Al-Risala · October 1994

مولاناشبیر احمد عثمانی، دیوبند

Al-Risala, October 1994, pp. 31–35

By Maulana Wahiduddin Khan

(حدیبیہ کا صلح نامہ لکھنا قرار پایا تو اس سلسلہ میں بعض امور پر بحث و تکرار ہوئی۔ کو غصہ اور جوش آیا کہ تلوار سے معاملہ ایک طرف کر دیا جائے۔ لیکن آخر حضور نے مکہ والوں کے اصرار کے موافق سب باتیں منظور فرمالیں۔ اور مسلمانوں نے بھی بے انتہا ضبط و تحمل سے کام لیا اور صلح نامه جس میں ایک شرط کفار کی طرف سے یہ تھی کہ آپ اس سال واپس چلے جایئے اور سال آئندہ غیر مسلح آکر عمرہ کر لیجیے۔ اور یہ کہ فریقین میں دس سال تک لڑائی نہ ہوگی۔ اس مدت میں جو : مرد ہمارے ہاں سے تمہارے پاس جائے اسے آپ اپنے پاس نہ رکھیں اور جو تمہارا آدمی ہمارے ہاں آئے گا ہم واپس نہ کریں گے۔ صلح کا تمام معاملہ طے ہو جانے پر آپ نے حدیبیہ ہی میں ہدی کا جانور ذبح کیا۔ اور مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستہ ہی میں سورہ الفتح نازل ہوئی۔ یہ سب واقعہ اواخر۶ھ میں پیش آیا۔ حدیبیہ کی صلح بظاہر ذلت اور مغلوبیت کی صلح نظر آتی ہے۔ اور رشد الٹا پڑھ کر بادی النظر میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ تمام جھگڑوں کا فیصلہ کفار قریش کے حق میں ہوا۔ حضرت عمر اور دوسرے صحابہ بھی صلح کی ظاہری سطح دیکھ کر سخت محزون ومضطرب تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ان احوال و نتائج کو دیکھ رہی تھیں جو دوسروں کی نگاہوں سے اوجھل تھیں ۔

اور اللہ نے آپ کا سینہ سخت سے سخت ناخوشگوار واقعات پر تحمل کرنے کے لئے کھول دیا تھا۔ یہ سورہ نازل ہوئی۔ اور خداوند قدوس نے اس صلح کا نام فتح مبین رکھا۔ لوگ اس پر تعجب کرتے تھے کہ یا رسول اللہ کیا یہ فتح ہے۔ فرمایا ہاں، بہت بڑی فتح ہے۔ اس صلح کے بعد کافروں اور مسلمانوں کو باہم اختلاط اور بے تکلف ملنے جلنے کا موقع ہاتھ آیا۔ کفار مسلمانوں کی زبان سے اسلام کی باتیں سنتے تو خود بخود ایک کشش اسلام کی طرف ہوتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ سے فتح مکہ تک، یعنی تقریباً دو سال کی مدت میں اتنی کثرت سے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے کہ کبھی اس قدر نہ ہوئے تھے۔ خالد بن الولید اور عمرو بن العاص جیسے نامور صحابہ اسی دوران میں اسلام کے حلقہ بگوش یہ جسموں کو نہیں، دلوں کو فتح کر لینا اسی صلح حدیبیہ کی عظیم ترین برکت تھی۔ اب جماعت اسلام چاروں طرف اس قدر پھیل گئی اور اتنی بڑھ گئی کہ مکہ کو فتح کرکے ہمیشہ کے لئے شرک کی گندگی سے پاک کر دینا بالکل سہل ہو گیا۔ حدیبیہ میں حضور کے ہمراہ صرف ڈیڑھ ہزار جانباز تھے۔ دو برس کے بعد مکہ کی فتح کے وقت دس ہزار کا لشکر آپ کے ہم رکاب تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ نہ صرف فتح مکہ اور فتح خیبر، بلکہ آئندہ کی کل فتوحات اسلامیہ کے لئے صلح حدیبیہ بطور اساس و بنیاد اور زریں دیباچہ کی تھیں۔ اور اس تحمل و توکل کی بدولت جو صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں ظاہر ہوئی، جن علوم و معارف اور باطنی مقامات کا فتح باب ہوا ہوگا اس کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔ (تفسیر قرآن، صفحه ۶۶۳) مورخ اسلام مولانا اکبر شاہ خان نجیب آبادی حدیبیہ کے صلح نامہ کی تکمیل کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے حدیبیہ کے مقام پر قربانیاں کیں، احرام کھولے اورحجامتیں بنوائیں۔ اس صلح نامہ یا عہد نامہ کے بعد قبیلہ خزاعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیف ہو گیا۔ اور قبیلہ بنو بکر قریش مکہ کا حلیف بن گیا۔ اور بنو بکر میں مدتوں سے عداوت چلی آ رہی تھی۔ یہ دونوں چوںکہ ایک ایک فریق کے حلیف بن گئے، لہٰذا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان امن و امان کے ساتھ رہنے کا عہد ہوا، اسی طرح ان دونوں میں بھی صلح قائم ہو گئی۔ جب آپ حدیبیہ سے مدینہ کو واپس تشریف لا رہے تھے تو راستہ میں سورہ فتح نازل ہوئی اور خدا تعالیٰ نے اسی صلح کو جسے صحابہ کرام ایک قسم کی شکست سمجھ رہے تھے، فتح مبین قرار دیا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ صلح اسلام کے لئے فتح مبین ۳۲ الرسائل اکتوبر ۱۹۹۴

