Al-Risala · March 1995

عید الفطر

Al-Risala, March 1995, pp. 18–20

By Maulana Wahiduddin Khan

عید الفطر کا مطلب ہے افطار کی عید، کھانے پینے کی عید۔ اس کو عید الفطر اس لئے کہتے ہیں کہ وہ رمضان کے مہینے کے فوراً بعد آتی ہے۔ رمضان کا مہینہ کھانے پینے پر پابندی لگانے کا مہینہ اور عید الفطر کا دن ان پابندیوں سے آزاد ہونے کا دن ہے۔

روزہ اور عید کے درمیان اس ترتیب کا ایک پہلو یہ ہے کہ بندہ نے رمضان میں ایک مہینہ تک اللہ کے حکم کی تعمیل کی، تو اب اللہ نے اس کو قبول کرتے ہوئے اپنے انعام کے طور پر بندہ کو یہ موقع دیا کہ وہ پابندیوں سے آزاد ہو کر جو چاہے کھائے اور جو چاہے پیے۔ روزہ اگر اس کے لئے عمل کا مہینہ تھا تو عید الفطر اس کے لئے انعام کا دن ہے۔

دوسرے پہلو سے دیکھیے تو روزہ اور عید اس قانون فطرت کو بتا رہے ہیں جس کے مطابق موجودہ دنیا کا نظام بنایا گیا ہے۔ اس دنیا میں آسانی کے ساتھ مشقت جڑی ہوئی ہے۔ کامیابی سے پہلے محنت کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ یہاں پہلے "بھوک" کو برداشت کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد آدمی کے لئے کھانے اور پینے کا دستر خوان لگایا جاتا ہے۔

روزہ اور عید انھیں دونوں حقیقتوں کی علامت ہیں۔ روزہ پہلے مرحلہ کی علامت ہے، اور عید دوسرے مرحلہ کی علامت۔ روزہ اور عید کا یہ نظام انسان کو یہ سبق دے رہا ہے کہ اس دنیا میں اگر تم خوشی اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس سے پہلے محنت اور مشقت کی وادیوں سے گزرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔

رمضان کے مہینہ کا آخری روزہ جب ختم ہوتا ہے تو نئے مہینہ کا چاند ہلال کی صورت میں آسمان کے اوپر دکھائی دیتا ہے۔ اس کو دیکھتے ہی خدا کے بندے یہ کہتے ہیں کہ اے خدا، اس چاند کو تو، ہمارے لئے امن وامان کے ساتھ نکال، اس کو تو ہمارے لئے سلامتی اور اسلام کا چاند بنا دے۔

یہ اس بات کا سبق ہے کہ عید کا مہینہ امن و سلامتی کا مہینہ ہے۔ اس دن خدا کے بندوں کو یہ عہد کرنا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان ان کے خیر خواہ بن کر رہیں گے۔ وہ امن والے بول بولیں گے

اور سلامتی والے عمل کریں گے۔

عید کے دن تمام چھوٹے اور بڑے اپنے گھروں سے 'اللہ بڑا ہے، اللہ بڑا ہے کہتے ہوئے پھر وہ ایک جگہ جمع ہو کر دو رکعت اجتماعی نماز ادا کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا عہد ہے کہ وہ بڑائی کا درجہ صرف خدا کو دیں گے۔ اور خود اپنے لئے تواضع کی روش کو پسند کریں گے۔ کا طریقہ چھوڑ دیں گے، اللہ کے مقابلہ میں بھی اور بندوں کے مقابلہ میں بھی۔ عید کی نماز سے واپسی کے بعد لوگ آپس میں ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کو تحفہ دیتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو کھلاتے پلاتے ہیں۔ یہ بھی ایک علامتی عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اسی طرح پورا سال گزارنا ہے۔ انھیں علیحدگی پسندی کا طریقہ چھوڑ دینا ہے اور سب کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارنا ہے۔ کسی آدمی کو دوسروں کے لئے بوجھ نہیں بننا ہے۔ ہر آدمی کو یہ کوشش کرنا ہے کہ وہ دوسروں کو دے۔ آدمی کو اس دنیا میں دینے والا بن کر رہنا ہے نہ کہ دوسروں سے لینے والا بن کر۔

