Al-Risala · December 1994

smoking is prohibited on domestic flights

Al-Risala, December 1994, pp. 13–50

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بظاہر ایک چھوٹی بات ہے ۔ مگر یہ چھوٹی بات ایک بڑی بات کی علامت ہے ۔ یہ دراصل ہندستانی تہذیب پر مغربی تہذیب کی برتری کا اعلان ہے ۔ ہندستان داخلی پروازوں میں اپنی تہذیب کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ مگر بین الاقوامی پروازوں میں بیرونی مسافروں کے دباؤ کی وجہ سے ہندستان کے لیے ممکن نہیں رہتا کہ وہ اپنی تہذیبی قدروں کو برقرار رکھ سکے ۔ اس دنیا کی ایک سنگین حقیقت یہ ہے کہ یہاں کسی اقدام کا نتیجہ اقدام کرنے والے کی نیت کے اعتبار سے نہیں نکلتا بلکہ خارجی حالات کے اعتبار سے نکلتا ہے ۔ اس کی ایک عبرت انگیز مثال انڈین ایرلائنز کا معاملہ ہے ۔ 1990 میں انڈین ایرلائنز کو یومیہ 4 کروڑ روپیہ کا گھاٹا ہوا تھا۔ اس گھاٹے کو ختم کرنے کے لیے جہاز کے کرایہ میں اضافہ شروع کیا گیا۔ حتیٰ کہ مجموعی طور پر ۳۱ فی صد تک کرایہ کی شرح میں اضافہ کر دیا گیا ۔ لیکن یہ اقدام الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا (Counter-productive) ثابت ہوا۔ 92-1991 کے مالی سال میں ایئرلائنزکاگھاٹامزید بڑھ کر ۲۰ کروڑ روپیہ تک پہنچ گیا گیا(ٹائمس آف انڈیا ۲۲ مارچ ۱۹۹۲) اس الٹے نتیجہ کا سبب کیا تھا ۔ اس کا سادہ سا سبب یہ تھا کہ کرایہ میں غیر معمولی اضافہ کے بعد ہوائی مسافروں کی تعداد کم ہوگئی۔

دہلی سے جہاز ساڑھے تین بجے روانہ ہوا ۔ اور ٹھیک ۴۵ منٹ بعد وہ لکھنؤ کے ہوائی اڈہ پراترگیا۔ اس اس وقت میری عجیب کیفیت ہوئی ۔ میں نے سوچا کہ ۴۵ منٹ کا یہ سفر طے کرنے کے لیے جو بے شمار اسباب درکار ہیں ان کے مہیا ہونے میں ۴۵بلین سال سے بھی زیادہ وقت لگا ہے ۔ اس سلسلہ کی مختلف کائناتی معلومات میرے ذہن میں ایک چلتی ہوئی ریل کی طرح گھومنے لگیں ۔ بے اختیار میری زبان سے نکلا : اس حیرت انگیز کائنات کا ایک خدا ماننا محض بے عقلی کا عقیدہ نہیں ۔ یہ نا قابل فہم کے مقابلہ میں قابل فہم کا انتخاب کرنا ہے ۔ یہ سب سے زیادہ منطقی تصور ہے جو کوئی صاحب علم آدمی اس دنیا میں اختیار کر سکتا ہے ۔ ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہو کر ہوٹل گلبرگ پہنچا ۔ میرا قیام ہوٹل کے کمرہ نمبر ۱۰۱ میں تھا۔

کو میں اپنے کمرہ میں بیٹھا ہوا کچھ لکھ رہا تھا کہ اچانک اللہ اکبر، اللہ اکبر کی آوازیں فضا میں گونجنے معلوم ہوا کہ لاؤڈ اسپیکر پر مختلف مسجدوں سے مغرب کی اذان ہو رہی ہے۔ دہلی سے روانہ ہونے کے وقت ایک صاحب نے کہا تھا کہ آپ لکھنؤ جا رہے ہیں، وہاں تو آج کل بی جے پی (ڈکٹر ہندوؤں) کی حکومت ہے۔ فضا میں اذان کے الفاظ گونج رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ لوگ کتنا کم باتوں کو جانتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر حکومت کی ایک حد ہوتی ہے، اپنی حد پر پہنچ کر ہر حکومت غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔ اور جہاں کسی حکومت کی حد ختم ہوتی ہے، اس کے بعد اتنی ہی وسیع دنیا باقی رہتی ہے جتنا لکھنؤ کے گورنمنٹ ہاؤس کے مقابلہ میں آفاق کی وسعتیں۔

۲۹ فروری کو فجر کی نماز لکھنؤ کی مسجد نوازی میں پڑھی۔ یہ مسجد مولانا محمد علی لین میں واقع ہے۔ ایک تنگ اور نا ہموار گلی سے گزرتے ہوئے ہم مسجد کے دروازے پر پہنچے۔ چھوٹی مسجد میں تقریبا ڈیڑھ صف کی جماعت تھی۔ اس "لین" کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ انڈیا کی بہت سی سڑکوں پر آج بھی مولانا محمد علی کے نام کا بورڈ لگا ہے۔ تاہم ان سڑکوں کی سرگرمیوں پر ان کی کوئی چھاپ نہیں۔ ہوٹل کلرک کے اوپر وسیع چھت ہے۔ اس پر گھاس اگائی ہوئی ہے اور چاروں طرف گملے رکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح یہاں مصنوعی طور پر قدرت کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ اس چھت پر شامیانہ کے اندر سیمینار کی کارروائیاں ہوئیں۔ ۲۹ فروری کو صبح وشام دو اجلاس ہوئے۔ اور یکم مارچ کو صبح اور شام دو اجلاس۔ زیر بحث موضوع پرشرکاء نے اپنے اپنے مقالے پیش کیے۔ اس کے بعد ہر مقالہ پر سوال و جواب ہوا۔ منتظمین کی خوش سلیقگی ہر جزء سے نمایاں تھی۔ مولانا محمد فاروق سلطان پوری بھی اس سیمینار میں شریک تھے۔ وہ ایک روحانی مزاج کے ان کے پاس بیٹھ کر ان کی باتیں سننا بہت روحانی سکون کا باعث ہوتا ہے۔ ان کا ایک شعر یہ ہے :

گلوں میں بو نہ ملی سنگ میں شرر نہ ملا مِرامذاق جُداتھاکہ ہم سفر نہ ملا ایک گفتگو کے درمیان مولانا فاروق صاحب نے کہا کہ ایک بھکاری بھیک مانگ رہا تھا۔ ایک راہ گیر سے سوال کیا۔ اتفاق سے اس راہ گیر کی جیب میں اس وقت پیسے موجود نہ تھے۔ کو بھکاری پر ترس آیا۔ اس نے آگے بڑھ کر بھکاری کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ بھکاری اس سے اتنا

زیادہ متاثر ہو کر اس کی زبان سے نکلا ، بھگوان جتنا تو نے آج دلایا اتنا تو کبھی نہیں دلایا تھا۔ آدمی کے پاس اگر دوسروں کے لیے کوئی مادی چیز نہ ہو، مگر اس کے دل میں دوسروں کے لیے سچی محبت ہو، تو اس کی یہ محبت یقیناً فاتح عالم بن جائے گی۔ مولانا فاروق صاحب ہندی میں ایم اے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک باروہ لکھنؤکے علاقہ میں بس سے سفر کر رہے تھے۔ بس میں ایک ہندو سے ملاقات ہوئی۔ گفت گو کے دوران دونوں کو ایک دوسرے سے دل چسپی ہو گئی۔ مولانا فاروق صاحب نے اس ہندو بھائی کا پتہ لکھ لیا اور کہا کہ میں کبھی آپ کے پاس آؤں گا۔

اس کے بعد ایک سفر کے دوران مولانا فاروق صاحب اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ مذکورہ ہندو کے گاؤں میں گئے۔ رات ہو چکی تھی۔ پوچھتے ہوئے ہندو کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ ہندو بھائی گھر پر موجود نہیں ہیں۔ وہ کہیں چلے گئے ہیں۔ کچھ دیر کی حیص بیص کے بعد ایک اور ہندو نے آکر ان سے ملاقات کی۔ انھوں نے کہا کہ اب رات ہو گئی ہے اس لیے آپ یہیں ٹھہریے۔ نے پوچھا کہ کوئی مسلمان یا کوئی مسجد یہاں ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں نہ کوئی مسلمان ہے اور نہ کوئی مسجد۔ ہندو نے گھر کے ایک حصہ میں سب لوگوں کو ٹھہرایا۔ انھیں کھانا کھلایا۔ اس کے بعد وہ لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر سو گئے۔

صبح کو نماز فجر کے بعد وہ ہندو دوبارہ آیا۔ اس نے مولانا فاروق اور ان کے ساتھیوں کو دیہات کے طریقہ پر ناشتہ کرایا۔ جب وہ لوگ ناشتہ کر رہے تھے تو ہندو نے ہنستے ہوئے بتایا کہ میرا اس خاندان سے تعلق نہیں ہے۔ البتہ میں ان کا پڑوسی ہوں۔ رات کو جب آپ لوگ یہاں آئے تو گھر کی عورتوں نے مجھ کو بلایا اور کہا کہ کچھ مسلمان آئے ہیں۔ رات کی وجہ سے ان کو لوٹایا بھی نہیں جا سکتا۔ ہم ان کو جانتے بھی نہیں کہ وہ کون ہیں، ایسی حالت میں کیا کیا جائے۔ نے گھر کی عورتوں سے کہا کہ ان لوگوں کو کھانا کھلا کر یہاں سلا دو۔ کیوں کہ یہ ہمارا انسانی فریضہ بنتا ہے۔ البتہ جہاں تک ان کی طرف سے ڈر کا سوال ہے تو میں آج کی رات نہیں سوؤں گا۔ رات بھر پہرہ چنانچہ آج میں رات بھر لاٹھی لے کر پہرہ دیتا رہا ہوں۔

ان لوگوں نے ایک طرف نووارد مسلمانوں کے ساتھ انسانی فرض ادا کیا۔ ۱۵ الر سال دسمبر ۱۹۹۴

طرف ان کے امکانی خطرہ سے بچنے کے لیے رات بھر لاٹھی لے کر پہرہ دیتے رہے ۔ ۱۹۴۷کے بعد پہلی اہم ترین مسلم کانفرنس لکھنؤ میں ہوئی تھی۔ تقسیم کے بعد جو نئے حالات پیدا ہوئے اس میں مخصوص اسباب کے تحت ہندستان کے تمام مسلمان مولانا ابوالکلام آزاد کی طرف فطری طور پر وہ مسلمانوں کے واحد قابل اعتماد لیڈر بن گئے۔ خود ان کے اپنے الفاظ میں ” ملک کے مختلف گوشوں سے خطوں اورتاروں کی مجھ پر بارش ہونے لگی ۔ ہر طرف سے تقاضا ہونے لگا کہ موجودہ حالت میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنا چاہیے “۔

چنانچہ مولانا ابوالکلام آزاد کی دعوت پر دسمبر۱۹۴۷کے آخرمیں لکھنؤمیں مسلم کانفرنس ہوئی ۔ اس کانفرنس میں مولانا آزاد نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کو کون سا رخ اختیار کرنا ہے ، آج ہمارے لیے صحیح راستہ کیا ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا :

” مسلمانوں کے موجودہ حالات اور ملک کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے اس سے زیادہ کوئی ضروری چیز نہیں ہو سکتی کہ جہاں تک ملک کی سیاسی زندگی کا تعلق ہے ، فرقہ پرستی کو جو مذہب کے نام سے ابھاری گئی ہے ، ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے ۔ کسی ایک گوشہ کی فرقہ پرستی نہیں ، کسی ایک جماعت کی فرقہ پرستی نہیں ، سب کی فرقہ پرستی ۔ ( الجمعیتہ دہلی ۲۴ مارچ ۱۹۵۳ ) مولانا ابوالکلام آزاد نے مزید کہا کہ ہمیں فرقہ پرستی کے دروازہ کو بند کرنا پڑے گا ، ورنہ ہماری موجودہ مشکلات ہرگز ختم ہونے والی نہیں۔ فرقہ پرستی کا خاتمہ کیے بغیر مسلمانوں کی فلاح کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔

میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں یہ سب سے زیادہ اہم بات تھی جو ۴۵سال پہلے لکھنؤ میں کہی گئی ۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ یہ مقصد ایک فی صد کے بت بدر بھی حاصل نہیں ہوا۔ وجہ یہ ہے کہ اس کے لیے مسلسل عمل کی ضرورت تھی ۔ مولانا آزاد نے یہ کہا مگر کسی نامعلوم سبب سے انھوں نے اس کے لیے عملی جدوجہد نہیں کی۔ آزادی کے بعد مولانا آزاد گیارہ سال تک زندہ وہ اگر وزیر تعلیم بننے کے بجائے یہ کرتے کہ اخبار الھلال کو دوبارہ جاری کرتے اور اس کے ذریعہ یہ کوشش کرتے کہ لوگوں میں غیر فرقہ وارانہ سوچ پیدا کریں تو یقینی ہے کہ گیارہ سال میں وہ ایک

ذہنی انقلاب پیدا کر دیتے ۔ مگر انہوں نے لوگوں میں ذہنی تبدیلی لانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ بعد کے حالات نے مولانا آزاد کو اجارہ داری کی حد تک بہترین مواقع کار دے دیے مگر وہ ان کو استعمال نہ کر سکے اور لوگوں کی بگڑی ہوئی سوچ بدستور اسی طرح بگڑی ہوئی حالت میں پڑی رہی۔ جس "ندوہ علمیہ" میں شرکت کے لیے میرا لکھنؤ کا سفر ہوا تھا، وہ ۲۹ فروری۔ یکم مارچ ۱۹۹۲ اس کا مرکزی موضوع تھا : مدارس اسلامیہ ہند کا ماضی ، اور مستقبل کے امکانات، فراہمی قیادت کے پس منظر میں۔ علماء اور اساتذہ اور دانشوروں نے اس موضوع پر اپنے خیالات پیش شرکاء زیادہ تر اس مدرسے فکر سے تعلق رکھتے تھے جو اپنے کو " انقلابی اسلام " کا علم بردار سمجھتا چنانچہ لوگوں کے اظہار خیال پر زیادہ تر یہی نقطہ نظر چھایا رہا۔ اصولی نقطہ نظر کی ترجمانی کم ہوئی اور گروہی نقطہ نظر کی ترجمانی زیادہ ۔ تاہم منتظمین کی سوچ میں اعتدال اور آفا قیت نظر آئی۔ یکم مارچ کی شام کو (چو تھے سشن میں ) میرا مقالہ تھا۔ اصل مقالہ بہت لمبا ہو گیا تھا ، اس لیے میں نے ۴۰منٹ کی تقریر میں اپنے خیالات کو پیش کیا۔ میں نے کہا کہ تحفظ ملت کے میدان میں علماء نے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں وسیع تر قیادت کے میدان میں وہ قائدانہ کردار ادا نہ کر سکے ۔ پھر میں نے کہا کہ قائدانہ کردار سے مراد حقیقتاً داعیانہ کردار ہے۔ داعیان کر دار کے سلسلہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ مواقع کو تلاش کر کے انہیں دعوتی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں دعوت کے بے پناہ مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو معلوم کر کے انہیں استعمال کیا جائے۔

