Al-Risala · March 1995

رمضان کا روزہ

Al-Risala, March 1995, pp. 14–17

By Maulana Wahiduddin Khan

رمضان کے روزے کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ یہ روزہ تمہارے اوپر اس لئے فرض کیا گیا ہے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو ( لعلکم تتقون ، البقرۃ ۱۸۳) تقویٰ کا مطلب بچنا ہے۔ ایک خار دار راستہ ہو اور آپ اس سے بچتے ہوئے گزریں تو یہ تقویٰ ہوگا۔ مومن کو دنیا میں اسی طرح بری چیزوں سے بچتے ہوئے اپنا سفر حیات طے کرنا اسی پر ہیزگارانہ روش کا نام تقویٰ ہے، اور رمضان کا مہینہ اسی تقویٰ کی ماہانہ تربیت کا

روزہ میں کھانا اور پانی چھوڑنا ایک علامتی ترک ہے۔ اصل میں جو چیز ترک کرنا ہے وہ تو خدا کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں۔ غیر ممنوعات کا وقتی ترک اسی ممنوعات کے مستقل ترک کی مشق ہے۔ کیوں کہ جو آدمی اللہ کے لئے غیر ممنوع کو چھوڑنے پر راضی ہو جائے وہ ممنوع کو بدرجہ اولی چھوڑنے پر راضی ہو جائے گا۔

اس دنیا میں آدمی کا جو امتحان ہے وہ یہی ہے کہ وہ حرام اور حلال میں فرق کرے ، وہ حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے والا بنے ۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارے۔ اسی ذمہ دارانہ زندگی کی تربیت کے لئے روزہ کا طریقہ اہل ایمان کے اوپر فرض کیا گیا ہے۔ روزہ محض اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ اپنی حقیقی اسپرٹ کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پانی چھوڑ دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے ایسا کیا کہ انھوں نے کھانے پینے کا روزہ اور اسی کے ساتھ انھوں نے غیبت کا فعل کیا جو اسلام میں حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ انھوں نے اللہ کی جائز کی ہوئی چیز سے روزہ رکھا، اور پھر اللہ کی ناجائز کی ہوئی چیز سے افطار کر لیا۔

متقیانہ زندگی کو دوسرے لفظوں میں محتاط زندگی کہہ سکتے ہیں۔ ایک انسان وہ ہے جو

احتیاط کے تصور سے خالی ہو۔ وہ بلا قید جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو احتیاط کے طریقہ کو اختیار کئے ہوئے ہو۔ وہ ایک محکم اصول کے تحت کسی روش کو اختیار کرے، اور کسی دوسری روش کو اختیار نہ کرے۔ ییہی معاملہ متقی انسان کا ہے۔ متقی انسان مکمل طور پر ایک محتاط انسان ہوتا ہے۔ وہ اپنے قول وعمل کو خدا کی مرضی کے تابع کر دیتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر تقویٰ اور احتیاط کا ہی مزاج پیدا کرتا ہے۔ رمضان کی ماہانہ تربیت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ پورے سال تک اس طرح زندگی گزارے کہ وہ مباحات کے لئے مفطر ہو، اور ممنوعات کے لئے وہ صائم بن جائے۔

روزہ کے دوران آدمی کا صرف کھانا پینا نہیں چھوٹتا۔ اس کو اپنی بہت سی عادتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ وہ اپنی خواہشوں پر روک لگاتا ہے۔ اس طرح وہ اس بات کی تربیت حاصل کرتا ہے کہ وہ کچھ چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ وہ کچھ چیزوں سے بچ کر دنیا میں زندگی گزارے روزہ اس پر ہیز گاری کی انتہائی تربیت ہے۔ روزہ رکھ کر آدمی یہ عہد کرتا ہے کہ ناجائز چیزیں تو در کنار، اگر اللہ کی مرضی ہو تو وہ جائز چیزوں کو بھی اللہ کی خاطر چھوڑ دینے کے لئے تیار ہے۔ رمضان کا مہینہ قمری کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔ اس مہینہ کو اسلام میں روزہ کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ رمضان کے مہینے کا روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ کی بہت فضیلت بتائی گئی ہے۔

امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے ہر نیک عمل کا اجر دس گنا سے لے کر سات سوگنا تک دیا جاتا ہے۔ مگر روزہ کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا انعام دوں گا۔ لئے اپنی خواہش کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں۔ افطار کے وقت، اور دوسری خوشی اس وقت جب کہ وہ اپنے رب سے ملے گا۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کسی شخص کے روزہ کا دن ہو تو وہ نہ گالی دے اور نہ شور کرے ۔ اور اگر کوئی آدمی اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ کہہ دے: میں تو روزہ دار ہوں۔

رمضان کے مہینہ کو ایک حدیث میں صبر کا مہینہ ( شہر الصبر) کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کا اتنا بڑا درجہ ئیوں ہے کہ اس پر بے حساب اجر کی خوشخبری دی گئی ہے۔ کی وجہ یہ ہے کہ روزہ صبر کی عبادت ہے۔ روزہ صبر کا عمل ہے۔ روزہ میں کھانا اور پینا چھوڑ کر آدمی علامتی طور پر یہ عہد کرتا ہے کہ دنیا میں وہ صبر کا طریقہ اختیار کرے گا۔ وہ ہر حال میں اللہ کے حکموں پر عمل کرے گا، خواہ اس کے لئے اسے صبر و برداشت کے مرحلہ سے گزرنا پڑے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے صبر کرنے والے بے حساب اجر پائیں گے ( انما يوفي الصابرون اجرهم بغير حساب ، الزمر ، ۱۰)، یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام اعمال میں صبر کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ جس خدا کی حکم کو انجام دینے کے لئے آدمی کو صبر کے مرحلہ سے گزرنا پڑے ، وہ عمل اللہ کی نظر میں اتنا زیادہ محبوب ہو جاتا ہے کہ اس پر بے حساب انعام کا فیصلہ کر دیا