عید کے دن یہ کام اس انتظار کے بغیر کیا جاتا ہے کہ دوسرا ہم سے ملنے کے لئے آئے تب ہم اس سے ملیں، یا دوسرا ہم کو تحفہ دے تو اس کے بعد ہم اسے تحفہ دیں۔ عید کے دن یہ سارے کام یکطرفہ جذبہ کے تحت کئے جاتے ہیں نہ کہ دو طرفہ جذبہ کے تحت۔

اس میں یہ سبق ہے کہ اس دنیا میں وہی شخص انسانیت اور اخلاق کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے جو یک طرفہ طور پر انسانیت اور اخلاق کا اصول اختیار کرنے پر راضی ہو جائے۔ دنیا میں آدمی کو دوسروں سے تعلق پیدا کرنا ہے، خواہ دوسرے اس کے ساتھ تعلق نہ پیدا کر رہے یہاں آدمی کو اپنے پڑوسی سے محبت کرنا ہے، خواہ اس کا پڑوسی اس کے ساتھ محبت کا اظہار نہ کر رہا ہو۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسرے انسانوں کو دوست بننا ہے، خواہ دوسرے انسان اس کے ساتھ دوستی کا معاملہ کرنے پر راضی نہ ہوں۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسرے انسانوں کے لئے نفع بخش بنانا ہے خواہ دوسرے انسانوں سے اس کو نفع بخشی کا تجربہ نہ ہو رہا ہو۔ روزہ اور عید سال میں ایک بار آتے ہیں، مگر وہ پورے سال کے لئے ہماری زندگی کا کورس متعین کرتے ہیں۔ روزہ اور عید علامتی طور پر خدا کے بندوں کو یہ بتاتے ہیں کہ خدا

کی زمین پر انھیں کس طرح رہنا چاہئے۔ روزہ اگر آغاز حیات کی علامت ہے تو عید انجام حیات کی علامت۔ روزہ رکھنے کے بعد لوگ عید کے انعام کے مستحق بنتے ہیں۔ اسی طرح انھیں چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں تاکہ اس کے بعد وہ اپنے حقوق کو پاسکیں ۔ ان کو چاہئے کہ وہ پابندیوں کو نبھائیں تاکہ وہ انعامات کے مستحق ٹھہریں۔ ان کو چاہئے کہ وہ دوسروں کے خیر خواہ بنیں تاکہ دوسرے بھی ان کے ساتھ خیر خواہی کریں۔ ان کو چاہئے کہ وہ سماج میں دینے والے بن کر رہیں تاکہ انھیں بھی سماج میں عزت کا مقام مل سکے۔ ان کو چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسیوں اور اپنے انسانی بھائیوں کے ساتھ یکطرفہ طور پر اچھا سلوک کریں۔ کیوں کہ جو لوگ اس طرح اچھا سلوک کریں ۔ ان کے لئے ان کا دشمن بھی ان کا دوست بن جاتا ہے۔

روزہ اور عید کے درمیان ایک اور گہرا فرق پایا جاتا ہے۔ روزہ گویا نہ کرنے کا مہینہ ہے اور عید اس کے مقابلہ میں کرنے کا دن۔ روزہ گویا رکنے کا مہینہ ہے اور عید اس کے مقابلہ میں چلنے کا دن۔ گویا چپ رہنے کا مہینہ ہے اور عید اس کے مقابلہ میں بولنے کا دن۔ روزہ گویا ٹھہرنے کا مہینہ ہے اور عید اس کے مقابلہ میں اقدام کا دن۔

اس فرق میں یہ سبق ہے کہ زندگی میں دونوں ہی قسم کی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی میں کبھی کرنا ہوتا ہے اور کبھی نہ کرنا۔ کبھی چلنا ہوتا ہے اور کبھی ٹھہر جانا۔ کبھی بولنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی چپ ہو جانا۔ کبھی اقدام کرنا ہوتا ہے اور کبھی پیچھے رک جانا۔ روزہ اور عید دونوں ایک اعتبار سے عبادت ہیں اور دوسرے اعتبار سے تربیت۔

روزہ اور عید میں ایک طرف خدا کو راضی کرنے کے پہلو موجود ہیں۔ اور دوسری طرف ان کا عملی نقشہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ وسیع تر زندگی کے لئے تربیت کا کورس بن جائیں ۔ طور پر پورے سال کے لئے رہنمائے حیات کا کام دیں۔

نوٹ : یہ تقریر ۲۵ مارچ ۱۹۹۳ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔

Printed page