گلبرگہ کا سفر
Al-Risala, February 1994, pp. 24–40
By Maulana Wahiduddin Khan
گلبرگہ ریاست کرناٹک میں واقع ہے۔ دہلی سے اس کا فاصلہ ۱۸۲۵ کلومیٹر ہے۔ ادارہ حزب التوحید کے نام سے قائم ہے۔ کچھ تعلیم یافتہ نوجوان اس کو چلا رہے ہیں۔ اس ادارہ کی دعوت پر گلبرگہ کا سفر ہوا۔ اس سفر کے دوران مزید حیدر آباد اور ظہیر آباد جانے کا اتفاق ہوا۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔
۴ مئی ۱۹۹۲ کی شام کو جب میں اپنے دفتر سے رخصت ہو رہا تھا، میری زبان سے نکلا: ”میری مثال ایسی ہے جیسے کسی گائے کو سلاٹر ہاؤس لے جایا جا رہا ہو۔ “ یہ تجربہ مجھ کو ہر سفر میں پیش آتا ہے۔ ایسا کیوں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا ہر سفر دعوتی سفر ہوتا ہے ۔ دعوت کی ذمہ داری سب سے زیادہ سخت ذمہ داری ہے۔ دعوت کا کام احساس عجز کے تحت ہوتا ہے نہ کہ احساس اعتماد کے ساتھ۔ واقعہ یہ ہے کہ داعی کا کام ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، دنیا میں اللہ رب العالمین کی نمائندگی آدمی مجبور ہے کہ وہ اس مشکل کام کے لیے کھڑا ہو۔ اسی کے ساتھ وہ مجبور ہے کہ اس کی نزاکتوں کو سوچ کر تڑپ اٹھے۔ میرا حال یہ ہے کہ جب میں کسی اجتماع میں تقریر کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو اپنی عجز بیانی کا احساس اتنی شدت کے ساتھ طاری ہوتا ہے کہ اکثر میری زبان سے نکل جاتا ہے: خدایا، تو میرے لیے پہلے بیک اسپیکر بن جا۔
ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا تو فضا گرمی کی وجہ سے تپ رہی تھی۔ سارا بدن پسینہ پسینہ ہوگیا۔ بعد جب میں دہلی ایئرپورٹ کی ایئرکنڈیشنڈ عمارت میں داخل ہوا تو وہاں ہر طرف ٹھنڈ تھی۔ دیر بعد پسینہ خشک ہو کر جسم کو سکون حاصل ہو گیا ۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں اللہ تعالی نے گرمی بھی رکھی ہے اور ٹھنڈ بھی۔ گرمی اس لیے ہے تاکہ اس کو دیکھ کر آدمی جہنم کو یاد کرے ۔ اور ٹھنڈ اس لیے ہے تاکہ آدمی جب اس کا تجربہ کرے تو وہ جنت کا مشتاق بنے۔
دہلی سے حیدر آباد کے لیے فلائٹ نمبر ۸۵۹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں ایک انگریزی اور ایک ہندی اخبار دیکھا ۔ انگریزی ہفت روزہ کرنٹ (۱۵ مئی ۱۹۹۲) میں ایک مفصل مضمون افغانستان کے بارے میں تھا۔ اس کا عنوان تھا : کشتگان فتح (victims of victory) اس مضمون میں
افغان جہاد کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ افغانستان کے قبائل جو باہم معاند اور متخاصم رہتے ہیں، اسلام ان کو متحد کرنے کے لیے کافی نہیں :
دورِ اول میں اسلام نے یہ معجزہ دکھایا کہ اس نے لڑتے ہوئے لوگوں کو آپس میں متحد کر دیا (آل عمران ۱۰۳) اس کے برعکس آج ایک جائزہ نگار کو یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے کہ اسلام لڑنے والے لوگوں کو متحد کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دور اول کے لوگوں نے اسلام کو اسلام کے طور پر اختیار کیا تھا۔ موجودہ زمانہ میں لوگ اسلام کو قومی نعرہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اور جو فائدہ حقیقی اسلام سے ملتا ہو وہ فائدہ کبھی قومی نعرہ والے اسلام سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
دورانِ پرواز ہندی اخبار ساندھیہ ٹائمز (ہم اسی ۱۹۹۲) دیکھا۔ اس کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے اُردو زبان دیوناگری رسم الخط میں لکھی ہوئی ہے۔ اس شمارہ کی چند سرخیاں ملاحظہ ہوں : کانگریس، بھاجپا اور جنتا دل میدان میں دلوں کے خزانے لوٹنے نہیں دیے کالازار میں ہومیوپیتھی کارگر ہے ہر سال ساڑھے تین لاکھ مکان بنانے ہوں گے بے قابو سٹلائٹ قابو میں عمران نے نام واپس کیوں لیا دلی پولیس کمال کرتی ہے حاضر جواب تلک بس کو اسٹاپ پر روکنا شان کے خلاف سمجھتے ہیں جو لوگ ہندی اخبارات پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہندی اخبارات کی زبان عام طور پر اسی قسم کی ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح نہیں کہ اردو زبان اس ملک میں مٹ رہی ہے۔
بات یہ ہے کہ اردو زبان بدستور اس ملک میں زندہ ہے۔
آزادی کے بعد کچھ مسلم لیڈروں نے مطالبہ کیا تھا کہ دستور ہند میں یہ لکھا جائے کہ ملک کی قومی زبان ہندوستانی ہوگی جو اردو اور دیوناگری دونوں رسم الخط میں لکھی جائے گی۔ یہ بات دستور میں تو نہ لکھی جاسکی۔ مگر تاریخی حقائق نے اس کو عملاً قائم کر دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج ملک کی عمومی زبان ہندوستانی (آسان اُردو) ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ زبان مسلمانوں کے یہاں فارسی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور ہندو اس کو دیوناگری رسم الخط میں لکھتے ہیں۔
جارج کاف مین (۱۹۶۱-۱۸۸۹) ایک امریکی ادیب اور صحافی تھا۔ اس نے لمبی عمر پائی مگر وہ کبھی ہوائی جہاز پر سوار نہیں ہوا۔ اس کا سبب اس کے الفاظ میں یہ تھا: میں محفوظ زمین (سالڈ گراؤنڈ) کو پسند کرتا ہوں۔ اور کوئی جگہ جتنی محفوظ ہو اتنا ہی وہاں ڈر کم ہوگا : Goerge Kaufman lived a long life and almost never stepped on to a plane. His reason? "I like terra firma and the more firma, the less terra."
اس جملہ میں صنعت ایہام (pun) کا استعمال کیا گیا ہے۔ ایہام سے مراد دو معنی لفظ کا مزاحیہ یعنی ایسے دو لفظوں کا مزاحیہ استعمال جو تلفظ میں مشابہ مگر معنی میں مختلف ہوں۔ فقرہ میں آخری ”ٹیر ا“ صوتی مشابہت کی بنا پر ”ڈر“ کے مفہوم میں ہے۔ یعنی میں زمین پر رہتا ہوں، کیوں کہ زمین پر ڈر کم ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ زمین بھی ایک اڑتی ہوئی سواری ہے۔ ہوائی جہاز فضا میں اڑتا ہے اور زمین خلا میں۔ دونوں میں سے کوئی بھی ٹیر افرامانہیں (وترى الجبال تحسبها جامدة وهي تمر مر السحاب)
اپریل ۱۹۹۲ میں نیویارک کے ایک ادارہ کی طرف سے ہفتہ ہوابازی (Aviation Week) کمپیوٹر کی مدد سے ایک ہفتہ کے دوران دنیا کی اہم ہوائی کمپنیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ معیار، بھروسہ، پابندی اور گرم جوشی (quality, reliability, punctuality, cordiality) کے اعتبار سے ان کا کیا حال ہے۔ اس عالمی جائزہ میں انڈین ایئر لائنز کو نمبر ۴۳ پر جگہ ملی۔ بعد آخری نمبر عراق ایئر کا تھا (ہندوستان ٹائمس ۲۵ مئی ۱۹۹۲)
ہندوستان کے لیڈروں کی تقریریں سنیے تو ایسا معلوم ہوگا گویا ہندوستان ساری دنیا کا قائد ہے۔ مگر عملاً صورت حال اس کے برعکس ہے۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اپنے دعوے کے اعتبار سے سب سے آگے اور حقیقت کے اعتبار سے سب سے پیچھے ہوں۔
۱۱ مئی کو جب ہمارا جہاز حیدر آباد ایئر پورٹ پر اترا تو رات ہو چکی تھی۔ ساتھیوں کے ہمراہ یہاں سے شہر کی طرف روانہ ہوا۔ حبیب بھائی کا مکان ایئر پورٹ سے بہت قریب ہے۔ دو منٹ میں ہمارا قافلہ ان کے مکان پر پہنچ گیا۔ رات اسی جگہ گزاری یہ علاقہ کافی پر سکون ہے اور نئے حیدر آباد میں
پچھلے دن ایک صاحب نے بڑے زور شور کے ساتھ اپنی اس تجویز پر بحث کی تھی کہ فرقہ وارانہ فساد سے بچنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ مسلمان اپنی آبادیاں الگ بنائیں اور ہر شہر میں پاکٹ کی صورت میں آباد ہوں۔ مگر جن لوگوں کو اس قسم کے پاکٹ کا عملاً تجربہ ہو رہا ہے وہ کبھی اس تجویز کی تائید نہیں مثلاً پرانے حیدر آباد میں عملاً مسلمانوں کا پاکٹ موجود ہے۔ جب کہ نئے حیدر آباد میں زیادہ آبادی غیر مسلموں کی ہے۔ لیکن فسادات وغیرہ کے مسائل صرف پرانے حیدر آباد میں پیش آتے ہیں۔ نیا حیدر آباد ہمیشہ اس قسم کی چیزوں سے محفوظ رہتا ہے۔
۱۵ مئی کو صبح ہم بجے حیدر آباد سے گلبرگہ کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ سفر بذریعہ روڈ طے ہوا۔ میں جناب جلال الدین محمد لاہوری اور محمد فصیح الدین قاضی ساتھ تھے۔ فجر کی نماز راستہ میں پڑھی گئی۔ سدا سیو پیٹ میں سڑک کے کنارے ایک شاندار مسجد زیر تعمیر نظر آئی۔ اتر کر اس کو دیکھا۔ بتایا کہ پہلے یہ مسجد معمولی ٹن کے شیڈ کی صورت میں تھی۔ اب اس کے رقبہ میں دگنا اضافہ کر کے کئی منزلہ پختہ مسجد بنانے کا منصوبہ ہے۔ مسجد بالکل نئے طرز کی اور خوب صورت تھی۔
ہندوستان میں ایسی مسجدیں اور مدرسے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ کے مقابلہ میں آج ان کی تعداد اور ان کی وسعت میں سیکڑوں گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ مگر کوئی بھی ”مسجد والا“ یا ”مدرسہ والا“ دنیا کو اس ترقی کی خبر نہیں سناتا۔ اگر اتفاق سے کسی مدرسہ کی دیوار پر ہولی کا رنگ پڑ جائے یا کسی مسجد کے سامنے سے غیر مسلموں کا جلوس باجا بجاتا ہوا گزر جائے تو اس کی خبر بنانے کے لیے ہر آدمی زبان و قلم کا شہنشاہ بن جاتا ہے۔ ان میں کوئی ایک بھی نہیں جس نے
مذکورہ ترقیاتی واقعہ سے دنیا کو باخبر کرنے کی کوشش کی ہو۔ اس قسم کی خبر رسانی ناقص خبر رسانی اور جو لوگ ناقص خبر رسانی کی کمزوری میں مبتلا ہوں ان کا انتخاب کبھی داعی حق کے مقدس منصب کے لیے نہیں کیا جاسکتا۔
آگے بڑھے تو ایک مقام پر سڑک کے دونوں طرف سامان سے لدے ہوئے دو ٹرک اوندھے گرے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ دونوں ٹرک آمنے سامنے سے آرہے تھے۔ مگر دونوں میں سے کوئی دوسرے کو راستہ دینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ دونوں صرف ہارن بجا بجا کر دوسرے سے کہتے رہے کہ تم اپنے ٹرک کو کنارے لے جاؤ۔ کیوں کہ میں اپنے ٹرک کو ہٹانے والا نہیں۔ دو طرفہ ضد میں دونوں ٹکرا گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں ہی برباد ہو گئے۔ گرے ہوئے ٹرک کو میں نے غور سے دیکھا تو ایک ٹرک پیچھے ایک تختی لگی ہوئی نظر آئی۔ اس پر جلی حرفوں میں یہ فقرہ لکھا ہوا تھا میرا بھارت مہان۔
میں نے سوچا کہ ان کی اس تباہی کا سبب ان کا ایک تضاد تھا۔ انھوں نے دھات کی تختی پر لکھ رکھا تھا کہ میرا دیش مہان ہے۔ مگر ان کے دل میں یہ لکھا ہوا تھا کہ میری گاڑی مہان ہے۔ کو مہان بنانا اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اگر وہ واقعہ دیش کو مہان بنائے ہوئے ہوتے تو وہ اپنی ذات کی نفی بھی کر چکے ہوتے۔ ایسی صورت میں مذکورہ حادثہ کا امکان اپنے آپ ختم ہو جاتا۔ ہماری کار محمد معین صاحب (۲۵ سال) چلا رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کتنے دن سے گاڑی چلاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۸۵ء سے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کبھی ایکسیڈنٹ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ اگر آپ سڑک پر صحیح رخ سے جارہے ہوں اور سامنے سے آنے والا غلط رخ سے آپ کی طرف آنے لگے تو ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے ۔ انھوں نے جواب دیا : اپنی گاڑی کو سلو کر دینا اور ضرورت ہو تو اپنے کو روک لینا۔ یہی اس دنیا میں زندگی کا راز ہے۔ سڑک کے ڈرائیوروں میں تو بہت سے ایسے انسداد ملیں گے جو اس راز کو جانتے ہوں۔ مگر زندگی کے مسافروں میں کوئی نہیں جو اس قیمتی راز کو جانے اور تعلقات انسانی میں اس کو استعمال کرے۔
ہم ظہیر آباد سے آگے بڑھے تو ہمارے ساتھی نے کہا: یہاں آندھرا پر دیش ختم ہوتا ہے اور
کرناٹک شروع ہوتا ہے " اس پہلے سڑک کے کنارے کے تمام بورڈ تلگو میں ہوا کرتے تھے، اب تمام بورڈ کنڑی میں دکھائی دینے لگے۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کے تقریباً ۵۰ فی صد مسائل زبانوں کے اختلافات کی بنا پر ہیں۔ اگر یہاں سارے ملٹک کی زبان ایک ہوتی، جس طرح چین اور جاپان میں ہے، تو ہندوستان کے جھگڑے اتنی شدت کے ساتھ پیداہی نہ ہوتے اور اگر پیدا ہوتے تو جلدی ختم ہو جاتے۔
سڑک کے دونوں طرف جگہ جگہ آم کے درخت نظر آئے۔ ان پر ہری ہری پتیوں کے درمیان آم کے پھل لک رہے تھے۔ میں نے سو چا کہ درخت پورے سے ایک سال تک " محنت " کرتا ہے۔ بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ اس کی شاخوں پر با معنی پھل کا ظہور ہو۔ یہاں محنت کے بغیر کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا، نہ درخت کی دنیا میں اور نہ انسان کی دنیا میں۔
گلبرگہ میں میرا قیام در دحامن ہوٹل کے کمرہ ۱۰۶ میں تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ دیر تک کمرہ میں لائٹ پنکھا اور بلب دونوں بند تھے۔ میں نے کمرے کے اندر کے تمام سوچ دباۓ مگر لائٹ نہیں میں نے سمجھا کہ یہاں کا بجلی کا نظام خراب ہے۔ ایک صاحب حکومت کے خلاف سخت شکایت کچھ دیر کے بعد ایک مقامی نوجوان آئے۔ اندر کا حال دیکھ کر وہ باہر نکلے۔ اور اس کے منّا بعد کمرے میں لائٹ آگئی۔ پنکھا بھی چلنے لگا اور بلب بھی روشن ہو گیا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ کمرہ کے باہر دروازہ کے پاس اس کا مین سو پچ لگا ہوا تھا۔ یہ مسافر کی آسانی کے لیے تھا کہ جب وہ کمرہ سے نکلے تو ایک ہی سو پچ کے دبانے سے پورے کمرہ کی بجلی بند کر سکے۔ کمرہ میں کئی نوجوان تھے ۔ میں نے کہا کہ دیکھئے ، اس میں بھی نصیحت ہے ۔ اس میں یہ سبق ہے کہ اگر آپ نے اصل " سوچ " نہ دبائی ہو تو نہ آپ کا پنکھا چلے گا اور نہ آپ کا کمرہ روشن ہو گا۔ اس لیے بجلی نہ ہونے کی شکایت نہ کیجیے ، بلکہ اصل سوچ تک اپنا ہاتھ پہنچانے کی کوشش کیجیے۔
مثلاً اگر آپ تعلیم میں پیچھے ہوں، آپ اقتصادیات میں پیچھے ہوں ، آپ کے اندر اتحاد نہ ہو، آپ کے اندر کر دار کی طاقت نہ ہو تو گویا کہ آپ کا مین سوچ بند ہے۔ ایسی حالت میں آپ کو وہ فائدہ کیوں کر مل سکتا ہے جو مین سوچ کھلا ہونے کی صورت میں کسی کو ملتا ہے۔ گلبرگہ ریاست کرناٹک کا ایک تاریخی شہر ہے۔ سلطان محمد بن تغلق کے زمانہ میں وہ دہلی سلطنت
کا ایک حصہ تھا۔ ۱۳۶۱ء سے لے کر ۱۴۷۴ء تک وہ آزاد بہمنی سلطنت کی رائجدھانی رہا۔ ۱۷ ویں صدی میں اورنگ زیب نے اس کو فتح کر کے دہلی سلطنت میں شامل کیا۔ ۱۸ ویں صدی میں دوبارہ وہ الگ ہو کر ریاست حیدر آباد کا حصہ بن گیا۔ ۱۹۵۶ء میں وہ میسور کا حصہ بنا جو اب کرناٹکا کہا جاتا ہے۔ گلبرگہ میں بہت سی تاریخی یادگاریں ہیں۔ اں بہمنی بادشاہوں کے مقبرے ہیں۔ یہاں کئی قدیم وہ کپاس اور اس سے متعلق چیزوں کی تجارت کا خاص مرکز ہے۔ محمد بن تغلق نے اس شہر کا نام احسن آباد رکھا تھا۔ مگر وہ دیر تک راج نہ رہ سکا۔
بہمنی سلطنت محمد بن تغلق (سلطان دہلی) کے کچھ عمال کی بغاوت سے قائم ہوئی۔ اس کا بانی حسن گنگو تھا۔ وہ ۱۳۴۷ء میں تخت پر بیٹھا۔ بغاوت کامیاب ہو تو وہ فتح ہے، اور اگر وہ ناکام ہو جائے تو غداری۔ کیسی عجیب ہے یہ دنیا، اور کیسے عجیب ہیں دنیا کے معاملات۔ گلبرگہ کی سب سے ممتاز عمارت وہ سمجھی جاتی ہے جو قرطبہ کے طرز پر بنائی گئی تھی۔ اس علاقہ میں بہمنی سلطنت، ۱۳۴۷ء سے ۱۵۱۸ء تک قائم رہی۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ یہی وہ زمانہ ہے جبکہ اسپین کی مسلم سلطنت زوال کا شکار ہوئی، یہاں تک کہ ۱۴۹۲ء میں وہ آخری طور پر ختم ہوگئی۔ میں اسپین کے مسلم اور غیر مسلم سائنس داں وہاں کے حالات سے مایوس ہو کر یورپ کے علاقوں میں جانا اس طرح سائنسی تحقیق کا کام مسلم دنیا سے مسیحی دنیا کی طرف منتقل ہو رہا تھا۔ مگر یہ بہمنی حکمرانوں کو آخری چیز جو مسلم اسپین سے قابل در آمد معلوم ہوئی وہ ایک ’’عمارت‘‘ تھی۔ ان حکمرانوں کے اندر اگر علمی شعور ہوتا اور وہ وہاں ہونے والے سائنسی عمل کو اپنے ملک میں منتقل کرتے تو یہ ایک ایسا انقلابی کام ہوتا جو تاریخ کے رخ کو موڑ دیتا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ۱۳۵۰۔ ۱۵۰۰ کے درمیان بہمنی سلطنت اور وجہ نگر کے حکمرانوں میں کم از کم دس لڑائیاں ہوئیں۔ ان میں سے زیادہ کا تعلق تنگ بھدرا۔ کرشنا دو آب پر قبضہ حاصل کرنا تھا : The period 1350-1500 saw at least ten wars, most of which were concerned with control over the Tungabhadra-Krishna doab. (9/371)
