صد عن سبيل اللہ
Al-Risala, October 1994, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں جن مجرمانہ افعال کا ذکر ہے ان میں سے ایک نہایت سنگین جرم وہ ہے جس کے لئے صد عن سبيل اللہ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی اللہ کے راستہ سے روکنا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہ بہت برا کام ہے ( التوبہ (۹) اس سے اعمال حبط ہو جاتے ہیں ( محمد (۳۲) ایسے لوگوں کی مغفرت نہیں ہوگی ( (محمد۳۴)بلکہ بلکہ انہیں عام گنہگاروں سے زیادہ سخت عذاب دیا جائے گا ( النحل ۸۸) صد عن سبيل الله کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لئے حسب ذیل آیت کا مطالعہ کیجئے :
ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ اولئك يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ ويقول الاشهاد گھڑے ۔ ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش ہونگے هؤلاء الذين كذبُوا عَلَى رَبِّهِمْ - آلا اور گواہی دینے والے کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں لعنة الله عَلَى الظَّالِمِينَ الَّذِينَ يَصُدُّونَ جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔ سنو ، اللہ عن سبيل الله ويبغونها عوجا وهم کی لعنت ہے ظالموں کے اوپر ، ان لوگوں کے اوپر بالآخرة هم كافرون . جو اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں، اور وہ آخرت کے منکر ہیں ۔