تقریر کے بعد حسب قاعدہ لوگوں نے سوالات کیے۔ مگر سوالات زیادہ ترجزئی نوعیت کے میں نے اپنے جواب میں ان کی وضاحت اصولی انداز میں کی۔ میرا یہ مقالہ کسی قدر اضافہ کے ساتھ الرساله جولائی ۱۹۹۳ میں خصوصی نمبر کے طور پر شائع ہو چکا ہے)

میں نے اپنی تقریر میں خصوصیت کے ساتھ یہ بات کہی کہ اسلام کا سب سے زیادہ طاقت ور پہلو اس کا دعوتی پہلو ہے۔ اور موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے مزید نہایت موافق امکانات پیدا ہو گئے ہیں جن کو استعمال کر کے نہایت کامیابی اور تیز رفتاری کے ساتھ اسلامی دعوت کا کام کیا جا سکتا ہے۔

اس سلسلہ میں اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے میں نے کئی مثالیں دیں۔ نے بتایا کہ بنارس ہندو یونی ورسٹی کے ایک ہندو طالب علم نے اپنی ریسرچ کے لیے یہ مضمون لیا کہ ہندو ازم میں خدا کا تصور (The concept of God in Hinduism)۔ اس ہندو طالب علم کے ہندو پروفیسر نے کہا کہ ہندوؤں میں تو ۳۳ کروڑ گڈ ہیں اور گاڈ کے بھی سب گاڈ ہیں۔ پھر تم کہاں تک ریسرچ کرو گے اور کب تمہارا مقالہ مکمل ہوگا۔ تم اگر خدا پر ریسرچ کرنا چاہتے ہو تو بہتر یہ ہے کہ اسلام میں خدا کا تصور (The concept of God in Islam) کا مضمون لے لو۔ طالب علم نے ایسا ہی کیا اور ہندو یونی ورسٹی سے اس کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی مل گئی۔

اس طرح کی مثالیں میں نے دعوت اسلامی کے امکانات و مواقع بتانے کے لیے دی تھیں مگر ایک مسلمان بزرگ جو اسلامی دعوت کا مطلب اسلامی جہاد سمجھتے تھے انھوں نے کہا کہ یہ سب تو نکتے اور پھر اس کے خلاف ایک پر جوش تقریر شروع کر دی۔

اس طرح کے تجربات مجھے بار بار ہوئے ہیں۔ ان سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا جو پڑھا لکھا طبقہ ہے اس کا ذہنی شاکلہ بگڑ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے اصل باتیں اس کو حقائق کے روپ میں نظر آتی ہیں اور جو حقیقت باتیں ہیں وہ اس کو اس طرح دکھائی دیتی ہیں گویا کہ وہ صرف نکتے ہوں، جن کو قابل لحاظ سمجھنے کی ضرورت نہیں۔

مسلم علماء اور دانشوروں کے متعلق میرا تجربہ ہے کہ ان کا فکر شخصیتوں کے گرد گھومتا ہے نہ کہ حقیقتِ قرآن و حدیث کے گرد۔ اس کا مظاہرہ اس سیمینار میں بھی ہوا۔ کئی لوگوں کو میں نے دیکھا کہ وہ اپنی تقریر یا اظہار خیال میں اقبال کے اشعار کا حوالہ اس طرح دیتے رہے جیسے کہ اس کی حیثیت بھی قرآن وحدیث کی طرح ایک معتبر ماخذ کی ہے اور کسی نقطہ نظر کے حق میں اقبال کا تائیدی شعر مل جانا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ نقطہ نظر صحیح اسلامی نقطہ نظر ثابت ہوگیا۔ حالانکہ یہ ایک غیر علمی طریقہ ہے جو علمی مجلس کے لیے ہرگز موزوں نہیں۔

میں نے اپنی تقریر میں یہ بات کہی تھی کہ قائدانہ کردار سے مراد داعیانہ کردار ہے۔ میں متعین تجویز کے طور پر میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو دوبارہ اسی قسم کا ایک ادارہ قائم کرنا چاہیے جو اقبال نے لاہور میں قائم کیا تھا مگر وہ زندہ نہ رہ سکا۔ میں نے کہا کہ ۱۹۷۱ء میں میں لاہور گیا تھا۔

وہاں میری ملاقات پروفیسر یوسف سلیم چشتی (۱۹۸۸ - ۱۹۰۸ء) سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ اقبال نے دعاۃ اور مبلغین کی تیاری کے لیے اشاعت اسلام کالج کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا۔ یوسف سلیم چشتی کو اس کا پرنسپل مقرر کیا گیا تھا۔ اس میں چار سال کا کورس تھا جس میں مختلف زبانیں، تاریخ مذاہب اور تقابل ادیان وغیرہ مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ یہ ایک بے حد مفید کام تھا۔ مگر اقبال خود تو شعر گوئی میں مشغول رہے اور اس کام کو دوسروں کے ذمہ کر دیا۔ چنانچہ یہ ادارہ چار سال میں ٹوٹ گیا۔ اقبال اگر خود اپنے آپ کو اس میں وقف کرتے تو یہ ادارہ شاید ایک تاریخ ساز ادارہ ثابت ہوتا۔ جب میں نے یہ بات کہی تو اچانک لوگ بھڑک اٹھے۔ ساری گفتگواس پر چل پڑی کہ اقبال جیسی عظیم شخصیت پر آپ نے تنقید کیوں کر دی۔ اصل بات (اشاعت اسلام کالج کا دوبارہ قیام) پس پشت چلا گیا ۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے وہ آیت یاد آئی جس میں ہدایت یافتہ اور صاحب عقل ہونے کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ آدمی بات کو غور سے سنے اور پھر کلام کے بہتر مفہوم کی پیروی کرے (الزمر ۱۸) مسلم علماءءء اوردانشوروں کی مجالس میں میں نے بار بار یہ بات دیکھی ہے کہ ان میں یہ مزاج موجود ان کو یہ مزاج نہ قرآن سے ملا اور نہ علم سے۔ تاہم فقط بین بینار صحت مند نقطہ نظر کے حامل نظر آئے۔ علما ء اسلام کی قائدانہ سرگرمیاں بے نتیجہ کیوں ہوگئیں۔ اس کا جواب اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے جو صحیح ابن حبان میں ابو ذر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نقل کی گئی ہے۔ مومن عاقل کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے زمانہ کو جاننے والا ہو (ان يكون بصيرا بزمانه) اس معاملہ میں یہی اصل نکتہ کی بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ علما کے قائدانہ عمل کے باوجود نتیجہ نہ ملنے کا واحد فیصلہ کن سبب یہ تھا کہ وہ اپنے زمانہ کے حالات سے بے خبر تھے۔ علما کے اخلاص اور دیانت داری میں شبہ نہیں۔ مگر کسی کا اخلاص اس کے لیے سنت اللہ کا بدل نہیں بن سکتا۔ اخلاص کے باوجود ان کی جدوجہد میں زمانی بصیرت شامل نہ تھی۔ یہی وہ کمی ہے جس نے ان کی کوششوں کو آخری حد تک بے نتیجہ بنا دیا۔

انھوں نے بصیرت زمانہ بنے بغیر قائد زمانہ بننے کی کوشش کی ۔ زمانہ کی تبدیلی از سر نو تیاری کا تقاضا کر رہی تھی۔ مگر وہ تیاری کے بغیر اپنی موجودہ حالت کے ساتھ ہی ، اقبال کے الفاظ میں، بے خطرآتشِ نمرودمیں کود پڑے ۔ یہ بلا شبہ ایک کوتاہی تھی۔ اور جو لوگ ایسی کوتاہی کریں

وہ موجودہ اسباب کی دنیا میں کبھی کسی حقیقی نتیجہ کو ظہور میں نہیں لا سکتے۔ اس سیشن کے صدر مولانامحمد فاروق خاں صاحب تھے۔ انھوں نے آخر میں مفصل تقریر کی۔ انھوں نے شرکا، کے اس غیر علمی انداز پر سخت تنقید کی کہ میری بات کو الٹے مفہوم میں لے کر میرے خلاف بے معنی تقریر کرتے رہے۔ ایک اور صاحب ، جناب یمین الاسلام خان انجینئر نے کہا : یہ لوگ تو آپ کے خلاف اس طرح بول رہے تھے جیسے کہ وہ پہلے ہی سے خار کھائے بیٹھے ہوں۔ مولانا محمد فاروق خاں صاحب نے میرے نقطہ نظر کی مکمل تائید کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں معترضین کا تفصیلی جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ آج ہمارا یہ حال ہے کہ لوگوں کے اندر ہم ان دروازوں سے داخل ہونا چاہتے ہیں جہاں ان کی طرف سے پہرے دار بیٹھے ہوئے ہیں۔ کا دروازہ ، ٹکراؤ کا دروازہ ، قومی مفاد کا دروازہ ، یہ سب دروازے بند ہیں۔ مگر دل کے دروازہ پر کوئی پہرے دار نہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ہم بنددروازوں پراپناسرپٹک رہے مگر کھلے دروازہ سے لوگوں کے اندر داخل ہونے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہاں مدارس عربیہ سے تعلق رکھنے والے کئی اصحاب سے ملاقات ہوئی۔ ان سے گفتگو کے بعد یہ ذہن تازہ ہو گیا کہ مدارس عربیہ کی بنیادی کمزوری ان کا محدود ذہن ہے۔ لکھنؤ کے ندوہ سمیت، تمام مدارس محدود دائرہ میں سوچ پاتے ہیں۔ اسی لیے ایک ایک صدی گزر جانے پر بھی ان کے یہاں کوئی حقیقی ارتقاء نہیں ہوتا۔

اس سلسلہ میں مجھے متعدد تجربے پیش آئے ہیں۔ الجمعیة ویکلی سے وابستگی کے زمانہ میں میں نے ندوہ کے ذمہ دار اعلیٰ کو ایک خط لکھا کہ میں چاہتا ہوں کہ چند مہینہ ندوہ میں قیام کر کے " قرآن اور فکر جدید" کے موضوع پر طلبہ کو تیار کروں۔ اس کی صورت میں نے یہ تجویز کی کہ مجھے ندوہ کے احاطہ میں صرف ایک کمرہ قیام کے لیے دے دیا جائے ۔ اس کے بعد تمام اخراجات یا انتظام میرے ذمہ ہوگا۔ میں روزانہ مقرر وقت پر درس دوں گا۔ طلبہ کو آزادی ہوگی کہ جو چاہے شرکت کرے اور جو چاہے شرکت نہ کرے۔ میں نے یہ بھی لکھا کہ اس سلسلہ میں آپ کی ہر شرط کو میں بلا بحث ماننے کے لیے تیار ہوں۔ مگر ندوہ کے ذمہ دار اس پروگرام کو شروع کرنے کی اجازت نہ دے سکے۔

اسی طرح میں نے جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ کے ذمہ داروں کو یہی پیش کش کی اور ان سے بھی یہی کہا کہ میں قیام کے لیے ایک کمرہ کے سوا اور کسی قسم کی کوئی چیز آپ سے نہیں چاہتا۔ ان لوگوں نے ابتداً پسندیگی کا اظہار کیا۔ مگر اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔ اسی طرح اور بھی بعض مدارس کو میں نے اسی قسم کی پیش کش کی مگر کسی کی طرف سے مثبت جواب نہیں ملا۔

مدارس کی تمام شرطوں کو میں یک طرفہ طور پر ماننے کے لیے آمادہ تھا، اس کے باوجود انھوں نے کیوں اس بے ضرر پروگرام کو منظور نہیں کیا ، اس کی وجہ فکری جمود کے سوا اور کچھ نہیں۔ فکری جمود کے ساتھ کوئی ادارہ درو دیوار کے اعتبار سے تو ترقی کر سکتا ہے۔ مگر فکری جمود کے ساتھ علمی اور ذہنی ترقی کسی حال میں ممکن نہیں۔

ایک موقع پر میں نے کہا کہ ہمارے علماء اکثروقتی مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ حالاں کہ اصل کام یہ ہے کہ تاریخی عوامل کو اپنے موافق بنایا جائے ۔ مثلاً سید رشید رضا ۱۹۱۲ میں لکھنؤ آئے۔ پھر دیو بند جاکر دار العلوم میں انھوں نے تقریر کی۔ انھوں نے اس پرزوردیاکہ علماء سیاسی مشاغل کو چھوڑ کر تبلیغ کریں۔ اگر وہ بھر پور طور پر اس میدان میں کام کریں تو اقلیت و اکثریت کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ مگرہمارے علماء نے اس دور رس تجویز کو نظر انداز کر دیا۔ وہ اقلیت و اکثریت کے مسئلہ کے حل کے لیے مدنی فارمولا اور آزاد فارمولا پیش کرتے رہے۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مرکزی اسمبلی میں ہندؤوں اور مسلمانوں کو برابری (parity) کا حق دے دیا جائے، حالاں کہ یہ سیلاب کے آگے تنکوں کا بند باندھنا تھا۔

ایک صاحب نے نہایت جوش کے ساتھ کہا کہ ، ۱۹۱۷ سے پہلے کے دور میں انگریزوں نے برصغیر ہند میں ایسا تعلیمی نظام رائج کیا جس سے ہماری ذہنی غلامی برقرار رہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ طرزِ فکر ہے اور اس طرزِ فکر نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو سخت نقصان

اس دنیا میں ہر برائی میں کچھ اچھائی کا پہلو ضرور موجود رہتا ہے۔ انگریزوں کے رائج کردہ تعلیم کا معاملہ بھی یہی تھا۔ اس کا ایک پہلو وہ تھا جو آپ نے فرمایا۔ اسی کے ساتھ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ وہ بین اقوامی زبان (انگریزی) سکھاتے تھے اور نئے علوم کی تعلیم دیتے تھے اور موجودہ زمانہ میں ان

