توشم آیا ہے (ان فی ذلک لايات للمتوسمين) الحجر ۷۵
Al-Risala, February 1994, pp. 41–45
By Maulana Wahiduddin Khan
توسم سے مراد استدلال بالعلامات ہے (الجامع لاحکام القرآن ۴۳/۱۰) یعنی ظاہری علامت سے اندرونی حقیقت کو معلوم کرنا ، اسی کو عبرت پذیری کہا جاتا ہے۔ ایک آدمی وہ ہے جو اتنا ہی جانے جتنا وہ دیکھے۔ دوسرا آدمی وہ ہے جو دیکھنے والی چیز کو دیکھ کر نہ دکھائی دینے والی چیز کا پتہ ایسے شخص کو قرآن متوسم کہا گیا ہے۔ الرسالہ درحقیقت لوگوں کے اندر تو شم کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ اسی توشم سے وہ ربانی فائدہ حاصل ہوتا ہے جس کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ "لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی اس دنیا میں اسلام کیارہ نمائی دیتا ہے " میں نے کہا کہ لمحہ بہ لمحہ تبدیلی کی کوئی مثال دیجیے۔ وہ کوئی مثال نہ دے سکے۔ میں نے کہا کہ جب بھی آپ اس قسم کا کوئی بیان دیں تو پہلے یہ سوچ لیجیے کہ کیا اس کی کوئی مثال آپ کے پاس موجود ہے۔ کے حق میں کوئی واضح مثال موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں آپ کو بولنے کے بجائے چپ رہنا کیوں کہ تائیدی مثال کے بغیر اس قسم کے بیان کی کوئی علمی حیثیت نہیں۔ حیدر آباد میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اس مضمون پر اعتراض کیا جو الرساله جون ۱۹۹۱ میں زیادہ صحیح اصول کے عنوان سے چھپا تھا، انھوں نے کہا کہ ہماری قوم کے پاس وہ شاندار نمونے ہیں جب کہ ایک شخص نے یہ کہہ کر جان دے دی کہ " شیر کی زندگی گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے" اب آپ قوم کو شیر کے نمونے سے ہٹا کر گیدڑ کے نمونہ پر ڈال دینا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ شیر کا نمونہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شیر کا نمونہ یہی ہے کہ حریف کے مقابلہ میں پسپائی اختیار نہ کرو بلکہ بے خوف ہو کر لڑ جاؤ۔ میں نے کہا کہ یہ شیر کا نمونہ نہیں، یہ تو کسی شاعر کی مضمون بندی ہے یا کسی خطیب کی لفاظی۔
میں نے کہا کہ میں میں ٹی وی نہیں دیکھتا۔ مگر افریقہ اور ہندوستان کے جنگلوں میں جو شیر رہتے ہیں، ان کی حقیقی فلم امریکہ کی جیو گرافیکل سوسائٹی نے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے بنائی ہے اور وہ ٹی وی پر آتی رہتی ہے۔ اس کو میں نے تفصیل سے دیکھا ہے۔ آپ نے اگر نہ دیکھا ہو تو آپ بھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیر انتہائی حد تک ٹکراؤ سے دور رہنے والا جانور ہے شیر انتہائی
طاقت ور ہونے کے باوجود ہمیشہ ٹکراؤ کو اوائڈ کرنے کی پالیسی اختیار کرتا ہے۔ وہ صرف اس وقت اپنی طاقت استعمال کرتا ہے جب کہ عملاً اس کو زخمی کر دیا گیا ہو۔
