مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، امیر جماعت اسلامی
Al-Risala, October 1994, pp. 35–39
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان میں اسلامی تحریک کا راستہ ہموار کرنے کے لئے، سب سے مقدم کام یہ ہے کہ اس قومی کش مکش کا خاتمہ کیا جائے جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اب تک برپا رہی ہے۔ نزدیک یہ بات پہلے بھی غلط تھی کہ مسلمان اسلام کے لئے کام کرنے کے بجائے اپنے قومی اعتراض اور مطالبوں کے لئے لڑتے رہے۔ مگر اب تو اس لڑائی کو جاری رکھنا محض غلطی نہیں بلکہ مہلک غلطی اور احمقانہ خود کشی ہے۔ اب یہ نہایت ضروری ہے کہ مسلمان اپنے طرزِ عمل کو بالکل بدل دیں۔ میں نمائندگی کے تناسب کا سوال ، یہ انتخابات کی دوڑ دھوپ ، یہ ملازمتوں کے لئے کش مکش ، اور یہ دوسرے قومی حقوق اور مطالبوں کے لئے چیخ پکار ، آئندہ دور میں لا حاصل ہوگی اور نقصان دہ لاحاصل اس لئے کہ اب جن لوگوں کے ہاتھ میں ہندوستان کی حکومت آ رہی ہے وہ مخلوط انتخابات اور ملازمتوں میں صرف قابلیت کے لحاظ کا اصول مقرر کر کے مسلمانوں کی جدا گانہ سیاسی ہستی کو ختم کر دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ اور ان کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کسی طرح روکا نہیں جاسکتا۔ اس لئے کہ اس حقوق کے استقرار کی جتنی کوشش بھی مسلمان کریں گے وہ ہندوؤں کے قومی تعصب کواورزیادہ مشتعل کرے گی۔ اور اگر وہ اپنی شکایات کو رفع کرانے کے لئے پاکستان کی مدد حاصل کرنا چاہیں گے تو یہ بین الاقوامی پیچیدگی اور کش مکش کا سبب بن جائے گا جس سے ہندو قوم پرستی کو زندگی کی مزید طاقت مل جائے گی۔ لہٰذا اب ہمیں وسیع پیمانے پر مسلمانوں میں ایسی رائے عام تیار کرنی چاہئے کہ وہ بحیثیت ایک قوم کے حکومت اور اس کے نظام سے بے رخی اختیار کر لیں ۔
ہند و قوم پرستی کو اپنے طرز عمل سے یہ اطمینان دلا دیں کہ میدان میں کوئی دوسری سیاسی قومیت اس کے ساتھ کش مکش کرنے کے لئے موجو د نہیں ہے۔ یہی یک طریقہ ہے اس غیر معمولی تعصب کو ختم کر دینے کا جو اس وقت غیر مسلم اکثریت کے اندر اسلام کے خلاف پیدا ہو گیا ہے۔ اور اسی طریقے سے غیر مسلموں کے اس اندیشے کو بھی دور کیا جا سکتا ہے کہ اگر اسلام کو مزید اشاعت کا موقع دیا گیا تو کہیں پھر کسی علاقہ کے مسلمان ایک اور پاکستان مانگنے کے لئے کھڑے نہ ہو جائیں۔ (تقریر مدراس، ۲۶ اپریل ۱۹۴۷ء، ماخوذ از خطبہ مدراس، مکتبہ اسلامی دہلی، صفحہ ۳۱-۳۲ ڈاکٹر اسرار احمد، لاہور پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب " بھارت کے ساتھ مصالحت وقت کا تقاضا" کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں:
"اہل پاکستان کو چاہئے کہ اس وقت بھارتی حکومت کو کوئی face-safing دیں۔
دنیا میں بھارت کو ایک جمہوریت تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہاں بہت مضبوط اپوزیشن موجود ہے جو اس کو ہلنے نہیں دے گی۔ اس حوالے سے جو ان کی شرائط ہیں کہ پہلے کچھ دیگر معاملات پر گفتگو کرنی چاہئے۔ فضا کو کچھ ہموار بنانا چاہئے تاکہ باہم بیٹھ کر ہم گفتگو کر سکیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ضمن میں ہمیں صلح حدیبیہ کی مثال سامنے رکھنی چاہئے۔ ایک وقت میں کچھ نرمی دکھانا ہی کامیابی کی بہت بڑی دلیل بن صلح حدیبیہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کے ساتھ جو مصالحت کی تھی وہ کس قدر غیر مساویانہ تھی۔ اس پر مسلمانوں کے خون کھول رہے تھے حضرت عمر کا رد عمل بھی کافی شدید تھا۔ میرے علم میں کوئی واقعہ نہیں ہے جس میں حضرت ابو بکر بھی حضور کے ساتھ نہ ہوں۔ لیکن اس موقع پر وہ بھی ساتھ نہیں تھے۔ کیوں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب احرام کھول دو اور یہیں قربانیاں دے دو تو (روایات کے مطابق) ایک بھی صحابی نہیں اٹھا۔ گویا حضرت ابو بکر بھی نہیں دوبارہ کہا تو کوئی نہیں اٹھا۔ تیسری بار کہا تو بھی کوئی نہیں اٹھا۔ اس ایک طرفہ شرائط والی صلح کو قرآن حکیم میں انا فتحنالك فتحا مبینـا کہا گیا (ضرورت ہے کہ اسی انداز پر ) بھارت کے ساتھ بھی ہماری کوئی مفاہمت ہو۔ بھارت کے ساتھ مصالحت سے اسلام کی تبلیغ کا بھی بہت بڑا موقع ہاتھ آئے گا جو اور کہیں نہیں ہے۔ اٹھارہ کروڑ مسلمان وہاں موجود ہیں، کچھ سہارا انہیں بھی ملے۔
آمد و رفت ہو۔ ہمارے پاس قرآن کی بہت بڑی طاقت موجود ہے، یہ عصائے موسیٰ سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ (ماہنامہ میثاق، لاہور، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۲۱- ۲۲)
ڈاکٹر مانع بن حماد الجہنی، الامین العام للندوة العالمية للشباب الاسلامی، الرياض ڈاکٹر مانع الجہنی نے دعوتی عمل میں غفلت کو ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف تشدد، نفرت اور تعصب کا بنیادی سبب قرار دیا۔ ریاض میں وامی کے ہیڈ کوارٹر میں ۱۲ اپریل ۱۹۹۴ کو ہندوستانی مسلمانوں کے ایک اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جہنی نے کہا کہ انھوں نے کئی بار ہندوستان کا سفر کیا ہے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ مسلمان اپنے غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ مدتوں سے رہ مگر بدقسمتی سے مسلمانوں نے کبھی بھی اسلام کے پیغام کو اپنے غیر مسلم بھائیوں تک نہیں اور نہ وہ اپنے اخلاق سے ان کو متاثر کر سکے۔ اسپین اور انڈیا کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں مسلمانوں نے ۸۰۰ سال سے زیادہ عرصہ تک حکومت کی۔ ان کو اسلامی ریاست میں تبدیل نہ کر سکے۔ دعوتی عمل کو پس پشت ڈالتے ہوئے انھوں نے اپنے آپ کو نام اور شہرت میں مشغول رکھا۔ ڈاکٹر جہنی نے مغل شہنشاہ شاہجہاں پر سخت تنقید کی کہ اس نے اپنی بیوی کی قبر پر ایک عظیم اور شاندار مقبرہ تعمیر کیا۔ اور اس پر بہت بڑی رقم مسرفانہ طور DR. JOHANI URGES INDIAN MUSLIMS TO EXERT DAWAH WORK Secretary-General of WAMY Dr. Manehi Al-Johani described the lapses in Dawah work as the main reason of violence, hatred and prejudice against Muslims Addressing a gathering of Indian Muslims at WAMY's headquarters in Riyadh on April 12, 1994 Dr. Al-Johani said that he visited India several times and discovered that there were Muslims living with non-Muslims as their neighbors for decades, but, unfortunately, Muslims never conveyed the message of Islam to their non-Muslim brethren, nor could they impress them with their behavior. Tracing the history of Spain and India, the Secretary-General said that in both countries Muslims ruled over 800 years, yet they could not convert them into Islamic states. Brushipg aside Dawah work, they indulged themselves in name and fame. He strongly flayed the Moghal Emperor, Shahjahan, for building a grand mausoleum on his wife's grave, spending a lot of money extravagantly, which could be used in Dawah work. If the Muslims had done so, India would have been altogether a different country. He urged Indian Muslims to preach Islam through their conduct and behavior and exert Dawah work as it is the only solution to their problems. Monthly Islamic Future, Riyadh, No. 37, May 1994 p. 11.
