اسلام کی پکار
Al-Risala, October 1994, pp. 22–24
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی تاریخ میں مکہ کا ۱۳ سالہ دور دعوتی محنت (dawa activism) کا دور ہے۔ اور اس کے بعد کا ہزار سالہ دور دعوتی عمل (dawa process) کا دور۔ ابتدائی ۱۳ سالہ دور میں پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے جو دعوتی محنت کی اس ڈھنگ کی دعوتی محنت، معلوم تاریخ کے مطابق اسلام میں دوبارہ نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود اسلام کی اشاعت اور توسیع مسلسل اسی کے نتیجہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ آج مسلمان دنیا بھر کے تمام ملکوں میں قابلِ لحاظ تعداد میں موجود ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی ۱۳ سالہ محنت اتنی عظیم اور ہمہ گیر تھی کہ اس کے اثرات بعد کی انسانی تاریخ میں بطور عمل (process) جاری ہوگئے۔ مکہ کے انداز کی براہِ راست دعوتی محنت کے بغیر اسلام خود اپنی طاقت سے انسانی آبادیوں میں مسلسل پھیلتا رہا۔
اس اشاعتی عمل میں اگر کبھی وقتی رکاوٹ پڑی تو صرف اس وقت پڑی جب کہ مسلمان اور غیرمسلمان (داعی اور مدعو) میں کوئی نزاع یا ٹکراؤ پیش آیا اور اس کی بنا پر دونوں کے درمیان نفرت اور تلخی کی فضا پیدا ہو گئی۔ مثلاً صلیبی جنگوں کے نتیجہ میں یورپ کی مسیحی قوموں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا ہونا۔ یا ایشیائی ملکوں میں نو آبادیاتی نظام کے سبب مسلمانوں اورغیرمسلموں کے درمیان تلخی اور کشیدگی کا ماحول بن جانا۔ یا ہندوستان میں دو قومی سیاست کے نتیجہ میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دوری پیدا ہو جانا۔
یہ تجربہ بتاتا ہے کہ مذکورہ دعوتی عمل خود اپنی طاقت سے تاریخ میں جاری ہے۔ کبھی رکتا ہے تو صرف ایک سبب سے رکتا ہے، اور وہ ہے ۔ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات کا ختم ہو جانا۔
ایشیائی نسبت سے اس معاملہ کا مطالعہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ انیسویں صدی میں غیر مسلم قو میں جدید قوتوں سے مسلح ہو کر مسلم قوموں پر غالب آگئیں۔ اس واقعہ کو مسلمانوں نے اپنے لئے قومی ذلت سمجھا اور ساری دنیا میں وہ غیرمسلم قوموں سے لسانی یا عملی جنگ میں مشغول
اس ٹکراؤ میں واضح اسباب کی بنا پر مسلمانوں کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اس طرح انھیں دوبارہ غلبہ کا مقام تو نہیں ملا، البتہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت کا پہاڑ کھڑا ہوگیا۔ قدیم زمانہ میں بھی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان لڑائیاں ہوتی تھیں۔ مگر اس زمانہ میں وہ چیز موجود نہ تھی جس کو میڈیا کہا جاتا ہے۔ اس لئے قدیم جنگوں کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود ہو کر رہ جاتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں میڈیا نے اس کو عالمی خبر کی حیثیت دیکر ایک ایک شخص تک اسے پہنچا دیا۔
اب ضرورت ہے کہ پورے معاملے پر از سرِ نو غور کیا جائے۔ اور ان حالات کو پھر سے تاریخ میں واپس لایا جائے جس میں دعوت کا عمل دوبارہ جاری ہوسکے۔ اس کی صورت صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ مسلمان یک طرفہ صبر کا طریقہ اختیار کریں۔
مسلمانوں اور غیر مسلموں، بالفاظ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان جو نفرت اور کشیدگی پیدا ہوگئی ہے وہ اتنی گہری ہے کہ اب اس کو صرف یک طرفہ کارروائی ہی کے ذریعہ روکا جاسکتا نفرت کی یہ فضا کبھی بھی دو طرفہ بنیاد پر ختم نہیں ہوسکتی۔ ایسی حالت میں مسلمانوں ہی کو یہ کرنا ہے کہ وہ یکطرفہ عمل کے ذریعہ اس کے خاتمے کو یقینی بنادیں، تاکہ دعوت کا عمل دوبارہ نارمل حالت میں جاری ہوجائے جس طرح وہ پہلے ساری دنیا میں جاری تھا۔
مسلمانوں اور غیر مسلموں (داعی اور مدعو) کے درمیان نارمل تعلقات انتہائی طور پر نارمل فضا میں ہی یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دوسرے کے نقطہ نظر پر غور کرے۔ یہ ایک ایسی فطری حقیقت ہے جس کی مثالیں ہر طرف بہ آسانی دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس معاملۃ کو سمجھنے کے لئے حال کی ایک سادہ مثال لیجئے۔
۱۳ مئی ۱۹۹۴ء کو دہلی میں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان مسٹر منصور سے ہوئی، وہ دہلی کے ایک اسکول (ایئرفورس بال بھارتی) میں پڑھتے ہیں۔ اس وقت وہ بارھویں درجہ کے طالب علم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے اسکول میں جب دو طالب علم آپس میں ملتے ہیں تو امریکی طریقہ کے مطابق وہ ایک دوسرے کو ہاے (Hi) کہتے ہیں۔ مگر ہم چند مسلمان طالب علم جب آپس میں ملتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کو السلام علیکم کہتے ہیں۔ غیر مسلم طلبہ نے جب اس کو سنا تو انھوں نے پوچھا
کہ یہ تم آپس میں کیا کہتے ہو۔ انھوں نے بتایا کہ یہ عربی کلمہ ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے اوپر سلامتی ہو: