یہ معاہدہ گویا دس سال کاناجنگ معاہدہ (no-war pact) تھا۔
قرآن نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین اس لئے قرار دیا کہ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں اور قریش کے درمیان مقابلہ کا میدان بدل گیا۔ پہلے دونوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہو رہا تھا، اب یہ مقابلہ فکر اور نظریہ کے میدان میں آگیا۔ جنگ کے میدان میں مقابلہ فیصلہ کن ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ کیوں کہ یہاں معاملہ مادی طاقت کا تھا اور مادی طاقت اگر مسلمانوں کے پاس تھی تو وہ قریش کے پاس بھی نسبتاً زیادہ مقدار میں موجود تھی۔ مگر نظریہ کے میدان میں معاملہ سراسر یکطرفہ تھا۔ اس میدان میں مسلمانوں کے پاس توحید تھی اور فریق ثانی کے پاس شرک۔ اور ظاہر ہے کہ فکری اعتبار سے توحید کے مقابلہ میں شرک کی کوئی طاقت نہیں۔ چنانچہ میدان مقابلہ بدلتے ہی تاریخ بدلنا شروع ہوگئی۔ اب اسلام کی فکری طاقت کے زور پر لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہونے لگے۔ شرک کا دائرہ گھٹنا شروع یہاں تک کہ یہ عمل اس نوبت کو پہنچا کہ شرک کے پاس سرے سے انسانی طاقت (man power) ہی کا خاتمہ ہو گیا۔ اور جہاں انسانی طاقت نہ ہو وہاں کوئی بھی دوسری طاقت کام نہیں کرتی۔