چیزوں کی بے حد اہمیت تھی۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کو خذما صفادع ماکدر کے اصول پر عمل کرنا چاہیے تھا۔ مگر انھوں نے انتہا پسندی کا طریقہ اختیار کیا جو بے حد نقصان دہ ثابت ہوا۔ ایک صاحب نے کہا کہ دینی درس گاہیں بنجر ہو چکی ہیں۔ ان کے یہاں زندگی کے سوتے خشک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے اپنی تائید میں اقبال کا یہ شعر پڑھا :

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا کہاں سے آئے صدالاالٰہ الااللہ میں نے کہا کہ مدارس کے نظام میں بلاشبہ اصلاح کی ضرورت ہے۔ مگر یہ کہنا صحیح نہیں کہ مدارس بالکل بے فائد ہ یا بنجر ہو چکے ہیں، مثال کے طور پر نہ وہ نے عربی زبان و ادب کا ذوق پیدا اس کی وجہ سے ہمارے درمیان ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو عربی زبان میں لکھنے اور بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انھیں کی وجہ سے ہندستانی مسلمانوں اور عرب ممالک کے درمیان ربط قائم ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہندوستان اور ترکی کے درمیان جو دوری ہے وہی دوری ہندوستان اور عرب کے درمیان پیدا ہو جاتی۔

اسی طرح دیوبند نے لاکھوں کی تعداد میں علماء پیدا کیے ۔ یہی علماء ہیں جو امام ، مدرس ، مبلغ، واعظ، مصنف اور دوسری صورتوں میں مسلمانوں کو اسلام سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ عام مسلمانوں اور اسلام کے درمیان علمی واسطہ ہیں۔ اگر علماء کا یہ گروہ نہ ہوتا تو عام مسلمان اسی طرح اسلام سے نا آشنا ہو جاتے جس طرح مغربی ملکوں میں جزئی طور پر نظر آتے ہیں۔ مولانا سلطان احمد اصلاحی سے میں نے کہا کہ آپ کوئی ایسی بات بتائیں جو آپ کی ذاتی معرفت ہو ، جس کو آپ نے خود دریافت کیا ہو۔ اس کی مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ حال میں میں نے دوسری بار حجۃ اللہ البالغہ پڑھی ۔ اس کو پڑھنے کے بعد میرا تاثر یہ تھا کہ __ حجۃ اللہ البالغہ دین الہی کی عقلی تبیین نہیں ہے، بلکہ وہ دین الہی کی صرف تقلیدی تبیین ہے “ میں نے کہا کہ ڈھائی سو سال کے درمیان کسی بھی شخص نے یہ بات نہیں کہی ۔ اسی طرح آپ کوئی ایسی نئی بات بتائیے جو آپ کی اپنی انھوں نے حسب ذیل سطریں ایک کاغذ پر بطور حاصل حیات “ لکھ کر دیا : ” جس کسی مسلمان کی زندگی میں کوئی لمحہ ایسا گزرے جس میں کہ اسے اپنے مولی سے شکایت ہو اور اسے یہ احساس ستائے کہ وہ وہ نہیں ہے جو کہ اسے ہونا چاہیے تھا تو اسے اپنے

ایمان کی فکر کرنی چاہیے"۔

میں نے کہا کہ یہ تو اعادہ ہے، یہ آپ کی اپنی دریافت نہیں۔

ایک اور صاحب جو اصلاح ملت کے میدان میں کام کرنے کا شوق رکھتے تھے، ان کو میں نے یہ الفاظ لکھ کر دیے : قوم کی خدمت صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو قوم کی بے توجہی کے باوجود قوم کی خدمت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

لکھنو میں ریلوے اسٹیشن کے پیچھے محلہ ڈیوڑھی آغا میر میں ایک قدیم درگاہ ہے۔ کا تعلق اٹھارویں صدی کے ایک صوفی اور عالم شاہ عبد الرحمن الموحد سے ہے۔ وہ بلوچستان کے قریب ایک قصبہ کوٹ مخدوم میں ۱۷۴۷ء میں پیدا ہوئے۔ تقریباً ۲۰ سال کی عمر میں وہ علم ظاہر اور علم باطن کے حصول کے شوق میں گھر سے نکل گئے ۔ اس دوران وہ لکھنو بھی آئے تھے۔ کے مختلف شہروں میں علماء و صوفیاء سے کسب فیض کرتے ہوئے سورت پہنچے۔ یہاں کشتی میں سوار ہو کر جدہ کے لیے روانہ ہوئے ۔ ۱۷۹۱ (رمضان ۱۲۰۵ھ) میں وہ مکہ پہنچے۔ حج و زیارت سے فارغ ہو کر ۱۷۹۵ء میں ۲۸ سال کے بعد وہ وطن واپس ہوئے تو معلوم ہوا کہ ان کی ماں کا انتقال ہو چکا ہے (قومی آواز ۲۹ مئی ۱۹۹۲)

یہ دو سو سال پہلے کی بات ہے جب کہ کمیونی نیشن کے مشینی وسائل ظہور میں نہیں آئے تھے۔ اگست ۱۹۴۸ء میں میں دوسری بار لکھنو آیا تھا۔ اس وقت میر الڈا کا شمس الاسلام اعظم گڑھ میں تھا۔ ۵ سال کی عمر میں ، ۲۰ اگست ۱۹۴۸ء کو اچانک اس کا انتقال ہو گیا۔ یہ خبر اسی روز ٹیلی گرام کے ذریعہ مجھے لکھنو میں مل گئی۔ کتنا فرق ہے قدیم دور اور جدید دور میں۔

اس وقت میں جاپلنگ روڈ پر مشتاق احمد انصاری (ڈائرکٹر جیل انڈسٹریز) کے مکان جب مجھ کو یہ خبر ملی تو خاموشی کے ساتھ میں لوگوں کے پاس سے اٹھا۔ غسل خانہ میں جاکر وضو کیا اور اس کے بعد لکڑی کے تخت پر دو رکعت نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ میں جب کہیں جاتا ہوں تو عام رواج کے تحت مسجد میں مجھ سے نماز پڑھانے کے لیے کہا جاتا یہاں بھی یہ صورت پیش آئی۔ مگر میں نے اپنی عادت کے مطابق ، امامت سے احتراز کیا۔ بعد کو ایک صاحب نے کہا کہ آپ کا طریقہ بزرگوں کے خلاف ہے۔ میں نے فلاں بزرگ کے ساتھ

سفر کیا ہے، وہ جہاں جاتے، ان سے امامت کے لیے کہا جاتا اور وہ شوق سے امامت کا فریضہ

میں نے کہا کہ آپ ان بزرگوں کی پیروی کر رہے ہیں جن کے حق میں اللہ نے کوئی سلطان (آیت) نہیں اتاری۔ اور میں اس بزرگ کی پیروی کرتا ہوں جس کے حق میں اللہ کی سلطان آپ کے مفروضہ بزرگوں کے حق میں قرآن میں کوئی آیت موجود نہیں۔ جب کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں یہ حکم موجود ہے کہ وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم

میں نے کہا کہ میں سفر کے مقامات پر امامت سے اس لیے احتراز کرتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ، باب امامت الزائر) میں یہ روایت موجود ہے کہ : من زار قوما فلا يؤمّهم وليؤمّهم رجل منهم (جو شخص کسی قوم میں جائے تو وہ اس کی امامت نہ کرے۔ ان کا مقامی آدمی ان کی امامت کرے) ۲۹ فروری کی سہ پہر کو دار العلوم ندوۃ العلماء دیکھا۔ اس کی طرف چلتے ہوئے میں حضرت گنج کی طرف جانے والی سڑک پر پہنچا تو مجھے ایک واقعہ یاد آگیا جو اسی سڑک پرگزراتھا۔ یہاں یہاں سے میں پیدل گزر رہا تھا۔ ایک موڑپرپہنچاتو میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان اپنی بائیسکل تیزی سے دوڑاتا ہوا چلا آرہا ہے۔ موٹر پر پہنچ کر وہ ایک راہ گیر سے ٹکرا گیا جو سڑک کے کنارے آگے کی طرف راہ گیر گر پڑا اور بائیسکل بھی رک گئی۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ یہ تھی :

گھنٹی کیوں نہیں بجائی گھنٹی نہ ہو تو بریک کیوں نہیں لگایا بریک نہ ہو تو ،تمہارے پاس گھنٹی نہیں، تمھارے پاس بریک نہیں، پھر تم تیز کیوں دوڑاتے ہو کیا تم سے پوچھ کر دوڑاؤں ۲۳ الریال دسمبر ۱۹۹۴ء

آگے بڑھے تو گومتی کے نئے پل سے گزرتے ہوئے دوبارہ ایک واقعہ یاد آگیا جو اسی پل کے اوپر اس زمانہ میں یہاں ایک ڈاکٹر سمیع اللہ خاں تھے۔ انھوں نے فلسف میں ڈاکٹریٹ کیا تھا اور برٹش ڈرڈسل سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ ہم دونوں اس پل سے بات کرتے ہوئے گزر رہے اچانک ڈاکٹر سمیع اللہ صاحب نے کہا کہ خدا کو ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس کری ایٹرین کیا میں نے کہا: وہی کری ایٹرین جو آپ کے پاس کوئی چیز ثابت کرنے کے لیے ہو۔ جواب کے بعد ڈاکٹر سمیع اللہ صاحب خاموش ہو گئے ۔ یہ شاید میری زندگی کی سب سے زیادہ کامیاب گفتگو ہے جو صرف ایک بار پیش آئی۔

دار العلوم ندوہ پہنچے تو وہاں کا پورا نقشہ بدلا ہوا تھا۔ میرے زمانہ قیام میں ندوہ، عمارت کی حیثیت سے، ایک معمولی مدرسہ تھا۔ آج وہ عمارتوں کی کثرت سے ایک پوری یونی ورسٹی معلوم ہوتا اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ ندوہ کے لوگ پر جوش طور پر یہ تقریریں کر رہے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا قومی وجود خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں ان کے تشخص کو مٹانے کی مسلسل کوشش کر رہی ہیں۔ مگر ندوہ نے ۱۹۴۷کے بعد جس طرح غیر معمولی ترقی کی ہے، اس کے لحاظ سے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اہلِ ندوہ کے پاس اس سے کہیں زیادہ بڑی ایک اور خبر ہے، مگر وہ اس کو اپنی تقریروں اور تحریروں میں ظاہر نہیں کرتے۔ وہ مسلمانوں کو یہ قیمتی خبر دے سکتے ہیں کہ اس ملک میں دشمنوں کی سازشوں اور مخالفانہ سرگرمیوں کے باوجود یہ موقع ہے کہ ایک مدرسہ کو پچاس سال کے اندر یونی ورسٹی کے درجے تک پہنچا دیا جائے اور کوئی دشمن اس کی ترقی کو روک نہ سکے۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی کی ایک تقریر ندوہ کے تعمیر حیات (۲۵ اپریل (۱۹۸۶) میں شائع ہوئی اس میں انھوں نے کہا تھا کہ بڑے فخر کی بات ہے کہ تحفظ شریعت کی موجودہ تحریک کی قیادت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور وہ لوگ کر رہے ہیں جنھوں نے دنیا بہت سے دوسرے ترقی پسند لوگوں اور پروگریسیو گروہ سے زیادہ دیکھی ہے۔ جنھوں نے مغربی تہذیب کا مطالعہ ان سے زیادہ گہری نظر اور وسیع نظر سے کیا ہے ۔ وہ یورپ کی اور مشرق کی تاریخ پر ان سے زیادہ وسیع اور عمیق نظر

اس سلسلہ میں راقم الحروف نے یکم مئی ۱۹۸۶ کو ایک خط ایڈیٹر تعمیر حیات کے نام روانہ کیا ۲۵ ال سال دسمبر ۱۹۹۴

اور ان کو لکھا کہ مولانا علی میاں نے مغربی تہذیب اور عالمی تاریخ کے ماہرین کی جس جماعت کا ذکر کیا ہے ان میں سے صرف ایک صاحب کا نام اور پتہ تحریر فرمائیں۔

اس کے جواب میں مجھے تعمیر حیات کے ایڈیٹر صاحب کا خط مورخہ ۲۹ شعبان ۱۴۰۶ ھ ملا۔ انھوں نے اس کے جواب میں میرا نام لکھ دیا اور تحریر فرمایا کہ آپ خود جس طرح نئی تہذیب کے مسائل کی تحلیل و تجزیہ کرتے ہیں ، کیا وہ یورپ سے قریب رہنے والوں کے مقابلہ میں برتری کی دلیل میرے سوال کا جواب نہیں تھا۔ چنانچہ اس کے بعد میں نے براہ راست مولانا ابوالحسن علی ندوی کو اپنا خط مورخہ ۲۹ مئی ۱۹۸۶ء روانہ کیا۔ اور لکھا کہ مجھے صرف ایک نام اور پتہ لکھ کر بھیج دیں۔ جواب میں ان کا خط مورخہ ۱۷ رمضان ۱۴۰۶ ھ موصول ہوا۔ ان کے جواب کے الفاظ یہ تھے : آپ نے ان کے چند نام پوچھے ہیں۔ میں دو ہی نام کافی سمجھتا ہوں۔ ایک مولانا وحید الدین خاں صاحب اور ایک یہ ناچیز میر انیس (۱۸۱۴-۱۸۰۱ء) اُردو کے مشہور شاعر گزرے ہیں۔ انھوں نے لکھنؤ کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا :

ہر دل ہے عندلیب گلستان لکھنؤ رضواں بھی ہے جناں میں ثناخوان لکھنؤ مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴-۱۸۵۷ء) بھی لکھنؤ کو بہت پسند کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ ریاست وہاں انھوں نے قدرتی مناظر کو دیکھا تو لکھنؤ کے تمدنی حسن پر جنجیرہ کا قدرتی حسن غالب انھوں نے عطیہ فیضی کو خطاب کرتے ہوئے کہا :

کہاں یہ لطف یہ منظر یہ سبزہ یہ بہارستاں عطیہ تم کو یاد لکھنؤ ہوگی تو کیوں ہوگی آج لکھنؤ کی حیثیت بڑے شہروں کے مقابلہ میں ایک گاؤں جیسی ہے ۔ ۲۸ فروری کو ائیر پورٹ سے آتے ہوئے جب ہم شہر میں داخل ہوئے تو مولانا انیس الرحمن فلاحی نے بتایا کہ میں اس سے پہلے بمبئی میں رہتا تھا ۔ اب میں بمبئی چھوڑ کر لکھنؤ آ گیا ہوں ۔ چند مہینہ یہاں رہنے کے بعد میری چھوٹی بچی زریں (۹ سال) نے کہا : ابا جان ، دیہات میں ہم لوگ کئی مہینہ رہ چکے ، اب آپ

آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کے مطابق، لکھنؤ میں ۷۹، پرانی عمارتیں (آثار قدیمہ) پائے شہر کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے ان میں سے کئی عمارتیں دیکھیں۔ تاہم بیلی گارڈ میں داخل ہو کر اس کو زیادہ تفصیل کے ساتھ دیکھنے کا موقع ملا۔

اینگلو اودھ ٹریٹی ۷۵ء میں کیا گیا ۔ اس کے بعد سے برٹش انڈیا کمپنی کا ایک نما ئندہ لکھنؤ میں اس مقام پر رہنے لگا جس کو آج بیلی گارڈ کہا جاتا ہے۔ مشہور بغاوت (غدر) کے زمانہ میں ۳۰ جون، ۱۸۵۰ء کو باغی فوجیوں نے بیلی گارڈ کو گھیر لیا۔ اس کے اندر اس وقت تقریباً ہزار انگریز اور ان کے وفادار سپاہی جمع تھے ۔ دو مہینے سے زیادہ مدت تک محاصرہ جاری رہا۔ دوران باغی فوج مسلسل توپوں کے ذریعہ گولہ باری کرتی رہی۔ بیلی گارڈ کی عمارتوں پر گولے لگنے کے نشانات آج بھی موجود ہیں۔ داغے ہوئے گولے بھی بعد کو جمع کرکے اس کے میوزیم میں رکھے گئے اس کے احاطہ کے اندر ایک مسجد تھی ۔ اس کے اونچے مینار گولہ باری سے ہل گئے تھے ۔ بعد کو دونوں میناروں کو لوہے کے مضبوط شکنجے میں باندھ دیا گیا جو آج تک اسی حالت میں موجود ہے۔ آخر کار سرکولن کمپیل کا نپور سے فوج لے کر آیا اور باغیوں سے لڑکر ۲۵ستمبر۱۸۵۷کو محاصرہ کا خاتمہ کیا یکم مارچ ۱۹۹۲ کو جناب نثز جلیل صاحب اور چند ساتھیوں کے ہمراہ میں نے اس مقام کو دیکھا۔ اس کو دیکھتے ہوئے جب میں اس کے تہ خانے کے اندر پہنچا اس وقت یہ راز دریافت ہوا کہ طویل محاصرہ اور گولہ باری کے باوجود محصور افراد یہاں کس طرح زندہ بچے۔ بیلی گارڈ کے بیچ میں ایک قدیم عمارت ہے۔ اس عمارت کے نیچے ایک وسیع تہ خانہ ہے جو۴۵سیڑھیاں اترکر ملتاہے ۔ محاصرہ کے دوران انگریز خاندانوں نے اسی تہ خانہ میں پناہ لی تھی۔ ان میں برٹش کمشنر سرہنری لارنس بھی شامل تھے ۔ یہ لوگ کئی مہینے تک اس میں محصور رہے۔ جب لکھنؤ میں داخل ہوئے تو خطرہ کا پیشگی اندازہ کر کے یہ وسیع اور مضبوط تہ خانہ بنایا تھا۔ تہ خانہ میں روشنی اور ہوا کا اتنا اچھا انتظام ہے کہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ معروف معنوں میں وہ کوئی تہ خانہ یہی تہ خانہ طویل محاصرہ کے دوران انگریز خاندانوں کو بچانے کا سبب بنا۔ باغی فوجوں نے توپ خانہ اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ کئی مہینہ تک وہ اس پورے علاقہ

کو اپنے گھیرے میں لے کر اس کے اوپر گولہ باری کرتی رہیں۔ مگر اس بغاوت کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی اور نہ ان کو معلوم تھا کہ اندرونی طور پر انگریزوں نے کیا انتظامات کر رکھے ہیں۔ انگریز گورنر نے ٹیلی گرام پر کان پور کے فوجی ہیڈ کوارٹر سے ربط قائم کیا۔ وہاں سے بڑی تعداد میں فوج آئی۔ اس نے باغیوں کو اپنے گھیرے میں لے کر ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس طرح یہ محاصرہ ختم ہوا۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیہ میں لکھنو کے تذکرہ کے تحت بتایا گیا ہے : The best preserved monument is the Residency (1800), the scene of a heroic defence by British troops during the 1857 Indian Mutiny. (VI/374). بسیلی گارد کی اس عمارت پر ایک کتبہ لگا ہوا ہے۔ اس میں اس وقت کے ہندوستانی وائسراے لارڈ کیننگ کی ڈائری کے یہ الفاظ درج ہیں :

“There does not stand recorded in the annals of war an achievement more truly heroic than the defence of the Residency at Lucknow”. Lord Canning Viceroy & Governor General of India. جناب نثر جلیل صاحب (۴۸ سال) لکھنو میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج ہیں۔ انھوں نے بہت سے سبق آموز تجربات بتائے۔ وہ بہت ایمانداری کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے ۱۹۷۶ء کا ایک واقعہ اس وقت وہ اعظم گڑھ میں منصف مجسٹریٹ تھے۔ ان کے وطن کے ایک آدمی کا کیس ان کی عدالت اس نے چاہا کہ تحفہ وغیرہ دے کر انھیں متاثر کرے اور اپنے حق میں فیصلہ حاصل کرے ۔ وہ تحفے لے کر ان کے یہاں آیا۔ انھوں نے واپس کر دیا۔ مگر وہ نہیں مانا۔ اس نے کئی بار مختلف قسم کے تحفے پیش کرنے کی کوشش کی۔ وہ ہر بار منع کرتے رہے، انھوں نے اس آدمی سے کہا کہ کیس میں فیصلہ کا کوئی تعلق ان چیزوں سے نہیں ہے۔ قانون کا جو تقاضا ہوگا اس کے مطابق ہی تمہارے کیس کا فیصلہ کیا جائے گا۔

منع کرنے کے باوجود آدمی نہیں مانا اور بار بار انھیں متاثر کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ دن جب وہ تحفے لے کر آیا تو نژ جلیل صاحب کو غصہ آگیا۔ انھوں نے اس آدمی کو ایک کمرہ میں بند کر کے اسے مارا ۔ نثر جلیل صاحب کی والدہ کو یہ قصہ معلوم ہو گیا۔ انھوں نے اس کی خبر ان کے والد مولانا عبد السمیع صاحب کو کر دی۔ موصوف یوپی اسمبلی کے ممبر تھے اور ۱۹۶۶ء میں ۲۷ سال کی عمر

میں ان کا انتقال ہو گیا۔ مولانا مرحوم نے اپنے صاحب زادہ (نثر جلیل صاحب) کو ایک خط لکھا۔ کسی واقعہ کا ذکر کیے بغیر یہ درج تھا :

"تم اگر ایمان داری کرو تو تم کسی کے اوپر احسان نہیں کرتے ہو، بلکہ صرف اپنی ملازمت کے تقاضے پورے کر رہے ہو۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ بد اخلاقی سے برتی گئی ایمان داری اپنا وقار کھو دیتی ہے۔

نثر جلیل صاحب نے کہا کہ والد صاحب کے اس خط کو پڑھ کر میں نے اپنے کو بُونا محسوس کیا۔ اسی طرح شروع ملازمت میں نثر جلیل صاحب نے عدالت کے ماحول کے بارہ میں شکایت کی۔ مولانا عبد المیع صاحب نے کہا : ایمان داری کا تعلق انسان کے ضمیر سے ہوتا ہے۔ حاصل کردہ سرٹیفکٹ کی بنا پر کوئی شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا۔ ہر انسان اس معاملہ میں اپنا جج آپ ہے۔ مولانا عبد المیع ایک پختہ کانگریسی تھے۔

ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا میں اسلام کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جس طرح قدیم ہندوستان میں یہاں خون کی ندیاں بہادی گئیں اسی طرح آج بھی یہ سازش کی جارہی ہے کہ دوبارہ مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہائی جائیں۔ میں نے کہا کہ اگر فی الواقع ایسا ہے تو میں آپ کو اور مسلمانوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اتنی خطرناک سازش کے باوجود اب بھی آپ کے لیے ممکن ہے کہ اتر پردیش جیسی ریاست کی مین راج دھانی میں موجودہ سیمنار جیسا شاندار اسلامی اجتماع کر سکیں۔ ایسی حالت میں تو آپ کو پریشان ہونے کے بجائے خوش ہونا چاہیے۔

ایک موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مجھے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کی کانفرنسوں میں شرکت کا بار بار اتفاق ہوا ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ مقام عظمت سے بولتا ہے اور دوسرے لوگ مقام حقیقت سے۔ مسلمانوں میں تخیلاتی اپروچ ہے اور دوسروں میں حقیقت پسندانہ اپروچ۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان اس پیغمبر کو بھول چکے ہیں جس نے کہا تھا کہ یا عمر انا قلیل، اور (اصبروا فانی لم او مر بالقتال) ۔ وہ صرف اس پیغمبر کو جانتے ہیں جس کی زبان سے یہ آیت جاری ہوئی کہ قاتلوهم حتى لا تكون فتنة۔ موجودہ مسلمانوں کو پیغمبر کی زندگی کا صرف نصف حصہ معلوم ہے۔ بقیہ نصف حصہ کی انہیں خبر نہیں۔

شہر کے درمیان چلتے ہوئے ایک بار لکھنو اسٹیشن سے گزرا۔ اس کا نقشہ اب بھی وہی تھا جس کو میں نے چالیس سال پہلے دیکھا تھا۔ مسافروں کی آمد و رفت کی سطح پر زندگی متحرک تھی، مگر در و دیوار کی سطح پر زندگی ٹھہری ہوئی نظر آئی۔

پہلی بار اس اسٹیشن پر غالباً میں ان ۱۹ میں اترا تھا۔ میرے عزیز اور بچپن کے ساتھی مسٹر عتیق احمد انصاری یہاں جا پلنگ روڈ پر اپنے والد مسٹر مشتاق احمد انصاری کے ساتھ رہتے تھے جو جیل انڈسٹریز میں ڈائرکٹرتھے عتیق احمد صاحب سخت بیمار ہو گئے تھے۔ ان کو دیکھنے کے لیے میں اہل خاندان کے ساتھ لکھنو آیا تھا۔

لکھنو میں کچھ وقت مسٹر مسعود احمد کے مکان (گلستان طلبہ) پر گزرا۔ مسٹر مسعود کی والدہ انگریزی بالکل نہیں جانتی تھیں۔ مسٹر مسعود نے بی ایس سی تک کی تعلیم کالج میں حاصل کی۔ اب مسٹر مسعود کے بچے انگریزی اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کی لڑکی کو انگریزی ادب کا اتنا شوق ہے کہ وہ انگریزی زبان میں اشعار موزوں کرتی ہیں۔ ان کی ایک نظم (When Nobody Cares) یہ ہے : With no one to care, Life's full of despair, Life seems like a burden Which no one can share, There's sadness all round, In grief you are bound Your e'er want to cry, Oft longing to die. God forgive me, you say, That's not the right way. Face up to the knocks and the challenges of life For love, care and happiness Never come without strife. ۴۹ ٕ تک یہ حال تھا کہ مسلمان انگریزی پڑھنے کو نہایت برا سمجھتے تھے۔ آج یہ حال ہے کہ مسلمان انگریزی پڑھنے کو فخر سمجھتے ہیں۔ لیکن انگریزی زبان کو برا سمجھنا جتنا غلط تھا، اتنا ہی غلط یہ بھی ہے کہ اس پر فخر کیا جائے ۔ اصل یہ ہے کہ زبان انسان کی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے۔ وہ نہ کوئی عیب کی چیز ہے اور نہ فخر و ناز کی کوئی چیز۔ لکھنو کی ایک مشہور شخصیت منشی نول کشور (۱۸۹۵ ۔ انھوں نے ۱۹ ویں صدی

کے نصف آخر میں اردو زبان و ادب کی جو خدمت کی اب بھی اس کی کوئی مثال موجود نہیں۔ انھوںنے ۱۸۵۸میں لکھنؤمیں مطبع نول کشور قائم کیا۔ سرمایے کی کمی کی بنا پر اس وقت ان کا یہ حال تھا کہ ’’سرکاری کا غذات طباعت کے بعد خود کاندھوں پر اٹھا کر دفتروں میں پہنچاتے ‘‘ (قومی آواز، ۸ دسمبر ۱۹۹۱)

منشی نول کشور اسی زمانہ میں کلکتہ گئے۔ ان کو وائسرائے کے دربار میں مدعو کیا گیا تھا۔ نے دیکھا کہ کاغذ سے لدا ہوا ایک جہاز یورپ سے آیا ہوا ہے مگر سامان کی ظاہری حالت اچھی نہ دیکھ کر تاجر اس کی قیمت بہت کم لگا رہے ہیں، منشی نول کشور نے دام بڑھا کر اس کو خرید لیا۔ سے نکالا گیا تو معلوم ہوا کہ اندر کے کاغذات نہایت اچھے ہیں۔ منشی صاحب نے کاغذ کی نصف مقدار کلکتہ میں اچھے دام پر فروخت کر دی اور آدھی مقدار کو لکھنؤ لے آئے۔ اس سودے میں ان کو اتنا زیادہ فائدہ ہوا کہ اس کی رقم سے انھوں نے لکھنؤ میں ایک بڑا مکان (کوٹھی غالب جنگ) خریدی اور نیا پریس لگایا۔

اس دنیا میں خطرہ کے بغیر فائدہ نہیں (No risk no gain) کا اصول رائج ہے۔ لوگ بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں جو خطرہ مول لے کر اقدام کرنے کاحوصلہ رکھتے ہوں ۔ آپ منشی نول کشور کی تصویر دیکھیں تو وہ داڑھی اور پگڑی اور انگ رکھا کے ساتھ اپنی صورت کے اعتبار سے بالکل مسلمان نظر آئیں گے۔ اس زمانہ میں ہندوؤں کا کلچر عام طور پر وہی تھا جو مسلمانوں کا کلچر تھا۔ زبان اور طرز رہائش کے اعتبار سے دونوں میں کوئی ظاہری فرق پایا نہیں جاتا تھا۔ ایک صاحب نے ہندوستان ٹائمس (۸ دسمبر ۱۹۹۱) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارادے کیا ہیں۔ پارٹی کے چیف مسٹر منوہر جوشی نے اپنے مذکورہ انٹرویو میں کہا ہے کہ مسلمان ہندو ہیں :

