Al-Risala · November 1994

سنتِ اجتہاد

Al-Risala, November 1994, pp. 17–46

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول کا زمانہ ، صحابہ کا زمانہ اور تابعین کا زمانہ اسلام کی تاریخ میں معیاری زمانہ ہے۔ اس کو پیغمبر کی حدیث کی بنا پر قرون مشہود لہا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ گویا اسلام کا دور اول ہے۔ اسی دور اول کی روشنی میں بعد کے زمانوں کو جانچا جائے گا، نہ کہ بعد کے زمانہ کی روشنی میں دورِ اول کو جانچا جانے لگے۔

شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں بجا طور پر لکھا ہے کہ دور اول میں اسلامی فقہ موجودہ فنی صورت میں پائی نہیں جاتی تھی اور نہ اس کی باقاعدہ تدوین ہوئی تھی۔ مدون فقہ کا آغاز خلافت عباسیہ کے زمانہ میں ہوا۔ دور اول کی فقہ سادہ اور فطری اسلوب پر بعد کے زمانہ میں اس میں تعمق اور تقصی اور تقسیم کا اضافہ ہوا۔ اس طرح فطری فقہ نے ایک فنی فقہ کی صورت اختیار کرلی۔

فنی فقہ کو سمجھنے کے لئے ایک سادہ مثال لیجئے ۔ ایک شخص نے ایک مفتی سے طلاق کے بارہ میں سوال کیا۔ سوال یہ تھا کہ فریقین کے درمیان اگر مسلک کا اختلاف ہو، یعنی ایک حنفی ہے اور دوسرا غیر حنفی، ایسی صورت میں قاضی کیا فیصلہ کرے گا اور اس کا فیصلہ کس طرح ان کے اوپر نافذ ہوگا۔ مفتی نے جواب دیا۔ دیا___امورمجتہد فیہامیں فقہاء نے قاضی کے فیصلہ کو رافع خلاف قرار دیا ہے۔

یہ کسی سوال کے جواب کا فنی انداز ہے۔ یہ انداز بعد کے زمانہ میں رائج ہوا۔ تابعین کے زمانہ میں جواب کے لئے اس انداز کارواج نہ تھا۔ اس مخصوص اسلوب کو اگر علم فقہ کالازمی جزو سمجھ لیا جائے تو اس کے بعد ہی ہوگا کہ اگر اس فنی اسلوب میں کمال رکھنے والے لوگ موجود نہ ہوں تو کہنے والے کہیں گے کہ فقہی غور و فکر کا دروازہ بند کر دو، کیوں کہ اب اس کے اہل افراد دنیا میں پائے نہیں جاتے۔

اس تفنین نے فطری دین میں غیر فطری مسائل پیدا کر دئے۔ مثلاً ایک مسئلہ یہ تھا کہ شریعت میں استدلال کی بنیاد کیا ہو۔ اس میں فنی خوض کرکے فقہاء نے چار اصول وضع کئے ۔

عبارت النص، دلالة النص ، اشارة النص، اقتضاء النص مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غیر ضروری اس چار کو ہم سادہ طور صرف دو میں بیان کر سکتے ہیں۔ یعنی منصوص استدلال اور استنباطی استدلال جو استدلال براہ راست کسی نص صریح پر مبنی ہو ، وہ منصوص اور جو استدلال کسی نص سے مستنبط کیا جائے وہ استنباطی استدلال۔ اجتہاد کے معاملہ میں بھی اسی طرح کی تدقیق کر کے اس کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ اسی مصنوعی پیچیدگی نے چوتھی صدی ہجری میں یہ ذہن پیدا کیا کہ اب ہمیشہ کے لئے اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ کیوں کہ اجتہادی صلاحیت کے لوگ دنیا میں باقی نہیں رہے۔ حالاں کہ اجتہاد کو اگر اس کے فطری مفہوم میں لیا جائے تو اس کا دروازہ بند ہونے کی بات بالکل بے معنی نظر آئے گی۔ کیوں کہ اجتہاد محض ایک شرعی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ضرورت اجتہاد در اصل استنباط ہی کی اعلیٰ صورت ہے۔ اور استنباط ایک ایسی انسانی ضرورت ہے جس سے کسی بھی حال میں اور کسی بھی معاملہ میں مفر ممکن نہیں۔

قدیم زمانہ میں اقتصادی معاملات (commercial transactions) کے لئے سونے اور چاندی کے سکے کا رواج تھا جن کا نقل و حمل سخت مشکل تھا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں کاغذی نوٹ کا عمومی استعمال شروع ہوا جس نے اس مسئلہ کو نہایت آسان بنا دیا۔ اس وقت دہلی میں مولانا عبدالحق حقانی موجود تھے۔ کسی آدمی نے مولانا سے فتویٰ پوچھا کہ نوٹ کا استعمال جائز ہے یا نا جائز ۔ مولانا نے جواب دیا : میرا فتویٰ نہیں چلے گا۔ مگر نوٹ چل جائے گا ۔ واقعہ بتاتاہے کہ اجتہاد کس طرح ایک ضرورت حیات ہے۔ اور جو چیز ضرورت حیات کی حیثیت رکھتی ہو وہ اس وقت تک باقی رہے گی جب تک خود حیات باقی ہے ۔ نہ اس کا دروازہ بند ہونے کا سوال ہے اور نہ اس کی گنجی گم ہونے کا۔

اجتہاد کا لفظ جہد سے بنا ہے۔ جہد کے معنی کوشش کے ہیں اور اجتہاد کے معنی زیادہ کوشش کے ہیں۔ اجتہد فی الامر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے فلاں معاملہ میں انتہائی اس میں اس نے اپنی پوری صلاحیت استعمال کر ڈالی۔ شریعت کے مسائل میں جب اجتہاد کا لفظ بولا جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے، اپنی پوری کوشش صرف کر کے متعلقہ معاملہ میں

شرعی حکم معلوم کرنا۔

مجتہد کی دو بڑی تقسیم کی گئی ہے۔ مجتہد مقید، مجتہد مطلق۔ مجتہد مقید وہ ہے جو پیش آمدہ حالات میں مروجہ فقہی مسالک میں سے کسی مسالک کا پابند رہ کر فتویٰ دے۔ وہ اپنے اختیار کردہ مسلک سے باہر نہ جائے۔ مثلاً فقہ حنفی میں ایک مجلس کی تین طلاق کو تین مانا جاتا ہے۔ اب مسلک حنفی سے وابستہ مجتہد اسی کی پیروی میں فتویٰ دے گا، وہ کسی حال میں اس سے باہر نہیں جائے گا۔ مجتہد مطلق وہ مجتہد ہے جو کسی مسلک فقہ یا کسی امام کی پیروی نہ کرے۔ بلکہ معاملہ پیش آنے کے بعد براہ راست شرعی دلائل کی روشنی میں از خود مسائل و احکام کا استنباط کرے۔ اصطلاحوں میں مقیداورمطلق کاتعین مسالک فقہ کی نسبت سے ہے۔ یعنی مروجہ مسلک فقہ کا پابند رہ کر مسئلہ بیان کرنے والامجتہدمقیدہے اورمروجہ مسالک فقہ کی پابندی کے بغیر مسئلہ بیان کرنے والا مجتہد مطلق۔

اس کے بعد مزید تدقیق کر کے مجتہد مقید کی کئی قسمیں بنائی گئی ہیں۔ مثلاً مجتہد منتسب مجتہد تخریج، مجتہد ترجیح، مجتہد الفتیا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید میں مجتہد کی یہ قسمیں بتائی ہیں۔ لیکن اگر تدقیق کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس فہرست میں مزید اتنے ہی مجتہدین کا اضافہ کیا جا سکتا ہے جتنا کہ بیان کیا جاتا ہے۔ اس معاملہ کو اگر فطری انداز سے دیکھا جائے تو بنیادی طور پر مجتہدین کی صرف دو قسمیں قرار پائیں گی۔ میں ان کو کلی مجتہد اور جزئی مجتہد کہوں گا۔ جزئی مجتہد وہ ہے جو شریعت کے فروعی احکام میں مسلمہ فقہی اصولوں کے مطابق اجتہادکرے کلی مجتہد وہ ہے جو کسی پیش آمدہ صورت معاملہ میں روایتی ڈھانچہ سے اوپر اٹھ کر شریعت کے وسیع تر اور گہرے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے تخلیقی نوعیت کا ایک اصول وضع کر سکے۔

رسول اور اصحاب رسول کی زندگی میں جس طرح تمام معاملات و مسائل کے لئے نظیریں اسی طرح جزئی اجتہاد اور کلی اجتہاد کی نظیریں بھی موجود ہیں۔ ان نظیروں اور مثالوں کا مطالعہ کر کے بعد کے زمانوں کے لئے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

جزئی اجتہاد کا ایک واقعہ یہ ہے کہ غزوہ خندق سے فراغت کے بعد ذوالقعدہ ۱۹ میں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی بستی بنوقریظہ کے محاصرہ کے لئے ان کی طرف صحابہ کی ایک جماعت ان کو روانہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک وہ بنوقریظہ کی بستی میں نہ پہنچ جائے لا يصلين أحد العصر إلا في بني قريظة السیرۃ النبوية لابن کثیر ۳/ ۲۲۵ ہم روانہ ہوئے تو راستے میں عصر کا وقت آگیا۔ کچھ لوگوں نے حکم کی لفظی تعمیل کی، وہ راستے طے یہاں تک کہ جب بنو قریظہ کی بستی میں پہنچ گئے، اس وقت سواری سے اتر کر عصر کی نماز کچھ اور افراد کو اندیشہ ہوا کہ عصر کا وقت شاید نکل جائے۔ چنانچہ انھوں نے درمیان میں رک کر عصر کی نماز ادا کی۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے مراد تعجیل سیر تھی نہ کہ ہر حال میں نماز کی ادائیگی میں تاخیر۔

بنو قریظہ کے سفر کا یہ واقعہ جزئی اجتہاد کی ایک مثال ہے۔ یہ مثال خود اصحاب رسول کے ذریعہ قائم ہوئی۔ اس میں بظاہر حکم رسول کی خلاف ورزی تھی۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی۔ اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ اجتہاد میں ابتدائی حکم سے ظاہری مطابقت ضروری نہیں ہے۔ اگر اجتہاد میں حکم شرعی کی اصل روح پائی جارہی ہو تو وہ صحیح اجتہاد قرار دیا جائے گا۔

دور اول میں اجتہاد کلی کی ایک مثال وہ ہے جو حدیبیہ کے موقع پر پیش آئی۔ معاہدہ تمام ظاہری حالات سے اوپر اٹھ کر کیا گیا۔ اس اعتبار سے وہ کلی اجتہادکی نوعیت کو سمجھنے کے لئے ایک معیاری نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

حدیبیہ کا معاہدہ دس سال کا نا جنگ معاہدہ تھا جو یکطرفہ شرائط کی بنیاد پر کیا گیا۔ وقت قرآن میں یہ آیت اتر چکی تھی کہ ان لوگوں کو لڑائی کی اجازت دے دی گئی جن سے لڑائی کی جارہی ہے، اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا (الحج ۳۹) حدیبیہ کے وقت اور حدیبیہ سے پہلے فریق ثانی واضح طور پر ظلم اور جارحیت کا معاملہ کر چکا تھا۔ اس کے باوجود ان کے خلاف جنگ نہیں چھیڑی گئی۔

