Al-Risala · February 1994

تاریخ کا سبق

Al-Risala, February 1994, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

۷۵۰ء میں عباسیوں نے بنو امیہ سے خلافت چھین لی اور عباسی خلافت کی بنیاد ڈالی۔ لیڈر یہ کام صرف اپنی طاقت سے نہیں کر سکتے تھے، چنانچہ انھوں نے ایرانیوں کی مدد لی۔ مدد سے بنو امیہ کی سلطنت ختم ہوئی اور بنو عباس کی سلطنت قائم ہوئی۔ انھوں نے دمشق کو چھوڑ کر بغداد کو اپنا سیاسی مرکز بنایا۔

ایرانیوں سے مدد لینا صرف ایک وقتی معاملہ یا سادہ واقعہ نہیں تھا۔ اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر یہ ہوا کہ مسلم سماج اور مسلم سیاست دونوں میں ایرانیوں کا نفوذ بہت بڑھ گیا۔ بنو امیہ کے زمانہ میں حکومت کی پالیسی تعریب (Arabicization) کے اصول پر چل رہی تھی، اس کے جلو میں اسلامائزیشن کا عمل جاری تھا۔ مگر عباسی اقتدار میں ایرانیوں کے زیر اثر تفریس (Persianization) کا عمل جاری ہو گیا۔ اس کے نتیجہ میں بے شمار مسائل پیدا ہو گئے جس کے گہرے اثرات آج تک باقی ہیں ایک مورخ کے الفاظ میں، عباسیوں کے ماتحت اسلامی خلافت ایک نئے مرحلہ میں داخل ہو گئی۔ بنو امیہ کے زمانہ میں توجہ کا مرکز مغرب، شمالی افریقہ، میڈی ٹرینین اور جنوبی یورپ تھا، مگر اب اسلامی خلافت نے اپنی توجہ مشرق کی طرف موڑ دی :

Under the Abbasids the caliphate entered a new phase. Instead of focussing, as the Umayyads had done, on the West - on North Africa, the Mediterranean, and relations with southern Europe - the caliphate now turned eastward. اس معاملہ کی سنگینی اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب یہ سوچا جائے کہ عباسی خلفاء اگر بنو امیہ کے خلاف اپنی مہم میں پوری طرح کامیاب ہو جاتے تو اسلامی تاریخ میں اس شاندار باب کا سرے سے وجود ہی نہ ہوتا جس کو "مسلم اسپین " کہا جاتا ہے۔

عباسی خلفاء نے نہ صرف یہ کیا کہ مغربی ممالک کی طرف اپنی توجہ کم کر دی ۔ بلکہ وہ ان امویوں کے جانی دشمن بن گئے جو ان سے پہلے یہ کام کر رہے تھے۔ انھوں نے اموی خاندان یا اموی سلطنت سے تعلق رکھنے والے ایک ایک شخص کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ اموی دور میں اگر اسپین کی

طرف پیش قدمی شروع نہ ہو چکی ہوتی اور اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل اگر جان بچا کر اسپین پہنچنے میں کامیاب نہ ہوا ہوتا تو اسلامی تاریخ میں مسلم اسپین اور یورپ میں اسلام کے داخلہ کا باب شاید سرے سے حذف ہو جاتا۔

یہی معاملہ ایک اور صورت میں ہندوستان میں پیش آیا۔ مغل بادشاہ ہمایوں کو شیر شاہ سوری کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ ۱۵۴۰ء سے لے کر ۱۵۵۵ تک وہ دہلی کے تخت سے محروم رہا۔ وہ بھاگ کر ایران پہنچا اور وہاں شاہ تہماسپ سے مدد مانگی۔ ایرانی بادشاہ نے ایک بڑی فوج اور ضروری سامان اس کے حوالے کیا۔ اس طرح ایرانیوں کی مدد سے ہمایوں نے از سرِ نو دہلی کے تخت پر قبضہ کیا۔ ۱۵ سال کے وقفہ کے بعد مغل سلطنت دوبارہ دہلی میں قائم ہوئی۔

مگر دوبارہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغل سلطنت کے نظام میں ایران کے سیاسی اور تہذیبی اثرات داخل ہو گئے۔ ایرانی اس وقت آرٹ اور فنون لطیفہ کے دلدادہ تھے۔ چنانچہ ایران سے آرٹسٹ، پینٹر، نقاش اور شاعر قسم کے لوگ بڑی تعداد میں ہندوستان آنے لگے۔ ہندوستان کا مسلم سماج گہرے طور پر اس سے متاثر ہوا، اور ایرانی تہذیب کے رنگ میں رنگ گیا (17/132) تاریخ کے اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ وہ سبق یہ کہ جب آپ کسی سے مدد لے کر کامیابی حاصل کریں تو وہ کامیابی صرف آپ کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ اس میں اس شخص یا گروہ کا بھی دخل ہو جائے گا جس کی مدد سے آپ نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ ہزار کوشش کے باوجود اپنے آپ کو اس انجام سے نہیں بچا سکتے۔

ایسی حالت میں کام کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو کام کیا جائے خود اپنی بنیاد پر کیا جائے ۔ بڑے کام کا شوق نہ کیا جائے بلکہ چھوٹی سطح پر کام شروع کر کے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی کوشش یہی سچی کامیابی حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔

حقیقی کامیابی حاصل کرنے کا واحد طریقہ بتدریج ہے ، چھلانگ نہیں۔

Printed page