Al-Risala · March 1995

قیامت کی خبر

Al-Risala, March 1995, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

صحافت کی دنیا میں خبروں کے لئے دو اصطلاحیں رائج ہیں ۔ کرنٹ اشو (current issue) اور دوسرے بریکنگ نیوز (breaking news)۔ کرنٹ اشو سے مراد وہ موضوع ہے جو روزانہ چل رہا ہو۔ اور بریکنگ نیوز سے مراد وہ خبر ہے جو اچانک خلاف توقع پیش آجائے۔ ایک اخبار کل صبح کے لئے مرتب کیا جا رہا ہے۔ تمام کرنٹ اشو اس نے اپنے صفحات میں لے اخبار ترتیب کے آخری مرحلہ سے گزر کر اب چھپنے کے لئے پریس میں بھیجا جانے والا ہے۔ وقت اچانک یہ خبر آتی ہے کہ وزیر اعظم کو قتل کر دیا گیا۔ یہ ایک بریکنگ نیوز ہے۔ اس کے علم میں آتے ہی اخبار کے صفحہ اول کا نقشہ بدل دیا جائے گا۔ اب دوسری خبروں کو پیچھے ڈال دیا جائے گا یا ان کو حذف کر دیا جائے گا۔ اور وزیر اعظم کے قتل کو پہلی خبر کے طور پر صفحہ اول پر نمایاں کر کے شائع کیا جائے گا۔

ایسا ہی کچھ معاملہ زندگی کا بھی ہے۔ انسان اس دنیا میں اپنے روزمرہ کے مشاغل میں انسان کی کچھ معلوم ضرورتیں ہیں یا اس کی کچھ خواہشیں ہیں جن میں وہ صبح و شام مشغول گویا ہر آدمی "کرنٹ اشوز" کے تحت اپنا اخبار نکال رہا ہے۔

مگر یہ صورتِ حال ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والی نہیں۔ یہاں بھی ایک بریکنگ نیوز آنے والی یہ قیامت کی آمد ہے۔ اسرافیل کا صور اس کی آمد کی خبر دے گا۔ اور پھر زندگی کا سارا چلتا ہوا نقشہ بدل جائے گا۔ اس وقت آدمی تمام دوسری باتوں کو بھول جائے گا۔ تمام دوسری مشغولیتیں اچانک اس سے چھوٹ جائیں گی۔ اس وقت قیامت کی بریکنگ نیوز، ہی اس کے اخباریات کی اہم ترین خبر بن جائے گی۔ اسی لئے قرآن میں اس خبر کو النبا العظیم کہا گیا ہے۔ لوگ وقتی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، مستقل مسئلہ پر دھیان لگانے کی کسی کو فرصت نہیں۔ جب پر دہ ہٹے گا اور حقیقت سامنے آجائے گی تو لوگ اچانک دہشت زدہ ہو جائیں گے۔ محسوس کریں گے کہ ہم تو نان اشو میں مصروف تھے، اور اصل اشو سے بالکل بے خبر رہے۔ محرومی ہے جس کی طرف تمام انسان چلے جا رہے ہیں۔

Printed page