عمرہ کی ادائیگی کے بغیر حدیبیہ سے واپسی سراسر ملی وقار کے خلاف تھی مگر آپ نے اس کو نظر انداز

معاہدہ کے کاغذ سے رسول اللہ کالفظ مٹاناگویااپنی اصل حیثیت کو مجروح کرنا تھا مگر اس کے باوجود آپ نے رسول اللہ کا لفظ کاغذ سے مٹادیا۔ ابوجندل کوزخمی حالت میں دشمنوں کی طرف واپس بھیجنا سخت جذباتی معاملہ تھا مگر اس کو بھی آپ نے برداشت کر لیا۔ میں صحابہ کے پڑاؤ پر مکہ کے آدمیوں نے خشت باری کی مگر آپ نے اس کا انتقام نہیں لیا۔ اس طرح کے متعدد اشتعال انگیز واقعات پیش آئے۔ مگر آپ نے ان سب سے اوپر اٹھ کر آپ نے کلی مصلحت کو جزئی مصالح کے اوپر غالب رکھا۔

حدیبیہ کے وقت جو حالات تھے وہ سب کے سب ٹکراؤ کی طرف لے جانے والے تھے۔ اور ظاہری احکام شریعت کے مطابق، اس وقت یہ نکرہ اؤ عین جائز بھی تھا۔ مگر آپ نے اس قسم کے تمام حالات سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ آپ نے قریبی مصلحتوں کو نظر انداز کر کے دور کی پائیدار مصلحتوں کو اہمیت دیتے ہوئے صلح کے معاہدہ پر دستخط کر دئے۔ اس کا نتیجہ، قرآن اور تاریخ کی شہادت کے مطابق، فتح مبین کی صورت میں برآمد ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ نے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں کلی اجتہاد کی ایک نہایت ممتاز مثال قائم کی ہے۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس لئے ہوا کہ وہ اہل ایمان کے لئے ایک نمونہ ہو جائے اور ان کو ایک سیدھا راستہ دکھادے (الفتح: ۲۰) گویا حدیبیہ کا معاملہ قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے اجتہاد کلی کا ایک معیاری نمونہ ہے۔

موجودہ زمانہ میں دوبارہ مسلمانوں کو اجتہاد کلی کی ضرورت ہے۔ یہ اجتہاد کلی ان کے لئے گویا ایک برتر حل (superior solution) ثابت ہوگا۔ وہ اسی طرح ان کے مستقبل کے لئے فیصلہ کن بن جائے گا جس طرح دور اول میں حدیبیہ کا معاملہ اسلام کی تاریخ کے لئے فیصلہ کن ثابت ہوا تھا۔

پچھلی صدیوں میں برصغیر ہند میں، نیز پوری مسلم دنیا میں، مسلم رہنماؤں نے بار بار بڑے بڑے اقدامات کئے ہیں، ان اقدامات میں غیر معمولی جانی و مالی قربانیاں دی گئی ہیں۔ تمام اقدامات مکمل طور پر بے نتیجہ رہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ تمام اقدامات جزئی اجتہاد کی بنیاد پر کئے گئے ۔ جب کہ حالات کا تقاضا تھا کہ کلی اجتہاد والی بصیرت کے تحت فیصلہ کیا جائے۔

جزئی اجتہاد یا جزئی استنباط کی بنیاد کسی ایک حکم شرعی پر قائم ہوتی ہے۔ کلی اجتہاد یا کلی استنباط مجموعی شرعی مصلحت کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت سلمان فارسی جب مکہ سے ہجرت کر رہے تھے تو ان کے پاس کچھ دینار موجود تھے۔ قریش کے کچھ نوجوانوں نے ان کا راستہ روکا اور کہا کہ ہم ان دیناروں کو لے کر تمہیں مدینہ جانے نہیں دیں گے۔ اس وقت اگر حضرت سلمان فارسی اس حدیث کو یاد کرتے کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فھوشھیداوراپنے مال کو بچانے کے لئے قریش کے نوجوانوں سے لڑ جاتے تو یہ جزئی استنباط ہوتا۔ مگر انہوں نے وسیع تر اسلامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے تمام دینار قریش کے نوجوانوں کے حوالے کر دئے۔ انھوں نے مال کو بچانے کی فکر نہیں کی، بلکہ اپنی جان کو بچاکرمکہ سے مدینہ چلے گئے ۔ ان کی یہ روش کلی استنباط کی ایک مثال تھی۔ موجودہ زمانہ میں مسلم دنیا میں جو بڑے بڑے اقدامات کئے گئے، وہ سب کسی نہ کسی آیت یا حدیث کا حوالہ دے کر کئے گئے۔ مگر یہ سب جزئی استنباطات تھے، جب کہ اس زمانہ میں مجموعی اسلامی مصالح کو سامنے رکھتے ہوئے کلی استنباط کی ضرورت تھی۔ اس کوتاہی کی بنا پر ان کا استنباط یا اجتہاد اجتہادی خطا کی مثال بن گیا۔

اورنگ زیب عالمگیر نے مختلف طاقتوں سے ٹکرائو کیا تو اس کے سامنے اسلام کا صرف یہ حکم تھا کہ اسلام دشمن طاقتوں کو زیر کرو۔ اس کے بعد شاہ ولی اللہ دہلوی نے مرہٹوں کے خلاف جہاد کی اسکیم بنائی۔ سید احمد شہید بریلوی نے سکھوں کے خلاف جہاد کیا۔ نے انگریزوں سے جہاد بالسيف کیا۔ اس طرح کے تمام واقعات اسلام کے حکم۔ مقابلہ کرو سے مستنبط کئے گئے تھے۔

اسی طرح اقبال کا علیحدہ مسلم اسٹیٹ کا نظریہ اور تقسیم کے بعد اٹھنے والی مسلم پرسنل لا تحریک، بابری مسجد تحریک اس قسم کی تمام تحریکیں تحفظ شریعت کے حکم سے اخذ کی گئی تھیں۔ زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کے احیاء کے لئے اس کلی اجتہاد کی ضرورت تھی جو مجموعی مصالح شرعی کی بنیاد پر وضع کیا جائے۔ مگر تمام مصلحین صرف جزئی استنباط کی حد تک پہنچ سکے۔ شریعت کے مجموعی مصالح کے پیش نظر کلی استنباط یا کلی اجتہاد کا ثبوت نہ دے سکے، اس لئے نہ

ان کا استنباط مطابق حال تھا اور نہ وہ کسی حقیقی نتیجہ تک پہنچانے کا ذریعہ تھا۔ بعض حالات میں جزئی اجتہاد بھی کافی ہو جاتا ہے، جیسا کہ بنو قریظہ کے واقعہ میں نظر آتا ہے۔ مگر بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جب کہ ایسے کلی اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے جس میں مصالح کلی کی رعایت پائی جاتی ہو۔ موجودہ زمانہ میں اسی قسم کے کلی اجتہاد کی ضرورت تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کے علماء اسلام اس قسم کے کلی اجتہاد تک نہ پہنچ سکے، اس لئے وہ ملت کے لئے ایسا اقدام بھی تجویز نہ کر سکے جس میں مصالح کلی کی رعایت پائی جاتی ہو۔ کلی استنباط کے لئے وہ مجتہدانہ بصیرت درکار ہوتی ہے جس کی توجہ جزئیات دین سے زیادہ اساسات دین پر ہو۔ جو احکام شریعت کے ساتھ تاریخ کی طاقتوں کو بھی جانتا ہو۔ الفاظ شریعت کے ساتھ اسرار شریعت کی گہرائیوں تک بھی پہنچ چکا ہو۔ جس کے ایمان نے اس کو وہ فراست ربانی عطا کی ہو جب کہ آدمی خدا کی روشنی سے دیکھنے لگتا ہے جو علوم الہامی کا عارف ہونے کے ساتھ بصیر آ ب زمانہ کے درجہ پر بھی فائز ہو۔

یہ وہ عالم شریعت ہے جس کی نگاہ وقتی مسائل سے گزر کر دور تر مسائل تک پہنچ گئی ہو۔ قریبی حالات سے زیادہ مستقبل کے حالات پر نظر رکھے۔ جو کسی اقدام کے مابعد نتائج کو بھی سمجھنے کی استعداد رکھتا ہو۔ جو رد عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ جو مسائل و مشکلات کے درمیان مواقع اور امکانات کو دریافت کر سکے۔ جو خواہشات انسانی کے دائرہ سے نکل کر فیصلہ خدا وندی کے اشاروں کو پڑھنے والا بن گیا ہو۔ جو اس راز کو جانے کہ کبھی بولنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی نہ بولنا۔ کبھی کرنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی نہ کرنا۔ جو ظاہری ہنگاموں کے درمیان چھپے ہوئے عوامل کو جانے، جو پس پائی کے واقعہ کو بھی اقدام کے روپ میں دیکھ سکے۔ اور نگ زیب عالمگیر (۱۷۰۷ - عالمگیر(۱۷۰۷۔ ۱۶۱۸)نے نے برصغیر ہند میں اسلام کا پولیٹیکل ایمپائر مگر طویل ترین زمانہ تک ہر قسم کی کوشش اور قربانی کے باوجود وہ یہاں مطلوب پلیٹیکل ایمپائر بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد سے آج تک تقریباً تین سو سال سے تمام رہنماؤں کا یہی سب سے زیادہ پسندیدہ خواب رہا ہے۔ کوئی اس مقصد کے لئے جہاد بالسيف

اور کسی کے حالات نے اس کو جہاد بالتعلم اور جہاد باللسان تک محدود رکھا۔ تاہم یہ تین سو سالہ کوششیں بے حساب جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود سراسر بے نتیجہ رہیں۔ اس کا سبب یہی تھا کہ ان تمام رہنماؤں کا ذہن جزئی دائرہ میں کام کرتا رہا۔ سے اٹھ کر کلیات کو اپنی گرفت میں نہ لاسکے۔

اس اجتہادی خطا کا اصل راز یہ ہے کہ مغربی قوموں کی طرف سے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو چیلنج پیش آیا، اس میں عصر کے ساتھ تیسرا پہلو وافر مقدار میں موجود تھا۔ مگر ہمارے تمام رہنما عصر کے پہلو میں اتنا الجھے کہ وہ تیسرے پہلوؤں کو نہ دیکھ سکے۔

مغربی تہذیب کے ظہور کا ایک ابتدائی نتیجہ یہ تھا کہ اس نے ان قوموں کو سیاسی غلبہ عطا کر دیا۔ مگر اس تہذیب نے انسانی معاملات میں جو انقلاب برپا کیا تھا اس نے تاریخ میں پہلی بار عظیم امکان کھول دیا تھا کہ پولیٹیکل ایمپائر سے بھی زیادہ بڑی ایک چیز قائم کی جاسکے، اور وہ وہی چیز ہے جس کو ہم نے دعوہ ایمپائر کہا ہے۔

