Al-Risala · February 1994

تعلیمی ایمپائر

Al-Risala, February 1994, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مجلس میں اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کسی مشن کو مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے ہمیشہ ظاہری مرکز کی ضرورت ہوتی ہے۔ برصغیر ہند میں دو تحریکیں خاص طور پر کامیاب رہیں۔ اور دوسرے وہ جس کو دیوبند تحریک کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ دونوں کے پاس ایک ظاہری مرکز موجود تھا جس سے لوگ بہ آسانی وابستہ ہو سکتے تھے۔

تبلیغی تحریک ایک مبنی بر مسجد (masjid-based) تحریک کے طور پر اٹھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فوراً ہی اس کو ہر جگہ کام کا مرکز حاصل ہو گیا۔ کیوں کہ ہر جگہ مسجد پہلے سے موجود تھی تبلیغی جماعت کو پھیللاؤ ملنے کا خاص سبب یہی ہے کہ اس نے مسجد کو بنیاد بنا کر کام کیا۔ اور اس بنا پر لوگوں کو جوڑنا اس کے لیے نہایت آسان ہو گیا۔ دیوبند تحریک مبنی بر مدرسہ (madrasa-based) تحریک تھی۔ اس کے کارکنوں کے سامنے ایک متعین کام تھا کہ وہ ہر جگہ مدرسہ بنائیں۔ مدرسہ بننے کے بعد مقامی طور پر ہی اس کو ہر قسم کے ضروری افراد مل جاتے تھے اور تحریک کو ایک محسوس مرکز حاصل ہو جاتا تھا۔

الرسالہ مشن میں علم کا پہلو غالب ہے۔ اس لیے ہمیں تعلیم گاہ کو مرکز بنا کر اس کام کو آگے الرسالہ مشن سے وابستہ لوگوں کو یہ کرنا ہے کہ ہر جگہ وہ یا تو کسی قائم شدہ تعلیم گاہ سے جڑ کر کام کریں، یا خود اپنے وسائل کے تحت کوئی تعلیم گاہ بنائیں ۔ اس طرح ہر جگہ یہ کام ایک محسوس صورت اختیار کرلے گا اور لوگوں کے لیے اس کے ساتھ جڑنا آسان ہو جائے گا۔

الرسالہ مشن ایک مبنی بر ماہنامہ (mahanama-based) تحریک کے طور پر اٹھا۔ مگر یہ کافی نہیں۔ ضرورت ہے کہ وہ مبنی بر تعلیم گاہ تحریک کے طور پر چلنے لگے ۔ اور لٹریچر یا ماہنامہ کی حیثیت اس کے معاون آرگن کی ہو جائے۔ اس طرح یہ مشن زیادہ پائیداری کے ساتھ جاری رہ سکے گا۔

الرسالہ مشن سے وابستہ افراد جگہ جگہ تعلیمی کام کر رہے ہیں۔ کوئی شخص مدرسہ کی صورت میں اس کو کر رہا ہے اور کوئی اسکول کی صورت میں۔ اور کوئی مخلوط ادارہ کی صورت میں۔ ضرورت ہے کہ یہی صورت ہر جگہ قائم ہو جائے، اور پھر یہ تمام کام مزید اضافہ کے ساتھ منظم ہو جائیں۔ حتیٰ کہ یہ کام پورے ملک کی سطح پر ایک تعلیمی ایمپائر کی صورت اختیار کرلے۔

Printed page