خبر نامه اسلامی مرکز ۹۹
Al-Risala, October 1994, pp. 48–50
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان ٹائیمز کی نمائندہ کم کم چڈھانے ۴مئی ۱۹۹۴کوصدراسلامی مرکزکاانٹرویولیا۔ سوالات کا تعلق مسلم مسائل اور ملکی حالات سے تھا ۔ وہ ایوننگ نیوز ، ۷ مئی ۱۹۹۲ میں چھپا ہے۔ " ہفتہ ملاقات" کا ایک خصوصی منصوبہ زیرغور ہے۔ اس کے مطابق صدر اسلامی مرکز سفر کر کے ملک کے مختلف مقامات پر جائیں گے اور ایک ایک ہفتہ کے لئے قیام کریں گے۔ دوران مقامی افراد کو جوڑ کر یہ کوشش کی جائے گی کہ ان میں دینی طرزِ فکرپیداہواوروہ حالات حاضرہ کا مطالعہ اسلام کی روشنی میں کر سکیں۔ ملاقات کے اس پروگرام کے سلسلہ میں مقامی لوگوں پر اخراجات کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ جن مقامات کے لوگ اپنے یہاں " ہفتہ ملاقات " کا یہ پروگرام رکھنے کے خواہشمند ہوں وہ بذریعہ ڈاک مطلع فرمائیں تاکہ اس کا نظام مرتب کرتے ہوئے ان کا نام اس میں شامل کیا جاسکے۔
تلنی سنگھ ایسوسی ایٹ (Nalini Singh Associates) نے ۵ مئی کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ویڈیو ٹیپ پر ریکارڈ کیا جو ٹی وی پر دکھایا جائے گا۔ تعلق اس بات سے تھاکہ ہندستان میں عدم رواداری (ان ٹالرنس) بڑھ رہی ہے۔ بتایا گیا کہ عدم رواداری انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ اس لئے اس کا اظہار ہمیشہ وقتی وہ کبھی مستقل طور پر نہیں بڑھتی۔
اچاریہ منی سوشیل کمار کے انتقال پر ، ۷مئی ۱۹۹۴کو اہنسابھون(نئی (نئی دہلی) میں ایک سوگ سبھا ہوئی۔ اس میں دوار کا پیٹھ کے شنکراچاریہ بھی شریک تھے۔ اس کی دعوت . پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انھوں نے بتایا کہ اچاریہ جی سے میری پہلی ملاقات ۱۹۶۵ میں ہوئی۔ اس کے بعد تقریباً ۳۰ سال کے دوران بار بار . انھیں کے ساتھ مل کر دسمبر ۱۹۹۲ میں شانتی یاترا نکالی گئی۔ رپورٹ ٹائیمز آف انڈیا۹مئی ۱۹۹۴میں چھپی ہے۔
میڈیا اسٹار کے اسپیشل کرپانڈنٹ مسز نسیم نقوی نے ۱۰ مئی ۴ ۱۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق شریعت اسلامی کے کچھ مسائل
ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے یکم مئی کے اجلاسی میں یہ صحیح فیصلہ کیا ہے کہ جسٹس تلہری کے معاملہ پر ایجی ٹیشن کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ کے ساتھ انہیں یہ اعلان بھی کرنا چاہئے کہ اس سے پہلے شاہ بانو بیگم اور بابری مسجد وغیرہ مسائل پر عوامی احتجاج کا جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ غلط تھا۔ عوام کو رہنمائی دینے کے لئے یہ اعتراف بھی ضروری ہے۔
آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی نیشنل چینل سے ۳۱ مئی ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ اس کا عنوان تھا : اسلامی تعلیمات کا انسانی پہلو۔ اس تقریر میں خاص طور پر ان العباد کلھم اخوة کی تشریح کی گئی۔