پولیٹیکل ایمپائریں میں طاقت کا انحصار تمام تر سیاسی قوت پر ہوتا ہے۔ جب کہ دعوہ ایمپائر میں طاقت کا انحصار تمام تر فکری اور نظریاتی قوت پر ہوتا ہے۔ سیاسی یا فوجی قوت کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں۔ اس معاملہ میں تلک الایام ند او لھا بین الناس کی سنت الہی کار فرما ہوتی ہے اور وہ کسی بھی قوم کے حصہ میں آسکتی ہے۔ مگر فکری اور نظریاتی قوت کے معاملہ میں اہل اسلام کو تنہا اجارہ داری حاصل ہے۔ کیوں کہ اسلام واحد مذہب ہے جو تاریخی طور پر معتبر مذہب کی حیثیت رکھتا ہے دوسرے تمام مذاہب تبدیلیوں کے نتیجہ میں تاریخی اعتباریت کھو چکے ہیں۔ اس طرح دعوہ ایمپائر بنانے کی صلاحیت حقیقی معنوں میں اسلام کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔

قدیم زمانہ کے حالات میں صرف پولیٹیکل ایمپائر ہی اصل اہمیت رکھتا تھا۔ مسلمانوں نے عالمی سطح پر اپنا ایک پولیٹیکل ایمپائر بنایا۔ مگر موجودہ زمانہ میں سیاست اور حکومت کی حیثیت ثانوی ہو گئی۔ اب دوسری غیر سیاسی چیزوں نے اولین اہمیت اختیار کرلی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مصلحین اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بے فائدہ طور پر سیاست کی چٹان پر اپنا سر

جب کہ ہمیں اسی وقت ان کے لئے دوسرے مواقع کو استعمال کر کے دوبارہ زیادہ طاقت ور انداز میں دعوہ ایمپائر بنانے کا امکان پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ قدیم زمانہ میں اقتصادیات کا انحصار تمام تر زمین پر ہوتا تھا اور زمین بادشاہ کی ملکیت ہوتی تھی۔ اس لئے بادشاہ کے سوا کوئی اور شخص اقتصادی قوت کا مالک نہیں بن سکتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں انڈسٹری کی ترقی نے زمین کو ثانوی حیثیت دیدی ہے اور صنعت و تجارت کو اقتصادی معاملہ میں اولین اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، انڈسٹری پوری طرح ایک آزاد شعبہ کوئی بھی شخص یا کوئی بھی گروہ انڈسٹری کے مواقع کو استعمال کر کے اعلیٰ ترین اقتصادی ذرائع کا مالک بن سکتا ہے۔

قدیم زمانہ میں الناس علی دین ملوکہم کا اصول تھا۔ کیوں کہ بادشاہ کے سوا کسی کے پاس یہ طاقت نہ تھی کہ وہ لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کر سکے۔ موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن کے جدید ذرائع نے اس صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ جدید ذرائع مواصلات کو استعمال کر کے شاہی محل کے لوگوں کو بھی اپنا مخاطب بنا سکے۔ وہ دنیا بھر کے تمام کچے اور پکے مکانات میں بلا روک ٹوک داخل ہو جائے۔

قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا۔ سرکاری مذہب کے سوا کسی اور مذہب کی آزادانہ تبلیغ کی اجازت نہ تھی۔ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اہل حق اپنے پیغام کو لے کر اٹھیں اور کسی بھی پابندی کے بغیر اس کو ایک ایک شخص تک پہنچا دیں۔ اور مذہبی معاملات پر آزادانہ بحث و مباحثہ کے ذریعہ دین حق کی صداقت کو ثابت اور مبرہن کر سکیں۔ اس طرح کی بہت سی دور رس تبدیلیاں موجودہ زمانہ میں ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ اہل اسلام ہر ملک میں اعلیٰ درجے کے مدرسے اور اسلامی مرکز وہ مسجدوں اور دینی اداروں کا نظام ہر جگہ قائم کریں۔ وہ دعوتی سرگرمیوں کو مؤثر ترین انداز میں جاری کر سکیں۔ وہ ہر قسم کے معاون اداروں کے ذریعہ اسلام کو ایک طاقت ور تحریک کی حیثیت دے دیں۔ وہ جدید ترین وسائل کو استعمال کر کے ہر ملک میں اپنا دعوہ ایمپائر کھڑا کر سکیں۔

اسلام کا اصل مقصد دل کی دنیا کو بدلنا ہے نہ کہ ظاہری ڈھانچہ کو بدلنا۔ مقصد اظہار ہے، اسلام کا اصل مقصد اقتدار نہیں۔ اسلام کانشانہ نظریاتی غلبہ ہے نہ کہ محض اسلام کا اصل مقصد و جنت ہے، اسلام کا اصل مقصد حکومت نہیں۔ قدیم زمانہ میں سیاست کا ادارہ ہی واحد طاقت ور ادارہ تھا۔ اس لئے اسلام کے غیر سیاسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے بھی سیاست سے تعرض پیش آیا۔ مگر موجودہ زمانہ میں یہ صورت حال یکسر بدل گئی ہے۔ اب اگر کسی مقام پر اہل اسلام کو حکومتی ادارہ میں غلبہ حاصل نہیں ہے تو اس پر انہیں کچھ بھی ملال کرنے کی ضرورت نہیں۔ جدید ذرائع کو استعمال کر کے وہ حکومت کے باہر بھی وہ سب کچھ مزید اضافہ کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں جن کی توقع پہلے صرف حکومتی ادارہ سے کی جاتی تھی۔

موجودہ زمانہ کے مسلم مصنفین کا یہ حال ہواکہ وہ قدیم امکانات کو جانتے تھے، مگر جدید امکانات سے عملاً وہ بے خبر رہے۔ اسی لئے اس راز کو سمجھنا ان کے لئے ممکن نہیں ہواکہ حکومت سے باہر وہ حکومت سے بھی زیادہ طاقت ور ادارہ بنا سکتے ہیں۔

موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ افکار کی اشاعت عالمی سطح پر بے روک ٹوک اور انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ جاری کی جاسکے۔ ایسی اسلامی یونیورسٹی بنائی جائے جو تمام دنیا کے لئے علوم الہی کا سر چشمہ بن جائے۔ ایسا ریڈیو اسٹیشن اور ٹی وی اسٹیشن قائم کیا جائے جہاں سے بیک وقت تمام اہل عالم کو خطاب کیا جا سکتا ہو۔ ایسا اقتصادی ہاؤس بنایا جائے کہ حکومتوں کے تعاون سے بے پروا ہو کر تمام اسلامی سرگرمیوں کو خود اپنی بنیاد پر جاری کیاجاسکے۔ اسی کے ساتھ موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ اسلامی اخلاقیات کا عمومی مظاہرہ جدید طرز کے اسپتال، جدید طرزکے رفاہی ادارے، معذور افراد کے لئے جدید معیار کی سہولتیں، اور اس قسم کے دوسرے بہت سے کام حکومت کے اشتراک و تعاون کے بغیر اعلیٰ ترین سطح پر کئے جاسکتے تھے، جیسا کہ بعض قو میں انجام دے رہی ہیں۔ اسی قسم کے مختلف کاموں کے مجموعہ کو ہم نے دعوہ ایمپائر کہا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مصنفین اگر کلی اجتہاد کی صلاحیت کے حامل ہوتے تو وہ ان امکانات و مواقع کو دیکھتے۔ اس کے بعد

وہ ایسا نہ کرتے کہ سیاست کی قربان گاہ پر قوم کو لے جاکر اس کی ہلاکت کا سامان کریں۔ بلکہ وہ لوگوں کو یہ سبق دیتے کہ جدید امکانات کو استعمال کر کے دعوہ ایمپائر بناؤ اور پھر اسلام کو سارے عالم کی فکری قیادت کے مقام پر پہنچادو۔

یہ دعوہ ایمپائر اصلاً غیر سیاسی دائرہ میں بنے گا۔ مگر جب وہ بن جائے گا تو وہ بالواسطہ طور پر سیاسی ادارہ کو بھی متاثر کرے گا، حتیٰ کہ عین ممکن ہے کہ وہ وقت آئے جب کہ خود سیاسی ادارہ بھی اس دعوہ ایمپائر کا ایک ماتحت حصہ بن جائے۔ جزئی اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ بروقت جو صورتحال (الوضع الراهن) سامنے ہے اس کے سلسلہ میں حکم شرعی کو معلوم کر کے اس پر عمل کیا جائے ۔ کلی اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ بروقت قائم شدہ صورتحال کے بارے میں وہ موقف اختیار کیا جائے جس میں شریعت کی اصل روح کے ساتھ عمومی مصلحت کی رعایت ہو، اور جو بالاخر موجودہ صورتحال کے وقتی حل سے آگے بڑھ کر اسلام کے وسیع تر مقصد تک پہنچانے والا ثابت ہو۔ گو یا مصلحت وقتی کوملحوظ رکھتے ہوئے اپنے عمل کا رخ متعین کرنے کا نام جزئی اجتہاد ہے اور مصلحت عمومی کو ملحوظ رکھ کر عمل کا رخ متعین کرنے کا نام کلی اجتہاد۔

Islam and Western Society By Maulana Wahiduddin Khan The status of woman in Islam is the same as that of man. Injunctions about honour and respect enjoined for one sex are enjoined equally for the other sex. So far as rights in this world and rewards in the Hereafter are concerned, there is no difference between the sexes. In the organization of daily living, both are equal participants and partners. Yet Islam sees man as man and woman as woman and, considering the natural differences, it advocates the principle of the division of labour between the two sexes rather than the equality of labour. Pages: 254; Rs. 85.00

In emergency use hammer to break window. ڈبہ کے دونوں طرف بہت بڑے شیشے لگے ہوئے تھے جس سے باہر کا منظر بالکل صاف دیکھا پورے راستہ میں دونوں طرف دور تک پھیلا ہوا سبزہ تھا اور اس کے درمیان کہیں کہیں خوبصورت مکانات۔ میری سیٹ کے قریب ایک علیحدہ اور کسی قدر کشادہ سیٹ تھی۔ کی رعایت سے بنائی گئی تھی۔ چنانچہ اس کے اوپر لکھا ہوا تھا:

Please give up this seat if a disabled person needs it. اسٹیشن پراترے تو وہ بالکل جدید طرز کے ہوائی اڈہ کی مانند بنا ہوا تھا۔ اگر آپ کو کسی تعاون کی ضرورت ہو تو فوراً آپ کو ریلوے کے ذمہ دار اس کے لئے تیار ملیں گے۔

میں نے سوچا کہ ہمارا لکھنے والا طبقہ برطانیہ کی جو تصویر پیش کرتا ہے وہ حقیقی برطانیہ سے کتنا زیادہ مختلف ہے۔ یہ طبقہ یہ کرتا ہے کہ اخباروں وغیرہ سے کچھ منفی پہلو لیتا ہے اور اس میں مبالغہ کے ذریعہ کچھ اور اضافہ کرکے اس کو لوگوں کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے برطانیہ کی نہایت مکروہ تصویر لوگوں کے سامنے آتی ہے۔ فارسی شاعر نے کہا تھا کہ 'عیب مے جملہ بھگشتی ہنرش نیز بگو' مگر ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگ یا تو صرف عیب بیان کرنا جانتے ہیں یا صرف ہنر۔ کی جیسے ان کے اندر صلاحیت ہی نہیں۔