Muslims are Hindus because they live in Hindustan. میں نے کہا کہ ۱۹ ویں صدی کے آخر تک یہی صورت حال برعکس صورت میں قائم تھی۔ سیاست کے دباؤ کے نتیجہ میں ہندو اپنی زبان اور کلچر کے اعتبار سے بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام ہندو مسلمان ہو گئے ۔ آپ جانتے ہیں کہ وہی ہندوآج خود مسلمانوں کے لیے

چیلنج بنے ہوئے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلمان ہندو ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس طرح کی چیزوں کسی قوم کے تشخص کو نہیں بدلتیں ہماری نظر خود اپنی اندرونی طاقت پر ہونی چاہیے نہ کہ خارجی نعروں پر۔

ایک ہندو ودوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ۶۶ سال کی عمر کے تھے اور راجہ گونڈہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں پکا ہندو ہوں مگر میں روزانہ رامائن اور بائبل اور قرآن کو پڑھتا ہوں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا: مگر معاف کیجیے ، آپ کے قرآن میں ترتیب نہیں ہے۔

میں نے کہا کہ بات یوں نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن خدائی اسلوب میں ہے اور دوسری کتابیں انسانی اسلوب میں۔

انسانی اسلوب میں بیان واقع کا انداز ہوتا ہے۔ اس میں کوئی بات اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ آدمی اول سے آخر تک اسے پڑھ ڈالے۔ مثلاً بائبل میں اگر آپ پیدائش یا خروج کا باب پڑھیں تو ۵۰ صفحہ ختم کرنے کے بعد بات مکمل ہوگی۔ آپ پچاس صفحہ پڑھنے کے بعد سمجھیں گے کہ اس میں کہنے والے نے کیا کہا ہے۔

مگر قرآن کا انداز واقعاتی نہیں بلکہ تذکیری ہے۔ قرآنی اسلوب کی حکمت یہ ہے کہ آپ چند ، سطریں یا ایک صفحہ بھی پڑھیں تو آپ کو نصیحت کی ایک بات مل جائے۔ چنانچہ آپ قرآن کا کوئی بھی صفحہ چند سطر پڑھتے ہی آپ کو کوئی نہ کوئی سبق یا نصیحت کی بات پالیں گے۔ قرآن کی بظاہر بے ترتیبی کثرت اسباق کی بنا پر ہے۔ آپ جب بھی کوئی ایسی کتاب لکھیں جس کا مقصد وہ ہو جو قرآن کا مقصد ہے تو اس کے اندر تعدد مضامین کی وہی کیفیت پیدا ہو جائے گی جس کو آپ بے ترتیبی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ مذکورہ ہندو سے ملاقات مسعود صاحب کی دکان پر ہوئی۔ اگست ۱۹۴۸ء میں میں اعظم گڑھ میں تھا۔ میرے بڑے بھائی عبد العزیز خاں صاحب کو اپنڈکس کا شدید درد اٹھا۔ مقامی سرجن ڈاکٹر انیس کو بلایا گیا۔ انھوں نے دیکھنے کے بعد کہا کہ ان کو فوراً لکھنؤ لے جائیے اور وہاں آپریشن کر وایئے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب، اپنڈکس کا آپریشن تو موجودہ زمانہ میں کوئی میجر آپریشن نہیں سمجھا جاتا۔ پھر اس کے لیے آپ ہم کو لکھنؤ کیوں بھیج رہے

یہیں اعظم گڑھ کے اسپتال میں اس کا آپریشن کیوں نہیں کر دیتے ۔

انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس تربیت یافتہ ہینڈ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپریشن ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کام کے لیے ایسے ساتھی کا ہونا ضروری ہے جو بتائے بغیر باتوں کو جانے ۔ مثلاً ہم نے پیٹ کو چاک کر کے اپنڈکس کا آپریشن کر لیا۔ اب ضرورت ہے کہ پیٹ کے چاک کو دوبارہ سلا جائے ۔ اس وقت اگر ہم کو باریک دھاگے کی ضرورت ہے۔ ہمارا ساتھی موٹا دھاگہ یا سوئی میں ڈال کر ہمیں دینے لگے تو یہ مہلک ہوگا۔ اس وقت ہمارے لیے یہ موقع نہیں ہوتا کہ ہم بتائیں کہ ہمیں کس قسم کا دھاگا چاہیے ۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا : میرے ساتھی کو جاننا چاہیے کہ آیندہ میں کیا کرنے والا ہوں۔

ڈاکٹر انھیں کے یہ الفاظ آج تک میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ایک سرجن کو جس قسم کے ہینڈ کی ضرورت ہوتی ہے، اسی قسم کے ہینڈ کی ضرورت ایک رہنما کو ایسے افراد نہ ہوں تو ایک رہنما بھی اسی طرح اپنا کام صحیح طور پر انجام نہیں دے سکتا جس طرح ایک سرجن۔

ڈاکٹر صاحب کے مشورہ کے مطابق، ہم فوری طور پر بذریعہ کار لکھنؤ کے لیے روانہ ہوئے اور رات بھر سفر کر کے صبح کے وقت لکھنؤ پہنچے۔ اس سفر میں میرے ساتھ مولانا اقبال احمد سہیل کے صاحبزادہ مسٹریمین الاسلام خاں بھی تھے۔ لکھنؤ میں ہم لوگ ۶، جانلنگ روڈ پر ٹھہرے ۔ کے اسپتال میں بھائی صاحب کا آپریشن ہوا۔ آپریشن کے بعد کا وہ منظر اب تک مجھے یاد ہے جب کہ بھائی صاحب پانی کے لیے تڑپ رہے تھے اور ہم لوگ ، ڈاکٹر کی ہدایت کی بنا پر انھیں پانی کا گلاس دینے سے معذور تھے۔

جن دنوں بھائی صاحب لکھنؤ کے میڈیکل کالج اسپتال میں داخل تھے، مجھ کو روزانہ وہاں جانا ہوتا تھا۔ یہاں میڈیکل کالج سے ملا ہوا شاہ مینا (وفات ۱۹۷۰ء) کا مزار تھا۔ ایک روز میں مزار کے وہاں میں نے دیکھا کہ لوگ قبر کے چاروں طرف سجدہ کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے پہلی بار دیکھا تھا، چنانچہ مجھے سخت جھٹکا لگا۔ میں وہاں سے چل کر اس کمرہ میں آیا جہاں گدے اور مسند کے اوپر کچھ موٹے موٹے افراد بیٹھے ہوئے تھے، وہ غالباًمجاورصاحبان تھے۔

میں ان کے سامنے ادب سے کھڑا ہو گیا اور نہایت نرمی سے کہا کہ یہاں میں نے دیکھا کہ لوگ قبر کو سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ تو اسلام میں حرام ہے۔ کیوں کہ سجدہ صرف ایک اللہ کے لیے ہے۔ میں سے ایک شخص بولا: ادھر کونے میں دیکھئے۔ میں نے دیکھا تو وہاں بانس کی کئی لاٹھیاں کھڑی کی اس کے بعد انھوں نے کہا: آپ کا جواب اسی سے دیا جائے گا۔ اتنے میں ایک شخص نے مجھے پیچھے سے کھینچا۔ وہ غالباً یہاں کا چپراسی تھا۔ وہ مجھ کو کمرہ سے باہر لے گیا اور کہا: میاں صاحب زادے، جاؤ، اپنا کام کرو۔ میں خاموشی کے ساتھ وہاں سے چلا آیا۔

لکھنؤ کے اجتماع میں مولانا عبدالغفار ندوی (۳۷ سال) سے بھی ملاقات ہوئی۔ مل کر کئی باتیں یاد آگئیں۔ ۱۹۴۸ء میں غالباً دوسری بار میں لکھنؤ آیا تھا۔ اس وقت مولانا عبدالغفار صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت وہ لکھنؤ میں جماعت اسلامی کے واحد رکن تھے اور جھاؤ لال کے پل پر ایک بوسیدہ کمرہ میں جماعتی پروگرام کے تحت ہفتہ وار اجتماع کیا کرتے تھے۔ ایک عرصہ تک وہ تنہا یہ اجتماع کرتے رہے۔ کیوں کہ ان کی اکیلی ذات کے سوا کوئی اس میں شرکت کرنے والا اس وقت یہاں موجود نہ تھا۔ آخر کار ایک قافلہ بنا۔ اب لکھنؤ میں پانچ مختلف مقامات پر جماعت اسلامی کے پانچ اجتماعات ہوتے ہیں۔ ان میں شرکا کی مجموعی تعداد تقریباً ڈیڑھ ہزار

مولانا عبدالغفار ندوی کے ایک ایسے اجتماع میں میں بھی شریک ہوا ہوں جس میں صرف ہم دو آدمی تھے۔ انھوں نے جماعت اسلامی کی کسی کتاب کا ایک حصہ پڑھا۔ عام طور پر وہ خود ہی پڑھتے تھے اور خود ہی سنتے تھے۔ مگر اس دن ایک سنانے والا تھا، اور ایک سننے والا۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۷۹-۱۹۰۳) ایک سے زیادہ بار لکھنؤ آئے تھے۔ ان کی پہلی آمد کا ذکر کرتے ہوئے مولانا ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں :

’’مولانامودودی جنوری۱۹۴۱میں لکھنؤتشریف لائے۔ یہ زمانہ مسلمانوں میں بڑی بے چینی اور جوش و سرگرمی کا تھا۔ مولانا کے پرزور، فکر انگیز مضامین نے اسلامی حلقوں میں ایک جنبش اور اور حرکت پیدا کر دی تھی۔ نوجوان اسلام کی اُس ترجمانی کے دلدادہ تھے جو بلند سطح سے اور پر از اعتماد لہجے میں کی جائے اور مسلمانوں میں امنگ، حوصلہ اور اپنے ماضی اور تہذیب پر اعتماد پیدا

شہر کے مسلم نوجوان جوق در جوق آتے اور مولا نا سے بڑے ذوق و عقیدت سے ملتے ۔ اسی قسم کے الفاظ مزید اضافے کے ساتھ علامہ اقبال کے بارہ میں لکھنے والوں نے لکھے ہیں۔ اگر فی الواقع علامہ اقبال کی نظم اور مولانا مودودی کی نثر کی وہی حیثیت ہوتی جو بتائی جاتی ہے تو آج پاکستان میں اسلام کا چمنستان لہلہارہا ہوتا، جہاں انہیں کام کرنے کا موقع ملا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ جس چیز کو بلند مضامین سمجھا گیا تھا وہ صرف بلند الفاظ تھے۔ اور بڑے بڑے الفاظ بول کر شخصی مقبولیت تو مل سکتی ہے، اس طرح کے لفظی مظاہروں سے قوموں کی تعمیر نہیں ہوتی۔

یہاں سید مختار احسن رفیقی (۱۹ سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ جامعہ دار السلام عمر آباد میں زیر تعلیم انھوں نے بتایا کہ وہاں تقریبا چالیس نو مسلم طلبہ ہیں۔ ان کادارالاقامہ الگ ہے۔ اور ان کے لیے دو سال کا مخصوص کورس بنایا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ نو مسلم عام مسلم طالب علموں سے بہت ممتاز ہوتے ہیں۔ ان کے اندر صبر اور سنجیدگی کا مادہ ہوتا ہے۔ مثلاً مطبخ میں کھانا اگر کم پڑ جائے اور کچھ طلبہ کو بروقت کھانا نہ ملے تو عام مسلم طلبہ شور اور احتجاج کرنے لگتے ہیں۔ مگر نو مسلم طلبہ بالکل خاموش رہتے ہیں اور کھانا نہ ملے تو چپ چاپ واپس چلے جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یہ نو مسلم عام مسلم طلبہ سے زیادہ نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ تقریبا سب کے سب تہجد کی نماز پڑھتے ہیں۔ وہ تعلیم میں زیادہ دھیان دیتے ہیں، کردار میں وہ دوسروں سے بلند نو مسلم حضرات کا عام طور پر یہی حال ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نسلی مسلمانوں میں اخلاقی بلندی لانے کی ایک تدبیر یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کے ذریعہ بڑی تعداد میں نو مسلموں کو مسلمانوں کے سماج میں داخل کیا جائے ۔ اس نئے خون کی آمد پرانے خون کے اندر نئی زندگی پیدا کرنے کا سبب بن جائے گی۔

لکھنؤ کے قومی آواز (۲۹ فروری ۱۹۹۲) میں مراسلات کے کالم میں ایک مراسلہ پڑھا جس کا عنوان تھا ” قرآن اور سائنس“۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ” قرآن شریف کا پڑھنا اور سننا عبادت ہے“ انھوں نے لکھا تھا کہ حسن تلاوت یہ ہے ” قرآن شریف پڑھ کر یا سن کر گداز قلب پیدا ہو اور آدمی کو اللہ کی ہیبت طاری ہو۔ اس کی رحمت و مغفرت کی امید بڑھے۔ یہی قرآن شریف

پڑھنے کا حاصل ہے "ان کے نزدیک یہ مقصد اس طرح حاصل ہوتا ہے کہ آدمی یہ احساس کر کے قرآن سنے کہ یہ میرے اللہ کا کلام ہے اور اللہ مجھ سے مخاطب ہے۔ مراسلہ نگار کا خیال تھا کہ قرآن مجید سے اگر سائنسی اور فلسفیانہ مسائل کا حل ڈھونڈا جانے لگے تو اس سے قرآن شریف پڑھنے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔

یہ حضرات قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب سمجھتے ہیں، وہ اس کو تدبر کی کتاب نہیں سمجھتے۔ حالانکہ قرآن کا اپنا بیان یہ ہے کہ قرآن کے تمام اعلیٰ فوائد اس پر تدبر و تفکر ہی کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں۔

مثلاً قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہم نے اس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دیے۔ اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ، مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں میں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم والے بے شک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے (فاطر ۲۷۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ خشیتِ الٰہی کا تعلق علوم فطرت میں واقفیت اور غور و فکر ایسی حالت میں جو لوگ تدبر کو غیر اہم اور تلاوت کو اہم بتائیں وہ یقیناً قرآن کے بارہ میں ایک نازیباجسارت کررہے ہیں۔

ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے درمیان ڈائیلاگ ختم ہو گیا ہے۔ لوگ صرف دو بات سننا چاہتے ہیں— اپنی تائید یا اپنے دشمن کی تردید۔ کوئی بھی شخص اختلافی موضوع پر کھلے ذہن کے ساتھ تبادلۂ خیال کے لیے تیار نہیں۔

میں نے خود لکھنؤ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ۱۹۴۶۔ ۱۹۴۷ء میں مولانا ابوالحسن علی ندوی "ملاحظہ جاتی سیاست" کے زبردست حامی بنے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپوزیشن پارٹیوں سے مل کر کانگریس کو ہرانا چاہے۔ اپنی نقصان رسانی کی صلاحیت کا استعمال کر کے ہم اپنا حق وصول کرسکتے اپنی تقریروں میں وہ جوش کے ساتھ یہ شعر پڑھا کرتے تھے :

حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے اگر کانٹوں میں ہو خونئے حریری اس طریقہ کو مولانا علی میاں ملت کی عظیم دریافت کہتے تھے۔ بھوپال میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے پرجوش طور پر کہا کہ " ہم نے اپنے آپ کو پالیا ہے"۔ میں اس طرزِ فکر سے مطمئن نہ تھا۔ مولانا علی میاں سے خط و کتابت کی اور ان سے ملاقات کے لیے وقت مانگا۔ مگر انھوں نے وقت دینے سے انکار کیا۔ اس سلسلہ میں ان کا آخری خط یہ تھا :

" جواباً صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ جو جملہ آپ کی سمجھ میں نہیں آیا اور جس کی تشریح آپ کرانا چاہتے ہیں، اس کو مجذوب کی بڑ سمجھ کر نظر انداز کر دیجیے۔ اس موضوع پر مزید خط و کتابت نہ کی " (۲۹ اپریل، ۱۹۶۷)

مولانا علی میاں نے لکھا تھا کہ اس سلسلہ میں ان کے خصوصی رفقاء مولانا محمد منظور نعمانی اور ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی سے بات کرلی جائے۔ ۱۵ اپریل ۱۹۶۷ء کو لکھنؤ میں گوئن روڈ کی مسجد میں مولانا محمد منظور نعمانی سے ملاقات کی۔ کئی گھنٹہ کی گفتگو میں جب میں نے معاہداتی سیاست کے بارہ میں مولانا کی تمام دلیلوں کو منہدم کر دیا تو انھوں نے فرمایا: مگر اس میں منفی فائدہ تو ہے۔ منفی فائدہ سے ان کی مراد یہ تھی کہ کانگریس کو شکست دے کر ہم اپنی اس قوت کا مظاہرہ کریں گے کہ ہم سیاسی نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ میں یہ کہہ کر وہاں سے چلا آیا کہ اس میں منفی فائدہ بھی نہیں ، البتہ ہمارا اپنا نقصان ضرور ہے۔ اور وہ ہے ملک میں فرقہ دارانہ زہر کا اضافہ ۔

ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی سے ۱۶ اپریل ۱۹۶۷ء کو حضرت گنج میں ان کے مطب میں ملاقات ہوئی۔ اس وقت وہ "کانگریس ہر او سیاست" کے چیمپیئن بنے ہوئے تھے۔ تقریباً پون گھنٹہ کی گفتگو میں میں نے ان کے تمام دلائل کو رد کر دیا۔ جب ان کے پاس اپنے حق میں کوئی دلیل باقی نہیں رہی تو آخر میں انھوں نے کہا : مگر اسٹیٹس کو میں چینج تو ہوگا۔ چونکہ وہ مزید گفتگو کے لیے آمادہ نہ تھے اس لیے میں غم ناک دل کے ساتھ واپس چلا آیا۔

میں اس معاملہ میں کتنا زیادہ غم ناک تھا۔ اس کو بتانے کے لیے میں صرف ایک حوالہ دوں گا۔ الجمعیة ویکلی(۲۰اکتوبر۱۹۶۷)میں میں ایک تفصیلی مضمون کے تحت میں نے لکھا تھا " مسلمانوں کی سیاست کا یہ موڑ ذاتی طور پر راقم الحروف کے لیے اس درجہ تشویش ناک تھا کہ اس کو سوچ کر اکثر میری راتوں

کی نیند اڑ جاتی۔ مجھے وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب الیکشن (اگست، ۱۹۰) سے پہلے لکھنو کے ایک شاندار اجتماع میں اس قبیلۂ قیادت کے ایک نمایاں ترین بزرگ اپنی خطابت کے جوہر دکھار ہے رہے تھے اور میرا حال یہ تھا کہ میں سامعین کے مجمع میں بیٹھاہوازاروقطار رورہاتھا۔ بے تابی کے عالم میں بار بار میری زبان سے یہ الفاظ نکل رہے تھے: خدایا، جس ملت کے ناخدا ایسے نادان مقررین ہو جائیں اس ملت کا انجام کیا ہوگا۔ ' (المجمعۃ وکیل، ۲۰ اکتوبر، ۱۹۹۷، صفحہ (۱۶) ایک ہندو بھائی سے ملاقات ہوئی۔ ان کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے تھا۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۹۱ کے الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی رام مندر کی تعمیر کا نعرہ لے کر چناؤ لڑی اور بھاری ووٹوں سے اس طرح یوپی کے ووٹوں کی اکثریت نے اس کو حق دے دیا کہ وہ رام مندر بنائے تو اب جمہوری منطق کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کو رام مندر کی تعمیر کا حق ہونا چاہیے اور کسی کو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہیے ۔

میں نے کہا کہ آپ نے ادھوری بات کہی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا نعرہ تین چیزوں کے لیے تھا روٹی ، انصاف اور رام مندر۔ کیا آپ کی پارٹی نے ریاست میں پہلا دونوں کام کر لیا ہے کہ اب وہ تیسرے کو کرنے کے لیے بے قرار ہو رہے ہیں۔

۱۹۹۱ کے الیکشن میں اگر چہ بی جے پی اس حد تک کامیاب ہوئی کہ اس نے یوپی میں ریاستی مگر رپورٹوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کے اندرونی حلقے اپنے مستقبل کے بارہ میں مایوسی میں مبتلا ہیں۔ بی جے پی کے ایک ممبر نے کہا : کہا:ہم دونوں بار آپھیل رہے ٹائمز آف انڈیا ۱۰ فروری (۱۹۹۲)

شری لال کرشن ایڈوانی نے پہلی رتھ یاترا نکالی۔ اس کو سومناتھ سے روانہ ہو کر ایودھیا مگر وہ ایودھیا پہنچنے سے پہلے بہار میں ختم ہوگئی۔ اس کے بعد شری مرلی منوہرجوشی نے دوسری رتھ یاترا نکالی۔ اس کو کنیا کماری سے چل کر ۲۶ جنوری ۱۹۹۲ کو سری نگر پہنچنا تھا۔ پہنچ کر وہ بھی منتشر ہوگئی۔

منفی بنیاد پر اٹھنے والی تحریکیں ہمیشہ ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں۔ ایسی کسی تحریک کے بارہ میں بہترین تدبیر یہ ہے کہ رد عمل کے بجائے انتظار کی پالیسی اختیار کی جائے۔ رد عمل کی پالیسی

ایسی تحریکوں کی عمر کو بڑھاتی ہے اور انتظار کی پالیسی اس کی عمر کو مزید کچھ اور کم کر دیتی ہے۔ ایک صاحب نے نصیحت کے لیے کہا۔ میں نے ان کی نوٹ بک پر یہ جملہ لکھ دیا : قوم کی خدمت صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو قوم کی بے توجہی کے باوجود قوم کی خدمت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

ایک اور صاحب کو یہ جملہ لکھ کر دیا :

ہر آدمی اپنی ذات کے معاملے میں پریکٹیکل پسند ہے اور دوسروں کے معاملے میں آئیڈیل پسند۔

لکھنو کی یادوں میں سے ایک یاد مولانا عبد الباری ندوی (۱۹۶۶ء - ۱۸۹۰) کی ہے۔ دل میں ان کی بہت عزت تھی۔ وہ بھی مجھ سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے۔ پہلی بار میں ان سے ۱۹۴۳ کے آغاز میں لکھنو میں ملا تھا۔ ان کو میں نے " تعبیر کی غلطی " کا پورا مسودہ دکھایا۔ پھر ان کی تصدیق اور اتفاق کے بعد اس کو اشاعت کے لیے دیا۔

اس کے بعد کئی بار ان سے میری خط و کتابت ہوئی۔ اپنے ایک خط میں انھوں نے میرے بارہ میں لکھا : " باقی میرے نزدیک تو آپ جدید طبقہ کی طرف مبعوث ہیں "۔ اپنے اسی حسن ظن کی بنا پر انھوں نے یہ پیش کش کی تھی کہ لکھنو (سیتا پور روڈ) میں اپنے وسیع مکان کو وہ " اسلامک ہوسٹل‘‘کے " کے نام پر وقف کر دیں اور مجھ کو اس کا نگراں بنا دیں۔ اس میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو ٹھہرا کر ان کی اسلامی تربیت کی جائے۔ تاہم بعض وجوہ سے میں اس کو قبول نہ کر سکا۔ انھوں نے اپنی کتاب (مذہب اور سائنس) کا مسودہ مجھے دیا تھا کہ میں اس کو ری رائٹ مگر میں یہ خدمت بھی انجام نہ دے سکا۔ بعد کو ۱۹۷۱ء میں یہ کتاب مجلس تحقیقات و نشریات اسلام (لکھنو) سے اسی طرح شائع کی گئی ہے۔ یہ ایک مفید کتاب ہے ۔ تاہم اپنی موجودہ صورت میں وہ ایک قسم کا مجموعہ اقتباسات ہے۔ اس میں وہ تجزیہ و تحلیل موجود نہیں جو اس موضوع سے تعلق رکھنے والی کتاب میں ہونا چاہیے۔

۱۹۶۶ کے آخر میں میں نے دو ہفتہ ان کے مکان پر قیام کیا تھا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ ان

کے وسیع مکان کے ایک بیرونی کمرہ میں ڈاکٹر فیاض الاسلام (علی گڑھ) اور مولاناعبدالمجید ندوی، ایم اے رہتے تھے۔ مولانا عبدالمجید صاحب آخر عمر میں مدرسۃ الاصلاح (سرائیر) کے صدر مدرس تھے۔ ۲۳ مئی ۱۹۹۱ کو اعظم گڑھ کے قریب ایک سڑک کے حادثہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس قیام کے دوران ایک روز ایساہواکہ مولاناعبدالباری مرحوم اپنی چارپائی پر بیٹھے تھے۔ میں نیچے فرش پر بیٹھا ہوا تھا۔ گفتگو کے دوران مجھ پر خاص کیفیت طاری ہوئی۔ میں سے مولانا کے پیروں پر اپنا دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے کہا : مولانا آپ مجھے بیعت فرمالیں۔ مولانانے فرمایاکہ تم تو پیدائشی صوفی ہو۔ پھر بھی میں تم کو اسی طرح اپنی بیعت میں لیتا ہوں جس طرح حضرت تھانوی نے مجھ کو اپنی بیعت میں لیا تھا۔ (واضح ہو کہ مولانا مرحوم حضرت تھانوی کے خلیفہ مجاز تھے) اس طرح گویا میں مولانا عبد الباری صاحب کے واسطے سے حلقہ تھانوی میں شامل ہوں۔ مزید یہ کہ لوگ اپنے شیخ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر بیعت ہوتے ہیں۔ میں اپنے شیخ کا پاؤں پکڑ کر ان سے بیعت ہوا ہوں۔ راقم الحروف کے بارہ میں ایک صاحب نے بے بنیاد تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے ـــــــــ ” ہمارے مولانا عبدالباری صاحب ندوی مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ کبیر بننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کسی کے سامنے صغیر بنا ہو، ورنہ وہ فتنہ بنتا ہے ۔ وحید الدین خاں صاحب کی کمی یہی ہے کہ وہ صغیر بننے سے پہلے کبیر بن گئے ۔ ان کی ادعائی تحریریں دن بہ دن جادہ اعتدال سے ہٹتی جارہی ہیں ۔ “ (ماہنامہ الرشاد مارچ - اپریل ۱۹۹۱ ، صفحہ ۶۰)

راقم الحروف کو دعویٰ تو درکنار غلط فہمی کے درجہ میں بھی کبیر ہونے کا گمان نہیں۔ ہے کہ اپنے کو کبیر سمجھنا شرک کی نوعیت کا گناہ ہے۔ کیوں کہ کبیر صرف ایک ہے، اور وہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے۔ تاہم یہ عجیب بات ہے کہ جس مولاناعبدالباری ندوی کے حوالے سے مذکورہ بات کہی گئی ہے ، اسی کے ساتھ میرا وہ واقعہ گزرا جس کا ذکر اوپر کیا گیا۔ ۱۹۷۰ میں میں نے الجمعیۃ ویکلی ویکلی (دہلی) کی ادارت قبول کی۔ صرف میرے تعلق کی بنا پر مولانا عبد الباری صاحب مرحوم ۔ الجمعیۃ دیکھنے لگے، جب کہ اس نے پہلے وہ اس کو نہیں پڑھتے تھے۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ لطیفہ یاد ہے ۔ الجمعیتہ ویکلی (۲فروری ۱۹۶۸)میں میں میرا ایک مضمون چھپا۔ اس کا عنوان تھا : دیوار قہقہہ ۔ اس مضمون سے پہلے اکتوبر ۱۹۶۶ میں میں نے اپنے لڑکے

ڈاکٹر ظفر الاسلام کو تعلیم کے لیے قاہرہ بھیجا تھا۔ مولانا کو اس سے اتفاق نہ تھا۔ کیوں کہ قاہرہ کو مقبرہ کہتے تھے ۔ مذکورہ مضمون پڑھنے کے بعد مولانا نے مجھے لکھا : آپ نے اپنے بیٹے کو دیوار پر قہقہہ پھندا ہی دی ۔