اس علاقہ میں پانی کی کمی بنا پر ندی کے پانی کا جھگڑا اچھا سو سال سے بھی زیادہ پہلے شروع ہوا، اور اب تک بدستور جاری ہے۔ آزادی کا دور بھی اس کو ختم نہ کر سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر فریق اپنے
واقعی حق سے زیادہ لینا چاہتا ہے۔ اگر ہر ایک اپنے واقعی حق پر راضی ہو جائے تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو جائے۔ گلبرگہ کے قیام کے زمانہ میں رہائش گاہ اور دوسرے مقامات پر لوگ برابر اکٹھا ہوتے رہے۔ غیر رسمی انداز میں مسلسل گفتگو جاری رہی۔ ایک مجلس میں کچھ نوجوان اکٹھا تھے۔ میں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی آپ کوئی بات کسی سے کہیں تو یہ سوچ کر کہیں کہ آپ کی بات سننے والے کے کان میں پہنچنے سے پہلے خدا تک پہنچ رہی ہے۔ یہ احساس اگر زندہ ہو جائے تو اس کے بعد غلط کلام یا بے فائدہ کلام کا اپنے آپ خاتمہ ہو جائے گا۔
۱۵ مئی کی شام کو گلبرگہ کے قلعہ کی مسجد دیکھی۔ یہ ایک بہت بڑا قدیم قلعہ ہے۔ اس کا رقبہ چھ سو مربع ایکڑ بنایا گیا۔ تاہم اب وہ خستہ حالت میں ہے۔ بظاہر محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے اس کی مرمت وغیرہ نہیں اس کے اندر بہت سے لوگوں نے رہائش اختیار کرلی ہے۔
قلعہ کے اندر ایک تاریخی مسجد ہے۔ یہ ۱۳۶۵ء میں مکمل ہوئی۔ حسن گنگو بہمنی نے گلبرگہ کو فتح کرنے کے بعد قلعہ کے اندر یہ مسجد بنائی تھی۔ یہ مسجد جامع قرطبہ کے نقشہ پر بنائی گئی ہے۔ وہ آج بھی اچھی حالت میں ہے۔ پوری مسجد میں عمدہ چونے کا پلاسٹر ہے۔ اس مسجد میں معروف طریقہ کے مطابق صحن نہیں پوری مسجد مسقف ہے۔ میں نے اس کے اندر چل کر اسے ناپا تو مشرق و مغرب میں وہ ۱۰۲ قدم تھی اور شمال و جنوب میں ۸۰ قدم۔ پوری مسجد میں ۱۴۰ کھمبے ہیں اور ۲۶۰ کمانوں پر اس کو کھڑا کیا گیا ہے۔ زمین سے اتنی بلندی پر ہے کہ اس کے نیچے بھی ایک منزل بن سکتی ہے۔
دو آدمی ملاقات کے لیے آئے۔ گفتگو کے دوران میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کس چیز کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری زندگی کا کوئی مقصد نہیں۔ نے کہا کہ میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ جنت کو اپنا مقصد بنائیں۔ آپ شعوری طور پر سوچ سمجھ کر یہ طے کریں کہ ہم کو مرنے کے بعد جنت حاصل کرنا ہے۔
ان میں سے ایک صاحب نے کہا کہ جنت کو پانے کے لیے ضروری عمل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا تعین کوئی مشکل کام نہیں۔ آپ قرآن کو صرف اس نیت سے از اول تا آخر پڑھیں کہ اس سلسلہ میں قرآن کیا راستہ بتاتا ہے۔ اور پھر جو راستہ قرآن میں ملے اس کو کسی شک اور تردد کے بغیر اختیار کر لیجیے۔ انشاء اللہ سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ قرآن جنت کا بے خطا گائیڈ ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ پہلے میں الرساله پڑھتا تھا ، اب میں نے الرساله کو پڑھنا چھوڑ دیا۔ نے پوچھا کہ کیوں چھوڑ دیا۔ انھوں نے کہا کہ الرساله تو بزدلی سکھاتا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ کوئی اقدام نہ کرو ، بس چپ چاپ اپنی جگہ بیٹھے رہو۔ اس قسم کا شکست خوردہ نظریہ کیسے قبول کیا جاسکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ الرساله کو چھوڑنے کے بعد آپ نے کیا کیا بہادری کے کام کیے اور کون کون سے اقدامات کیے۔ وہ کوئی ایک بھی مثال نہ بتا سکے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ بہادری کی باتیں کرنے کو بہادری سمجھتے ہیں۔ حالانکہ بہادری کی باتیں کرنا اور بہادری کا عمل نہ کرنا بزدلی سے بھی زیادہ برا کیوں کہ وہ منافقت ہے۔ اور منافقت سے زیادہ بری چیز اللہ کے نزدیک اور کوئی نہیں۔ اسی قسم کے ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگ نفسیات کی اصطلاح میں ، دو قسمی سوچ (dichotomous thinking) کی کمزوری میں مبتلا ہیں۔ پاس سوچنے کے لیے صرف دو لفظ ہے ، بزدلی اور بہادری ۔ آپ حقیقت کو صرف کالا اور سفید ، دوست اور دشمن ، اقدام اور بے عملی جیسی دو تقسیموں کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس سے زیادہ ہے کہ وہ اس قسم کی سادہ تقسیم میں سما سکے۔ علماء نفسیات بتاتے ہیں کہ اس طرح کی دو قسمی سوچ میں وہ لوگ مبتلا ہوتے ہیں جنھوں نے تخلیقی فکر کی صلاحیت اپنے اندر سے کھودی ہو۔ ایسی سوچ آدمی کی پستی کا ثبوت ہے نہ کہ بلندی کا ثبوت۔
میں نے کہا کہ اقدام یا ٹکراؤ کے بعد دوسری حالت صرف بے عملی اور پسپائی کی نہیں ہے۔ یہاں ایک اور حالت بھی موجود ہے اور وہ وقفہ تعمیر ہے۔ یعنی ٹکراؤ کو ختم کرکے اپنے لیے عمل کی مہلت حاصل کرنا۔ تاکہ اپنی کمیوں کو دور کرکے اپنی داخلی تیاری کو مکمل کیا جاسکے۔ اس قسم کی روش کا نام منصوبہ بندی ہے نہ کہ بزدلی۔
