Al-Risala · October 1994

هود ۱۸ - ۱۹

Al-Risala, October 1994, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سے معلوم ہوا کہ صد عن سبيل الله یہ ہے کہ دعوت حق میں ٹیڑھے مطلب نکالے جائیں اور اس طرح داعی اور دعوت کی سچائی کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کرنے کی کوشش کی جائے ۔ یہ کام ہمیشہ وقت کے خواص کرتے ہیں ۔ وہ داعی کی شخصیت اور داعی کے پیغام میں اپنی ذہانت سے ایسے الٹے پہلو نکالتے ہیں جن کا تجزیہ عوام نہ کرسکیں اور داعی اور اس کی دعوت کی طرف سے شبہ میں پڑ جائیں ۔ جو لوگ ایسا کریں وہ گویا خدا کے اوپر جسارت کر رہے ہیں۔ وہ قیامت کے دن خدا کی عدالت میں حاضر کئے جائیں گے ۔ اس وقت وہی داعی جن کو انھوں نے دنیا میں حقیر کیا اور ان کے پیغام کو قابل نفرت انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کیا، وہی ان کے اوپر گواہ بن کر کھڑے ہوں گے اور بتائیں گے کہ کس طرح انھوں نے اپنی جھوٹی باتوں سے خلق خدا کو حق سے پھیرنے کی کوشش کی تھی ۔

Printed page