Al-Risala · March 1995

حکمت دین

Al-Risala, March 1995, pp. 22–33

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے اپنے حج کا سفر نامہ لکھا ہے۔ انہوں نے ۸ بار حج کیا ہے اور اسی کے ساتھ وہ ایک عالم بھی ہیں۔ سوال کرنے والے کا سوال یہ تھا : ”یہ ایک عجیب بات ہے کہ حجر اسود جو محض ایک پتھر ہے اس کو تو لوگ چومنے کے لیے ایک دوسرے پر گرتے ہیں ۔ اور جمرات بھی پتھر ہی کی شکل میں نصب ہیں مگر لوگ ان کو پتھر مارنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دھکم پیل کرتے ہیں۔ یہ کیا ماجرا ہے کہ ایک پتھر کو تو لوگ عقیدت سے چومتے ہیں، جب کہ دوسرے پتھر پر وہ پتھراؤ کرتے ہیں۔ مذکورہ صاحب نے جواب دیا کہ اسلام اطاعت اور فرماں برداری کا نام ہے۔ اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنے کے لیے عقل اور دلیل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ تسلیم و رضا کے جذبہ کے ساتھ اس پر عمل کرنا چاہیے ۔ (البلاغ، جولائی ۱۹۹۳) یہ جواب درست نہیں۔ اسلام بلاشبہ تعمیل حکم کا نام ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ جس چیز کا حکم اسلام میں دیا گیا ہے وہ سراپا حکمت پر مبنی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شاہ ولی اللہ دہلوی کو حجۃ اللہ البالغہ جیسی کتاب لکھنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔

اصل یہ ہے کہ یہ حجر میں فرق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ حقیقت حجر میں فرق کا معاملہ ہے۔ نہ محض پتھر کی وجہ سے ایک کا احترام ہے اور نہ محض پتھر کی وجہ سے دوسرے کی بے احترامی ۔ اصل یہ ہے کہ دونوں پتھر الگ الگ چیزوں کی علامت ہیں۔ حجر اسود ابراہیم خلیل اللہ کی علامت ہے اس لیے وہ قابل احترام ہے۔ اور جمرات شیطان لعین کی علامت ہے اس لیے وہ سنگ باری کا مستحق ہے، حجر اسود کو چومنا سنت ابراہیمی سے عقیدت کا اظہار ہے اور جمرات کو پتھر مارنا عمل شیطانی کے ساتھ نفرت کا اظہار۔

ایک فوج اپنے ملک کے جھنڈے کا احترام کرتی ہے ، مگر وہ دشمن ملک کے جھنڈے کو پیروں تلے روندتی ہے ۔ حالانکہ دونوں ہی کپڑا ہیں۔ دونوں میں یہ فرق اس لیے ہے کہ ایک جھنڈا وطن دوستی کی علامت ہے اور دوسرا جھنڈا وطن دشمنی کی علامت ۔

لو بھی استعمال نہیں کر سکیں گے۔

میرے سائق السید محمد البد وائی، تعلیم یافتہ اور نہایت مہذب ہیں۔ وہ بار بار کہتے تھے کہ میں ہر وقت یہاں آپ کے لئے سیارہ لے کر موجود رہتا ہوں۔ مگر آپ اس کو استعمال نہیں کرتے۔ آج ان کے اصرار پر ہوٹل سے نکلا اور شہر رباط دیکھنے کے لئے گیا۔ شہر نہایت خوبصورت نظر آیا۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ بے شمار گاڑیوں کے باوجود پولیوشن بہت کم تھا۔

انھوں نے مختلف چیزیں دکھائیں۔ مثلاً تفصیلی صنعت کے مراکز، وزارتی دفاتر، القصر الملكی ہر جگہ بورڈ عربی اور فرنچ میں مشترک طور پر نظر آیا۔ پورے شہر میں صرف ایک فقیر دکھائی دیا۔ سمندر کے ساحل سے گزرتے ہوئے ایک مقام پر روشنی کا مینار (light house) بنا ہوا تھا۔ کو دیکھ کر قدیم دور کی جہاز رانی کا منظر سامنے آگیا۔

