Al-Risala · October 1994

اختلاط کی ضرورت

Al-Risala, October 1994, pp. 27–28

By Maulana Wahiduddin Khan

کشمیر کے دو نوجوان دہلی آئے۔ وہ چند دن دہلی میں گھومے۔ اس کے بعد ان سے میری ملاقات گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ انڈیا اور دہلی کے بارے میں، ہمارے خیالات بہت خراب ہم سمجھتے تھے کہ سارے ہند و متعصب ہیں۔ وہ مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں۔ مگر دہلی میں چند دن قیام کے دوران ہم جس ہندو سے بھی ملے۔ وہ ہم سے بہت خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آیا۔ حالاں کہ ہمارے حلیہ کو دیکھ کر اور ہماری بولی کو سن کر وہ فوراً سمجھ جاتے تھے کہ ہم کشمیری ہیں۔ ہندو کو بہت برا سمجھے ہوئے تھے مگر وہ تو اسی طرح اچھے انسان ہیں جس طرح ہم اپنے کو اچھا انسان

میں نے پوچھا کہ جب ہندوؤں سے آپ کا سابقہ نہیں پڑا تھا تو آپ نے ہندوؤں کو بُرا کیسے سمجھ لیا۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے اردو اخباروں کے ذریعہ۔ ہم کشمیر میں اپنے اخبارات پڑھتے پاکستان کا ریڈیو اور ٹی وی بھی ہم اکثر سنتے اور دیکھتے ہیں۔ ان ذرائع میں ہندو کی جو تصویر پیش کی جاتی ہے وہ نہایت بری ہوتی ہے۔ وہ تو ہندو کا تعارف اس طرح کراتے ہیں جیسے کہ ہندو اسلام اور مسلمانوں کے ازلی اور پیدائشی دشمن ہیں۔ حالاں کہ دہلی کے تجربہ میں، ہم نے پایا کہ یہ بالکل بے بنیاد پروپیگنڈا ہے۔ اصل حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ صرف دو کشمیریوں کی بات نہیں۔ یہ ایک عام تاثر ہے۔ اگر آپ سروے کریں تو بہت سے مسلمان آپ کو اسی قسم کے احساس میں مبتلا ملیں گے۔

۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو دہلی میں غالب اکیڈمی کے ہال میں ایک سمپوزیم تھا۔ اس کے ایک اسپیکر عبد اللہ طارق تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ میری تعلیم علی گڑھ میں ہوئی۔ وہاں ایک ہندو طالب علم ہریش میرا دوست تھا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے گھر جاتے اور آپس میں کھاتے پیتے ایک بار جب کہ میں ہریش کے گھر میں تھا، ایک بوڑھی ہندو خاتون نے کہا: طارق تو ایسا ہے کہ ذرا بھی مسلمان نہیں لگتا۔ یہی بات ایک روز طارق صاحب کے گھر کی ایک بوڑھی مسلم خاتون نے کہی: ہریش تو ایسا ہے کہ ذرا بھی ہندو نہیں لگتا۔

۱۹۴۷ سے پہلے کسی مسلم یا ہندو کے گھر میں ایسی بات نہیں کہی جاتی تھی مگر آج ایسی باتیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ پہلے ہندو یا مسلم اچھے ہوتے تھے، اور اب دونوں خراب ہو گئے اس کی سادہ سی وجہ باہمی تعلقات کا نہ ہونا ہے۔ ہر انسان بنیادی طور پر اچھا ہی ہوتا ہے۔ مگر جب باہمی تعلقات ٹوٹ جائیں تو حقیقی واقفیت کی جگہ بدگمانیاں جنم لینے لگتی ہیں جو دھیرے دھیرے دونوں کی نظر میں ایک دوسرے کی تصویر کو بگاڑ دیتی ہیں۔

۱۹۴۷ سے پہلے ہندوستان بڑی حد تک زراعتی دور میں تھا۔ تعلیم کے لئے روایتی ادارے اس وقت ہندو اور مسلمان دونوں یکساں طور پر ان میدانوں میں شریک تھے۔ اور زراعتی سرگرمیوں میں دونوں فرقے کے لوگ برابر آپس میں ملتے رہتے تھے۔ یہ اختلاط دونوں کے لئے براہ راست طور پر ایک دوسرے کو جاننے کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔

۱۹۴۷ کے بعد جو تعلیمی اور صنعتی انقلاب آیا اس میں ہندو اور مسلمان دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو کر رہ گئے۔ موجودہ تعلیمی اور صنعتی اداروں میں آپ جائیں تو آپ دیکھیں گے وہاں ہندو بھرے ہوئے ہیں اور مسلمان بہت کم صرف خال خال نظر آتے ہیں۔

۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں باہمی واقفیت کا ذریعہ باہمی ملاقاتیں تھیں۔ ۱۹۴۷ کے بعد کے دور میں دونوں کے لئے ایک دوسرے کو جاننے کا ذریعہ زیادہ تر اخبارات بن گئے۔ دور اول کی ملاقاتوں میں کسی فرد یا فرقہ کی پوری تصویر سامنے آتی تھی۔ مگر اخبارات اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے زیادہ تر بری باتوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ کیوں کہ اخباری مصلحت کے لئے وہی زیادہ کار آمد ہیں۔ اس بنا پر اخباری تعارف میں دونوں فرقہ ایک دوسرے کی صرف بری باتوں کو جانتا ہے۔ وہ ان کی اچھی باتوں سے واقف نہیں ہوتا۔

تعلیمی اور صنعتی دور میں پچھڑے پن کی وجہ سے مسلمان دوسری قوموں سے الگ ہو گئے ہیں۔ اگر وہ تعلیم اور صنعت کے میدان میں اس طرح داخل ہو جائیں کہ دوبارہ برادرانِ وطن سے ان کا بھر پور اختلاط ہونے لگے تو ہر ہریش مسلمانوں کو طارق دکھائی دے گا اور ہر طارق ہندوؤں کو ہریش نظر آنے لگے گا۔

یہ سارا معاملہ اختلاط اور عدم اختلاط کا ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

Printed page