اس فلم میں آپ دیکھیں گے کہ شیر چل رہا ہے۔ سامنے سے اس کو ہاتھی آتا ہوا دکھائی دیا تو اس نے اپنے راستہ کو بدل دیا۔ حتی کہ بھینسوں اور جنگلی کتوں سے بھی وہ کتر اکر چلتا ہے۔ ہرن اور چیتل شیر کے پسندیدہ شکار ہیں۔ ایک بھوکا شیر شکار کے لیے نکلتا ہے۔ سامنے ہرنوں اور چیتلوں کا غول کھڑا مگر وہ کبھی غول پر حملہ نہیں کرے گا۔ وہ صرف اس وقت حملہ کرتا ہے جب کسی جانور کو تنہا ایک بار میں نے دیکھا کہ ایک شیر نے پانی کے کنارے شکار کیا۔ اس کے بعد اس کا شکار ایک مگر مچھ پکڑ کر کرنے جانے لگا۔ اس وقت شیر نے مگر مچھ سے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ حالانکہ شیر اتنا طاقت ور ہوتا ہے کہ ایک بار میں نے دیکھا کہ اس نے سواسوجیلو کا ایک سانبھر اپنے منہ میں دبایا اور اسی طرح پکڑتے ہوئے دریا کو پار کر کے دوسری طرف چلا گیا۔
شیر کا طریقہ یہ ہے کہ طاقت ہو تو تب بھی نہ لڑو۔ اور کچھ لوگوں نے شیر کے نام پر یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ طاقت نہ ہو تب بھی لڑ جاؤ۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی مین اسٹریم سے میں بھی الگ ہوں اور آپ بھی الگ ہیں ۔
میں نے کہا کہ آپ اپنے بارہ میں جو بھی چاہیں کہیں مگر میں تو مسلمانوں کی مین اسٹریم سے بال برابر بھی الگ نہیں ہوں۔ میں تو مین ان کی مین اسٹریم میں شامل ہوں۔ انھوں نے کہا کہ پھر آپ بعض طاہر پر تنقید کیوں کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ تنقید کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی مین اسٹریم سے الگ ہو گیا۔ مولا نا حسین احمد مدنی اور مولانا اشرف علی تھانوی سیاسی معاملہ میں ایک دوسرے کے ناقد تھے مگر دونوں مکمل طور پر مسلمانوں کی مین اسٹریم میں شامل تھے ۔
پھر میں نے کہا کہ مین اسٹریم کا مطلب ، اہل سنت والجماعت کے مسلک میں شامل ہونا ہے۔ میں کسی بھی اختلاف کے بغیر اہل سنت والجماعت کے مسلک پر قائم ہوں۔ اس سے ذرہ برابر بھی میں البتہ کسی مقصد کے حصول کے لیے کیا طریق کار اختیار کیا جائے، اس میں بعض اوقات میں دوسروں سے اختلاف کرتا ہوں۔ اس قسم کا اختلاف عین جائز ہے۔ وہ ہمیشہ صحابہ، تابعین، محدثین،
فقہاء اور علماء کے درمیان جاری رہا ہے اور جاری رہے گا۔
مثال کے طور پر مجھے شاہ بانو تحریک سے اختلاف تھا۔ مگر یہ اختلاف اصل مسئلہ کے بارہ میں نہیں تھا بلکہ صرف طریق کار کے بارہ میں تھا۔ میرا کہنا تھا کہ ہماری تحریک کا رخ سپریم کورٹ کی طرف نہیں بلکہ مسلمانوں کی فکری اور معاشرتی اصلاح کی طرف ہونا چاہیے۔ اسی طرح میں نے بابری مسجد تحریک کے معاملہ میں اختلاف کیا۔ یہاں بھی میرا اختلاف اصل مسئلہ کے بارہ میں نہ تھا بلکہ میرا کہنا یہ تھا کہ ہماری تحریک کا میدان سڑکوں کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں اپنی تحریک کو عدالت اور گفت و شنید کے دائرہ میں رکھ کر اسے غیر احتجاجی انداز میں چلانا چاہیے۔