یہاں کے قدیم متحف کو دیکھا۔ اس میں قدیم بادشاہوں نیز عام انسانوں کے آثار تھے۔ ایک جگہ شیشہ کے کیس کے اندر ایک قدیم انسان کا ڈھانچہ رکھا ہوا تھا جو کسی مقام پر ملا ہے۔ پھوٹی ہڈیوں کی صورت میں تھا۔ میں اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ ایک روز آئے گا جبکہ میرا جسم بھی اسی طرح ہڈیوں کا ایک وحشت خیز ڈھانچہ بن چکا ہوگا۔ پھر وہ مجھ کو ضریح محمد حسن ثانی' دکھانے کے لئے لے گئے۔ یہاں غیر معمولی اہتمام کیا گیا تھا۔ خاص قبر مکمل طور پر سفید سنگ مرمر کی ہے۔ دیواروں پر سونے کے کام ہیں۔ چاروں طرف غیر معمولی اہتمام ہے۔

تاج محل کو دیکھ کر کسی یورپین خاتون نے کہا تھا کہ اگر میری قبر پر اس قسم کا تاج محل بنایا جائے تو میں ابھی مرنے کے لئے تیار ہوں۔ اسی طرح بادشاہوں کے عظیم الشان مقبروں کو دیکھ کر بہت سے لوگ حرص کرتے ہیں کہ کاش ہمارا بھی ایسا ہی شاندار مقبرہ ہوتا۔ مگر میرا حال یہ ہے کہ میں مٹی کی قبر اور سنگ مرمر کے تاج محل میں کوئی فرق نہیں سمجھتا۔ اصل اہمیت مرنے کے بعد والے اخروی انجام کی ہے نہ کہ مرنے کے بعد دنیا میں بننے والے ڈھانچہ کی۔ ہوٹل یہاں کے اہم ترین علاقہ میں واقع ہے۔ اس کے چاروں طرف بہت بڑے بڑے میں ایک پارک میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے اندر سے ایک سڑک گزرتی ہے۔ کا ایک دستہ گزرا۔ تمام گھوڑے نہایت تندرست تھے۔ اور نہایت شان کے ساتھ چل رہے

ان کو دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ قدیم زمانہ میں ہزاروں سال تک تاریخ کا سفر گھوڑوں ہی پر ہوا ہے ۔ گھوڑوں نے تاریخ انسانی کو ابتدائی حرکت دی ہے ۔ میں گھوڑے کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ مشینی سواریوں کے ظہور میں آنے سے پہلے خدا نے زندہ سواری کے لئے انسان کو گھوڑ ادے دیا ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم احسان ہے ۔ اس کے بغیر انسانی تاریخ کا سفر ہی شاید رک جاتا ۔

آج ایک واقعہ گزرا ۔ اس کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ غماً بغم لکیلا تأسو اعلیٰ ما فاتکم ولا تفرحوا بما آتاکم کا مطلب یہ ہے کہ غم پر غم ڈال کر آز مائش کی گئی کہ کیا تمہارے اندر یہ صفت پائی جاتی ہے کہ فوت ہونے پر تمہارے اندر یاس نہ پیدا ہو اور یافت پر تمہارے اندر فرحت نہ پیدا ہو ۔

۱۶ فروری کو یہاں کے ریڈیو کے نمائندہ عبدالرحیم برقیہ آئے اور اسلام تھیوری کے مباحث پر انٹرویو لیا ۔ ان کے چار خاص سوال تھے ۔

نیچرل لاء کی بنیاد پر جدید ملحدین کا جو استدلال ہے اس کو آپ کیوں بے بنیاد سمجھتے ہیں کیا یہ ملحدانہ استدلال اب بھی کوئی علمی اہمیت رکھتا ہے ۔

لاشعور کے نظریہ کے تحت کہا جاتا ہے کہ دینی عقائد محض ذہنی اختلال کا نتیجہ ہیں ، اس دعویٰ کا علمی رد آپ کے نزدیک کیا ہے ۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ آفات جن کے مقابلہ میں انسان بے بس ہے ، ان کو دیکھ کر انسان کے اندر جو خوف کی نفسیات پیدا ہوئی ، اس نے خدا کا عقیدہ پیدا کیا ۔ آپ نے لکھا ہے کہ اس بحث میں سب سے اہم مسئلہ طریق استدلال کا مسئلہ آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ استدلال کا طریقہ اب پوری طرح دین کے حق میں ہے ۔ ان سوالات کے جوابات میں نے اپنی ہندوستانی عربی میں دئے ۔ تاہم اس کو انھوں نے سمجھا اور خوش ہوئے۔ اگر ممکن ہوا تو انشاء اللہ ان جوابات کو مزید مفصل کر کے الرسالہ میں سوال و جواب کی صورت میں چھاپ دیا جائے گا ۔

