انتہا پسندی کا نتیجہ
Al-Risala, October 1994, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں جو اسلامی تحریکیں اٹھیں وہ اپنے بیان کردہ مقصد (اسلامی نظام کا قیام) کو تو حاصل نہ کر سکیں البتہ انھوں نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو ایک عظیم مصیبت میں مبتلا کر دیا۔ ان تحریکوں کے پیدا کردہ نام نہاد انقلابی مزاج کی بنا پر موجودہ مسلمانوں کا یہ حال ہو رہا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ساری دنیا میں ان کے لئے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا ہلاکت یا منافقت۔ یا تو وہ حاصل نہ ہونے والے ایک نشانہ کے لئے نظام حاضر سے لڑ کر اپنے آپ کو تباہ کر دیں۔ نظام حاضر کو باطل سمجھتے ہوئے منافقانہ طور پر اس کے ساتھ موافقت کر کے رہیں ۔ دین رحمت خود مسلمانوں کے لئے دین زحمت بن گیا۔
ان انقلابی تحریکوں نے یہ غلطی کی کہ عقیدہ اور سیاسی نظام کو ایک کر دیا۔ اسلام میں عقیدہ اورانفرادی طورپرمتقیانہ عمل ہر شخص سے ہر حال میں مطلوب ہے۔ جہاں تک اجتماعی سیاسی نظام کا تعلق ہے، اس کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ اسلام کے سیاسی نظام کو قائم کرنے کی ذمہ داری صرف اس وقت مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے جب کہ وہ بالفعل اس کو قائم کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ ورنہ سیاسی نظام کو قائم کرنا اسی طرح مسلمانوں کے لئے غیر مطلوب رہے گا جس طرح صاحبِ نصاب نہ ہونے کی صورت میں کسی مسلمان سے زکٰوۃ کی ادائیگی غیر مطلوب رہتی ہے۔
قرآن و حدیث کے مطابق یہی اسلام ہے۔ اس میں مسلمان کسی ایسی چیز کے مکلف نہیں قرار پاتے جو ان کے بس میں نہ ہو۔ وہ ہر ماحول میں اس اساسی اسلام کو اختیار کر کے مطمئن رہ سکتے ہیں کہ وہ اللہ کے دین پر قائم ہیں۔
لیکن اسلام کی نام نہاد انقلابی تفسیر نے مسلمانوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ صرف عقیدہ اور انفرادی کردار نجات کے لئے کافی نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ باطل قوتوں سے لڑ کر ساری دنیا میں اسلامی قانون کی حکومت قائم کریں۔ اس خود ساختہ نظریہ نے مسلمانوں کو ہر جگہ قائم شدہ حکومتوں سے ٹکرا دیا۔
چونکہ مسلمان کہیں بھی طاقتور پوزیشن میں نہیں ہیں اس لئے اس بنا پر ان کے لئے صرف
دو میں سے ایک راہ باقی رہ گئی۔ یا تو اقتدار وقت سے ٹکرائیں اور اپنی کمزوری کی بنا پر یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو ہلاک کریں یا مذکورہ عقیدہ کو ذہن میں بدستور باقی رکھتے ہوئے خارجی رویہ کے اعتبار سے منافق ہو جائیں۔ یعنی جس نظام کو وہ باطل اور حرام سمجھتے ہیں اس سے محض ذاتی مفاد کی خاطر مصالحت کر لیں۔
نیز ایسے انتہا پسند لوگ ہمیشہ بہت کم ہوتے ہیں جو جانتے بوجھتے اپنے آپ کو ہلاکت کے راستہ پر ڈالیں۔ چنانچہ تھوڑے سے سر پھرے قسم کے افراد نے ہر جگہ اپنے آپ کو ہلاکت خیز ٹکراؤ کے راستہ پر ڈال رکھا ہے۔ مگر ان کے سوا لوگوں کی اکثریت نے منافقانہ رویہ کو ترجیح وہ ہر ملک میں یہ کر رہے ہیں کہ اپنے ذہن میں یا نجی ملاقاتوں میں تومروجہ نظام اقتدار کو باطل بتاتے ہیں مگر خارجی دنیا میں اسی باطل نظام کے ساتھ مکمل مصالحت کئے رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کے بغیر انھیں عزت اور راحت کی زندگی نہیں مل سکتی۔
ہندوستان میں بھی ایک اعتبار سے یہی صورت حال قائم ہے۔ مسلم لیگی قائدین نے نہایت بے معنی طور پر ہند و مسلم نفرت کا مزاج پیدا کیا۔ بعد کو جو مسلم لیڈران کے جانشین ہوئے انھوں نے بھی صرف اس مزاج کو پختہ کرنے میں مدد کی۔ اب نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان دو طرفہ مشکل میں مبتلا ایک بہت محدود تعداد خفیہ یا علانیہ طور پر ہندوؤں سے بے نتیجہ ٹکر اؤ میں مشغول ہے۔ کیوں کہ اس نے اس ٹکراؤ کو بزعم خود جہاد سمجھ رکھا ہے۔ مگر ہندوستانی مسلمانوں کی بیشتر تعداد وہ ہے جو ظاہری طور پر ہندوؤں سے مل جل کر رہنا پسند کرتی ہے۔ ان کا ذہن تو وہی ہے جو پہلے گروہ کا ہے لیکن وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہندو اکثریت سے نفرت اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کر کے وہ اس ملک میں راحت اور عافیت کی زندگی نہیں بنا سکتے۔ اس لئے خالص مصلحت کی بنا پر، نہ کہ اصول کی بنا پر انھوں نے ہند و اکثریت سے ظاہری میل ملاپ کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ یہ ایک خود عائد کردہ ذہنی عذاب ہے جس کو بہت سے لوگوں نے اپنے اوپر لاد رکھا ہے، خدا در رسول کے دین سے اس کا کوئی بھی تعلق نہیں۔