Al-Risala · December 1994

6 الحسال دسمبر ۱۹۹۰

Al-Risala, December 1994, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

جس زمانے میں حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان جنگ ہورہی تھی، قیصر روم (قسطنطنیہ) نے ارادہ کیا کہ وہ مسلم دنیا پر حملہ کردے۔ اس کے ذہن میں آیا کہ اس وقت مسلمان باہمی لڑائی میں مبتلا اگر اس وقت میں نے حملہ کر دیا تو میں شام ومصر وغیرہ علاقہ پر دوبارہ قبضہ کر سکتا ہوں۔ کو اس کی خبر ملی تو انھوں نے فوراً قیصر روم کے نام ایک خط روانہ کیا، اس میں لکھا ہوا تھا : اذا عقدت العزم علی ان تحقق ارادتک اگر تم نے یہ عزم کیا کہ تم اپنے ارادہ کو پورا کرو گے تو میں فانی اقسم ان اتصالح مع صاحبی ثم قسم کھاتا ہوں کہ میں علی سے صلح کر لوں گا۔ لا سیرن عندک جیشاً ساکون ضمن تمہارے خلاف ایک لشکر روانہ کروں گا جس کے اول كتيبة فيه وساجعلن من القسطنطينية پہلے دستہ میں میں خود شامل ہوں گا اور پھر میں شعلة نار (تاج العروس ۲/ ۲۰۸) قسطنطنیہ کو آگ بنا دوں گا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت معاویہ کے اس خط کے بعد قیصر روم نے اپنا حوصلہ کھودیا۔ فوجوں کی تیاری روک دی۔ اس نے سمجھ لیا کہ اب مسلمانوں سے جنگ چھیڑنا اپنی مزید بربادی کو دعوت

یہ زندہ لوگوں کا طریقہ ہے۔ ان کے اندر آپس میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ مگر جب معاملہ وسیع تر مفاد کا آجائے تو وہ اپنے اختلاف کو ختم کرکے ایک ہوجاتے ہیں۔ ان کے اختلاف کی ایک حد ہوتی ہے۔ حد کے آجانے کے بعد ان کا اختلاف باقی نہیں رہتا۔

زندہ انسان دوستی کے باوجود کسی کی بے جا حمایت نہیں کرتا۔ وہ دشمنی کے باوجود کوئی چھوٹی حرکت وہ انفرادی جھگڑے کے باوجود اجتماعی امور میں متحد ہو جاتا ہے۔ وہ شخصی کدورت کے باوجود اسلامی تعلق میں فرق نہیں آنے دیتا۔ زندہ انسان کسی سے نزاع پیش آنے کے باوجود اس کی خصوصیات کا اعتراف وہ رنجش پیدا ہونے کے باوجود امانتوں کو ادا کرتا ہے۔ زندہ انسان کسی حال میں پست حرکت نہیں کرتا، وہ کسی حال میں اپنی انسانیت کو نہیں کھوتا۔ زندہ انسان دشمن ہو سکتا ہے مگر وہ کمینہ نہیں ہو سکتا۔ شاکی ہو سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ جس سے اس کو شکایت ہو اس کے خلاف وہ جھوٹا الزام لگانے لگے۔

Printed page