روزہ کی خاص اہمیت اسی اعتبار سے ہے۔ روزہ دراصل صبر کی تربیت ہے۔ عبادت آدمی کو اس بات کے لئے تیار کرتی ہے کہ وہ اپنی خواہش کو پا کرہ اللہ کے حکم پر عمل وہ اپنی ضرورتوں کو روک کر اللہ کی راہ میں چلے۔ وہ اپنے ذاتی تقاضوں کو نظر انداز کر کے اللہ کے دین کے تقاضے پورے کرے۔ روزہ چوں کہ صبر جیسی عظیم عبادت کی تربیت ہے، اس لئے روزہ کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔

روزہ کے اسی خاص پہلو کی بنا پر حدیث میں فرمایا گیا کہ روزہ دار کو چاہئے کہ اگر کوئی آدمی اس کو برا کہے تو وہ خود بھی اس کو برا نہ کہنے لگے۔ بلکہ اس کے اندر یہ احساس جاگنا چاہئے کہ میں تو روزہ رکھے ہوئے ہوں۔ میں نے تو اپنے آپ کو صبر اور برداشت کے تربیتی کورس میں داخل کر رکھا ایسی حالت میں اگر میں بے برداشت ہو کر جوابی کارروائی کروں تو گویا کہ میں نے اپنا روزہ توڑ دیا، میں نے روزہ کے اصل مقصد کو باطل کر دیا۔

روزہ کا بلاشبہ بہت بڑا ثواب ہے۔ مگر یہ بڑا ثواب اس شخص کے لئے ہے جس کا روزہ صبر کا روزہ بن جائے۔ جو روزے سے یہ سبق لے کہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے مجھے ناخوشگوار باتوں کو برداشت کرنا ہے۔ لوگوں کے کڑوے بول کا جواب مجھے میٹھے بول سے دینا ہے۔ (ایڈوانس ۱۲ مارچ ۱۹۶۵ء)

لوگوں کی طرف س۷ اشتعال انگیزی کے واقعات ہوں تب بھی مجھے اپنے آپ کو مشتعل ہونے سے لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں کو اللہ کے خانہ میں ڈالتے ہوئے مجھے ہر ایک کے ساتھ ہر حال میں اچھا سلوک کرنا ہے۔

خدا کے حکم کی ایک تعمیل وہ ہے جو معمول کے حالات میں کی جائے۔ اس کی دوسری تعمیل وہ ہے جو غیر معمولی حالات میں کی جائے۔ معمول کے حالات کے مقابلہ میں غیر معمولی حالات میں کیا ہوا عمل ہمیشہ زیادہ عظیم ہوتا ہے۔ صبر ہی عظیم عمل ہے، اور روزہ اس عظیم عمل کے لئے ایک ماہانہ تربیتی

گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو خدا کا دین پورا کا پورا صبر کا دین ہے۔ پورا قرآن صبر کی کتاب ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات میں کسی نہ کسی اعتبار سے صبر کا پہلو شامل ہے۔

موجودہ دنیا میں اسلامی زندگی اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ غیر اسلامی زندگی کو چھوڑے گا اور اسلامی اصولوں پر اپنی زندگی کو چلائے گا۔ یہ دنیا امتحان کی اس لئے یہاں ہر معاملہ میں آدمی کے سامنے دو امکانات ہوتے ہیں۔ کوئی شخص جب دینی زندگی اختیار کرتا ہے تو وہ در حقیقت ایک روش کو چھوڑ کر دوسری روش کو اختیار کرتا ہے۔ یہ ایک کو چھوڑنا اور دوسرے کو پکڑنا صبر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے ہر اسلامی عمل میں صبر کا پہلو لازمی طور پر شامل ہو جاتا ہے۔

اس دنیا میں آدمی کو شیطان کے راستہ سے ہٹ کر خدا کے راستہ پر چلنا ہے۔ نفس پرستی کی روش چھوڑ کر بے نفسی کی روش کو اختیار کرنا ہے۔ اس کو بے اصول زندگی کو ترک کر کے با اصول زندگی کو اپنانا ہے۔ اس کو بے قید طریقہ سے اپنے آپ کو بچانا ہے اور پابند طریقہ پر قائم رہ کر زندگی گزارنا ہے۔ لوگوں سے معاملہ کرنے میں اس کو حرام کی ہوئی چیزوں سے دور رہنا ہے اور صرف حلال دائرہ میں لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔

ایک کو چھوڑنے اور دوسرے کو پکڑنے کے اس عمل کے لئے صبر کی ضرورت ہے۔ اہمیت یہ ہے کہ وہ آدمی کے اندر یہی صبر والی صفت پیدا کرتا ہے۔

نوٹ: یہ تقریر ے فروری ۱۹۹۴ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔

Printed page