The Politics of Rich and Poor, by Kevin Phillips
Al-Risala, February 1994, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کتاب میں مصنف بتاتے ہیں کہ اس وقت امریکہ میں غیر مساویانہ آمدنی (income disparity) کا مسئلہ بہت شدت اختیار کر چکا ہے جس کو وہ دو ساحلی معاشیات (bicoastal economy) کہتے انھوں نے بتایا ہے کہ ایک طرف امریکہ میں ایک فی صد سپر مال دار (super rich) طبقہ ہے۔ اس کی آمدنی ($ 5,50,000) ڈالر سالانہ ہے۔ دوسری طرف بقیہ لوگ ہیں جو یا تو بہت کم آمدنی پر زندگی گزارتے ہیں یا مذکورہ طبقہ کے مقروض ہیں۔ مصنف کہتے ہیں کہ بیسویں صدی کے آخر میں اب ہمیں ایک نئی سیاسیات (new politics) کی ضرورت ہے جو نئے امریکہ کی تعمیر کر سکے۔ یہ امریکہ کا حال ہے جو آزاد معیشت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف سوویت روس کی مثال ہے، جہاں مارکسی نظریہ کے مطابق پابند معیشت یا ریاستی معیشت کا تجربہ کیا گیا تھا۔ تمام ذرائع پیداوار افراد کے قبضہ سے نکال کر حکومت کے قبضہ میں دے دیے گئے ۔ مگر اس تجربہ کے ستر سال بعد معلوم ہوا کہ اس نے تاریخ کی سب سے زیادہ برباد معیشت کے سوا انسانیت کو اور کہیں نہیں حتی کہ آج روسی حکومت امریکہ اور دوسرے آزاد ملکوں سے ۲۰ بلین ڈالر قرضہ مانگ رہی ہے تاکہ وہ اپنی برباد معیشت کی دوبارہ تعمیر کر سکے ۔
اس مسئلہ کا واحد حل ایک ایسا نظام ہے جو سود کے خاتمہ اور زکوٰۃ کی اقامت پر مبنی ہو۔ سود کا خاتمہ اس بات کی ضمانت ہے کہ دولت ایک محدود طبقہ میں جمع نہ ہونے پائے۔ اس بات کی ضمانت ہے کہ دولت کی گردش کسی سماج کے دونوں معاشی ساحلوں پر جاری رہے۔ مگر مسلمانوں کی نادانیوں نے لوگوں کی نظر میں اسلام کو ایک تخریبی نظریہ کی حیثیت دے رکھی آج کی دنیا یہ سوچ نہیں سکتی کہ اسلام کے پاس کوئی ایسا تعمیری نظریہ بھی ہو سکتا ہے جو وہ آج کی دنیا کو دے سکے۔