صحابہ کرام اس کو شکست اس لئے سمجھ رہے تھے کہ بظاہر بعض شرائط میں اپنے آپ کو دبا ہوا اور کمزور پاتے تھے۔ لیکن بہت جلد بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کمزورشرائط ہی بے حد مفید شرائط اسلام کے لئے سب سے بڑی فتح یہ تھی کہ جنگ و پیکار کا سلسلہ ختم ہو کر امن و امان اور اطمینان حاصل ہوا۔ اسلام جس قدر امن و امان کی حالت میں اپنا دائرہ وسیع کر سکتا ہے، لڑائی اور جنگ و جدل کی حالت میں اس قدر نہیں پھیل سکتا تھا۔ اسلام کا اصل منشا یہی ہے کہ دنیا میں انسان امن و امان کی زندگی بسر کرے۔ اسلامی لڑائیاں لڑائیوں کے لئے نہیں تھیں بلکہ لڑائیوں کو مٹانے اور امن و امان قائم کرنے کے لئے تھیں ۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد صرف دو برس کے عرصہ میں مسلمانوں کی تعداد دگنی ہوگئی تھی۔ (تاریخ اسلام ، حصہ اول ، مکتبہ رحمت دیوبند ، صفحہ ۲۰۲۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ، لکھنؤ ۱۰ اکتوبر ۱۹۹۲ء کو جے پور میں منعقدہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے گیارہویں اجلاس عام میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی خصوصی تقریر کا ایک اقتباس :

" میں یہ کہوں گا کہ آپ کی اور ہماری یہ زندگی ہوتی ، شریعت پر عمل کرتے تو آپ کو میں یقین دلاتا، شریعت کا طالب علم ہوں۔ کہ آج ہندستان میں مسلمانوں کی اکثریت ہوتی اور اسلام قبول کرنے کے لئے ایک بہت بڑا داعیہ اور جذبہ پیدا ہوتا۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ حضورؐ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا اور دس سال مدینہ طیبہ میں لیکن امام زہری جو سید التابعین کہلاتے ہیں جو کہتے ہیں (ابھی اس کاذکربھی ہورہاتھا)صلح صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان دو سال گزرے ہوں گے۔ ان دو سال کی قلیل مدت میں جتنی بڑی تعداد میں عرب کے لوگوں نے جو اسلام قبول کیا ہے اتنی بڑی تعداد میں پورے مکہ مکرمہ کے تیرہ سال کی مدت کے درمیان اور . مدینہ طیبہ کے دس سال کی مدت میں قبول نہیں کیا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ عرب کے لوگوں کو اسلام کی عائلی زندگی کا، اخلاقی زندگی کا، عملی زندگی کا، باہمی سلوک کا مشاہدہ کرنے کی مہلت نہیں ملی تھی۔ دیوار بیچ میں آکر کھڑی ہو گئی تھی۔ مخالفت کی، مذہبی اختلافات کی جو دیکھنے نہیں دیتی تھی۔ اس میں کوئی ایسا جھروکہ . نہیں تھا جس سے وہ جھانک سکتے۔ لیکن جب حدیبیہ کی صلح ہوئی، صلح نامہ لکھ لیا گیا۔ اور یہ طے ہو گیا کہ کوئی جنگ نہیں ہوگی اور کوئی مسلمان غیرمسلم پر ہاتھ نہیں اٹھائے گا اس عرصہ میں، میں،اورغیرمسلم مسلمان پر ہاتھ نہیں اٹھائے گا تو جو لوگ ترستے تھے اپنے بھائیوں ، اپنے بھتیجوں کی، اپنے چا صاحبان کی صورت دیکھنے کو کہ جب سے مکہ معظمہ سے گئے ان کا مدینہ طیبہ آنا نہیں ہوا، ان کو موقع ملا اور وہ مدینہ طیبہ گئے۔ امام زہری کہتے ہیں کہ وہ لوگ اپنے عزیزوں

