اصل مسئلہ
Al-Risala, November 1994, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
مولا ناشکیل احمد قاسمی (۳۸ سال) مدرسہ امداد الاسلام، میرٹھ میں صدر مدرس اور شیخ الحدیث ہیں۔ ۱۸ دسمبر ۱۹۹۳ کو دہلی میں ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا ایک تجربہ بتایا جو نہایت سبق آموز ہے۔ انھوں نے کہا کہ نومبر ۱۹۹۲ میں صدر بازار (میرٹھ) کے ایک تعلیم یافتہ ہندو مسٹر اندر جیت سنگھ اہلووالیا ان کے مدرسہ میں آئے۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے دو لڑکوں، انگور واہلووالیا اور چارلی اہلووالیا کو اُردو اور عربی زبان پڑھانا چاہتا ہوں۔ آپ ان کے لیے کسی ٹیوٹر کا انتظام کردیں۔ مولا نا قاسمی نے پوچھا کہ آپ ان بچوں کو اُردو، عربی کیوں پڑھانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے بچوں میں کھلا ذہن پیدا ہو۔ وہ تنگ نظری سے اوپر اٹھ کر سوچنے والے بنیں۔ واضح ہو کہ مسٹر اندر جیت سنگھ اہلووالیا کا تعلق آرایس ایس سے ہے اور وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایکٹو ممبر ہیں۔ مولا نا شکیل احمد قاسمی نے سوچا کہ اگر میں مدرسہ کے کسی طالب علم کو اس کام پر مقرر کروں تو شاید وہ ٹھیک سے اس کو انجام نہ دے سکے۔ چنانچہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ہی اس کام کو کریں گے۔ انھوں نے جب مسٹر اہلو والیا سے یہ بات کہی تو ان کو بہت تعجب ہوا۔ تاہم مولانا قاسمی کے اصرار پر انھوں نے اس کو قبول کرلیا۔ اب انھوں نے پوچھا کہ مولانا صاحب ، ہم کو ماہوار کتنا دینا ہوگا۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ کچھ نہیں۔ یہ تو میرے لیے ایک خوشی کا کام ہے۔ میرے لیے یہی قیمت کافی ہے کہ ایک ایسے حلقہ میں جہاں اُردو ختم ہورہی ہے وہاں کچھ لوگ اُردو اور عربی جاننے والے پیدا ہو جائیں گے۔ فرض کچھ دیر کی بحث کے بعد طے ہوگیا کہ مولانا قاسمی ان کے گھر پر جاکر ان کے بچوں کو اردو پڑھایا کریں گے۔ مولاناشکیل احمد قاسمی نے مولانا اسماعیل میرٹھی کی ریڈرسے ان بچوں کو اردو پڑھانا شروع کیا۔ یہ سلسلہ یکم دسمبر ۱۹۹۲ کو شروع ہوا اور اب تک وہ بدستور جاری ہے ۔ اس مدت میں ان ہندو بچوں نے کئی ریڈریں ختم کرلی ہیں۔ وہ اب صحیح املاکھ لکھ لیتے ہیں اور اُردو اخبار (مثلاً قومی آواز) کو آسانی سے پڑھ لیتے ہیں۔ اب انھوں نے منہاج العربیہ کے ذریعہ سے عربی پڑھنا شروع کر دیا ہے۔ اس وقت وہ منہاج العربیہ کا دوسرا حصہ پڑھ رہے ہیں۔ ان کے گھرمیں اُردوکا اتناچرچاہواکہ اب خود مسٹر اندر جیت سنگھ اہلو والیہ نے بھی مولانا قاسمی سے اردو پڑھنا شروع کر دیا ہے۔ ۱۰ الرسلا نومبر ۱۹۹۴
کتابوں کے علاوہ بازار سے ضخیم فیروز اللغات بھی خرید لی ہے تاکہ اردو سیکھنے میں وہ ان کے لیے معاون ہو سکے۔
اس تعلیم کا مزید اثر یہ ہوا ہے کہ اہلو والیا فیملی میں " اردو تہذیب " آنا شروع ہوگئی وہ لوگ گفتگو میں ان شاء اللہ، ماشاء اللہ، خدا حافظ جیسے الفاظ کو استعمال کرنے
مسٹر اہلو والیہ ہر طرح مولانا شکیل احمد قاسمی کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ وہ ہر موقع پر ان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار رہتے ہیں۔ مثلاً مسٹر اہلو والیہ ایک ہندو علاقے میں رہتے ہیں۔ مولانا قاسمی جب ان کے یہاں سے پڑھا کر نکلتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو ان کے ساتھ دور تک بھیجتے ہیں تاکہ لوگ انہیں اجنبی محسوس نہ کریں۔
یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ ہندوستان میں ہمارا مسئلہ کیا ہے۔ ہندوستان میں ہمارا مسئلہ " ہندو فرقہ واریت " نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ ہندو مسلم دوری ہے۔ اور مسلمانوں کے درمیان کسی بھی ذریعہ سے ملنا جلنا شروع ہو جائے تو اس کے بعد تمام مسائل اس طرح ختم ہو جائیں گے جیسے کہ وہ تھے ہی نہیں۔
دوری غلط فہمی پیدا کرتی ہے اور قربت سے دوستی پیدا ہوتی ہے۔ عام تجربہ ہے کہ جہاں ہندوئوں اور مسلمانوں میں دوری آئی وہاں ساتھ ساتھ غلط فہمیاں بھی آگئیں۔ اور جہاں میل ملاپ بڑھا وہاں اپنے آپ ایک دوسرے سے اچھے تعلقات قائم ہو گئے۔
۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوستان زرعی دور میں تھا، اس وقت زراعتی زندگی کے تحت فطری طور پر ہندوئوں اور مسلمانوں میں بار بار ملنے کی صورتیں پیدا ہوتی تھیں۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں صنعتی دور آ گیا ۔ کے تقاضے کے تحت خاندان منتشر ہو گئے۔ لوگ ادھر اُدھر جانے لگے۔ اس طرح مشترک زندگی کا نظام ٹوٹ گیا۔ پچھلے تعلقات باقی نہیں رہے۔ موجودہ زمانہ میں دونوں فرقوں میں دوری کا بڑا سبب یہی ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعلیمی اداروں میں جائیں۔ جدید اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھ کر حصہ لیں۔ نیز اس انداز کے کام بھی کریں جس کی ایک مثال مولانا شکیل احمد قاسمی کا مذکورہ واقعہ اس کے بعد انشاء اللہ دوبارہ میل ملاپ کا سابقہ دور واپس آجائے گا۔