الرساله کی باتیں سادہ اور فطری ہونے کی وجہ سے لوگوں کو آسانی کے ساتھ یاد ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ اس کے قاری اکثر اس کی باتوں کو جگہ جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ایک کارخانے کے مینجر صاحب نے بتایا کہ وہ اپنے کارخانے کے غیر مسلم کارکنوں کو اکثر الرساله کی باتیں بتاتے ہیں۔ وہ لوگ بہت تاثر کے ساتھ ان کو سنتے ہیں۔ ایک انجینئر صاحب اسی طرح اپنے ادارے کے آدمیوں کو الرساله کے اقوال سناتے رہتے ہیں۔ ایک صاحب نے ایک تربیتی اور اصلاحی ہینڈ بل دیا۔ اس کو چھاپ
کر وہ بڑی تعداد میں تقسیم کرتے ہیں۔ اس کے آخر میں الرسالہ کا یہ جملہ لکھا ہوا تھا : اختلاف کے باوجود متحد ہونا ہی اتحاد ہے۔ اسی طرح مختلف مسجد اور مدرسہ میں الرسالہ کے تعمیری جملے بورڈوں پر لکھے ہوئے نظر آئے ۔
ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہہا کہ " ہم پہلے مسلمان ہیں اور اس کے بعد ہندوستانی۔ نے پوچھا کہ کیا صحابہ کرام نے کبھی یہ کہا تھا کہ ہم پہلے مسلمان ہیں اور اس کے بعد عرب ۔ یا عرب کے باہر جن ملکوں میں وہ گئے وہاں انھوں نے یہ کہا کہ ہم پہلے مسلمان ہیں اور اس کے بعد مصری یا شامی یا ایرانی۔ نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا : پھر ایسی بولی بولنا بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے، اور ضلالت تباہی کے سوا کہیں اور پہنچانے والی نہیں ۔
میں نے کہا کہ اس قسم کی بولیاں جاہلیت کی بولیاں ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ آپ یوں کہیں کہ میں مذہب کے اعتبار سے مسلمان ہوں اور وطن کے اعتبار سے ہندوستانی ۔ کوئی آدمی یہ نہیں کہتا کہ میں پہلے اپنے باپ کا ہوں، اس کے بعد میں اپنی ماں کا ہوں۔ آدمی بیک وقت اپنے باپ کا بھی ہے اور اپنی ماں کا بھی۔ اسی طرح آپ بیک وقت مسلمان بھی ہیں اور ہندوستانی بھی ۔
شہر میں چلتے ہوئے ایک بار ہم ایک عمارت سے گزرے۔ اس پر "سٹی لائبریری " کا بورڈ لگا ہمارے مقامی ساتھی نے کہا کہ اس لائبریری میں الرسالہ آتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اسی طرح گلبرگہ میں بہت سی لائبریریاں ہیں اور اکثر لائبریریوں میں دوسرے میگزین کے ساتھ الرسالہ بھی مطالعہ کی میز پر رکھا جاتا ہے ۔
تبلیغی حلقہ کے کئی اصحاب سے ملاقات ہوئی۔ معلوم ہوا کہ یہاں تقریباً ۳۰۰ مسجدیں ہیں اور اکثر مسجدوں میں کم و بیش تبلیغ کا کام ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ یہاں ایسے بہت سے افراد ہیں کہ ان میں سے ایک شخص لہو و لعب کی زندگی میں پڑا ہوا تھا۔ اس کو سمجھایا جاتا تھا۔ مگر وہ اپنے خلاف کچھ سننے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔ آخر کار اس کو کہ سن کر جماعت " میں لگا لیا۔ چند دن جماعت میں رہ کر جب وہ لوٹا تو وہ بدل چکا تھا۔
اس طرح کے واقعات تبلیغ کے کام میں کثرت سے پیش آئے ہیں۔ اس کا راز کیا ہے یہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ یہ معمولی غور و فکر سے اس کا راز سمجھا جا سکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ جماعت میں جانے
سے پہلے جو لوگ، انہیں سمجھاتے تھے، وہ ان کے ماحول میں رہ رکھتے ہوئے انھیں بدلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اور یہ عام انسانی مزاج کے خلاف ہے۔ جماعت میں نکالنا دراصل آدمی کو اس کے ماحول سے نکالنا ہے۔ آدمی سے جب اس کا ماحول چھوٹ جاتا ہے تو اس کے بعد وہ اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ وہ خالی ذہن کے ساتھ سوچ سکے۔ اس وقت اس کی فطرت کے سوا کوئی اور چیز اس کے پاس موجود نہیں ہوتی۔ اور جب فطرت کے سامنے حق کو پیش کیا جائے تو اس کے بعد اس کی قبولیت میں دیر نہیں لگتی۔
ماحول سے نکال کر اصلاح کرنے کے طریقہ کی مثالیں پیغمبروں کے یہاں موجود ہیں۔ مصر میں بنی اسرائیل مشرک قوم کے ماحول میں تھے۔ ان کے اندر کافی بگاڑ آ گیا تھا۔ اس وقت حضرت موسیٰ ان کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے گئے۔ یہ گویا ان کو ان کے ماحول سے باہر نکالنا چنانچہ جو تربیتی کام مصر میں نہیں ہو رہا تھا، وہ صحرا کے علاوہ ماحول میں آسانی کے ساتھ