برمنگھم ریلوے اسٹیشن پر جناب شمشاد حسین خاں صاحب موجود تھے۔ وہ نہایت سلجھے ہوئے آدمی ہیں اوراپنے بزنس کے ساتھ یہاں دعوت کے کام میں مشغول ہیں۔ یہاں میرا قیام انہیں کی رہائش گاہ انھوں نے بتایا کہ چوں کہ مغرب کا وقت قریب تھا۔ اس لئے میں نے گھر سے چلتے ہوئے گاڑی میں مصلیہ رکھ لیا اور ریلوے اسٹیشن پر نماز پڑھی۔ انھوں نے کہا کہ اسٹیشن پر نماز پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ یہ اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ آج ہم کو پوری آزادی حاصل ہے۔ ہم جہاں چاہیں نماز پڑھ سکتے ہیں جب کہ قدیم کہ میں یہی کام عیا نا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ راستہ میں انھوں نے ایک گفتگو کے دوران ایک جملہ کہا جو مجھے بہت پسند آیا۔ انھوں نے کہا: بندے کی عظمت بندگی میں ہے۔ ۲۴ ستمبر کو مغرب بعد کا وقت تھا۔ ریلوے اسٹیشن سے نکل کر میں جناب شمشاد صاحب کی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوا۔ ہماری گاڑی برمنگھم کی سڑکوں سے گزر رہی تھی۔ دونوں طرف پر رونق دکانیں ۲۸ سال نومبر ۱۹۹۴

اور دفاتر رنگ برنگ روشنیوں کے ساتھ جگمگا ر ہے تھے۔ مگر اس ظاہری جگمگاہٹ کے پیچھے یہاں کی جو حقیقی اقتصادی حالت ہے وہ اطمینان بخش نہیں۔ صنعتی دور انسان کے لئے بہت سی خوبیاں لے آیا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس نے ایسے مسائل بھی پیدا کر دئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھے۔ کے بعد برمنگھم یہاں کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔

یہاں میں نے ایک صاحب سے کہا کہ برطانیہ اس وقت ریسیشن کے مرحلہ سے گزر رہا انھوں نے کہا کہ اتنا ہی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہاں ریسیشن (recession) آیا۔ اور اب ہم ڈپریشن (depression) کے دور سے گزر رہے ہیں۔ دوروں کو سادہ طور پر اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ ـــــــــ زیادہ خریداری، پھر کم خریداری، اور پھر بے خریداری۔

برمنگھم میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان ہیں۔ وہ یہاں کی آبادی میں تقریباً ۱۰ فیصد ہیں۔ چھوٹی بڑی مسجدوں کی تعداد ۹۰ تک پہنچتی ہے۔ ایک بار برمنگھم میں سفر کرتے ہوئے ہم ایک ایسے علاقہ سے گزرے جو مسلم علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ایک دکان کے سامنے ایک اشتہار لگا ہوا تھا "جہاد کشمیر کانفرنس " میں نے سوچا کہ جہاد کا نفرنس کی ہر طرف دھوم ہے مگر کوئی نہیں جو حل کانفرنس کرنے کا اہتمام کرے۔ موجودہ زمانہ میں دنیا امن کانفرنس کر رہی ہے اور مسلمان جنگ کانفرنس۔ میں جہاں ٹھہرا ہوں وہ نہایت پر فضا علاقہ ہے۔ کھلے کھلے مکانات قرینہ کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کے چاروں طرف خوبصورت لان اور وسیع پارک کے مناظر ہیں۔ میں نے اپنے میزبان سے پوچھا کہ اس علاقہ کا نام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک گاؤں ہے، ،اوراس کانام ارلس وڈ (Earls wood) ہے۔ انڈیا میں گاؤں پھٹیڑی ہوئی بستی کا نام ہے۔ مغربی ملکوں میں گاؤں سے مراد وہ خوبصورت بستیاں ہیں جو شہروں کے باہر ہیں۔ جہاں شہری ہنگاموں کے سوا تمام جدید ترین سہولت پوری طرح موجود ہو۔

برطانیہ کے وقت میں اور انڈیا کے وقت میں ساڑھے چار گھنٹہ کا فرق ہے۔ یہاں میں نے عشا کی نماز پڑھی تو خیال آیا کہ عین اسی وقت اگر میں انڈیا پہنچ جاؤں تو وہاں کی مسجدوں میں عصر کی نماز کی تیاری ہو رہی ہوگی۔ یعنی جس وقت یہاں رات ہے عین اسی وقت وہاں دن ہے۔ اس فرق پر

میں نے غور کیا تو ذہن میں آیا کہ شاید یہی وہ چیز ہے جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ : رب المشارق والمغارب والمغارب(المعارج۴۰)

قدیم زمانہ کا انسان صرف مقامی دائرہ میں سوچتا تھا۔ اس کو اس بات کی کوئی خبر نہ تھی کہ جس وقت وہ اپنے افق پر سورج کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے اس وقت دوسرے مقامات پر دوسری آفتابی حالت ہوگی۔ یا جس وقت وہ اپنے افق پر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے اس وقت دوسرے مقامات پر اس کے علاوہ دوسرا آفتابی منظر ہوگا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو قرآن کی یہ آیت قرآن کے کتاب الہی ہونے کا ثبوت ہے۔ کیوں کہ چودہ سو سال پہلے جب کہ انسان تعدد مشارق اور تعدد مغارب کی حقیقت سے بے خبر تھا، یہ صرف کسی برتر ہستی ہی کے لئے ممکن تھا کہ وہ اس کائناتی حقیقت کوجانے اوراس کے بارہ میں نہایت صحیح بیان دے سکے۔

جناب شمشاد صاحب نے بتایا کہ برمنگھم سے کچھ فاصلہ پر نوریٹن (Nureaton) میں تقریباً ۱۵ سال پہلے گجراتیوں نے ایک مسجد بنائی۔ سب سے پہلا کام مسجد کی تعمیر کی اجازت لینا تھا۔ نے سخت اختلاف کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں مسجد تعمیر ہوئی تو یہ لوگ شور و غل کریں گے۔ گندگی پھیلائیں گے اس کے بعد ہمیں اپنے گھروں کو چھوڑ دیناپڑے گا۔ تاہم ان کے اختلاف کے باوجود شہری کونسل (کارپوریشن) نے اس کی اجازت دے دی۔ اب یہاں کے مسلمان چندہ جمع کرنے کے لئے نکلے۔ لندن میں ان کی ملاقات ایک سعودی شیخ سے ہوئی۔ اس نے پوچھا کہ مسجد کی تعمیر کے لئے کتنے خرچ کا اندازہ انھوں نے بتایا کہ ایک ملین پونڈ۔ شیخ نے تنہا اپنی جیب سے ایک ملین پونڈ دے دیا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک خوبصورت مسجد تعمیر کی۔ انگریزوں کے اندیشے کے برعکس مسجد اس علاقہ میں خوبصورت تعمیر اور سکون اور صفائی کے ماحول کی مثال بن گئی۔ مسلمانوں کا خیال تھا کہ انگریز اپنے کہنے کے مطابق مسجد کی تعمیر کے بعد اس علاقہ سے جانا شروع کر دیں گے اور ہم ان کے مکانوں کو خرید کر یہاں مسجد کے پاس آباد ہو جائیں گے۔ مگر کئی سال گزر گئے اور کوئی انگریز وہاں سے نہیں گیا۔ اس کے بعد ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس مسجد کے بننے کے بعد تو ہم اپنے آپ کو زیادہ سیکیور محسوس کرنے لگے ہیں۔ مسجد کے لوگ نہایت ڈسپلن کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے یہاں اچھے لوگوں کی آمد و رفت بڑھ گئی ہے اور ہر گہر ی کا خطرہ ختم ہو گیا ہے جس کا اندیشہ ہم کو پہلے لگا رہتا تھا۔

ہم کیوں اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں اور جائیں۔

اس واقعہ کو سن کر میں نے کہا کہ آج ہمارے مسلم دانشوروں کا حال یہ ہے کہ وہ کہانی کے حصہ اول کو لے کر کہنے لگتے ہیں کہ مغربی لوگ اسلام دشمن ہیں۔ وہ اسلام کے فروغ کو برداشت کرنے کے لئے تیارنہیں ۔ حالاں کہ عین اسی وقت کہانی کا نصف ثانی ان کے لئے زبردست مثبت سبق کے طور پر موجود ہوتا ہے۔

آئی پی سی میں جناب عبدالمجید صوفی (بریڈ فورڈ) سے ملاقات ہوئی۔ وہ قدیم کتا بیں جمع کرنے کے شوقین ہیں۔ انھوں نے ایک کتاب دکھائی:

Thomas Carlyle, lectures on Heroes, Chapman and Hall, London 1888 اس کتاب کا ایک لکچرہیروپیغمبر(The (The Hero As Prophet) ہے۔ یہ لکچر لندن میں ۴۱۸۸ کو دیا گیا تھا۔ اس میں پیغمبر اسلام کو تمام پیغمبروں کا" ہیرو" بتایا گیا ہے۔ عبدالمجید صوفی کے پاس اس کتاب کا ۱۸۸۸ کا نسخہ ہے۔ انھوں نے یہ کتاب مجھے دکھاتے ہوئے کہا کہ "یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ ساری دنیا ان کے قدموں میں تھی، جب یہ لوگ انسانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتے تھے۔ اس وقت کارلائل نے رسول اللہ کو پیغمبروں کا ہیرو بتایا۔ میں نے کہاکہ ’’۱۸۴۰‘‘میں میں اتنا بڑا واقعہ لندن میں ہوا۔ مگر اس وقت کے مسلم لیڈروں میں سے کوئی نہیں جو اس کو جانے اور اس سے مسلمانوں کو آگاہ کرے۔ ہمارے رہنما انگریز کے نام سے صرف "ڈائر" سے واقف تھے، وہ انگریز کے نام سے کارلائل سے واقف نہ ہو سکے۔ برمنگھم کے البیرہ اسکول کے ہال میں ۲۴ستمبرکوایک تقریرتھی اس میں تعلیم یافتہ حضرات جمع تقریر کا موضوع تھا : اسلام اور عصرِ حاضر ۔ ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر میں موضوع کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا گیا۔ آخر میں سوال وجواب ہوا۔ اس کے علاوہ مختلف مواقع پر مجلسیں ہوئیں ان میں الـسالمشن اور دوسرے ملی موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ اس طرح ۲۴ ستمبر کا تقریبا پورا دن لوگوں سے بات چیت میں گزر گیا۔

