جلسۂ میلادالنبی،نئی ، نئی دہلی
Al-Risala, October 1994, pp. 40–41
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ طرز فکر اب مسلمانوں میں عمومی طور پر پھیلتا جا رہا ہے۔ ہر جلسہ اور ہر اجتماع میں اس گونج سنائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر ۲۱ اگست ۱۹۹۲ کو نئی دہلی میں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں میلاد النبی کا ایک بڑا جلسہ ہوا۔ یہ روایتی انداز کا جلسہ تھا۔ اس میں قرأت، نعت، قوالی وغیرہ کے پروگرام ہوئے۔ کچھ تقریریں بھی ہوئیں۔ ایک تقریر مسز فرحانہ صدیقی صدیقی(استاذشعبۂ عربی، جامعہ ملیہ اسلامیہ) کی تھی۔ سب سے زیادہ صبر و ضبط کے اصول پر زور دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات کی روشنی میں انھوں نے کہا کہ آپ طاقت رکھتے ہوئے بھی عفو و درگزر اور صبر و تحمل کے طریقہ پر عمل کرتے تھے۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ثابت کیا ہے کہ اپنی بات پراصرارنہ کرنااوربظاہردب کر معاملہ کرنا کمزوری کی علامت نہیں بلکہ یہ حکیمانہ تدبیر ہے جس سے نہایت اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال حدیبیہ کا معاملہ ہے۔ ۵ ہجری کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، چودہ سو اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا مقصد صرف زیارت کعبہ ہے۔ لیکن جب آپ مکہ کے قریب پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مکہ والے بھاری جمعیت کے ساتھ آپ کو روکنے کے لئے آ رہے ہیں۔ آپ نے مناسب سمجھا کہ لڑنے کے بجائے صلح کا معاہدہ ہو جائے تو اچھا ہو۔ چنانچہ کچھ شرائط پر آپ کی مکہ والوں سے صلح کر کے مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس آ گئے۔ یہ شرائط مکہ والوں کی موافقت میں تھیں۔ ان شرطوں کو قبول کرنا بظاہر دشمن کے مقابلہ میں ہار مان لینے کے مترادف تھا۔ مگر جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے، اس صلح سے اسلام اور مسلمانوں کو بے شمار فائدے پہنچے۔ سچ یہ ہے کہ کبھی دبنے سے بھی ابھرنے کا موقع ملتا ہے۔ ہر حالت میں ایک ہی سا لانہ از نہ مفید ہے اور نہ مناسب۔
اگر ہم غور کریں تو اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ آج ہمارے گرد و پیش بھی وہی حالات ہیں جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے تھے۔ آج بھی اسی قسم کے حوصلہ اور بلند نظری اور دور اندیشی کی ضرورت آج بھی اسی صبر و ضبط کی ضرورت ہے جس کی مثال زمانہ رسالت کے اسلام میں ملتی ایک دانے سے ہزار دانے پیدا ہوتے ہیں، بشرطیکہ اس میں اگنے کی صلاحیت (اصل سے ماخوذ)
مکتوب حیدر آباد مکرمی و محترمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط جس میں آپ نے لکھا تھا کہ بعض حلقوں میں آپ کی شخصیت کو ممممتنازعہ سمجھاجاتاہے بہت روز سے میرے سامنے میز پر رکھا ہے۔ روز سوچتا ہوں کہ اس سلسلہ میں کچھ لکھوں۔ مگر کچھ سمجھ میں نہ آسکا۔ اس لئے کہ آپ نے ہی خود اپنے خط میں مثالوں کے ذریعہ کئے گئے اعتراضات کی معقول وضاحت کردی آپ کے خط کے ہر جملہ سے سوچ وفکر اور خیالات کی پاکیزگی نظر آرہی تھی اس لئے میں نے سوچا کہ میں بھی کچھ اپنے تاثرات کا اظہار کروں۔
آپ کو معلوم ہے کہ شخصیتوں کو تنازعہ قرار دینا دنیا کا بہت ہی پرانا دستور ہے۔ شخصیت جس کے نظریات عوام کی سمجھ سے باہر ہوں ہمیشہ تنازعہ بنی رہتی ہے اور جب ان نظریات کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے تو یہی عوام ان کو ہیرو بنا کر پرستار ہو جاتے ہیں۔ ابن رشد کے نظریات نے اس کی شخصیت کو متنازعہ بنادیاتھا۔ اس کو اپنی جان بچانے کے لئے مراکش میں در بدر مارا مارا پھرنا پڑتا تھا۔ مگر آج اس کو موجودہ سائنس کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ کیپلر، کوپرنکس اور گلیلیو عیسائی دنیا کی تنازعہ شخصیتیں تھیں۔ اس لئے کہ ان کے فلکیاتی نظریات بائبل کے خلاف تھے مگر آج ان کے نظریات کو تسلیم کرنا پڑا۔ الکندی کے نظریات کو مذہب اسلام کے خلاف سمجھا جانے لگا۔ مگر آج اس کو کیمسٹری کا استاد مانا جاتا ہے۔ زمانہ وسطیٰ میں بہت سے حکماء و فلاسفہ اپنے ہم عصر لوگوں کے اعتراضات سے بچنے کے لئے، تاکہ ان کی شخصیتیں تنازعہ نہ بن جائیں، اپنی تحقیقات و نظریات کو ارسطو سے وابستہ کرتے رہے. جس کے نتیجہ میں ارسطو کو غیر معمولی شہرت مل گئی اور اس کو معلم اول قرار دیا گیا۔ جب سر سید احمد خاں کو ” ’’انگریزوں کا پٹھو“ کہا گیا تو ان کے دل پر کیا گزری ہوگی. مگر وہ استقلال سے اپنے مشن کو چلاتے رہے۔ قوم انگریزی پڑھنے لگی اور علمی دوڑ میں دوسرے کے ساتھ سر اٹھائے چل رہی ہے۔ ایسے ہی الزامات جیسا کہ آپ نے اپنے خط میں لکھا ہے بہت سے لوگوں پر لگائے گئے مگر وہ اپنے مشن کو پورا کرتے رہے۔ یہ الزام لگانے والے خود تو کچھ نہیں کر سکتے مگر دوسروں کو کرنے بھی نہیں دیتے بلکہ راستہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