دور درشن کی ٹیم نیوز واچ (Newswatch) نے ۲۲ مئی ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر دہلی کے سلائر ہاؤس کے مسئلے سے تھا، بتایا گیا کہ اس معاملہ میں متوازن فیصلہ لیا جانا چاہئے۔ کیوں کہ سلائر ہاؤس کا تعلق اگر ماحولیات کے مسئلے سے ہے تو دوسری طرف گوشت اور دوسری متعلق چیزوں کے ایکسپورٹ سے قیمتی زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ کسی ایک فرقہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے یہ اسٹرا ئک ۲۳ مارچ ۱۹۹۴ کو شروع ہوئی اور ۱۴ جون ۹۴ کو ختم ہوگئی، راشٹریہ آریہ مہاسمیلن ۲۸۔ ۲۹ مئی ۱۹۹۴ کو نئی دہلی دکتال کٹورہ اسٹیڈیم میں ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ۲۸ مئی کے اجلاس میں شرکت کی اور ذات پات اور علاحدگی پسندی کے مسئلہ پر اصلاحی نقطہ نظر پیش کیا۔
دہلی (ایوان غالب) میں ۵ جون ۱۹۹۴ کو کل ہند علماء اہل حدیث کانفرنس منعقد ہوئی اس کا موضوع حالات حاضرہ تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔ یہ بات نوٹ کی گئی کہ جمعیۃ اہل حدیث سمیت تمام مسلم تنظیمیں اب اسی نہج پر آرہی ہیں جس کی طرف دعوت الرسالہ میں ۱۹۷۶ میں شروع کی گئی تھی۔ چنانچہ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم اعلیٰ نے اپنے مطبوعہ خیرمقدمی کلمات میں مروجہ مناظرہ کاطریقہ چھوڑنے کی تلقین کی ۔ انھوں نے کہا : داعی اپنے مدعو کا ہمدرد اور سچا ہی خواہ ہو۔ ان سے اسے
وہ الہانہ وابستگی اور شفقت ومحبت ہو جب کہیں جاکر مدعو کے دل میں داعی جگہ بناتا ہے۔ عصر حاضر کا مزاج جدال اور مناظرہ کا متحمل نہیں ہے۔
انگریزی اخبار پائیر کے نمائندہ مسٹر اعجاز اشرف نے ۷ جون ۱۹۹۴ء کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ کیا اسلام میں زمانہ کے لحاظ سے نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اس نقطہ نظر کی سختی کے ساتھ تردید کی گئی اور دلیل سے بتایا گیا کہ اسلام ایک ابدی صداقت ہے، اس میں تبدیلی کا کوئی سوال نہیں۔ اکنامک ٹائمس کے نمائندہ مسٹر بابر زیدی نے ۹ جون ۱۹۹۴ء کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ مسلمانوں کو سائنسی تعلیم کے میدان میں کس طرح لایا جائے ۔ بتایا گیا کہ یہ کام فتوی کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا پڑے گا۔
سنتوش کمار پانڈے اور مسٹر محمد یتیم کمال نے ۱۰ جون ۱۹۹۴ء کو آل انڈیا ریڈیو کے لئے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس بات سے تھا کہ تسلیمہ نسرین جیسے واقعات کیا یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں ریفارم کی ضرورت ہے۔ بتایا گیا کہ ریفارم کی ضرورت مسلمانوں میں ہے نہ کہ اسلام میں۔
ایشین ایج کی نمائندہ مسزشیلاریڈی نے ۱۳ جون ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا ٹیلی فون پر سوالات کا تعلق زیادہ تر اس بات سے تھا کہ ہندوستان میں مسجدوں اور مدرسوں کا نظام کیا ہے اور کس طرح اسے چلایاجاتاہے ۱۴۔
ہندی روزنامہ جن ستاکے نمائندہ مسٹر اسرا ر احمد نے ۱۳ جون ۱۹۹۴ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو رنے اسلام سے متعلق بہت سے سوالات کئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ کیا اسلام میں سدھار کی ضرورت ہے۔ جواب دیا گیا کہ اسلام میں سدھار کا کوئی سوال نہیں۔ البتہ مسلمانوں میں بہت سے بگاڑ آگئے ہیں اور ان میں ضرور سدھار کی ضرورت ہے۔ الرسالہ کا ایک خصوصی نمبر زیر تیاری ہے۔ یہ اسلام کی اخلاقی اور انسانی تعلیمات پر مشتمل ہوگا۔ اس کا نام اخلاقیات ہوگا۔