شخصیتوں پر مضمون لکھنے کا مجھے ذوق نہیں۔ تاہم مولانا عبد الباری ندوی پر میں نے ایک مضمون لکھا تھا جو اسی زمانہ میں الجمعیۃ کے دو قسطوں (۷ مارچ ، ۴۱ ، مارچ ۱۹۶۹) میں چھپا تھا۔ کا عنوان تھا : " مسٹر مولوی " مسٹر مولوی ، مولانا مرحوم کا دہ نام ہے جو مسٹر بین (F.W. Bain) نے ان کو دیا تھا۔ مسٹر بین دکن کالج پونہ کے پرنسپل تھے ۔ مولانا اس کالج میں ۱۹۱۴ میں فارسی کے استاد کی حیثیت سے آئے اور تقریباً چار سال یہاں رہے ۔ الجمعیۃ کے مضمون کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے : مسٹر بین ، مولانا کے الفاظ میں ، اپنی قسم کا انوکھا آدمی تھا۔ مولانا عبد الباری نے فرمایا کہ اس طرح کا آدمی میں نے اپنی زندگی میں دوسرا نہیں دیکھا ۔ مسٹر بین انگلینڈ جانے لگے تو انھوں نے وداعی پارٹی میں بولتے ہوئے کہا کہ مسٹر مولوی کبھی میرے بنگلے پر مجھ سے ملنے نہیں آئے ۔ کبھی میرے نام کرسمس کارڈ نہیں بھیجا۔ کبھی کوئی تحفہ مجھ کو پیش نہیں کیا۔ مگر اس کے باوجود میں ان سے بہت خوش ہوں، اور میرے دل میں ان کی بہت قدر ہے۔ کیوں کہ وہ ہمیشہ اپنے کام کو بہترین طور پر انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں "

مسٹر بین نے پونہ سے واپس جاتے ہوئے مولانا عبد الباری صاحب کو بلایا۔ جب وہ مسٹر بین کے دفتر میں پہنچے تو اس نے اپنی میز کی دراز کھولی اور اس میں سے کا غذوں کی ایک گڈی نکالی ۔ نے کہا کہ مسٹر مولوی ! یہ سب آپ کے خلاف شکایتوں کی چٹھیاں ہیں۔ مسٹر ہوم جی (آئندہ ہونے والے پرنسپل) مسلسل آپ کے خلاف شکایتیں لکھ لکھ کر بھیجتے رہے ہیں۔ صرف میں ان کے اور آپ کے درمیان روک بنا ہوا تھا۔ مگر اب میرے بعد آپ یہاں نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ مسٹر بین کے جاتے ہی مولانا عبد الباری صاحب کو دکن کالج سے ہٹا دیا گیا۔

مسٹر بین جیسے عالی ظرف افراد ہی کوئی بڑاادارہ قائم کرتے ہیں۔ کے اندر یہ عالی ظرفی نہ ہو وہ صرف سطحی لوگوں کی سرائے بنائیں گے نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی بڑا انسانی ادارہ۔

ایک اردو ہفت روزہ (۲۸ فروری ۱۹۹۲) میں دو صفحوں کا ایک مضمون پڑھا۔ اس اس کا عنوان تھا: روہنگیا مسلمانوں پر برمی فوج کے مظالم کی انتہا۔ یہ مضمون ایک برمی مسلمان کے قلم سے تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اراکان کے مسلمانوں کی آزادی کی تحریک کو برمی حکومت بے رحمانہ طور پر کچل رہی ہے اور اس کا سلسلہ ۱۹۳۰ء سے جاری ہے۔ ۱۹۵۰ء سے اراکان کے مسلمان اپنی آزادی کے لیے گوریلا تحریک چلا رہے ہیں۔ اس مدت میں دو لاکھ سے زیاوہ مسلمان شہید ہو چکے ہیں اور تقریباً دو لاکھ مسلمان جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچ گئے ہیں اور وہاں بدترین افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں۔ عربی ہفت روزہ الدعوة (۶ فروری ۱۹۹۲) میں ایک روہنگیا لیڈر کا انٹرویو چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے : الحكومة البورمية اقرت مخططالابادتنا۔

اس کو پڑھ کر مجھے یاد آیا کہ ندوہ کے زمانہ قیام میں ایک روز ندوہ کے ایک سینیر استاد میرے کمرہ میں آئے اور راز داری کے ساتھ فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ہندوستان چھوڑ کر اراکان برما کے اس سرحدی علاقہ میں بیشتر مسلمان آباد ہیں اور وہاں اسلامی حکومت قائم کرنے کے روشن امکانات ہیں۔ میں نے اس منصوبہ سے اختلاف کرتے ہوئے رفاقت سے معذوری اس پر وہ بگڑ گئے اور مجھ کو بزدل اور بے ہمت وغیرہ کا الزام لگانے لگے۔ اراکان تو نہیں گئے البتہ کچھ دنوں بعد معلوم ہوا کہ وہ پاکستان چلے گئے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں یہ سیاست عام ہے کہ کسی ملک کے ایک حصہ میں اگران کی اکثریت ہے تو اس حصہ کو بقیہ ملک سے الگ کر کے وہاں دہ خود مختار مسلم حکومت یا آزاد اسلامی حکومت قائم کرنے کی تحریک چلانے لگتے ہیں۔ میرے نزدیک اس سیاست کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔ اس احمقانہ سیاست کے نتیجہ میں ملک کی حکومت جب ان کے اوپر سختی کرتی ہے تو دوسرا کام انہیں یہ مل جاتا ہے کہ ملکی حکومت کے مظالم کے خلاف سطحی قسم کے بیانات اور مضامین اس کا نام اگر اسلام ہو تو میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ غیر اسلام کس چیز کا نام ہو گا۔ لکھنو پچھلی کئی صدیوں تک مسلم حکمرانوں اور مسلم نوابوں کا مرکز رہا ہے۔ اس بنا پر وہاں مسلم عہد کی بہت سی تاریخی عمارتیں پائی جاتی ہیں۔ "چھتر منزل" سے گزرتے ہوئے مجھے یاد آیا کہ یہ محلات اُس زمانہ میں کتنی زیادہ لایعنی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔

مثال کے طور پر اس زمانہ میں مسلم نوابوں کے یہاں ایک مستقل عہدہ " داستان گو" کا ہوا کرتا تھا جو فرضی قسم کی افسانوی کہانیاں سنا کر نواب اور ان کے درباریوں کو محظوظ کرتا تھا، حکیم سید اصغر علی لکھنوی (م ۱۸۷۹ء) اسی قسم کے ایک داستاں گو تھے۔ وہ واجد علی شاہ کے دربار سے وابستہ ہونے کی بنا پر اپنے نام کے ساتھ "داستان گوئے سلطانی" لکھا کرتے تھے۔ دیووں اور پریوں کی خیالی کہانیاں بیان کرنے کے ماہر تھے۔

ندہو جاتے ہوئے میں لکھنؤ یونیورسٹی سے گزراجوپہلے کیننگ کالج تھا۔ سر چارلس جان کیننگ ۱۸۵۶میں گورنرجنرل کی حیثیت سے انڈیا آیا۔ اس نے یہاں کئی تعلیمی ادارے قائم کیے ۔ اس میں سے ایک کیننگ کالج بھی تھا۔ میں نے سوچا کہ جس زمانہ میں دوسری قومیں علوم حقیقی میں مہارت پیدا کر رہی تھیں، مسلم امرا و د استاں سرائی کرنے والوں سے اپنی بزم سجا رہے تھے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کا جو انجام ہوا اس کو انہیں اپنی غفلت کے خانہ میں درج کرنا چاہیے نہ کہ وہ اس کو دوسروں کی سازش کا نتیجہ بتا کر ان کے خلاف احتجاج کرنے لگیں۔ لکھنؤ کی تہذیب فنون لطیفہ اور شعر و شاعری کی تہذیب تھی۔ اس کو شاہ جان عالم اور نواب واجد علی جیسے لوگوں نے بنایا تھا۔ صنعتی انقلاب نے اس تہذیب کی بالا دستی ختم کر دی۔ کے اعتبار سے وہ اب بھی پائی جاتی ہے۔ یہاں کے ایک شاعر ظریف لکھنؤ (۱۹۳۷۔ ۱۸۷۰ء) کا ایک شعر اپنے محبوب کے بارہ میں ہے :

کوئی ہے اطلاع اس وقت کردے جاکے تھانہ میں وہ میرے قتل پر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں نہ کہیں محبوب ہے اور نہ کہیں محبوب کی تلوار۔ شاعر اپنے تخیل کی دنیا میں خیالی مضمون بندی کر رہا ہے۔ اس مضمون بندی کا نام شاعرانہ اسلوب ہے۔ یہ اسلوب اردو زبان میں اتنا چھایا ہوا ہے کہ ہمارے مسلم مفکرین بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ تقریباً تمام مصلحین و مفکرین اسلام کو موضوع بنا کر اسی قسم کی مضمون بندی کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں جس چیز کو اسلامی ادب کہا جاتا ہے کہ وہ اسی مضمون بندی کا دوسرا نام ہے۔

لکھنؤ کی یادوں میں سے ایک یادم نسیم صاحب بھی ہیں۔ یہاں ان کی سگریٹ ایجنسی تھی۔ پھر بعض اسباب سے ایجنسی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد وہ امریکہ چلے گئے ۔ انھوں نے لکھنؤ سے

ایک ادبی ماہنامہ "نئی نسلیں" کے نام سے جاری کیا تھا ۔ ۱۹۵۴میں اس میں میرے چند مضامین شائع ہوئے ۔ ان کے عنوانات یہ ہیں :

زندگی میں شعر کا مقام شاعری ـــــ اس کا فن اور کردار شعر کی موجودہ ہیئت میں اصلاح کی ضرورت شعر کی موجودہ ہیئت ( اعتراضات کا جواب )

ارادہ ہے کہ ان مضامین کو ، دوسرے اسی قسم کے مضامین کے ساتھ ، " ادبیات اسلام " کے نام سے ایک مجموعہ کی صورت میں شائع کر دیا جائے ۔

م نسیم صاحب کے بارہ میں ایک مضمون اخبار قومی آواز ( 8 دسمبر 1991 ) میں نظر سے یہ ان کے دوست ڈاکٹر سید عبد الباری کے قلم سے تھا ۔ اس میں نہ کوئی واقعہ ہے اور نہ کوئی تجزیہ ۔ پورا مضمون شعری اسلوب میں لکھا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر نسیم صاحب بعض حالات کے نتیجہ میں لکھنؤ سے ایک امریکی شہر میں چلے گئے ۔ اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے :

" زمانہ کی گردشوں نے انھیں اپنے محبوب شہر میں نہ رہنے دیا اور وہ اسلامی نشاۃ ثانیہ کی آرزو لیے ہوئے دیار فرنگ کی طرف چل دیے ۔ ان کی شخصیت بکھر کر پورے کرۂ ارض پر پھیل گئی ۔

یہ شعری اسلوب موجودہ زمانہ میں تمام مسلم اہل قلم کے یہاں عام ہے ۔ دورِ جدید کا تقریباً پورا اسلامی ادب اسی اسلوب میں لکھا گیا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں کوئی بھی مسلم مصنف نظر نہیں آتا جس نے اسلام کو وقت کے سائنٹفک اسلوب میں پیش کیا ہو۔ یہ شعری اسلوب جاگیرداری دور میں پیدا ہوا تھا۔ صحابہ کرام نے اسلام قبول کیا تو ان کے یہاں خود بخود جاہلی دور کے شاعرانہ اسلوب کا خاتمہ ہو گیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین اور مصلحین کا حال ہے کہ زمانہ کی انقلابی تبدیلیاں بھی انھیں اس پر مائل نہ کر سکیں کہ وہ زوال یافتہ دور کے شعری اسلوب کو ترک کر دیں۔

میں لکھنؤ میں تین سال رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ بار بار وہاں جانا ہوا ہے۔ یہاں لکھنؤ کے جس حصہ سے بھی گزرا کچھ یادیں ذہن میں تازہ ہوگئیں ۔ حضرت گنج کی طرف جانے والی سڑک پر ایک بہت بڑا مکان ہے۔ اس میں سید صدیق حسن، آئی سی ایس (وفات ستمبر ۱۹۶۳) رہا کرتے تھے ۔ وہ ایک لائق افسر ہونے کے ساتھ نہایت شریف انسان تھے۔ اور مسلمان سب ان کی عزت کرتے تھے۔ ان کا ایک سبق آموز قصہ یہ ہے :

۱۹۳۴ کا واقعہ ہے۔ فتح گڑھ (اتر پردیش) کے علاقہ میں سکھوا نام کے ایک ڈاکو نے سنسنی پولیس کو خوف زدہ کرنے کے لیے پولیس کے افراد کو خاص طور پر وہ اپنی گولی کا نشانہ بناتا تھا۔ مگر اسی زمانہ میں ایک اعلیٰ انتظامی افسر اس کی دہشت گردی کی فہرست سے یہ سید صدیق حسن صاحب تھے۔ سکھوا ڈاکو نے گرفتاری کے بعد خود بتایا کہ وہ اکثر رات کے وقت صدیق حسن صاحب کے بنگلہ پر آتا تھا۔ مگر محض ان کی شرافت کا لحاظ کرتے ہوئے اس نے ان پر گولی نہیں چلائی۔

صدیق حسن صاحب اس زمانہ میں فتح گڑھ میں جوائنٹ مجسٹریٹ تھے۔ سکھوا ڈاکو کی گرفتاری خود انہیں کی ایک مہم کے تحت عمل میں آئی۔ اور انہیں نے اس کے مقدمہ کی سماعت کر کے اس کو سزاے قید کا حکم سنایا۔

اس کے باوجود صدیق حسن صاحب کی وہ کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر سکھوا ڈاکو ان کی اتنی عزت کرتا تھا۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ جب وہ اس کو گرفتار کر کے اپنے بنگلہ پر لائے تو یہ سردی کا زمانہ تھا۔ سکھوا نے رات کے وقت ان سے کہا : جنٹ صاحب، آپ کا سکھوا سردی کھار ہا ہے۔ یہ سن کر صدیق حسن صاحب فورا گھر کے اندر گئے ۔ اپنی ایک نئی قمیص اور ایک موٹا کمبل لائے اور اس کو سکھوا ڈاکو کے حوالے کر دیا۔ (جمعیتہ وکیل ، مئی ۱۹۶۸) ۱۵ ستمبر ۱۹۶۲ کو میں ندوہ کے مجلس تحقیقات و نشریات اسلام کی دعوت پر لکھنؤ پہنچا۔ یہاں ندوہ کی قدیم عمارت کے اوپر کے ایک کمرہ میں میرا قیام تھا۔ تقریباً تین سال تک یہاں میرا قیام رہا۔ اس زمانہ قیام کی بعض یاد داشتیں یہاں قلم بند کی جاتی ہیں : اسی زمانہ میں مولانا محمد تقی امینی (۱۹۹۱-۱۹۲۴) بھی یہاں مقیم تھے۔ ان کا کمرہ میرے کمرہ

