اچھا کردار
Al-Risala, February 1994, pp. 16–18
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ کیا چیز ہے جو کسی سماج کو اچھا سماج بناتی ہے۔ اس کا جواب صرف ایک ہے۔ ہے افراد کا اچھا کردار۔ جس سماج کے افراد میں اچھا کردار ہو وہ سماج اچھا سماج ہوگا، اور جس سماج کے افراد میں برا کردار ہو وہ سماج برا سماج بن جائے گا۔
اچھا کردار کون سا ہوتا ہے اور برا کردار کون سا۔ اس کی پہچان بہت آسان ہے۔ والا انسان وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اس کو خود اپنے لیے پسند ہے۔ برے کردار والا انسان وہ ہے جو اپنے لیے کچھ اور پسند کرے اور جب دوسرے کا معاملہ ہو تو وہ کچھ اور پسند کرنے لگے۔
ایک آدمی اپنے گھر سے نکل کر بازار میں گیا۔ وہاں کسی نے اس سے کڑوا بول بول دیا۔ کڑوا بول سن کر غصہ آگیا۔ وہ اس سے لڑنے لگا۔ اس کے بعد جب یہ آدمی اپنے گھر اور محلہ میں آیا تو وہ خود بھی گھر والوں سے اور محلہ والوں سے کڑوا بول بولنے لگا۔ حالانکہ اس کو اس تجربہ کے بعد سوچنا چاہیے تھا کہ کڑوا بول جب مجھ کو اچھا نہیں لگا تو دوسروں کو بھی وہ اچھا نہیں لگے گا۔ اگر میں اپنے بارہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھ سے میٹھا بول بولیں تو مجھے خود بھی ایسا بن جانا چاہیے کہ دوسرے لوگوں کو مجھ سے صرف میٹھا بول سننے کو ملے۔
انسان اکیلا نہیں رہ سکتا۔ انسان اپنی فطرت سے مجبور ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کے درمیان مل جل کر زندگی گزارے۔ سب کی کامیابی میں ایک کی کامیابی ہے اور سب کی بربادی میں ایک آدمی جب دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے تو گویا کہ وہ سماج میں ایسا ماحول بنا رہا ہے اور ایسی روایات قائم کر رہا ہے جبکہ دوسرے لوگوں کی طرف سے بھی اس کو اچھے سلوک کا تحفہ دیا جائے۔ ایک آدمی جب جھوٹ بولے تو گویا کہ وہ دوسروں کو بھی جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ہے۔ آدمی جب دوسرے کی چیز ہڑپ کر لے تو وہ اپنے اس عمل سے سماج میں ناجائز قبضہ کی روایت قائم کر رہا ایک آدمی جب وعدہ کرے اور وقت آنے پر وعدہ کو توڑ دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سارے سماج کو وعدہ توڑنے پر جری کر دیا۔
سماجی زندگی کا رخ متعین کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز روایت ہے۔ ہمیشہ روایات پر چلتی ہے۔ اچھی روایت قائم کی جائے تو اچھا سماجی ماحول بنے گا۔ اور بری روایت قائم کی جائے تو برا سماجی ماحول پرورش پائے گا۔
اس طرح آدمی کا ہر عمل کسی نہ کسی طور پر خود اس کی اپنی طرف واپس آتا ہے۔ آدمی کے اچھے کردار سے سماج میں اچھی روایتیں قائم ہوں گی جس کا نتیجہ خود اس کو بھی مختلف صورتوں میں ملے گا۔ اسی طرح آدمی کے برے کردار سے سماج میں بری روایتیں قائم ہوں گی۔ اس کے نتیجہ میں دوبارہ ایسا ہو گا کہ اس کے اثرات مختلف صورتوں میں خود اس کی اپنی ذات تک بھی پہنچیں گے۔ اچھے کردار کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کی اپنی روح کو سکون حاصل ہوتا ہے اور اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ سماج ایک اچھا سماج بن جاتا ہے جس میں اسے رہنا ہے۔ اسی طرح برے کردار کا پہلا نقصان یہ ہے کہ آدمی روحانی سکون سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ اس کو رہنے کے لیے ایک ایسا سماج ملتا ہے جو جھاڑ جھنکاڑ کا سماج ہو۔ پہلی صورت میں اس کا سماج پھولوں کا سماج بن جاتا ہے اور دوسری صورت میں اس کا سماج کانٹوں کا سماج۔ ایک آدمی نے مجھ سے سوال کیا کہ مختصر طور پر بتائیے کہ دنیا میں آدمی کو کس طرح رہنا چاہیے میں نے کہا کہ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ آپ بھی اسی طرح رہنے لگیں جس طرح آپ کے گرد و پیش کی ساری دنیا رہ رہی ہے۔ کائناتی اخلاق ہی بہترین انسانی اخلاق بھی ہے۔ کائنات گویا ایک اخلاقی نمونہ ہے اور ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اس نمونہ کو ہم اپنی زندگی میں اپنا لیں۔
آپ سورج کو دیکھئے۔ وہ زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کو روشنی پہنچا رہا ہے۔ پاس ایک قوم کے لیے بھی روشنی ہے اور دوسری قوم کے لیے بھی روشنی۔ حتی کہ اگر کوئی آدمی سورج کو گالی دے تب بھی اس کو سورج کی طرف سے روشنی اور حرارت ہی کا تحفہ ملے گا۔ یہی آفتابی اخلاق ہمیں بھی اپنی زندگی میں اپنانا ہے۔ ہمیں ہر ایک کے لیے نفع بخش بننا ہمیں ہر ایک کے لیے دینے والا بننا ہے، خواہ اس کی طرف سے ہمیں کچھ مل رہا ہو یا نہ مل اس معاملہ میں ہمارا اخلاقی معیار اتنا اونچا ہونا چاہیے کہ ہم دشمن کو بھی دوست کی نظر سے دیکھیں اور غیر کے ساتھ بھی اپنوں جیسا سلوک کریں۔
آپ درخت کو دیکھئے ۔ درخت کیا کرتا ہے ۔ آپ کی سانس سے نکلی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کو وہ لے لیتا ہے ۔ اس کے بدلے وہ آکسیجن نکالتا ہے جو آپ کی تندرستی اور توانائی کے لیے انتہائی ضروری ہے ۔ گویا کہ درخت ایک ایسا کار خانہ ہے جس کے اندر مضر چیز داخل ہو کر بھی صحت بخش چیز بن جاتی ہے ۔
اب آدمی کو بھی چاہیے کہ وہ اسی اخلاق کو اپنائے ۔ اس کے کان میں کڑوا بول داخل ہو تو اندر پہنچ کر اس میں ایسی تبدیلی ہو جائے کہ وہ منہ سے میٹھے بول کی صورت میں نکلے ۔ کوئی اس کو گالی دے تو اس کے بدلے وہ اس کے لیے نیک دعائیں کرے ۔ کوئی اس کو نقصان پہنچائے تو وہ اس کو نفع پہنچانے کی کوشش کرے ۔ کوئی اس کو ذلیل کرے تو وہ اس کو عزت دینے کی فکر کرنے لگے ۔
کائنات میں یہی معاملہ ہر چیز کا ہے ۔ یہاں تک کہ زہریلے جانوروں کا بھی ۔ گجرات میں ایک وہ کئی قسم کے سانپ پالے ہوئے ہیں۔ وہ ان سانپوں سے کھیلتے رہتے ہیں۔ آدمی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب، آپ کو ان زہریلے سانپوں سے ڈر نہیں لگتا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کیوں کہ یہ جانور تو قابل پیشین گوئی کردار کے حامل ہیں۔ وہ صرف اس وقت آپ کو کاٹتے ہیں جب کہ آپ انھیں ستائیں۔ اگر آپ جانوروں کو دکھ نہ دیں تو وہ کبھی آپ کو دکھ دینے والے نہیں۔
اسی طرح آدمی کو بھی قابل پیشین گوئی کردار والا ہونا چاہیے ۔ لوگوں کو پیشگی طور پر معلوم ہو کہ آپ کسی کو دھوکا دینے والے نہیں ہیں۔ آپ امانت میں خیانت کرنے والے نہیں ہیں۔ اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہیں کریں گے۔ آپ کسی کی کمزوری کا ناجائز فائدہ نہیں آپ اپنے بارے میں ہمیشہ اس امید کو پورا کریں گے کہ آپ جب انسان ہیں تو آپ ہمیشہ انسانی کردار پر قائم رہیں گے ۔ کسی بھی حال میں آپ انسانی روش سے ہٹنے والے نہیں۔