Al-Risala · November 1994

رسالہ نومبر ۱۹۹۳ء

Al-Risala, November 1994, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

ریاض کے عربی ماہنامہ الفیصل (صفر ۱۴۱۴ھ) میں کرسٹوفرکولمبس (۱۵۰۶-۱۴۵۱) کے بارے میں ایک تحقیقی مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے : : لماذا أخطأ كولمبس (کولمبس نے کیوں غلطی کی ؟ ) اس کے لکھنے والے ڈاکٹر مظفر صلاح الدین شعبان ہیں۔ اس مضمون کا ایک پیراگراف یہ ہے :

في الفترة الممتدة من القرن الثامن و آٹھویں صدی سے لے کر بارھویں صدی عیسوی حتى القرن الثاني عشر كانت اللغة العربية تک کے زمانہ میں عربی زبان ہی دنیا کے بیشتر هي لغة العلوم لغالبية الجنس البشري لوگوں کی علمی زبان تھی ۔ اور اسی بنا پر کولمبس نے ولهذا السبب فقد اعتبار كولمبس اللغة عربی زبان کو تمام زبانوں کی ماں قرار دیا اور اسی العربية ام جميع اللغات - وهذا يفسر سے اس کا سبب بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیوں اپنے سبب اصطحابہ معدہ فی رحلته الأولى پہلے سفر میں ایک اسپینی لوئی دی تورکو خصوصی الإسباني لويس دي تور الذى يتقن مترجم کے طور پر اپنے ساتھ لے گیا جو کہ عربی زبان العربية من ترجماتها له (صفحہ ۳۰) سے بخوبی واقف تھا ۔

اس واقعہ کا ذکر انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں اس طرح آیا ہے _ کولمبس چوں کہ نہیں جانتا تھا کہ وہ جہاں جا رہا ہے وہاں اس کو وحشی لوگ ملیں گے یا مہذب لوگ ، اس نے اپنے جہازوں پر سستے اور معمولی سامان لاد لیے تاکہ وہ وہاں کے قدیم باشندوں سے ان کا سونا حاصل کر سکے۔ مگر اسی کے ساتھ اس نے ایک شخص لوئی دی تور کو اپنے جہاز میں بٹھایا جو کہ ایک یہودی تھا اور وہ عبرانی اور کلدانی کے علاوہ کچھ عربی زبان بھی جانتا تھا، اس ضرورت کے پیش نظر کہ وہاں "عظیم خان" سے اس کی ملاقات پیش آ جائے :

As Columbus did not know whether he was to come across new savages or old civilizations, he loaded his ships with cheap merchandise to relieve aboriginals of their gold, but also took on board one Luis de Torres - "who had been a Jew and knew Hebrew and Chaldeand a little Arabic" - in case he met the "grand khan". (4/938)

یہ اس دور کی بات ہے جو پانچ سو سال پہلے دنیا میں پایا جاتا تھا۔ اس وقت عربی زبان کا وہی مقام تھا جو آج انگریزی زبان کا مقام ہے۔ اس وقت عربوں کو وہی درجہ حاصل تھا جو آج اہل مغرب کو حاصل ہے۔ اس وقت عالمی واقعات کی کنجی مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی جس طرح آج وہ غیر مسلموں کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے۔

یہ تبدیلی کسی سازش کی بنا پر پیش نہیں آئی۔ بلکہ تمام تر فطرت کے قانون کے تحت پیش آئی۔ دنیا کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا قانون یہ ہے کہ جس کو جو کچھ ملے گا استعدادی بنا پر ملے گا اور جس سے جو کچھ چھنے گا بے استعدادی بنا پر چھن جائے گا۔ اس دنیا میں جو لوگ محروم رہ جائیں انھیں دوسروں کی سازش یا تعدی کا انکشاف کرنے کے بجائے اپنی بے استعداد کی کو ختم کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اگر وہ کچھ پائیں گے تو اپنی بے استعداد کی کو ختم کر کے ہی پائیں گے۔ شکایت اور احتجاج کی بنیاد پر یہاں انھیں کچھ ملنے والا نہیں۔

موجودہ دنیا کو اس کے پیدا کرنے والے نے کسی خاص نسل یا کسی خاص گروہ کے لیے پیدا نہیں کیا ہے۔ بلکہ تمام انسانوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہاں کسی ایک انسان کاجوحق ہے وہی دوسرے تمام انسانوں کا حق بھی ہے۔ یہاں کوئی چیز صرف وہ لوگ پاتے ہیں جو فی الواقع اس کے حق دار ہوں۔

حق دار کون ہے ۔ قرآن کے مطابق حق دار وہ ہے جس میں نفع بخشی کی صلاحیت ہو۔ فطرت کا ایک مستقل اصول یہ بتایا گیا ہے کہ جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے (واما ما ينفع الناس فيمكث في الارض) :

and that which is for the good of mankind remains on the earth یہی اس دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ابدی قانون ہے۔ یہاں قیام و استحکام صرف اس کو ملتا ہے جو نفع بخشی کا ثبوت دے۔ جو دوسروں کے لیے مفید ثابت ہو۔ کسی قوم کی زبان ہو یا اس کی حکومت، کسی قوم کا کلچر ہو یا اس کی اقتصادیات، کسی بھی چیز کو صرف اس وقت تک زمین کے اوپر برتری اور بالا دستی حاصل ہوگی جب کہ اس میں دوسروں کو نفع پہنچانے کی صلاحیت ہو، نفع بخشی کی صلاحیت کھوتے ہی وہ اپنا غالب مقام بھی کھو دے گی۔

Printed page