کے یہاں مہمان ہوئے تو انھوں نے زندگی کا نقشہ دوسرا دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ اللہ اکبر یہ زندگی ، ہماری زبان ایک، ہمارا خون ایک، ہماری نسل ایک، ہماری تہذیب ایک ، ہمارا کھانا پینا ایک، لیکن ہم میں ان میں اتنا فرق ۔ یہ جھوٹ نہیں بولتے۔ یہ وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ یہ گالی گلوچ نہیں کرتے۔ ان کو غصہ نہیں آتا۔ نمازیں نہیں چھوڑتے۔ یہ مہمانوں کو اپنے بچوں پر، اپنی بیویوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان کو بھوکا رکھ کر ان کو کھلاتے ہیں۔ اس نے ان کو مائل کیا اور اس بڑی تعداد میں انھوں نے اسلام قبول کیا جس تعداد میں نہ مکہ معظمہ کے تیرہ سال کے قیام کے دوران اسلام قبول کیا اور نہ مدینہ طیبہ کے آٹھ سال کے دوران:

ماہنامہ ہدایت، چے پور، پور،فروری۱۹۹۴،صفحہ صفحہ ۳۶-۳۷ مولانا ابوالکلام آزاد ، دہلی دسمبر ، ۱۹۱۷ میں لکھنو میں ایک مسلم کانفرنس ہوئی مولانا ابوالکلام آزاد اس کے داعی اور مولانا نے اپنے خطبہ صدارت میں مسلمانوں کو رہنمائی دیتے ہوئے کہا: مسلمانوں کے موجودہ حالات اور ملک کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے اس سے زیادہ کوئی چیز ضروری نہیں ہو سکتی کہ جہاں تک ملک کی سیاسی زندگی کا تعلق ہے، فرقہ پرستی کو جو مذہب کے نام سے ابھاری گئی ہے، ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جائے کسی ایک گوشہ کی فرقہ پرستی نہیں، کسی ایک جماعت کی فرقہ پرستی نہیں، سب کی فرقہ پرستی۔ ان بربادیوں سے جو ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کے بعد سے ہوتی رہی ہیں، بدقسمتی سے ہر فرقہ پرست جماعت کے لوگ اضافہ کرتے رہے۔ اور کوئی جماعت ایسی نہیں رہی جس پر خون کا دھبہ نہ لگا ہو۔ مسلمانوں کے ہاتھ پر خون کا دھبہ ہے۔ ہندوؤں کے ہاتھ پر بھی خون کا دھبہ اور سکھوں کے ہاتھ پر بھی خون کا دھبہ لگا ہوا ہے۔ مجھ سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مسلمانوں کے ہاتھ پر خون کا دھبہ نہیں ہے اور وہ پاک ہے۔ جہاں تک فرقہ پرستی کا تعلق ہے، ظاہر ہے کہ یہ فرقہ پرستی ایک دروازہ سے نہیں آئی بلکہ کئی دروازوں سے آئی ہے۔ تو یہ سب دروازے بند ہونے چاہئیں۔ میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں جس آزادی کا ہم ۷۰ برس سے خواب دیکھ رہے تھے وہ برباد نہ ہو اور بربادی کسی نئے دروازے سے نہ گھس جائے تو ہمارا فرض ہو جاتا ہے کہ جس دروازہ سے یہ فرقہ پرستی آئی ہے اس دروازہ کو بند کر دیں اور

اس کو ختم کر دیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس فرقہ پرستی کا ایک بہت بڑا دروازہ مسلم لیگ کی وجہ سے واقعات اور حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرقہ پرستی کا دروازہ مسلم لیگ نے کھولا ۔ اب اگر وہ دروازہ بند نہیں کیا جاتا ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ مشکلات کے حل کی بہت بڑی ذمہ داری مسلمانوں کے کندھے پر باقی رہتی ہے۔ اس کے بغیر مسلمانوں کی فلاح کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ جو چیز اس وقت مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ فرقہ پرستی کو روک کر اپنی قومی زندگی کو بچائیں اور جلد سے جلد بچائیں۔ (الجمعیتہ ویکیلی، دہلی، ۲۲ مارچ ۱۹۷۳ء، صفحہ ۱۰)

Printed page