Al-Risala · December 1994

لکھنؤ کا سفر

Al-Risala, December 1994, pp. 11–13

By Maulana Wahiduddin Khan

لکھنؤ میں اسٹوڈنٹس اسلامک ویلفیر سوسائٹی (الجمعية الخيرية لمساعدة الطلاب) کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے، اس کے صدر مولانا ظہیر احمد صدیقی ندوی ہیں، مولانا طارق انور خاں ندوی اس کے سیکرٹری جنرل ہیں اور مولانا زبیر ملک فلاحی اس کے آرگنائزر ہیں۔ اس ادارہ نے ۲۹ فروری۔ یکم مارچ ۱۹۹۲ کو لکھنؤ میں ایک علمی سیمینار کیا۔ اس کا عنوان تھا ”مدارس اسلامیہ ہند کا ماضی، اور مستقبل کے امکانات ـــــــــ فراہمی قیادت کے پس منظر میں “ اس کی دعوت پر لکھنؤ کا سفر ہوا۔ ۲۸ فروری کو روانگی سے کچھ پہلے ایک مسلم صحافی میرے پاس آئے۔ وہ دہلی میں اوکھلا کے علاقہ میں رہتے ہیں۔ وہ مسلم مسائل پر مجھ سے انٹرویو لینا چاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ اس وقت تو میں سفر پر جا رہا ہوں، اس لیے کوئی مفصل انٹرویو نہیں دے سکتا۔ انھوں نے مختصر پیغام میں نے کہا کہ مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل صبر و اعراض ہے۔

انھوں نے کہا کہ آپ ہمیشہ صبر کی بات کرتے ہیں۔ آخر صبر کب تک کیا جائے ۔ میں نے کہا کہ ابھی تو آپ حضرات نے صبر کا آغاز بھی نہیں کیا۔ پھر اس کی حد کا کیا سوال ہے۔ مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ پرسوں سے جامعہ ملیہ میں ہڑتال چل رہی ہے۔ تمام دفاتر بند ہیں۔ طلبہ تعلیم کو چھوڑ کر ادھر ادھر گھوم رہے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اس کا سبب یہ ہے کہ طلبہ کی یونین کے ایک صاحب وائس چانسلر آفس میں گئے۔ وہاں انھوں نے اپنا خط ٹائپ کرانا چاہا۔ ٹائپسٹ نے کہاکہ ہماراٹائپ رائٹرخراب ہے۔ اس پر ان کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ یہاں تک کہ چار آدمی زخمی ہو کر اسپتال پہنچ گئے اور جامعہ غیر معینہ مدت تک کے لیے بند ہو گئی (قومی آواز ۲۶ فروری ۱۹۹۲)

کیا یہی صبر ہے۔ صبر یہ تھا کہ ٹائپسٹ نے جب عذر کیا تو آپ اپنا خط لے کر بازار چلے جاتے اور وہاں ٹائپ کرا لیتے۔ ایک روپیہ کے کام کے لیے آپ حضرات لڑ گئے اور ملی ادارہ کو اتنا بڑا نقصان پہنچایا جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جو لوگ معمولی معمولی باتوں میں لڑ جائیں ان کا یہ کہنا کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ صبر کب تک کیا جائے۔ اور صبر کی حد کب آئے گی۔ جواب یہ ہے

کہ صبر شروع کرنے کے بعد صبر کی حد آتی ہے ۔ جب صبر شروع ہی نہ کیا جائے تو اس کی حد کیسے آجائے گی ۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو چند لڑکوں کی بات تھی ، وہ تمام لوگوں کی بات نہیں ۔ میں نے کہا کہ شریعت کے اصول کے مطابق ، وہ تمام لوگوں کی بات ہے ۔ کیوں کہ دوسرے لوگوں نے اس کی مذمت نہیں کی ۔ تمام لکھنے اور بولنے لوگ اس بارہ میں خاموش ہیں ۔ اس طرح خاموش رہ کر وہ بالواسطہ طور پر ان بے صبر نوجوانوں کی حمایت کر رہے ہیں ۔

۲۸ فروری کو ڈھائی بجے سہ پہر کا وقت ہے ۔ میں پالِم ایئرپورٹ کی انتظار گاہ میں ایک سیٹ پر بیٹھا ہوں ۔ چند آدمی سامنے کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے بے فکری کے ساتھ سگریٹ کے دھوئیں اڑا رہے ہیں ۔ میں نے سوچا کہ یہ لوگ اتنے بے فکر کیوں ہیں ۔ میرے دل نے کہا کہ ان کی بے فکری کی وجہ یہ ہے کہ انھیں حال کی خبر ہے ، مگر انھیں مستقبل کی کوئی خبر نہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگلے لمحہ وہ جس جہاز پر بیٹھنے والے ہیں وہ ان کو لے کر ان کی مطلوب منزل کی طرف پرواز کرنے والا ہے۔ اگر وہ جانیں کہ ان کا سفر انسانی منزل کی طرف نہیں بلکہ خدائی منزل کی طرف ہے ۔ یہاں کا ہر سفر آخر کار آخرت کا سفر ہے ۔ ہر سفر اپنے خاتمہ پر وہاں پہنچنے والا ہے جہاں آدمی کو خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے کھڑا ہونا ہو گا ۔ اگر ان کو اس کا احساس ہو تو سگریٹ ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر جائے اور ان کو محسوس ہو کہ آنے والا جہاز انڈین ایئرلائنزکاجہاز نہیں ہے بلکہ خدائی ایئرلائنزکاجہاز ہے ۔ اس کو کوئی انڈین پائلٹ نہیں چلا رہا ہوگا ، بلکہ وہ خدا کا جہاز ہے جس کے پائلٹ فرشتے ہوں گے اور وہ اس کو دنیا سے اٹھا کر آخرت میں پہنچا دے گا ۔ اگر لوگوں کو اس حقیقتِ کبریٰ کا احساس ہو تو ان کی زندگی کچھ سے کچھ ہو جائے ۔

جہاز میں میری سیٹ کے قریب بہار گورنمنٹ کے دو افسر بیٹھے ہوئے تھے ۔ دوسرے سے کہا : ” لگتا ہے کہ گورنر (بہار) بھی اسی سے جانے والے ہیں ۔ کوئی جانے والا ہے اسی لیے آگے کی تین سیٹ خالی کی ہوئی ہے ۔ “ میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا میں کسی کو آگے کی سیٹ اس لیے ملتی ہے کہ وہ ” گورنر “ ہے ۔ آخرت میں آگے کی سیٹ اس شخص کو ملے گی جو اللہ کی خاطر دنیا میں پیچھے کی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے راضی ہو گیا ۔

یہ جہاز (نمبر ۴۰۹) لکھنؤ ، پٹنہ ہوتا ہوا کلکتہ جا رہا ہے ۔ جہاز دہلی سے روانہ ہوا تو اعلانات

شروع ہوئے ۔ اس میں سے ایک اعلان یہ تھا کہ داخلی پروازوں میں سگریٹ پینا منع ہے :

Printed page