Al-Risala · February 1994

انسان کی طاقت

Al-Risala, February 1994, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

بمبئی کے ایک ۱۸ سالہیسی نوجوان نے خود کشی کر لی۔ اس کا نام گرین ویل گومس (Greenwell Gomes) تھا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق ، اس سال اس نے ایچ ایس سی کا امتحان پاس کیا تھا ، اب وہ بی کام میں داخلہ لینا چاہتا تھا۔ مگر اس کو بتایا گیا کہ پندرہ ہزار روپیہ "عطیہ" دیے بغیر اس کا داخلہ نہیں ہو سکتا۔ گومس کے ذہن کو اس سے بہت سخت جھٹکا لگا۔ تک کہ پریشانی کے عالم میں اس نے خود کشی کر لی ( روزنامہ ہندوستان ۔ بمبئی ، جولائی ۱۹۹۳) دوسری طرف اسی ملک میں ایک اور مثال موجود ہے۔ ایک شخص کو اپنے بیٹے کے علاج کے لیے اچھے اسپتال میں داخلہ نہیں ملا۔ صرف اس لیے کہ اچھے اسپتال کی قیمت ادا کرنے کے لیے اس کی جیب میں پیسے نہیں تھے۔ اس آدمی نے طے کیا کہ میں خود ایک ایسا اسپتال کھولوں گا جو اچھا بھی ہوگا ، اور اسی کے ساتھ اس میں داخلے سے کوئی شخص اس لیے محروم نہیں رہے گا کہ وہ اس کی فیس نہیں ادا کر سکتا تھا۔ وہ اس مہم میں لگ گیا۔ یہاں تک کہ وہ ایسا ایک اسپتال قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ اسپتال آج کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ ہزاروں لوگ اس سے معالجاتی فائدہ حاصل کر چکے ہیں۔

اس طرح کے فیصلہ کن مواقع ہر شخص کی زندگی میں آتے ہیں۔ اس وقت اس کا ذہن جس طرف مڑ جائے ، بس اسی طرف وہ چلنے لگتا ہے۔ ایسے مواقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کو ایسا تعمیری رہ نما مل جائے جو اس کو منفی سمت میں مڑنے سے بچاسکے۔ جو اس کو وہاں فکری سہارا دے جہاں اس کا اپنا ذہن سوچنے میں عاجز ثابت ہو رہا ہے۔

مذکورہ نوجوان کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ اپنی زندگی میں پیش آنے والے تعلیمی واقعہ کو رکاوٹ کے بجائے چیلنج سمجھے۔ وہ پندرہ ہزار روپیہ کا عطیہ مانگنے والوں سے کہے کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ تم میرا راستہ روک سکتے ہو تو تم بہت بڑی بھول میں مبتلا ہو۔ تم انسان کو انڈر اسٹیٹ کر رہے ایک انسان کی طاقت اس سے زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی اس کی زندگی میں حائل ہو سکے۔ اس کو آگے بڑھنے سے روک دے۔

اس کے بعد وہ نوجوان یہ طے کرتا کہ میں ایک ایسا تعلیمی ادارہ کھولوں گا جہاں نوجوان طالب علموں کو عطیہ یا رشوت دیے بغیر داخلہ سکتا ہو۔ اگر وہ اس قسم کا فیصلہ کر کے اس کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیتا اور استقلال کے ساتھ اس مہم میں لگ جاتا تو عین ممکن تھا کہ وہ ایک نیا شاندار تعلیمی ادارہ بناسے میں کامیاب ہو جائے جہاں عطیہ کے بغیر صرف میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جاتا ہو۔ اس دنیا میں ناکامی کا سب نے بڑا سبب بے حوصلگی ہے اور کامیابی کا سب سے بڑا راز حوصلہ مندی۔ مذکورہ نوجوان کی خود کشی کا سبب یہ تھا کہ وہ بے ہمت ہو گیا۔ اگر وہ بے ہمت نہ اور نئے تعلیمی ادارے کے قیام کو اپنا مشن بنا لیتا تو وہ دیکھتا کہ اسی دنیا میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اس کی حمایت کریں، جو اس کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں۔ پہلے تجربہ میں بظاہر وہ اکیلا ہو گیا تھا، مگر دوسرے تجربہ میں وہ اکیلا نہ رہتا۔ کسی شاعر نے صحیح کہا ہے کہ: سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں یہ شعر دہلی میں سب سے پہلے مجھے ایک تاجر نے سنایا تھا۔ وہ ایک تاجر خاندان میں پیدا ہوا، مگر بعض اسباب سے اس کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ وہ بالکل اکیلا ہو گیا۔ اس کے پاس دہلی میں نہ گھر رہا اور نہ کاروبار۔

یہ حادثہ اس کے ساتھ نوجوانی کی عمر میں پیش آیا۔ اس نے ہمت نہیں ہاری۔ سامان لے کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔ صبح سے شام تک وہ محنت کرتا۔ اس کے بعد بمشکل چند روپیہ کماتا، مگر ہر قسم کے ناموافق حالات کے باوجود اس نے اپنی محنت جاری رکھی۔ تک کہ اس کو مددگار ملنے شروع ہو گئے۔

کسی تاجر نے اس کو ادھار مال دینا شروع کیا۔ کسی نے اس کو ایک دکان دلوا دی کسی نے گھر حاصل کرنے میں مدد کی۔ اس طرح وہ ایک کے بعد ایک زندگی کے زینے طے کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ دہلی کا ایک کامیاب تاجر بن گیا۔

آدمی اگر مستقل مزاجی کے ساتھ ایک راستہ کو پکڑلے۔ اور اپنی کے ساتھ وہ با اصول اور با کردار بھی ہو تو ایک نہ ایک دن وہ کامیاب ہو کر رہتا ہے۔ کوئی بھی چیز اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔

Printed page