۱۸ مئی ۱۹۹۲ کی صبح کو حیدر آباد سے دہلی کے لیے دوانگی ہوئی۔ یہ سفر انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۸ کے ذریعہ طے ہوا۔ صبح کو قیام گاہ پر فجر کے بعد مجھے نیند آگئی۔ نیند کھلی تو دیر ہوگئی تھی، جہاز کا وقت بالکل قریب آگیا تھا۔ اگر اندرون شہر سے چل کر ایئر پورٹ پہنچنا ہوتا تو جہاز کا پانا مشکل تھا۔ وقت میں حبیب بھائی کے بیگم پیٹ کے مکان میں ٹھہرا تھا۔ یہاں سے ایئر پورٹ بذریعہ کار رو منٹ کے فاصلہ پر ہے۔ چنانچہ وقت پر ایئر پورٹ پہنچ گیا۔
اس اعتبار سے یہ مکان اچھا ہے کہ وہ ایئر پورٹ کے بہت قریب ہے۔ مگر اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس قربت کی وجہ سے یہاں ہوائی جہاز کی گڑ گڑاہٹ بھی کافی سنائی دیتی ہے۔ دنیا کا قانون ہے۔ یہاں ہر پھول کے ساتھ ایک کانٹا شامل ہوتا ہے اور ہر کانٹے کے ساتھ ایک پھول۔ انڈین ایئر لائنز کی میگزین سواگت کا شمارہ مئی ۱۹۹۲ جہاز کے اندر موجود تھا۔ اس کے چند مضامین ایک مضمون دبئی کے بارے میں تھا۔ اس سلسلہ میں مختلف واقعات درج تھے۔ ایک خاتون اپنے سفر کے دوران دبئی سے گزریں۔ وہاں انھوں نے اپنے بچوں کے لیے مختلف قسم کے تفریحی سامان خریدے۔ انھوں نے اپنے تین سالہ بچہ کو چاکلیٹ کے بہت سے پیکٹ دیے ۔ اس کے بعد ان کا بچہ اپنے نرسری اسکول کے ایک ساتھی سے ٹیلی فون پر کہہ رہا تھا کہ تم میرے گھر پر آؤ تو میں تم کو دبئی کے سندر چاکلیٹ دوں گا جو میری ممی دبئی سے لائی ہے :
You want to come to my house? I'll give you lovely chocolates from Dubai. My mummy went to Dubai and bought me the chocolate.
دوسرے بچے نے اپنے چک دار کھلونوں کو خبر اپنے دوست کو دینے کے لیے اس کا نمبر ملایا اور پر انداز میں ٹیلی فون پر کہا کہ میری ممی دبئی گئی تھی، اور وہاں سے وہ میرے لیے بہت سے کار اور ایک جہاز اور ایک جیپ خرید کر لائی ہے :
My mummy went to Dubai and she bought me so many cars, and a plane, and a jeep. موجودہ زمانہ میں یہی حال تمام گھروں کا ہے۔ ماں باپ اپنے بچوں کی خوشی کے لیے ان کے گھر لذت اور تفریح کے تمام سامان جمع کر دیتے ہیں۔ چنانچہ بچے ہر وقت دنیوی تماشوں میں گم رہتے ہیں۔ گھر میں چاکلیٹ اور کھلونوں کا ماحول ہے۔ ہر گھر دنیا کی یاد دلانے کا کار خانہ بنا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں بچوں کے اندر آخرت پسندی کا مزاج پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
۱۸ مئی ۱۹۹۲ کو صبح ۱۰ بجے ہمارا جہاز دہلی ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ اعلانات کے مطابق ، اس کے ہوا باز کیپٹن مصطفے تھے ۔ میرا خیال تھا کہ دہلی پہنچ کر ان سے ملاقات کروں گا۔ مگر جہاز جب اپنی منزلا پر پہنچتا ہے تو اترنے والوں کی عجلت کی وجہ سے جہاز میں ایک ہنگامی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس ہنگامہ میں ملاقات کی بات میرے ذہن سے نکل گئی اور میں ان سے ملاقات نہ کر سکا۔ مسلمانوں کے ہر پر چہ میں مسلمانوں کی محرومیوں اور حق تلفیوں کا ذکر ہوتا ہے۔ مگر میں اس قسم کے باتوں کو ناقابل ذکر سمجھتا ہوں۔ کیونکہ کوئی سماج اس قسم کے واقعات سے خالی نہیں ہو سکتا۔ جن چیزوں کی محرومی یا حق تلفی کہا جاتا ہے وہ قدرت کا ایک سادہ قانون ہے جو ہمیشہ اور ہر انسانی آبادی میں جاری
زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہر محرومی میں ہمیشہ یافت کے پہلو موجود رہتے ہیں۔ چنانچہ انڈین ایئر لائن کی اعلیٰ سروسوں میں مسلمان داخل ہو رہے ہیں۔ نئی اقتصادی پالیسی کے بعد کچھ مسلمانوں نے انٹر نیشنل ائیر کمپنی بھی بنائی ہے۔ موجودہ دنیا میں زندگی کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواق کو بھر پور طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جائے۔
۱۸ مئی کو سفر سے واپس ہو کر دہلی پہنچا تو لاہور کے دو اخبار وفاق اور نوائے وقت ۱۷ مئی ۲ بذریعہ ڈاک ملے۔ دونوں کے صفحہ اول پر بھارت میں ہونے والے "مسلم کش فساد کی خبر تھی ، وفاق
”تعمیری صحافت کا پاسدار“ ہے، اس کے صفحہ اول کی سب سے زیادہ جلی سرخی یہ تھی ــــــــــ ”نئی دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام، دارالحکومت فوج کے حوالے کر دیا گیا“۔
مانیٹرنگ ڈیسک کے حوالے سے خبر میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی حکومت مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو گئی۔ ہندو بلوائی پولیس کی شہ پر من مانی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ مسلح انتہا پسند ہندوؤں نے اچانک مسلم علاقوں کا محاصرہ کر کے حملوں کا آغاز کر دیا۔ مسلمانوں کی املاک کو نذر آتش کر دیا گیا۔ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بھارت ایک مرتبہ پھر بدترین مسلم کش فسادات کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ کہ مسلم کش فسادات کی یہ مہم پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ نوائے وقت میں بھی اسی قسم کی خبر صفحہ اول پر شائع کی گئی ہے۔
اس سنسنی خیز رپورٹ میں جس مسلم کش فساد کا ذکر کیا گیا ہے، اس کا ”نئی دہلی“ سے کوئی تعلق نہیں جہاں میں پچھلے دس سال سے رہ رہا ہوں۔ اس فساد کا تعلق نئی دہلی سے نہیں بلکہ جمنا پار کی ایک بستی سے ہے جس کو سیلم پور کہا جاتا ہے، اور ایک شخص کے بقول، جس کا زیادہ صحیح نام سَلِم پور ہونا چاہیے۔ نیز یہ کہ مذکورہ رپورٹ میں اس واقعہ کو جس انداز سے پیش کیا گیا ہے، اس کا اصل واقعے سے کوئی تعلق نئی دہلی کے اخبار قومی آواز کے نمائندہ مسٹر نصرت ظہیر نے فساد زدہ علاقہ کا دورہ کرنے کے بعد قومی آواز کے شمارہ ، اسی ۱۹۹۲ میں مفصل رپورٹ چھاپی ہے جو میرے پاس موجود ہے۔ طالب اس کو دیکھ سکتے ہیں۔
اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فساد ایک مسلمان کی نادانی کی بنا پر پیش آیا۔ اس فساد کا اصل سبق یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہوش مندی کے ساتھ جینا سکھایا جائے نہ کہ خلاف واقعہ طور پر مذکورہ قسم کی خبریں چھاپ کر ان کے اندر فرضی خوف پیدا کیا جائے۔