مومنانہ طریقہ
Al-Risala, December 1994, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا شبلی نعمانی کی آخر زندگی میں یہ حادثہ پیش آیا کہ گھر میں بھری ہوئی بندوق چل گئی جس کی وجہ سے ان کا ایک پاؤں شدید طور پر زخمی ہوا اور بالآخر اس کو ڈاکٹروں نے کاٹ دیا۔ حادثہ پر شاعروں نے طرح طرح کے مضامین باندھے۔ کسی نے کہا " ہمت کاقدم زمیں پہ گاڑ دیا " کسی نے لکھا " سیرت نگار نبوی نے حوروں کی پابوسی کے لیے پہلے ہی سے قدم بھیج دیا " وغیرہ۔ مگر خود مولانا شبلی کے جذبات دوسرے تھے۔ انھوں نے اپنے اس حادثہ پر یہ شعر کہا :
شبلی نامه سیاه را بجز اے عملش پابریدندوصداخاست که سرمی باید یعنی شبلی کے سیاہ اعمال کی وجہ سے اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا تو اوپر سے آواز آئی کہ پاؤں نہیں سر کی
یہی مومن کا طریقہ ہے ۔ مومن کبھی دوسروں کی تعریف سے غلط فہمی میں نہیں پڑتا۔ عین اس وقت جب کہ لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ، اس کی اندرونی نفسیات اس کو اپنی بے حقیقتی یاد دلاتی ہے۔ جب اس کے نام پر استقبالیہ پیش کیا جاتا ہے تو وہ برعکس طور پر اپنے ذاتی احتساب میں مشغول ہو جاتا ہے۔ دوسروں کی تعریف سے اپنی شخصیت کے قد کو ناپنا انتہائی سطحیت کی بات ہے ، اور مومن سب سے زیادہ اس سطحیت سے دور ہوتا ہے ۔ مومن وہ ہے جو اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے جانچے نہ کہ انسان کی نسبت سے ۔ اور جو شخص اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے جانچے وہ کبھی غلط فہمی کا شکار نہیں ہو سکتا۔ تعریف مومن کی تواضع کو بڑھاتی ہے ، اور جو غیر مومن ہو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ تعریف سے صرف اس کے جھوٹے پندار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اپنے کو قابل تعریف سمجھنا ، اپنے آپ کو خدا کا ہمسر بنانا اور خدا کا ہمسر بننا ، بلاشبہ کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے ۔
مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کو ہر موقع پر خدا یاد آتا ہے۔ مذمت کا پہلو ہو یا تعریف کا ، ہمیشہ وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے ۔ جب کوئی شخص اس کی تعریف کرتا ہے تو وہ عین اپنے مزاج کی بنا پر خدا کو یاد کرنے لگتا ہے جو تمام بڑوں سے زیادہ بڑا ہے۔ خدا کی عظمت کا ااحساس اس سے ذاتی عظمت کے حساس کو چھین لیتا ہے ۔ تعریف اس کی تواضع کو بڑھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے ۔