میں نے کہا کہ ماحول سے نکال کر اصلاح کا یہی طریقہ غیرمسلموں کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔ اگر کچھ لوگ ایسا کریں تو وہ بہت سے غیرمسلموں کو اپنا ساتھی پائیں گے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ ہمیشہ صبر و اعراض کی بات کرتے ہیں۔ آخر کس سے صبر و اعراض۔ کیا ان لوگوں سے صبر و اعراض جو کفار لا اعتبار ہیں۔ میں نے کہا کہ "کفار لا اعتبار" کا لفظ مسلمانوں میں بہت عام ہے۔ بہت سے لوگ اس کو قرآن و حدیث کی طرح دہراتے ہیں۔ حالانکہ قرآن وحدیث تو در کنار، وہ عربی بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ اس جملہ میں اعتبار کا لفظ ٹرسٹ کے معنی میں ہے۔ عربی میں اعتبار کا لفظ ٹرسٹ کے معنی میں نہیں آتا بلکہ عبرت پکڑنے کے معنی میں آتا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اس ملک کے غیر مسلموں کو کافر کہنا سرے سے غلط اور غیر اسلامی ہے۔ کے معنی منکر کے ہیں۔ اور کسی شخص کا منکر ہونا اس وقت متحقق ہوتا ہے جب کہ اس کے سامنے بات پوری طرح پیش کر دی جائے اور پھر بھی وہ اس کا انکار کرے۔ اس ملک کے غیر مسلموں کے سامنے ابھی مسلمانوں نے سرے سے دعوت پیش ہی نہیں کی۔ پھر پیشگی طور پر ان کو کافر (منکر) کیسے کہا جاسکتا میں نے کہا کہ سنت رسول کے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس ملک کے غیر مسلموں کو ہم اپنا وطنی بھائی سمجھیں ۔
اور ان کو اپنا ہم قوم کہیں۔
مزید یہ کہ دعوت لاؤڈ اسپیکر کے اعلان کا نام نہیں ہے ۔ دعوت دراصل دردمندی اور خیر خواہی کے تحت کیا جانے والا ایک عمل ہے۔ اور جب آپ کسی قوم کو حریف اور رقیب سمجھ لیں تو اس کے حق میں خیر خواہی اور دردمندی کا جذبہ کبھی پیدا نہیں ہو سکتا۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بے شمار تحریکیں اٹھیں مگر بیشتر تحریکیں کسی نہ کسی کور دکر نے کی بنیاد پر اٹھیں ۔ رد بدعت ، رد قادیانیت ، رد شرک ، رد شیعیت ، رد عیسائیت ، وغیرہ ۔ یہ تمام تحریکیں عملاً بالکل بے نتیجہ رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل کام اثبات ہے نہ کہ تردید۔
۱۵ مئی کو جمعہ کے دن گلبرگہ کی جامع مسجد میں خطاب تھا۔ یہ خطاب نماز جمعہ کے بعد ہوا خطاب سے پہلے ایک صاحب نے پوچھا کہ آج مسجد میں آپ کے خطاب کا موضوع کیا ہے۔ میں نے کہا کہ انھوں نے کہا کہ اگر آپ اصلاح معاشرہ پر خطاب کرتے تو زیادہ اچھا تھا۔ میں نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ میں سوچتا رہاکہ نماز کے بارہ میں لوگوں کا تصور کتنا وہ نماز کے موضوع کو الگ سمجھتے ہیں اور اصلاح معاشرہ کے موضوع کو الگ۔ نماز پوری اسلامی زندگی سے تعلق رکھتی ہے۔ نماز پوری زندگی کی اسلامی تربیت ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں اسی اعتبار سے نماز کے عمل کی تشریح کی۔
۱۵ مئی کو نماز عشاء کے بعد دوبارہ جامع مسجد میں ایک تقریر ہوئی۔ اس تقریر میں میں نے کہا کہ ایک ہے بے روح عبادت اور ایک ہے زندہ عبادت ۔ بے روح عبادت ایک وقتی قسم کا رسمی عمل ہوتا ہے جس کا آدمی کی زندگی سے کوئی حقیقی تعلق نہیں ہوتا۔ اور زندہ عبادت وہ ہے جو آدمی کی پوری زندگی سے جڑی ہوئی ہو۔
۱۶ مئی کو نماز فجر کے بعد کچھ لوگ مسجد میں جمع ہو گئے۔ یہاں ایک گھنٹہ تک دینی باتیں ہوئیں۔ یہ گفتگو زیادہ تر سوال و جواب کی صورت میں ہوئی۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہم سے کہا جاتا ہے تقدیر کے معاملات میں زیادہ بحث نہ کرو ۔ بلکہ مجمل ایمان رکھو، ایسا کیوں ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب خود تقدیر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہماری اپنی محدودیت کا مسئلہ ہے۔
ہم اپنی محدودیت کی بنا پر بہت سی باتوں کا ادراک نہیں کر سکتے ۔ اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی باتوں کو مجمل طور پر مان لیا جائے ۔ یہی سائنٹفک طریقہ ہے۔ مثال کے طور پر سائنس میں ایک مکمل کائنات پر یقین کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بلیک ہول تھیوری بتاتی ہے کہ کائنات کے مادہ کا ۹۰ فی صد حصہ ہمارے لیے ناقابل مشاہدہ ہے۔ کیوں کہ اس کی روشنی ہم تک نہیں پہنچتی۔ اور ہم روشنی کے بغیر کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتے۔
۷ مئی کی سہ پہر کو گلبرگہ کے دو مدرسوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جامعہ عربیہ مظاہر العلوم اور مدرسہ عربیہ مصباح العلوم۔ دونوں مدرسے تعلیم دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ دونوں جگہ مختصر خطاب خطاب میں طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ علم کے حصول کے لیے سب سے ضروری چیز محنت ہے۔
۱۶ مئی کی شام کو نماز عشاء کے بعد گلبرگہ کے نیشنل ہائی روز ہائی اسکول میں خطاب عام تھا۔ کا موضوع تھا: توحید سب سے بڑی حقیقت ۔ اس خطاب میں کافی تفصیل کے ساتھ موضوع پر روشنی ڈالی گئی۔ میں نے بتایا کہ توحید محض ایک کلمہ کا تلفظ نہیں ہے، وہ عظیم ترین حقیقت کو اپنے دل و دماغ میں اتارنا ہے۔ فردیا معاشرہ میں جب توحید کا فکر پکڑتا ہے تو وہ شروع سے آخر تک ہر چیز کو بدل ڈالتا ہے۔ اس وقت کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ توحید کا فکر لوگوں کے ذہنوں میں ڈالا جائے ۔
۱۷ مئی کی صبح کو گلبرگہ سے حیدر آباد کے لیے روانگی ہوئی۔ راستہ میں ظہیر آباد واقع ہے یہاں کچھ دیر قیام کر کے دار العلوم ظہیر آباد دیکھا جس کو مولانا مدثر صاحب اور ان کے ساتھی چلا رہے ہیں۔ پرست لوگ جن کو "ملا" کہہ کر انھیں قوم کا غیر اہم عنصر قرار دیے ہوئے ہیں، وہی اس وقت قوم کا سب سے اہم کام کر رہے ہیں۔ یہ ہے تعلیم دین کا نظام سنبھالنا " ملا" لوگ اگر اس کام میں نہ لگتے تو یہ کام شاید معطل ہو جاتا، کیوں کہ غیر ملا اصحاب کو اس قسم کے کام سے کوئی دل چسپی نہیں۔ ظہیر آباد میں خطاب عام کا ایک پرو گرام بھی تھا۔ اس کا انتظام یہاں کے کمیونٹی ہال میں کیا گیا اس خطاب کا عنوان تھا "______ اسلام میں آخرت کا تصور"