پر خرچ کی۔ جب کہ یہ رقم دعوتی عمل پر خرچ کی جاسکتی تھی۔ اگر مسلمانوں نے ایسا کیا ہوتا انڈیابالکل مختلف قسم کا ایک ملک ہوتا۔ انھوں نے ہندستانی مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اخلاق اور حسن سلوک کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ کریں اور پوری کوشش کے ساتھ دعوتی عمل کریں، کیوں کہ دعوت ہی ان کے مسائل کا واحد حل ہے۔ (ماہنامہ المستقبل الاسلامی، ریاض، ذی الحجہ ۱۴۱۴ھ ،صفحہ۱۱) آجکل مسلمانوں کا ہر اخبار اور ہر مجلہ مسلمانوں کو صبروتحمل کی تلقین کر رہا ہے۔ ہرایک یہ کہہ رہا ہے کہ مسلمان جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کی پالیسی کو اپنی پالیسی بنائیں۔ کے طور پر مجلس دار المصنفین اعظم گڑھ کے ماہوار علمی رسالہ "معارف" کے شذرات نقل کئے جا رہے ہیں:
"مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لئے حکمت، تدبر اور دور اندیشی کے بجائے ان طریقوں کو اختیار کئے ہوئے ہیں جن سے ان کے مسائل اور زیادہ الجھتے اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، شور، ہنگامہ اور احتجاج کو انھوں نے اپنی طبیعت ثانیہ بنالیا ہے، اس سے اس ملک میں ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور نا انصافیوں کا خاتمہ نہیں ہو سکتا، ہمیشہ سے کمزوروں اور مجبوروں کو تو تختہ مشق بنانا اور ان پر ظلم و تشدد در دیوار کفناز بردست اور رنجنا شعار لوگوں کا پیشہ رہا ہے، اس کے ازالے کے لئے گلہ، شکوہ اور جزع و فزع کبھی سود مند نہیں رہا ہے، ظلم و تشدد کا سد باب اسی وقت ہوتا ہے، جب مظلوموں اور زیر دستوں میں قوت و طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اپنی کمزوری اور کمی کی تلافی کرکے اپنے حالات کی اصلاح کر لیتے ہیں، لیکن مسلمانوں نے نصف صدی کا طویل عرصہ بے عملی، ،تعطل،نالہ نالہ و شیون اور واویلا میں گزارا ہے۔ یہ بڑا المیہ ہے کہ دنیا کو آزادی، مساوات اور انصاف عطا کرنے والے آج ذلت، محکومی، نا انصافی اور تفریق و امتیاز کا شکار ہیں، جو ساری دنیا کے لئے چراغ راہ تھے وہ تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں اور انھیں راستہ نہیں مل رہا ہے۔ لوگوں کے مصائب و آلام کو دور کر کے انھیں سہولت و آسانی فراہم کرنے والے خود ایسے دلدل میں جا پھنسے ہیں جن سے نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔
شکست خوردہ قوموں کا یہ دستور رہا ہے کہ وہ اپنی ہزیمت اور تباہی کا ذمہ دار دوسروں کو
سمجھتی ہیں اور خود اپنی غفلت و کوتاہی سے چشم پوشی کر لیتی ہیں، مسلمانوں کا حال بھی یہی ہے کہ وہ اپنی موجودہ زبوں حالی اور بربادی کا ذمہ دار دوسروں کو سمجھتے ہیں، اس لئے ان کے خلاف غصہ اور نفرت میں مبتلا رہتے ہیں اور انھیں اپنی غلطی اور بے تدبیری کا احساس نہیں ہوتا ، اپنے باہمی اختلافات کو رفع کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی کردارکشی ان کا وطیرہ بن گئی ہے، جس سے ان کے اختلاف و نزاع کی خلیج مزید بڑھتی جارہی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک ہی یونیورسٹی ہے جو ان کا سب سے بڑا قومی سرمایہ ہے، لیکن گزشتہ کئی برس سے اس کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، ان کو درست کرنے کے بجائے ہر فریق دوسرے کی ہوا خیزی، اسے نیچا دکھانے اور اس پر جا و بیجا الزام عائد کرنے میں لگا ہوا ہے اور خود اپنے طرز عمل کا محاسبہ کرنے کے لئے کوئی بھی آمادہ (ماہنامہ معارف، اعظم گڑھ ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۲-۳)