سے قریب تھا۔ ان کے کمرے میں دو دروازے تھے۔ ایک روز انھوں نے پچھلے دروازہ کو اندر سے بولٹ کیا اور دوسرے دروازہ کو بند کر کے اس کا پیڈ لاک دبا دیا۔ بعد کو انھیں خیال آیا کہ تالے کی کنجی تو کمرے کے اندر رہ گئی۔ میرے لڑکے ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں آئے۔ انھوں نے ایک لمحہ تالے والے دروازے کو دیکھا اور اس کے بعد جاکر دوسرے دروازے کو زور زور سے ہلانے بظاہر مجھے یہ بات عجیب معلوم ہوئی۔ میں نے کہا کہ دروازہ تو سامنے کا بند ہوا ہے اور تم پچھلے دروازہ کے ساتھ زور آزمائی کر رہے ہو۔ وہ جواب دیے بغیر اس کو ہلاتے رہے۔ یہاں تک دروازہ کھل گیا۔

دروازہ کھلنے کا سبب یہ تھا کہ اس کے اندر کا بولٹ ہل کر سیدھا ہوا اور پھر وہ کھسک کر نیچے آگیا۔ اس طرح دروازہ کھل گیا۔ میں نے ظفر الاسلام خاں کو شاباشی دیتے ہوئے کہا کہ تم نے اپنے عمل سے زندگی کا ایک سبق دیا ہے۔ اس طرح تم نے مظاہرہ کی سطح پر بتایا ہے کہ دروازہ کہیں اور بند ہوتا ہے اور اس کو کھولنے کاراز کہیں اور موجود رہتا ہے۔ ابتدائی طور پر ندوہ کو ۱۸۹۲ء میں مولانامحمد علی مونگیری نے قائم کیا تھا۔ تاہم جس شخص نے ۔ ندوہ کو ندوہ بنایا وہ مولانا شبلی نعمانی تھے۔ اگر چہ ان کی زندگی ہی میں ندوہ میں ان کی اتنی مخالفت کی گئی کہ ان کو ندوہ چھوڑ دینا پڑا۔ شبلی کے اس فارسی شعر میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ ہے :

از ہماں بزم کہ جز من دگرے راہ نداشت بایدم رفت کہ بہر دگراں جا باشد کہا جاتا ہے کہ ندوہ کا مقصد یہ تھا کہ نئے حالات اور نئے زمانہ کے مطابق ،مسلم رہنما پیدا کیا جائے ۔ مگر جہاں تک میرا اندازہ ہے، اس پوری مدت میں ندوہ کوئی بھی ایسا رہنما پیدا نہ کر سکا۔ دور کے رہبر پیدا کرنا تو بہت بڑی بات ہے، جدید تقاضوں کے مطابق ، کوئی ایک کتاب بھی اہل ندوہ تیار کر کے دنیا کو نہ دے۔ ان کی تمام مطبوعہ کتابیں تقلیدی نوعیت کی کتابیں ہیں نہ کہ جدید نوعیت کی۔ مولانا عبد اللہ عباس ندوی نے ندوہ کے تعارف میں ایک مفصل مضمون قومی آواز ۱۹ جنوری ۱۹۹۲ میں شائع کیا تھا، اس کا ایک حصہ یہ تھا : ”مسلمانوں کا کوئی کام ایسا نہیں دیکھا گیا جس کی مخالفت خود مسلمانوں نے نہ کی ہو۔

ابتدائی دور میں تھا کہ اس کی مخالفت کا بازار گرم ہو گیا۔ تمام علماء کرام جن میں مولانا لطف اللہ علی گڑھی، مولانا محمد علی مونگیری، علامہ شبلی نعمانی اورمولاناسید عبدالحئی جیسے آفتاب وماہتاب پر کفر کا فتویٰ صادر یہی نہیں بلکہ جو ان کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر گردانا گیا۔ ندوہ کی مخالفت کے لیے چار رسالے جاری کیے گئے۔

مولانا عبد اللہ عباس ندوی نے مزید لکھا ہے کہ ندوہ کے خلاف عوام میں خوب نفرت بڑے بڑے مدارس کے سفرا، بمبئی اور کلکتہ جاتے تو لوگوں کو بتاتے کہ ندوہ ایک کالج ہے، جہاں اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اور انگریزی طرز رہائش ہے۔ اور یہاں کے پڑھے ہوئے ۔ لوگوں کو سوائے عربی اخبارات پڑھنے کے کچھ نہیں آتا۔ (قومی آواز ۱۹ جنوری (۱۹۹۲) عجیب بات ہے کہ آج یہی اہل ندوہ الرسالہ کے دینی مشن کے خلاف خود بھی اسی قسم کا بے بنیاد طوفان اٹھائے ہوئے ہیں۔ ۱۸۹۸ میں ندوہ قائم ہوا تو اس وقت کے قدامت پسندوں کو وہ "جدید" معلوم ہوا۔ اس کو دین سے انحراف سمجھ کر وہ اس کے مخالف بن گئے۔ گروہ کو الرسالہ مشن دوبارہ جدت اور انحراف کا کیس دکھائی دیتا ہے، حتیٰ کہ الرسالہ مشن کے رد میں اہل ندوہ کو دلائل نہیں ملے تو انھوں نے اس کے خلاف تنقیص، عیب جوئی اور الزام تراشی کی مہم شروع کردی۔ قدامت پسند لوگ کسی نئی چیز کا استقبال ہمیشہ اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ سو سال پہلے ندوہ "جدید" کے ہم معنی تھا، اس لیے قدامت پسند ذہن اس کے مخالف ہو گئے۔ اب خود ندوہ ایک قدیم ادارہ بن چکا ہے ۔ اب خود وہ بھی وہی کر رہا ہے جو اس کے ساتھ سو سال پہلے کیا گیا موجودہ ندوہ صرف ان چیزوں کی اہمیت کو جانتا ہے جس پر سو سال کی مدت گزر چکی ہو۔ نیا فکر اور نیا اسلوب موجودہ ندوہ کے لیے اجنبی ہے۔ چنانچہ آج کے کسی جدید کا وہ خود بھی اسی طرح مخالف ہو جاتا ہے جس طرح سو سال پہلے اس کے جدید کی مخالفت کی گئی تھی۔ اس زمانہ میں افتخار اعظمی صاحب حضرت گنج پیلیس کے ایک مکان میں رہا کرتے تھے (۲ اپریل ۱۹۹۴ کو لندن میں ان کا انتقال ہو گیا) غالباً ۱۹۶۵ کی بات ہے، انھوں نے یہاں اپنے ایک ہندو دوست سے ملایا۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور مذہب میں یقین نہیں رکھتے تھے گفتگو کے دوران انھوں نے مجھ سے کہا : محمد کو اگر تاریخ سے نکال لیا جائے تو تاریخ میں کیا کمی ۱۳ رسالہ دسمبر ۱۹۹۴

رہ جائے گی۔ میری زبان سے نکلا کہ وہی کی جو محمد سے پہلے تاریخ میں تھی۔ مذکورہ تعلیم یافتہ ہندو کے اس سوال نے میرے ذہن میں ایک مستقل ہیجان برپا کر دیا۔ اس کے بعد میں سیرت اور اسلام کا اسی خاص نقطۂ نظر سے مطالعہ کرنے لگا۔ میرے اس مطالعہ کا نتیجہ دو کتابیں تھیں۔ پیغمبرِ انقلاب (۱۹۸۲) اور اسلام دورِ جدید کا خالق (۱۹۸۹) مذکورہ ہندو کا سوال بظاہر اشتعال انگیز تھا۔ اگر میں اس کو سن کر بگڑ جاتا تو میرے حصے میں صرف یہ آتا کہ میں یہ کہتا پھروں کہ ہندو بہت متعصب ہوتے ہیں۔ ہندو اسلام دشمن ہیں، وغیرہ۔ مگر جب میں نے ان کے کلام کو مثبت ذہن کے ساتھ سنا تو وہ میرے لیے ایک طرف دو کتابوں کی تالیف کا سبب بن گیا اور دوسری طرف خود میری ذات کے لیے وہ اضافہِ ایمان کا ذریعہ ثابت ہوا۔ موجودہ صدی میں لکھنؤ مختلف پر شور تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔ مگر یہ تحریکیں حقائق سے زیادہ جذبات پر مبنی تھیں، چنانچہ تقریباًسب کی سب بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔ انہی میں سے ایک وہ واقعہ ہے جس کو میثاق لکھنؤ (Lucknow Pact) کہا جاتا ہے۔

یہ واقعہ ۱۹۱۶ کا ہے۔ مسلم لیڈروں کو یہ خوف تھا کہ آزاد ہندوستان میں ہندواپنی عددی اکثریت کی بنا پر غالب حیثیت حاصل کر لیں گے۔ اس کے حل کے لیے ۱۹۱۴ سے پہلے جو تدبیریں سوچی گئیں، ان میں سے ایک ”میثاق لکھنؤ“ تھا۔ لکھنؤ میں کانگریس اور مسلم لیگ کے لیڈروں کی مشترکہ میٹنگ میں ایک سمجھوتہ ہوا۔ اس کی رو سے مسلمانوں کے مطالبہ کے مطابق ، جداگانہ انتخاب کے اصول کو مان لیا گیا۔ اقلیت کے حقوق کی حفاظت کے لیے اس کو اس کی آبادی سے کچھ زیادہ نشستیں دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور اس کو ویٹ سسٹم (weightage system) کہا گیا۔ اس کے مطابق طے پایا کہ آیندہ جو قوانین صوبائی یا مرکزی اسمبلیوں میں پیش کیے جائیں یا جو اصلاحات ملک میں نافذ کی جائیں، اگر کسی فرقہ کے نمایندوں کی تین چوتھائی تعداد ان کے خلاف ہو تو وہ قوانین پاس نہیں کیے جائیں گے اور نہ ایسی اصلاحات کو قبول کیا جائے گا۔ مسلم لیگ کے لیڈروں کو شکایت ہے کہ کانگریس بعد کو اس معاہدہ سے پھر گئی اور اس طرح اس نے ملک کی تقسیم کے اسباب پیدا کیے ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس لفظی معاہدہ کو کانگریس یا ہندو نے نہیں بلکہ حقائق کے زور نے ختم اسی قسم کا ایک لفظی معاہدہ وہ تھا جو خود پاکستان میں محمد ایوب خاں اور حسین سہروردی نے

حل کر طے کیا تھا۔ اس کے مطابق، مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) اور مغربی پاکستان کے درمیان برابری (parity) کا اصول مقرر کیا گیا تھا۔ یعنی مشرقی پاکستان کی آبادی اگر چہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا ۵۵ فی صد ہے ، مگر اسمبلی میں دونوں حصوں کی نشستیں ۵۰ - ۵۰ فی صد رہیں گی۔ یہ فیصلہ بھی "میثاق لکھنو" کی طرح غیر حقیقی تھا ۔ چنانچہ ۱۹۷۱کے طوفان میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔ اگر میں یہ کہوں کہ میرے نئے تحریری دور کا باضابطہ آغاز لکھنؤ سے ہوا تو یہ غلط نہ ہوگا۔ کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد میں زیادہ تر ادبی مضامین لکھا کرتا تھا۔ کئی سال کے لمبے دور کے بعد مجھے خیال ہوا کہ جدید فکری چیلنج کو مجھے اپنا موضوع بنانا چاہیے۔ اس سلسلہ میں میں نے جو مطالعہ شروع کیا اس کا پہلا نتیجہ وہ مضمون تھا جو " نئے عہد کے دروازہ پر" کے نام سے پمفلٹ کی صورت میں چھپ چکا ہے۔ اس مقالہ کو ابتداء میں نے ۲۸ فروری ۱۹۵۵ء کو لکھنؤ کے ایک اجتماع میں پیش کیا تھا جو امین آباد میں جماعت اسلامی ہند کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا۔ مقالہ کو پیشگی طور پر غالباً ایک ہزار کی تعداد میں چھپوا لیا گیا تھا۔ جب میں اس کو پڑھ چکا تو اسٹیج کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ یہ مقالہ یہاں اسٹال پر برائے فروخت موجود ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اس اعلان کو سن کر لوگ اسٹال پر ٹوٹ پڑے۔ مقالہ ہاٹ کیک کی طرح فروخت ہوا اور اسی وقت اس کی ساری کاپیاں ختم ہو گئیں۔

۴ مارچ ۱۹۹۲ء کو لکھنؤ سے واپسی تھی۔ پہلے ہم لوگ الجمعیۃ الخیریہ لمساعدۃ الطلاب (اسٹوڈنٹس اسلامک ویلفیر سوسائٹی کا دفتر ( راجہ جی پورم) دیکھنے کے لیے گئے۔ یہاں کچھ تعلیم یافتہ افراد جمع ہو گئے تھے۔ ان سے دینی اور ملی موضوع پر گفتگو ہوئی۔ تنظیم کے صدر نے اس کے مقاصد اور پروگرام کی مختصر تشریح کی۔ یہ ایک خوبصورت دفتر ہے جو خوبصورت ماحول میں بنایا گیا ہے۔ یہاں سے فراغت کے بعد ائیرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ روانگی میں کسی قدر تاخیر درمیان میں ریلوے کراسنگ پر مزید تاخیر ہوئی۔ ایرپورٹ پہنچا تو کاؤنٹر پر یہ جواب ملاکہ وقت ختم ہوگیا۔ ہم مسافروں کی فہرست تیار کر کے بھیج چکے ہیں اور اب بورڈنگ کارڈ دینے سے معذور ہیں۔ اس کے بعد ہمارے ایک ساتھی جناب نثار جلیل صاحب اندر گئے اور افسر سے کہا۔ اس نے فوراً وائرلیس کے ذریعہ جہاز سے رابطہ قائم کیا۔ وہاں سے جواب

ملاکہ بھیج دیجیے۔ چنانچہ انہوں نے مجھ کو بورڈنگ دے دیا اور میں تیزی سے چل کر جہاز کے اندر داخل ہو گیا۔ فلائٹ نمبر ۸۱۶ کے ذریعہ دہلی پہنچا۔

بظاہر خواہ کتنا ہی مایوسی کی صورت حال ہو۔ آدمی کو اپنی امید ختم نہیں کرنا چاہیے اور اپنی کوشش کو جاری رکھنا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ مایوسی کی آخری حد پر پہنچ کر بھی آدمی کے لیے امید کا وسیع دروازہ کھل جائے۔

جہاز کے اندر اعلانات شروع ہوئے: ایک اعلان ہوا تو اس کے الفاظ مجھے اس طرح سنائی دیے :

Printed page