میں نے کہا کہ آخرت کا تصور کوئی رسمی قسم کا عقیدہ نہیں۔ یہ در اصل ایک سنگین ترین حقیقت کا
اعتراف ہے جس سے ہم میں سے ہر شخص کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اگر دلوں کے اندر صحیح معنوں میں اس کا احساس و اعتراف پیدا ہوا جائے تو پوری زندگی میں انقلاب آجائے۔ مختلف مثالوں کے ذریعہ اس کی اہمیت کو واضح کیا۔
ظہیر آباد کے مدرسہ میں تحفیظ القرآن کے کلاس میں بیٹھا ہوا تھا۔ بہت سے بچے رحل پر قرآن رکھ کر قرآن کو یاد کرنے میں مشغول تھے۔ ان سے پوچھا جاتا کہ فلاں سورہ میں کتنے رکوع اور کتنی آیتیں ہیں تو وہ فورا بلا توقف اس کا جواب دیتے تھے۔ فلاں سورہ مکی ہے یا مدنی، یا اس قسم کے دوسرے سوالات کسی آیت کا پہلا لفظ پڑھ دیجئے اور اس کے بعد بچہ اس کے آگے کی آیتیں فی الفور پڑھنے دنیا میں اس طرح کے لاکھوں مدرسے ہیں۔ اور ان میں تعلیم پانے والے بچے گویا زندہ کمپیوٹر ہیں جو قرآن کے لفظ لفظ کو محفوظ کرنے میں مشغول ہیں۔
اس منظر کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ انسانیت کی تاریخ میں کوئی ایسی کتاب میں لکھی گئی ہیں مگر کسی کتاب کا مصنف اس پر قادر نہ ہوسکا کہ وہ لوگوں کے اندر یہ جذبہ پیدا کر دے کہ وہ نسل در نسل اس کو یاد یہ امتیاز صرف قرآن کو حاصل ہے۔ قرآن کی یہ استثنائی صفت اس کی استثنائی نوعیت کو ثابت کر رہی ہے۔
ظہیر آباد کے بیرونی مارکیٹ میں ہماری گاڑی تھوڑی دیر کے لیے رکی۔ مولانا اکبر الدین قاسمی کچھ خریداری کے لیے یہاں اترے۔ واپس آنے کے بعد انھوں نے بتایا کہ سڑک کے کنارے میں ایک ٹھیلہ والے پاس کھڑا تھا۔ وہاں ایک نو عمر مسلمان لڑکا آم بیچ رہا تھا۔ میں ابھی وہیں تھا کہ ایک اور مسلمان لڑکا اس کا جاننے والا وہاں آگیا۔
پہلے لڑکے نے دوسرے لڑکے سے پوچھا کہ کیا آج تم اسکول گئے تھے۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ پر پہلے والے لڑکے نے کہا: نہیں پڑھے گا تو کسی چائے خانے میں پیالیاں دھونا ہوگا۔ اس کے بعد اس نے دوسرے لڑکے کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ مجھ کو دیکھ، میں وقت پر اسکول گیا۔ وہاں سے پڑھ کر آرہا ہوں اور اب آم بیچ رہا ہوں۔ سنو، یہاں، ہم کو پڑھنا ہے اور اچھی تعلیم حاصل کرنا ہے تاکہ ہم کو اچھی ملازمت اور اگر ملازمت نہ بھی ملی تو اگر ہم نے پڑھ لیا تو ہم کسی کے محتاج نہیں رہیں گے۔ پڑھا ہو آدمی ہر کام کر سکتا ہے۔ بے پڑھا آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔
غریب طبقہ کے دو مسلمان لڑکوں کی یہ گفتگو میرے لیے بڑی سبق آموز تھی۔ اس کو سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں حال کے واقعہ میں مسلمانوں کے مستقبل کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے نظر آیا کہ اس ملک کے مسلمانوں نے اب نیا فیصلہ کیا ہے، اور اس فیصلہ کا اثر گلیوں میں رہنے والے بچوں تک پہنچا ہے۔ اب تک مسلمان اپنے سطحی لیڈروں کی باتوں میں آکر اپنے مستقبل کا معاملہ دوسروں پر ڈالے ہوئے تھے۔ وہ احتجاج اور مطالبہ کی بے فائدہ مہم میں مشغول تھے۔ اب وہ ان جھوٹے لیڈروں کے فریب سے نکل اب انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی تقدیر آپ بنائیں گے۔ اور جو قوم اس راز کو پالے اس کی ترقی کو کوئی روکنے والا نہیں۔
ظہیر آباد میں چند گھنٹے گزار کر دوپہر کے وقت یہاں سے حیدر آباد کے لیے روانگی ہوئی۔ میں ایک نوجوان عالم غیاث احمد رشادی سے بات ہوتی رہی۔ میں نے قرآن و حدیث کے بہت سے مضامین کو سوال و جواب کی صورت میں واضح کیا۔ ان کا تاثر یہ تھا کہ میں پہلی بار قرآن و حدیث کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ رہا ہوں ۔ میں نے کہا کہ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں ویسے کیم کہا گیا ہے۔ ذہن کے پردہ کو کھولنے کا نام ہے نہ کہ بند حجرہ میں بیٹھ کر الفاظ کی ورزش کرنے کا۔ ساڑھے تین بجے سہ پہر کو حیدر آباد پہنچا۔ یہاں نماز عصر کے بعد ایک اجتماع ہوا۔ (چادر گھاٹ) میں الرسالہ مطبوعات کی فراہمی کے لیے ایک نیا اسٹال کھولا گیا ہے۔ یہاں سے الرسالہ اور دوسری مطبوعات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس سے رابطہ قائم کرنے کے لیے ٹیلی فون نمبر یہ ہے ۔ ، مئی 1992 کو راقم الحروف کی تقریر کے ساتھ اس کا افتتاح کیا گیا ۔ میں نے اپنی تقریر میں الرسالہ مشن کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ الرسالہ کا مشن یہ ہے کہ مسلمانوں کو دوبارہ اس قائدانہ رول کے لیے کھڑا کیا جائے جو کہ ماضی میں وہ مسلسل ادا کرتے رہے ہیں۔