ایک اجتماع میں قاری صاحب نے قرآن کی وہ آیتیں تلاوت کیں جن میں لا ترفعوا اصواتكم

فوق صوت النبی (الحجرات ۲)ہے ہے۔ میں نے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ قاری صاحب نے جو آیت پڑھی، اس میں موجودہ زمانہ کے سب سے بڑے مسلم مسئلہ کا جواب ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی حالت ہر جگہ یہ ہورہی ہے جیسے ان کے سامنے کوئی لائحہ عمل نہیں، حالآں کہ قرآن ابدی کتاب کی حیثیت سے محفوظ طور پر ان کے پاس موجود ہے۔

میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں قرآن کے از سر نو الطباق (reapplication) کی ضرورت تھی۔ مگرمسلمان جدیدحالات پر قرآن کے انطباق میں کامیاب نہ ہوسکے۔ مثلاً لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی کا مطلب اسباب نزول کی روایات کے مطابق، یہ ہے کہ مدینہ میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زور زور سے بولتے تھے۔ وہ رسول کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرتے تھے، قرآن میں اس سے منع کیا گیا اور اس پر حبط اعمال کا اندیشہ بتایا گیا۔ اب اس کا از سر نو انطباق یہ ہے کہ اس کو موجودہ زمانہ میں لوگوں کے اس مزاج پر منطبق کیا جائے کہ ان کے سامنے قرآن و حدیث پیش کیا جائے تو وہ اس کے جواب میں اپنی ذاتی ریزننگ پیش کرنے لگتے ہیں۔ حالآں کہ یہ بھی رسول کی آواز پر اپنی آواز بلند کرنا ہے اور دوبارہ اس میں حبط اعمال کا اندیشہ ہے۔

اگر ہم ایسا کر سکیں کہ قرآن کی تعلیمات کو از سر نو جدید حالات پر منطبق کریں تو فورا ہی قرآن ہمارے لئے ایک رہنما کتاب بن جائے گا۔ اس میں ہم اپنے آج کے لئے رہنمائی پانے جب کہ آج وہ ہمارے لئے بس ایک مقدس کتاب بن کررہ گیاہے ،اورظاہری احترام کے سوا اس کا کوئی اور حق ہم کو معلوم نہیں۔

۲۵ ستمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز ہم نے برمنگھم کی جامع مسجد میں پڑھی۔ کی فرمائش پر نماز سے پہلے آدھ گھنٹہ کی تقریر کی۔ تقریر کا موضوع " اسلامی عبادت" تھا میں نے کہا کہ حدیث میں کہا گیا ہے کہ المساجد بیوت المتقین۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجدیں تقوی کی تربیت کا مرکز ہیں۔ اس سلسلہ میں نماز کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ نماز کس طرح آدمی کو متقیانہ زندگی کے لئے تیار کرتی ہے۔

نماز سے پہلے ماہنامہ صراط مستقیم کے مدیر محترم نے ایک انٹرویو لیا۔ سوالات زیادہ تر نہنگان

اور عالم اسلام کے مسائل سے تعلق رکھتے تھے۔ اس سلسلہ میں الرسالہ کے نقطہ نظر کو تفصیل کے ساتھ بتایا گیا۔

ایک سوال یہ تھا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ کو ہر ایک سے اختلاف ہے اور آپ دوسری جماعتوں سے کٹ کر اپنا ایک نیا دین پیش کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات سراسر غلط ہے۔ کہا کہ اختلاف کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اساسیات میں اختلاف، اور دوسرا فروع میں اختلاف۔ اساسیات میں کسی سے کوئی اختلاف نہیں۔ مثلاً تمام لوگ رسول اللہ کو خاتم الرسل مانتے ہیں تو میں بھی رسول اللہ کو خاتم الرسل مانتا ہوں۔ میرا جو کچھ اختلاف ہے وہ فروعات میں ہے اور فروعات میں اختلاف صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء کے درمیان ہمیشہ رہا ہے۔ مسئلہ اختلاف کا نہیں بلکہ غیر ضروری حساسیت کا ہے۔ لوگ غیر ضروری طور پر اختلاف کے معاملہ میں حساس ہو گئے ہیں۔ اس بناپر وہ فروع میں اختلاف کو وہ درجہ دینے لگے ہیں جو اساسیات میں اختلاف کا درجہ ہوتا ہے۔ لوگوں کی یہی غیر ضروری حساسیت ہے جس نے مسئلہ پیدا کیا ہے نہ کہ نفس

نماز کے بعد تعلیم یافتہ حضرات کا ایک حلقہ جمع ہو گیا اور دیر تک ان سے ملی اور اسلامی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ اس میں کچھ کشمیری حضرات تھے۔ ایک کشمیری صاحب نے پوچھا کہ الرسالہ اگست ۱۹۹۲ء میں کشمیر کے تعلق سے ایک پیغام شائع ہوا تھا۔ اس کا کیا ریہانس آپ کو ملا۔ میں نے کہا کہ اس کی اشاعت کے بعد کشمیر کے جنگجو نوجوان گن لے لے کر الرسالہ کے تمام ڈسٹری بیوٹرز کے یہاں پہنچے اور کہا کہ یا تو الرسالہ کا ڈسٹری بیوشن بند کر دو یا ہماری گولی کھانے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ مجھ کو جب اس کی اطلاع ملی تو مجھے غم کے بجائے تعجب ہوا۔ میں نے کہا کہ جو تحریک اتنی کمزور ہو کہ الرسالہ جیسا ایک ماہنامہ اس کے لئے خطرہ بن جائے وہ میرے نزدیک تحریک ہی نہیں۔ وہ بچوں کا کھیل ہے نہ کہ کوئی حقیقی تحریک۔ جنگجو حضرات کا یہ جنگجویانہ اقدام خود اپنے خلاف تھا نہ کہ ہمارے یہ گفتگو ۴ ستمبر کو نماز جمعہ کے بعد برنگم کی جامع مسجد میں ہوئی۔

برنگم میں ایک نہایت خوبصورت مرکز ہے جس کا نام اسلامک پروپیگیشن سنٹر (IPC) ہے، اس کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ یہ مرکز کی عمارت بذات خود نظیر اور باقاعدگی اور منصوبہ بندی

کا ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔ یہ مرکز اسلامی دعوت کا کام منظم انداز میں کر رہا ہے۔ وہ گھر گھر اسکیم کے تحت اسلام کا پیغام ہر ایک تک پہنچانا چاہتا ہے۔ (door to door)

۲۶ستمبرکی دوپہر کو برمنگھم سے لندن کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر دوبارہ ٹرین کے ذریعہ طے ہوا۔ دو گھنٹے کے بعد ٹرین ٹھیک وقت پر لندن اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر آ کر کھڑی ہوئی۔ ٹرین کے تمام دروازے اپنے آپ کھل گئے اور مسافر ایک کے بعد ایک باہر جانے لگے۔

آپ اس ٹرین (انٹرسٹی) کے ذریعہ لندن اسٹیشن پر پہنچیں اور آپ کو دوسرے مقام پر جانا ہے تو اسٹیشن سے ملحق انڈر گراؤنڈ ٹرین (ٹیوب) موجود ہوگی۔ آپ ایک بورڈ کے اندر پونڈ ڈالئے اور اپنے مقام کے نمبر کا بٹن دبا دیجئے ۔ اس کے بعد آپ کا مطلوبہ ٹکٹ بھی نکل آئے گا اور فاضل رقم بھی۔ آپ آگے بڑھیں گے اور متحرک سیڑھیاں آپ کو نیچے پہنچا دیں گی۔ وہاں لکھا ہوا ہوگا کہ آپ کی مطلوبہ ٹرین ۲ منٹ میں آ رہی ہے۔ اگر ایک ٹرین چھوٹ جائے تو دو منٹ کے بعد دوسری ٹرین آپ کے سامنے

انڈر گراؤنڈ ٹرین پورے شہر کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس لئے برٹش ٹرین بنائی گئی ہے۔ اگر آپ کے لئے کافی نہ ہو تو اس سے اتر کر آپ فورا اپنے مقام کے لئے بس پکڑ سکتے ہیں۔ سفر کے دوران آپ کو بار بار ٹکٹ کی لائن میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ ایک بار دن بھر کا ٹکٹ حاصل کر لیجیے۔ اس کے بعد اسی ٹکٹ سے سارے دن ٹیوب، برٹش ریل ، بس تینوں سے سفر کر سکتے

اس طرح کی مختلف چیزیں بتاتی ہیں کہ یہاں کا نظام پیشگی طور پر انسان کی ضرورتوں کا اندازہ کرتا ہے اور قبل اس کے کہ آپ اس سے کہیں، وہ آپ کی ہر ضرورت کا انتظام کرتا چلا جاتا ہے۔ میں نے سوچا کہ حدیث میں ہے کہ جنت میں تم صرف خواہش کرو گے اور تمہاری مطلوبہ چیز فورا تمہارے سامنے آجائے گی۔ مذکورہ نظام گویا جنت کی اس صفت کا ایک ابتدائی تعارف ہے۔

مسز اسرہ خان (لندن) کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہی ہیں اور اس کے مشن سے کافی متاثر انھوں نے ٹیلیفون پر باصرار دعوت دی کہ ان کے یہاں ایک پروگرام رکھا جائے۔ اس کے مطابق ۲۷ ستمبر کی شام کو ان کے یہاں پہنچا۔ اجتماع کا انتظام انھوں نے ڈاکٹر مجیب سالم کے مکان پرچیزل

ہرٹ اوپر کیا تھا۔ یہاں تعلیم یافتہ مرد اور عورت جمع تھے۔ اس موقع پر میری دو تقریریں ہوئیں۔ پہلی تقریر اقوال رسول کی روشنی میں۔ اور دوسری تقریر رسول اور اصحاب رسول کے واقعات کی پہلی تقریر عشا کی نماز سے پہلے ہوئی اوردوسری تقریرعشاء کی نماز کے بعد۔ مسراسرہ خان نے الرسالہ کے بارہ میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ہر مضمون آدمی کے اندر اسلامی فیلنگ کو جگاتا ہے۔ جب ہم اس کا کوئی صفحہ پڑھتے ہیں تو عین اس وقت ہمارا تعلق خدا اور رسول سے جڑ جاتا ہے۔ الرسالہ وقت کے اسلوب میں اسلامی بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ ان کے شوہراردونہیں جانتے۔ انگریزی سمجھ سکتے ہیں۔ وہ اپنے شوہر کو الرسالہ کی باتیں انگریزی زبان میں بتاتی ہیں۔ ۲۶ستمبر۱۹۹۲کو جب میں لندن میں تھا۔ مسٹر فاروق جنگ کے یہاں ٹیلیفون آیا۔ آجکل وہ اپنی فیملی کے ساتھ بون میں مقیم ہیں۔ انھوں نے جرمنی آنے کی دعوت دی۔ مگر لندن سے بون جانا میرے لئے مشکل تھا۔ اس لئے میں ان کی دعوت کو قبول نہ کر سکا۔

