فرقہ وارانہ نزاعات میں صبر و اعراض
Al-Risala, October 1994, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر و تحمل کا یہ ذہن اب صرف خواص تک محدود نہیں ہے، وہ مسلم عوام تک بھی پہنچ چکا ہے۔ پچھلے برسوں میں سارے ملک میں سیکڑوں مقامات پر صرف اس لئے فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے کہ مسلمانوں نے اشتعال انگیزی کے باوجود صبر و اعراض سے کام لیا۔ اسی کی ایک مثال سہارن پور (یوپی) کا واقعہ ہے۔ اس واقعہ کی تفصیلی رپورٹ الجمعیۃ ویکلی، نئی دہلی (۲۴-۳۰ اپریل ۱۹۹۲) میں چھپی ہے، اس کا عنوان ہے : سہارن پور کے مسلمانوں نے پتھروں کا جواب صبر و ضبط سے دیکر فرقہ پرستوں کے منصوبہ کو خاک میں ملا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سہارن پور کے ہندوؤں نے مارچ ۱۹۹۱ میں رام نومی کا جلوس جامع مسجد کے پاس پہنچ کر انھوں نے اشتعال انگیز نعرے لگائے۔ مسلمان بھڑک گئے اور اس کے نتیجے میں خونیں فساد پیش آیا۔ اگلے سال ۱۱ اپریل ۱۹۹۲ کو پھر شہر میں رام نومی کا جلوس نکلا۔ سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت جامع مسجد پہنچ کر انھوں نے دوبارہ اشتعال انگیزی کی۔ مسلمانوں نے اس بار مکمل اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ چنانچہ ”فسادی پلان" کے باوجود فساد نہیں ہوا اور مسلمان کی جان و مال پوری طرح محفوظ رہی۔