برطانوی دور سے پہلے جب مسلمان اس ملک میں آئے تو جواہر لال نہرو کے الفاظ میں ، وہ بریلینٹ کلچر لے کر اس ملک میں آئے ۔ انھوں نے مختلف پہلوؤں سے اس ملک کو فائدہ پہنچایا جس کا فیاضانہ اعتراف ڈاکٹر تارا چند نے اپنی کتاب انفلوئنس آف اسلام آن انڈین کلچر میں کیا ہے۔ انگریزی دور میں دوبارہ مسلمانوں نے یہاں قائدانہ رول ادا کیا۔ اب ضرورت تھی کہ ملک میں آزادی کی تحریک اٹھے اور اس کے لیے قربانیاں دی جائیں ۔ یہ کام بھی مسلمان ہی کر سکتے تھے اور انھوں
نے اس کو انجام دیا۔ کیوں کہ مسلمانوں کے پاس جہاد" کا تصور موجود تھا، جب کہ دوسرے کسی فرقہ کے پاس جہاد کا تصور موجود نہ تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی جانبازیوں ہی نے دیگر فرقوں کو جدوجہد آزادی کا حوصلہ دیا۔
۱۹۴۷ کے بعد دوبارہ یہ ملک اہل اسلام کے قائدانہ رول کا انتظار کر رہا ہے۔ اکثریتی فرقہ میں ذات پات کا عقیدہ یہاں انسانی مساوات کے قیام میں مستقل رکاوٹ ہے۔ دوسرا سنگین مسئلہ لامحدود زر پرستی ہے۔ کیوں کہ زر اس ملک کا سب سے زیادہ پوجا جانے والا دیوتا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس چیز کو انڈین کلچر کہا جاتا ہے وہ عملاً صرف زر کلچر (money culture) ہے۔ اور ذات کلچر یا زر کلچر کبھی کسی ملک کی تعمیر میں مثبت کردار ادا نہیں کر سکتا۔
ایسی حالت میں خدائے واحد کے پرستاروں کے لیے یہاں خدمت انسانیت کا زبردست موقع ہے، وہ اٹھیں اور اپنے ہم وطنوں کو توہم پرستی کے اندھیرے سے نکال کر حقیقت پسندی کی روشنی میں لے آئیں۔ الرسالہ مشن مسلمانوں کو اسی عظیم خدمت کے لیے تیار کرنے کا مشن ہے۔ کا مشن یہ ہے کہ مسلمان دوبارہ اس ملک میں ہیرو کا کردار ادا کریں جس طرح انھوں نے ماضی میں ہیرو کا کردار ادا کیا تھا۔
اس ابتدائی تقریر کے بعد لوگ بڑی تعداد میں الرسالہ بک اسٹال پر گئے۔ اور وہاں سے کتابیں حاصل کیں۔ بہت سے لوگوں نے حاصل کردہ کتابوں پر مصنف کے آٹوگراف لیے۔
، اسی کو نماز عشاء کے بعد ایک عمومی اجتماع تھا۔ اس کا انتظام مدینہ ایجوکیشن سنٹر میں کیا گیا تھا۔ مسٹر کے ۔ چندریہ (آئی اے ایس) اس کے صدر اور مسٹر حسن الدین احمد (آئی اے ایس) مہمان خصوصی یہاں میری مفصل تقریر ہوئی۔ اس تقریر کا عنوان ”نیو ورلڈ آرڈر اور اسلام " تھا۔ میں نے بتایا کہ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ امریکہ اپنے انٹرسٹ کا دوست نمبر ایک ہے۔ یہی معاملہ تمام دوسرے گروہوں کا ہے۔ یہ کہنا بنیادی طور پر غلط ہے کہ فلاں شخص یا گروہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک اپنے انٹرسٹ کا دوست نمبر ایک ہے۔ میں ہر ایک اپنے انٹرسٹ کے لیے دوڑ رہا ہے۔ اس دوڑ میں اگر کسی کی طرف سے ہم کو ٹھوکر لگ جائے تو اس کا سبب دشمنی نہیں بلکہ مسابقت ہوگا۔ میں نے کہا کہ دشمنی کی اصطلاح میں سوچنا منفی ذہن
پیدا کرتا ہے اور مقابلہ و مسابقت کی اصطلاح میں سوچنا ثبت ذہن ۔
اس کے بعد میں نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ اسلام خطرہ میں “ ایک بے معنی لفظ ہے حقیقت یہ ہے کہ اب تاریخ میں ایسا انقلاب آچکا ہے کہ اسلام ابدی طور پر خطرہ سے باہر چلا گیا ہے۔ دنیا کے لوگ جو بھی کارروائی کریں، حتی کہ اگر وہ اسلام کے خلاف مہم چلائیں تب بھی اس کا فائدہ اسلام ہی کو پہنچے گا۔ حیدر آباد میں میری ملاقات ایک صنعت کار جناب حبیب محمد صاحب سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ جب کوئی نوجوان جاب کے لیے میرے پاس آتا ہے تو میں اس سے کہتا ہوں کہ میرے پاس تمہارے لیے کام ہے ۔ اور جو بھی سکری تمہارے دل میں ہو اس کو دینے کے لیے میں تیار ہوں۔ مگر یہ جان لو کہ مجھے مین کی نہیں، بلکہ سپر مین کی ضرورت ہے۔ اگر تم میرے یہاں کام کرو تو بار بار تمھارے سامنے اینارمل حالات آئیں گے ۔ اس اینار مل کو نارمل بنانا، یہ تمہاری ذمہ داری ہوگی ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج کی دنیا میں روزگار کی کمی نہیں ۔ کمی اس بات کی ہے کہ لوگ تعلیم و تربیت کے ذریعہ اپنے اندر وہ استعداد پیدا نہیں کرتے جو ان کو موجودہ معنوں میں ایک مفید شخصیت بنا دے، اور پھر وہ کسی کے لیے ”سپر مین “ بن کر اس سے سپر سکری حاصل کر سکیں ۔ ایک صاحب نے کہا کہ فلاں صاحب نے لکھا ہے کہ الرسالة تو محض چٹکلوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو زیادہ سے زیادہ وقت گزاری کا ایک دلچسپ ذریعہ ہے۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ جہاں تک میری رائے کا تعلق ہے تو میرے نزدیک الرسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑا بڑا سبق نکالا جاتا ہے اور اسی لیے مجھ کو الرسالہ پسند ہے ۔
میں نے کہا کہ دونوں تبصروں میں کوئی خاص فرق نہیں۔ جس بات کو مذکورہ صاحب نے بھونڈے لفظوں میں کہا تھا اسی کو آپ خوب صورت لفظوں میں کہہ رہے ہیں۔ آپ دونوں صاحبان کے تبصرہ کا خلاصہ یہ ہے کہ الرسالہ میں جو چیز ہوتی ہے وہ بس ایک ادبی اسلوب ہے۔ یہ ہے کہ وہ ایک اعلیٰ قرآنی اسلوب ہے ۔ وہ ایک ایمانی نوعیت کی چیز ہے نہ کہ محض ادبی نوعیت کی چیز ۔
قرآن وحدیث میں مختلف الفاظ میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ مومن وہ ہے جو واقعات کو عبرت کی نظر سے دیکھے اور ان سے نصیحت حاصل کرے۔ اس طریقہ کے لیے قرآن میں خاص لفظ