انھوں نے کہا کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ آپ بروسیلز تک پہنچ چکے ہیں۔ ورنہ ہم بروسیلا اگر آپ کو کار سے بون لے جاتے۔ کیوں کہ بروسیلز سے بون تک بذریعہ کار صرف دو گھنٹہ کا سفر ہے۔ سے مجھے اس کا اندازہ نہ تھا۔ ورنہ میں پہلے سے اس کا پروگرام بناتا اور بروسیلز سے بون

بون (Bonn) جرمنی کی انتہائی قدیم بستی ہے جس کی تاریخ پہلی صدی قبل مسیح تک تاہم ماضی میں اسے زیادہ ترقی نہ مل سکی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس کی ترقی شروع ہوئی اب وہ جرمنی کا سب سے زیادہ خوبصورت شہر سمجھا جاتا ہے۔

اس کی خوبصورتی کا زیادہ بڑا سبب یہ ہے کہ دریائے رینے (Rhine) کے کنارے واقع اس شہر کو ارباب دولت نے اپنی رہائش کے لئے پسند کیا۔ دو سو سے زیادہ دولت مند (millionaires) یہاں آکر آباد ہو گئے۔ تعلیم یافتہ اور خوشحال طبقہ جہاں آباد ہو وہ خوبصورت بستی ہوگی اور جاہل اور غریب طبقہ جہاں آباد ہو وہ بد ہیئت بستی۔

بون سے بہت سی تاریخیں وابستہ ہیں۔ مثلاً مسیحیت کے دومذہبی ادارے اینگلیکن چرچ

اور اولڈ چرچ کے درمیان زبردست اختلافات تھے جو تقریباً سو سال تک شدت کے ساتھ آخر کار دونوں کے درمیان گفت و شنید سے ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدہ کا اعلانِ بون میں کیا گیا۔ اس لئے اس کو بون اعلان (Declaration of Bonn) کہا جاتا ہے۔ یہ اعلان ۱۹۳۱ میں کیا گیا۔ اس کے تحت دونوں نے ایک دوسرے کی آزاد حیثیت کو تسلیم کر لیا۔ جب اختلافات نظری اور اعتقادی سطح پر ختم نہ ہو رہے ہوں تو بہترین دانش مندی یہ ہے کہ نظری سطح پر اختلاف کو باقی رکھتے ہوئے عملی سطح پر اس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ جرمنی میں ٹرانزٹ پیسنجر کی حیثیت سے کئی بار جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ مگر کچھ دن قیام کر کے جرمنی کو باقاعدہ طور پر دیکھنے کی نوبت نہیں آئی۔ اس دوران مطالعہ کے ذریعہ جو باتیں علم میں آئیں ان میں سے ایک قصہ یہ تھا۔

چند دن پہلے ۲۱ ستمبر ۱۹۹۲ کو ایک واقعہ فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر ہوا۔ اس واقعہ کو میں نے اخبار میں پڑھا۔ ایک ہندوستانی خاتون منتران سنگھ نے ایک جرمن مسٹرسونال(Mr (Mr Sonal) سے شادی کی ہے۔ وہ میونخ سے فرینکفرٹ پہنچیں۔ یہاں سے ان کو دہلی کی فلائٹ لینا تھا۔ پورٹ پر انتظار کے دوران وہ ایک بک شاپ (Julius Valtermahm) میں داخل ہوئیں، یہاں وہ ایک میگزین اٹھا کر دیکھنے لگیں۔ "سیلس وومن" جس کا نام ارسلا (Ursula) تھا، اس نے دیوار پر لگے ہوئے ایک کاغذ کی طرف اشارہ کیا۔ اس پر لکھا تھا : پہلے خرید و، پھر پڑھو (Buy now, Read later)

بک شاپ میں کئی سفید فام عورتیں میگزین اٹھا اٹھا کر باقاعدہ طور پر پڑھ رہی تھیں۔ منتران سنگھ نے کہا کہ یہ عورتیں بھی تو پڑھ رہی ہیں۔ آپ ان کو کیوں نہیں منع کرتیں۔ اس پر دکان کی خاتون بگڑ گئیں۔ اس نے کہا کہ یہاں سے نکل جا، کالی عورت ۔ یہ میری دکان ہے۔ میں جو چاہوں گی

Get out, you Black-head. This is my shop. I will do what I like. منتران سنگھ اس کے بعد ایئر پورٹ کے مختلف دفتروں میں گئیں تاکہ اپنی شکایت درج کرائیں۔

ایئر پورٹ کے کسی افسر نے ان کی طرف توجہ نہ دی۔ نہ ان کی شکایت درج کی گئی اور نہ اس کا دفعیہ کیا گیا۔ ہر ایک نے مستران سنگھ کو بیرونی راستہ دکھایا۔ یہ اس کے باوجود ہوا کہ مستران سنگھ جرمن زبان جانتی تھیں اور اپنی شکایت کو بخوبی طور پر جرمن میں بتا سکتی تھیں۔

یہ رپورٹ خود مستران سنگھ نے چھاپی ہے۔ انھوں نے اس کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے کہ آخر کار میں ایئر پورٹ سے نکل کر ہوائی جہاز میں داخل ہوئی۔ میں کھڑکی کی طرف اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی آنسوؤں کے ساتھ جرمنی کو الوداع کہا جس سے مجھے محبت تھی مگر اب مجھے اس سے ڈرلگ رہاتھا۔ نے دوبارہ بدھیا اور گاندھی کی سر زمین کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا :

I sat in my window seat, bade a teary goodby to the Germany I had loved but now feared and started my journey back towards the land of Buddha مستران سنگھ کا یہ تقابل درست نہیں۔ کیوں کہ جرمنی میں جو نسلی امتیاز رنگ کی بنا پر ہے وہی نسلی امتیاز انڈیا میں ذات کی بنا پر موجود ہے۔ اگر انڈیا میں بدھیا اور گاندھی پیدا ہوئے تو اسی طرح جرمنی میں گوئٹے (Goethe) اور رلکے (Rilke) جیسے افراد پیدا ہوئے۔ دونوں جگہ دونوں قسم کے واقعات یکساں طور پر موجود ہیں۔

مستران سنگھ کی غلطی یہ ہے کہ وہ جرمنی کے بارہ میں رائے قائم کرنے کے لئے "ار سلا" کی مثال لے رہی ہیں اور انڈیا کے بارہ میں رائے قائم کرنے کے لئے "گاندھی" کی مثال۔ جنرلائزیشن درست نہیں۔ بیشتر غلط رائیں اسی قسم کے غلط جنرلائزیشن سے بنتی ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے پسندیدہ ملک سے ایک اچھی مثال لے کر اس کو عمومی بنا دیتے ہیں۔ اور جو ملک انھیں ناپسند ہو اس کی ایک بری مثال لے کر اس کو عموم کا درجہ دیدیتے ہیں۔ ایسے لوگ اس ملک کے بارہ میں بھی اندھیرے میں رہتے ہیں اور اُس ملک کے بارہ میں بھی۔

میں نے کچھ مسلمانوں سے پوچھا کہ آپ لوگوں نے اپنے وطن کو چھوڑ کر مغربی ملکوں میں رہنا کیوں ہر ایک کا جواب تھا کہ یہاں کے سسٹم کی خوبی انھیں یہاں رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہے کہ بعض اخلاقی برائیوں سے قطع نظر، ان ملکوں کا سسٹم بڑی حد تک معیاری ہے۔

"نظامی" ذہن کے ایک مسلمان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ اسلام کو بہتر دنیوی نظام کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ اس میں آج کے انسان کے لئے زیادہ کشش نہیں کیونکہ اس قسم کا نظام تو آج بھی اس کو حاصل ہے۔ میں نے کہا کہ اسلامی قانون کے نفاذ کا تعلق اصلاً دنیوی آسودگی سے نہیں ہے بلکہ اخلاقی تحفظ سے ہے۔ دنیوی آسودگی زیادہ تر انتم اعلم بامور دنیا کم سے تعلق رکھتی ہے۔

ٹرین میں ایک تعلیم یافتہ انگریز سے ملاقات ہوئی۔ وہ لندن کے مضافات میں رہتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کیرولین مور ہیڈ (Caroline Moorehead) کی کتاب برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell) تھی جو ابھی حال میں شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب برٹرینڈ رسل کا کا ایک تنقیدی مطالعہ ہے۔ مثلاً اس میں رسل کو غیر منطقی (illogical) بتایا گیا ہے۔ مجھے ان سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ ابتدائی تقریب کے بعد میں نے کہا کہ برٹرینڈ رسل کے بارہ میں مور ہیڈ کی اس کتاب کو میں دیکھ چکا ہوں۔ گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ برٹرینڈ رسل کے خیالات سے متاثر ہیں۔ خاص طور پر خدا کے وجود کے بارہ میں ان کے خیالات تقریب گاہی میں جو برٹرینڈ رسل کے خیالات تھے۔

انگریز اس طرح کسی اجنبی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ لیکن ایک مسافر کے لئے عام انگریز سے بات کرنے کا کوئی اور موقع پانا بھی مشکل ہے۔ اس لئے میں اپنے ایشیائی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس قسم کی مداخلت کر لیتا ہوں۔

میں نے کہا کہ میں نے برٹرینڈ رسل کو کافی پڑھا ہے۔ رسل نے لکھا ہے کہ میں خدا کے وجود کو نہیں مانتا۔ اس کی دلیل رسل نے یہ دی ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ کائنات کو خدا نے پیدا کیا تو فوراََ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کو کس نے پیداکیا۔ مگررسل کا یہ اعتراض سراسر غیر منطقی ہے۔ میں نے کہا کہ رسل بلا شبہ ذہین تھا۔ مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ اس معاملے میں اس کے لئے انتخاب باخداکائنات اوربے خداکائنات میںنہیں ہے۔ بلکہ حقیقی انتخاب باخذ اکائنات اور غیر موجود کائنات کے درمیان ہے۔ چوں کہ ہم مجبور ہیں کہ کائنات کے وجود کو مانیں ، اس لئے ہم اس پر بھی مجبور ہیں کہ خدا کے وجود کو تسلیم کریں :

It is true that Bertrand Russell was a great mind. But he failed to realize that in this case, the option was not between the universe with God and the universe without God. Rather the real option was between the universe with God or no universe at all. As we are bound to acknowledge the existence of the universe, so are we bound to acknolwedge the existence of its Creator - God. مذکورہ انگریز نے ابتداً بالواسطہ انداز میں برٹرینڈ رسل کے الحادی نقطہ نظر کی حمایت کی تھی۔ مگر میری اس بات کو سن کر وہ سوچ میں پڑ گیا۔ اس نے کہا کہ آپ کی بات قابل لحاظ معلوم ہوتی ہے، میں اس پر غور کروں گا۔

لندن میں میرا قیام پروفیسر انیس قاری کی رہائشگاہ پر تھا۔ یہاں ۲ ستمبر کو جناب جاوید حسن صاحب (Tel. 5581523) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ میں :یک یہودی فرم میں کام کرتا وہاں ایک کٹر قسم کا یہودی تھا۔ میں جب اس کے پاس سے گزرتا تو ہمیشہ اس کو گڈ مارننگ کہتا۔ مگر وہ مجھ کو جواب نہ دیتا، بلکہ منہ پھیر لیتا ۔ آخر کار ایک روز اس نے کہہ دیا کہ تم کیوں مجھ کو گڈ مارننگ کہتے ہو، تم جانتے ہو کہ میں تم سے نفرت کرتا ہوں:

Why you say good morning to me. You know, I hate you. اس کے جواب میں جاوید صاحب نے کہا کہ آپ کا شکریہ۔ مگر میں تو آپ سے نفرت نہیں کرتا۔ (But I do not hate you) یہ جواب سن کر یہودی تعجب میں پڑ گیا۔ اس نے کہا میں تو سمجھتا تھا کہ سارے مسلمان یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور تم بھی نفرت کرتے ہوگے، کیوں کہ میں ایک اس دن کی گفتگو کے بعد وہ کافی نرم پڑ گیا۔ یہاں تک کہ چند دن کے بعد وہ نارمل اس کا حال یہ ہوگیا کہ جاوید صاحب کو دیکھتا تو دور ہی سے ہیلو، ہیلو کرنے لگتا۔ لوگوں کو تعجب تھا کہ اتنا کٹر یہودی ایک مسلمان سے اتنا قریب کیسے ہوگیا۔ اس کا جواب ایک لفظ میں یہ ہے کہ: ایک طرفہ حسن اخلاق سے۔

لندن میں ایک اسلامیہ اسکولس ٹرسٹ (01-6076655 .Tel) ہے۔ طرف سے اسلامک ٹیچنگ کورس کا ایک سٹ خصوصی اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ یہاں اس کی

پہلی جلد میں نے دیکھی۔ اس میں مذہب کی بحث کے تحت لکھا گیا ہے :

The whole notion of 'religion' as understood by Muslims is not restricted to rituals and religious observances, but it is an all encompassing concept which includes the social, economic and political: thus it is a way of life. برمنگھم کے ایک مسلمان سے یہاں کے مسلمانوں کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں کی مسلم کمیونٹی اخلاقی اعتبار سے سب سے زیادہ بدنام کمیونٹی ہے۔ عام طور پر یہاں اس کی اچھی امیج ان کو میں نے کتاب کا مذکورہ مضمون دکھایا۔ میں نے کہا کہ مسلمان کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب صرف کچھ عبادات اور مذہبی رسوم کا مذہب نہیں ہے بلکہ وہ مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے تمام شعبے شامل ہیں۔ مگر زندگی کے معاملات میں مسلمان ہی سب سے زیادہ ناقص ہیں اور جن لوگوں کو آپ محدود مذہبی تصور کا الزام دیتے ہیں وہ زندگی کے معاملات میں آپ سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اسلام کی مذکورہ تعریف جو آجکل بہت زیادہ رایج ہے وہ بذات خود درست یہ تمام تر رد عمل کا نتیجہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں سیاسی معاملات میں چرچ کے دخل کو ختم کرنے کے لئے کچھ لوگوں نے کہا کہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے۔ اس کے رد عمل میں مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ یہ کہنے لگا کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہاں تیسری تھی۔ یعنی یہ کہ مذہب معرفت خداوندی کا نام ہے اور انسان کو جب خالق و مالک اور محاسب و مجازی خدا کی معرفت ہو جائے تو اس کے اندر ایک ذہنی انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے تمام اختیاری معاملات میں اللہ کی پسند و نا پسند کا لحاظ کرنے لگتا ہے۔

جن لوگوں نے کہا کہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے، ان کی تعریف کم از کم محدود حد تک انسانی شخصیت کو چھوتی تھی ۔ مگر جدید مسلم مفکرین کی تعریف میں انسانی شخصیت سرے سے گرفت سے باہر چلی گئی۔ اس نظریہ کو ماننے والوں کا سارا دھیان حکومتی ادارہ کی طرف چلا گیا۔ کیوں کہ ان کی تعریف کے مطابق یہ صرف حکومتی ادارہ تھا جس کو قبضہ میں لے کر زندگی کے تمام شعبوں کی تشکیل اپنی مرضی کے مطابق کی جاسکتی

ایک بوڑھے انگریز سے بات ہوئی۔ وہ انڈیا کے حالات سے واقف تھا۔ اس نے کہا کہ انڈیا ”

سے مجھے دلچسپی ہے۔ ایک بار میں نے انڈیا کی سیاحت بھی کی ہے۔ مگر میرا احساس یہ ہے کہ عقلی نقطۂ نظر اور علمی طرزِ فکر کے معاملہ میں ہندوستانی ذہن یورپی ذہن سے بہت پیچھے ہے :

The Indian mind is far less rational and scientific than the European. مذکورہ انگریز کی اس بات کو میں رد نہ کر سکا، کیوں کہ میرا اپنا خیال بھی ہندوستانی ذہن کے بارہ میں یہی ہے۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ پورے برصغیر ہند کی اصل کمی یہی ہے۔ انڈیا کے لیڈروں نے اصل مسئلہ سیاسی آزادی کو سمجھا۔ پاکٹستانی لیڈروں نے مسلم پاک بنانے کو اصل مسئلہ قرار دیا۔ بنگلہ دیش کے لیڈروں نے یہ سمجھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بنگلہ زبان اوربنگلہ تہذیب کو ایک آزاد علاقہ حاصل ہو جائے۔ مگر میرے نزدیک یہ سب کی سب سطحی سوچ تھی۔ یہ سب قیادت سازی کے نظریے ہیں، وہ قوم سازی کے نظریے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان خیالات کی بنیاد پر اٹھنے والی تحریکوں نے کچھ لیڈروں کے گنبد تو ضرور کھڑے کر دئیے۔ مگر یہ تحریکیں قوم کا مستقبل تعمیر کرنے میں سراسر نا کام رہیں۔ لندن کی ایک مجلس میں بوسنیا میں ہونے والے مظالم کا ذکر ہوا۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب نے پر جوش طور پر کہا کہ عراق نے کویت کے خلاف ظلم کیا تو امریکی حکومت نے الفورس پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آگئی۔ بوسنیا میں سرب اور یوگوسلاوی حکومت نے وہاں کے مسلمانوں کے خلاف ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ مگر امریکہ کی حکومت نے اس کے لئے کچھ نہیں کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بش انتظامیہ کے نزدیک صرف ان مسلمانوں کی اہمیت ہے جن کے پاس تیل ہو :

It would appear that only Muslims with oil count for the Bush administration. میں نے کہا کہ اس معاملے میں خود مسلمان ایں گنہ است که در شهر شما نیز کنند کا صدام حسین نے کویت کے خلاف جارحیت سے پہلے ایران کے خلاف جارحیت کی اور اور اس کو ۸ سال تک جاری رکھا، مگر ہمارے علماءء اس جارحیت پر خاموش رہے۔ لیکن جب اسی صدام نے کویت کویت(اورسعودی عرب) کے خلاف جارحیت کی تو تمام علما چیخ اٹھے۔ کیوں کہ سعودی عرب اور کویت سے ان علماء کا مفاد وابستہ تھا۔ جب کہ ایران سے ان کا اس قسم کا مفاد وابستہ نہیں۔ المر الہ نومبر ۱۹۹۴

ایک پاکستانی جریدہ " اخبار اردو" میں ڈاکٹر مختار الدین احمد کا ایک مضمون پڑھا ۔ فورڈ میں رہتے ہیں ۔ وہ طبی پیشہ کے ساتھ شعر و ادب سے بھی لگاؤ رکھتے ہیں ۔ انھوں نے بتایا تھا کہ " اس وقت برطانیہ میں جس قدر شاعر ہوتے ہیں ، شاید پاکستان میں بھی نہیں ہوتے : لندن ، برمنگھم آکسفورڈ ، مانچسٹر ، بریڈ فورڈ ، گلاسگو ، ایڈنبرا اور نائینٹم جیسے برطانی شہروں میں کئی کئی ادارے اور ادبی انجمنیں قائم ہیں ۔ یہ کسی نہ کسی موضوع پر جلسے ، مذاکرے اور شاعر سے منعقد کراتی رہتی ہیں ۔ اس کے علاوہ بیرونِ برطانیہ ، بالخصوص پاکستان سے بلائے اور بن بلائے شاعراورادیب اوراہلِ قلم تشریف لاتے رہتے ہیں ۔ ان کے اعزاز میں مشاعرے یا ادبی تقاریب منعقد ہوتی ہیں ۔

ڈاکٹر اقبال ۱۹۰۵ میں یورپ گئے ۔ وہاں وہ تعلیم کے سلسلہ میں انگلینڈ اور جرمنی میں ۱۹۰۸ تک اس قیام کے دوران انھیں احساس ہوا کہ یہ زمانہ شعر و شاعری کا نہیں ہے ۔ بلکہ سائنس کا ہے ۔ انھوں نے شاعری کو چھوڑنے کا ارادہ کیا اور اپنے دوست سر عبد القادر (مدیر مخزن) کو ایک منظوم خط میں لکھا :

مدیر مخزن سے جاکے اقبال کوئی میرا پیام کہدے کہ کام ہو کر رہی ہیں قومیں انھیں مذاق سخن نہیں ہے مگر اقبال کے دوستوں نے اصرار کر کے انھیں شعر گوئی کے مشغلہ پر باقی رکھا ۔ عجیب بات ہے کہ تقریباً نوے سال بعد بھی مسلمان یورپ تک نہیں شعر و شاعری کے مشغلہ کو بدستور اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ شاید اس لئے کہ ان کے محبوب رہنما (اقبال) شاعری کو بے فائدہ سمجھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے پر اپنے آپ کو راضی نہ کرسکے تھے ۔

ایک برطانی تاجر سے ملاقات ہوئی ۔ میں نے کہا کہ برطانیہ میں اور پوری مغربی دنیا میں ، دکھائی دے رہا ہے کہ جاپان نے اقتصادی حملہ کر رکھا ہے ۔ وہ آپ لوگوں کی سپریسی کو چھین رہا ہے ۱۹ ویں صدی کو برٹش صدی کہا جاتا ہے ۔ ۲۰ ویں صدی امریکی صدی تھی ۔ مگر اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ۲۱ ویں صدی جاپانی صدی ہوگی ۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ امریکہ میں جاپان کو دشمن نمبر ایک کہا جانے لگا ہے ۔ جاپان کی پر کیپیٹا جی این پی امریکہ سے ۲۲فیصد زیادہ ہے ۔ اور اسی طرح برطانیہ سے بھی اس کا ٹریڈ سرپلس ۱۲۰ بلین سالانہ ہے ۔ اس طرح کی کچھ باتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد میں نے پوچھا کہ آپ کے نزدیک اس کا سبب کیا ہے ۔ اس نے کہا کہ میں خود جاپان گیا ہوں ۔ اور اس کو قریب ۴۲ رسالہ نومبر ۱۹۹۴ء

سے دیکھا ہے۔ میرے نزدیک اس کا بنیادی سبب ایجوکیشن ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی تحریروں میں اختلاف رائے اور تنقید بہت ہوتی ہے۔ کے کچھ لوگ کہنے لگے ہیں کہ آپ کو تنقید کے سوا کسی اور چیز سے دلچسپی نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بے بنیاد آپ کسی کبھی مہینے کے رسالہ کو اٹھا کر دیکھئے اور ہر مضمون کو پڑھ کر پتہ کیجئے کہ اس میں اختلاف رائے والا پہلو کتنا ہے۔ آپ پائیں گے کہ کسی پرچہ میں سرے سے ایسا کوئی مضمون نہ ہوگا اور کسی میں ہوگا بھی تو صرف ایک یا دو فیصد۔

پھر میں نے کہا کہ اصل مسئلہ اختلاف رائے نہیں ہے۔ اصل مسئلہ لوگوں کی غیر ضروری حساسیت صحابہ کے زمانہ سے لے کر ہر اگلے دور تک علماء کے درمیان اختلاف ہوتا تھا مگر کبھی کسی نے اختلاف کو برا نہیں بتایا۔ مثلاً امام محمد اور امام ابو یوسف دونوں امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے ۔ دونوں نے امام ابو حنیفہ کی رایوں سے ۱۸۲ معاملے میں اختلاف کیا ہے۔ مگر اس کو بھی کسی نے برا حقیقت یہ ہے کہ اختلاف رائے یا علمی و فکری تبصرہ قوموں کی زندگی ہے۔ اسلام میں اتنا زیادہ جگہ دی گئی ہے کہ آدم کی پیدائش کی کہانی کا ایک جزو جو بائبل میں حذف ہو گیا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں درج فرمایا۔ یہ خود اللہ تعالیٰ سے فرشتوں کا یہ کہنا تھا کہ اتجعل فیہا من یسفک فيہا و ليسفك الدماء (البقرۃ (۳۰)

ایک صاحب نے تنہائی میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ جب کمرہ کے اندر تنہا ملاقات ہوئی تو وہ اپنے گھریلو حالات بتاتے ہوئے رونے لگے۔ یہاں بہت سے لوگ ہیں جو بظاہر دیکھنے میں ٹھیک معلوم ہوں گے لیکن اگر تحقیق کیجئے تو معلوم ہوگا کہ لوگ سخت الجھنوں میں مبتلا ہیں۔ کہیں باپ اور بیٹے کے درمیان کشکش، کہیں شوہر اور بیوی کے تعلقات میں بگاڑ، کہیں ساس اور بہو کے درمیان

اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ مسلمانوں میں اتنی شدت کے ساتھ ان مسائل کے پیدا ہونے کا کم از کم ایک سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کی جدید نسلوں کو دو سو برس سے صرف ایک ہی

تعلیم دی جارہی ہے، اور وہ جہاد ہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا صرف جہاد کو گلوريفائی کرنے میں مشغول کوئی بھی نہیں جو صبر اعراض اور مفاہمت کی قدروں کو جاننے اور اس کو امت کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ امت کا مزاج یہ بن گیا ہے کہ مسائل کو حل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔ جہاد اور ٹکراؤ ہے۔ چنانچہ آدمی جب کسی مسئلہ سے دوچار ہوتا ہے، خواہ وہ گھر کے باہر ہو یا گھر کے اندر ، تو فوراً جہادی تدبیریں اس کے ذہن میں آنے لگتی ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ اس صورت کو بدلا جائے اور لوگوں کو صبر و اعراض اور حسن تدبیر کی قدروں سے آشنا کرایا جائے۔ برمنگھم میں علماء کی ایک مجلس میں ایک بزرگ نے سوال کیا کہ اردو خواں طبقہ یا انگریزی خواں طبقہ میں تو آپ کا مشن پھیل رہا ہے۔ عرب دنیا میں اس کو کس حد تک قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ پچھلے چند سالوں میں عرب نوجوانوں میں یہ مشن تیزی سے پھیلا ہے اور پھیلتا جارہا ہے۔ اسی لئے میں یہاں سے ظاہر جارہا ہوں۔ کیوں کہ وہاں عرب نوجوان جمع ہوں گے۔ انھوں نے شدت سے اس کی خواہش ظاہر کی ہے۔

میں نے کہا کہ عرب نوجوانوں میں اس مشن کے پھیلنے کی خاص وجہ ہے۔ آپ لوگوں کو اگر عرب دنیا کے داخلی حالات کا علم ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اسلام کی سیاسی تفسیر عرب دنیا میں تیزی سے پھیلی۔ اس کے نتیجہ میں عرب دنیا کے اسلام پسندوں اور وہاں کی حکومتوں کے درمیان ٹکراؤ ہو گیا۔ کیوں کہ سیاسی اسلام کا نظریہ براہ راست طور پر موجودہ عرب حکمرانوں کے نظام سے ٹکراتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہر عرب ملک میں اسلام پسند حضرات کی تغذیب شروع ہو گئی جو تا حال جاری

اس صورتحال کے نتیجہ میں عرب نوجوانوں کے لئے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب رہ گیا یا تغذیب یا منافقت۔ اگروہ اپنے نظریہ کے مطابق رہنا چاہیں تو حکمرانوں کے شدیدعتاب کا شکار بنیں ۔ اور اگر اپنے نظریہ کو اپنے اندر چھپائیں تو منافق بن کر زندگی گزاریں۔ اس کے بعد جب ان کاتعارف الرسالہ مشن سے ہوا تو ان پر منکشف ہوا کہ ہم کو نہ عذاب سہنے کی ضرورت ہے اور نہ منافق بننے کی۔ خیر الامور اوسطہا کے اصول کے مطابق یہاں ان کے لئے ایک تیسری صورت

موجود ہے جو زیادہ بہتر اور زیادہ صحیح ہے۔ چنانچہ وہ الرسالہ مشن کو دل و جان سے قبول کر رہے

ایک صاحب نے کہا کہ ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، اس کے لئے آپ کیا کر رہے ہیں۔ یہ گفت وگورات کے وقت ہو رہی تھی ۔ میں نے کہا کہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ دنیا میں اندھیرا چھا رہا ہے، اس کو دور کرنے کے لئے آپ کیا کر رہے ہیں۔ بظاہر اس وقت اندھیرا ہے، مگر دوسرا اس سے بڑا واقعہ یہ ہے کہ پوراکائناتی نظام اس اندھیرے کو ختم کرنے دوبارہ صبح طلوع کرنے کی طرف متحرک ہے۔ پھر آپ اندھیرے کے خلاف احتجاج کیوں کریں۔ آپ آنے والی صبح کو سوچ کر اللہ کا شکر کیوں نہ کریں۔ میں نے کہا کہ اس دین کے ساتھ اللہ نے محفوظیت را لجر (۹) کا معاملہ کیا ہے ۔ کی نشانیاں آپ ساری تاریخ میں دیکھ سکتے ہیں۔ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں نے اسلام اور مسلمانوں کو مٹانا چاہا۔ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ خود تاتاری دین کے خادم بن گئے۔ بیسویں صدی میں اتا ترک اور عصمت انونو نے ترکی سے اسلام کو ختم کرنا چاہا۔ مگر دو نسلوں تک حکومت کی ساری طاقت ختم کرنے کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ عصمت انونو ( ۱۹۳۷ء - ۱۹۸۸ء) نے انتقال کے وقت کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں یہ عجیب چیز دیکھی کہ ہم نے ترکی میں سیکولرزم کا پودا بویا مگر جب پھل نکلا تو وہ اسلام تھا۔

یہی معاملہ ہندوستان میں ہو رہا ہے۔ لوگوں کے بیان کے مطابق ۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوؤں نے انڈیا سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ مگر ساری کوششوں کے بعد یہ حال ہوا کہ ۱۹۴۷ میں غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد چھ کروڑ تھی۔ آج اسی ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً چوگنا ہو چکی ہے۔ میوات میں کچھ جاہل مسلمان تھے جو چوٹیاں رکھتے تھے اور ہندو رسوم مناتے تھے۔ ہندوؤں نے ان کو شدھی کر کے انھیں دوبارہ ہندو بنانے کی تحریک چلائی۔ کے جواب میں مولانا الیاس صاحب نے میواتیوں کی دینی اصلاح کی کوشش شروع کی۔ آج یہ حال ہے کہ نہ صرف میواتیوں کی دینی اصلاح ہوئی بلکہ مولانا الیاس صاحب کی اٹھائی ہوئی تحریک ایک عالمی اصلاحی تحریک بن گئی۔ تقسیم کے بعد کچھ ہندوؤں نے اجودھیا کی بابری مسجد پر قبضہ کر کے کی

اس کے بعد مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ اجودھیا کی مسجد میں ہندوؤں کو داخلہ کا موقع اس لئے ملاکہ وہ غیر آباد تھی۔ کیوں کہ خانہ خالی رادیومی گیر د۔ اس احساس نے دوسری مسجدوں کی آبادی کا ذہن پیدا کیا۔ آج ہندوستان کی تین لاکھ سے زیادہ مسجدیں مزید بہت زیادہ آباد اور پر رونق ہو چکی ہیں۔

پھر جب حالت یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر سازش برعکس طور پر خود اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کا باعث ہوتی ہے تو ہم کو لوگوں کی سازش پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔ چینل ہرسٹ کے پروگرام سے فارغ ہونے کے بعد نیو ہیم نار تھ (Newham North)

کے لئے روانگی ہوئی۔ اس سفر کے درمیان لندن کا مشہور دریائے ٹیمز پڑتا ہے۔ اس دریا کے نیچے سے لمبی سرنگ بنا کر راستہ نکالا گیا ہے۔ اس کے اندر سے ہماری گاڑی گزری تو عجیب احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیسی کیسی قوتیں عطا فرمائی ہیں۔ وہ نہ صرف دریا کے اوپر کشتی کے ذریعہ سفر کرتا ہے۔ بلکہ دریا کے نیچے سے سڑک نکال کر خشکی کا راستہ بنا سکتا ہے۔ اوپر دریا بہ رہا ہے اور نیچے سے کاروں کے قافلے گزر رہے ہیں۔

۲ ستمبر کی صبح کو ہم گھر سے نکلے کہ نیو ہیم نار تھ گرین اسٹریٹ) کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھیں، یہ صبح 4 بجے کا وقت تھا۔ وہاں پہنچے تو اس کے دونوں دروازوں پر تالا لگا ہوا تھا۔ اوپر انگریزی میں لکھا ہوا بورڈ دکھائی دے رہا تھا : دی مسلم کمیونٹی سنٹر۔ کچھ دیر تک سڑک پر کھڑے ہو کر انتظار کیا کہ شاید کوئی صاحب آ رہے ہوں اور مسجد کا دروازہ کھولیں، مگر کوئی صاحب نہیں آئے۔ چنانچہ واپس آکر اپنی قیام گاہ پر فجر کی نماز ادا کی ۔

۳ ستمبر کو اتوار کا دن تھا۔ صبح ہوئی تو مجھے سو سال پہلے کی انگریزی کتاب یاد آئی جس کو میں نے تقریباً پچاس سال پہلے پڑھا تھا۔ یہ بچوں کی کتاب تھی۔ اس میں لندن کی صبح کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے گئے تھے ــــــــ لندن کے گھنٹے بجنے لگے :

Printed page