۱۶ فروری کو الدروس الحسنیہ کا آغاز ہوا ۔ مختلف ملکوں سے آئے ہوئے شرکاء اجتماعی طور پر

القصر الملکی میں لے جائے گئے۔ وہاں فردآ فرد آ، ہر ایک سے الملک الحسن الثانی نے ملاقات کی۔ نے ملاقات کے وقت اپنی عربی کتابوں کا سٹ اُنھیں پیش کیا۔ میں اپنے ساتھ دِہلی سے کوئی کتاب نہیں یہ سب تیونس سے آنے والے ایک نوجوان نے مجھے دیا۔ وہ مجھ سے ملنے کے لئے رباط آئے اور اپنے ساتھ یہ کتابیں بھی لے آئۓ۔

14 فروری ( ۵ رمضان ۱۴۱۶ھ) کا درس الاستاذ عبد الکبیر العلوی المدغری وزیر الاوقاف والشئون الاسلامیہ) نے دیا۔ موضوع علم الناسخ والمنسوخ تھا۔ انھوں نے کرا کہ علماء نے پانچ سو سے بھی زیادہ منسوخات بتائے ہیں۔ اس کو مانا جائے تو قرآن کا معظم حصہ منسوخ قرار پاتا ہے۔ نا قابل فہم ہے۔ مفسرین عام طور پر قتال کی آیت کو صبر و اعراض اور عفو و صَفح کی آیتوں کے لئے ناسخ مانتے ہیں۔ حالاں کہ صبر و اعراض اور عفو و صَفح دین کی اہم ترین تعلیمات ہیں۔ نسخ کے معاملہ میں یہی نقطہ نظر صحیح ہے۔ چنانچہ الزرکشی نے البرہان فی علوم القرآن میں نسخ کی بابت لکھا ہے کہ ھو تبديل الحكم لتَبْدّيل المصلحة العملية ۔ یعنی نسخ حقیقۃ عملی مصالح کے بدلنے کی بنا پر وقتی طور پر) حکم میں تبدیلی کا نام ہے۔

ہوٹل کے نیچے ہال میں آنے والے کئی لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے پاس کی نشست پر زیادہ عمر کے ایک شیخ تھے جو لبنان سے آئے تھے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں، میں نے کہا کہ ہند سے۔ انھوں نے پوچھا کہ ہند میں مسلمانوں کا حال کیسا ہے (کیف احوال المسلمین فی الھند) میں نے ابھی کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ انھوں نے دوبارہ کہا: مصائب، مش مصيبة یعنی ہندوستان کے مسلمان کسی ایک مصیبت میں نہیں بلکہ بہت سی مصیبتوں میں مبتلا ہیں۔ ہندوستان کے بارہ میں زرد صحافت اور زرد قیادت کے پروپیگنڈے کے نتیجہ میں لوگوں کو یہ بات تو معلوم ہے کہ بابری مسجد کو ہندوؤں نے ڈھادیا۔ مگر یہ بات انھیں سرے سے معلوم نہیں کہ خود نا اہل مسلم رہنماؤں نے نہایت غلط سیاست چلا کہ اس معاملہ کو بگاڑا۔ اسی طرح لوگوں کو یہ بات بھی معلوم نہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کے خود ساختہ نمائندہ بن کر جو لوگ مسلمانوں کی تباہی کا چرچا کر رہے ہیں وہ خود اسی ہندوستان میں اپنے پورے خاندان سمیت نہایت شاندار زندگی گزار باریش رہنما بھی اور بے ریش رہنما بھی۔

یہاں معلوم ہوا کہ ایک عرب نوجوان روس (ماسکو) میں فضائی دفاع کے موضوع پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ وہ الرسالہ مشن سے کافی متاثر ہیں۔ انھوں نے طے کیا ہے کہ اس مشن کی تمام انگریزی کتابوں کو روسی زبان میں چھپوائیں۔ ان کی کوشش سے ایک تعلیم یافتہ روسی نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس روسی نو مسلم کی مدد سے وہ اسلامی مرکز کی کتابوں کا روسی زبان میں ترجمہ کروا رہے ہیں۔ انھوں نے سترہ کتابوں کا روسی ترجمہ تیار کر لیا ہے۔

بنگلہ دیش کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان جو عرب میں رہتے ہیں۔ وہ " انسان اپنے آپ کو پہچان" کا ترجمہ بنگالی زبان میں کر کے چھپوا رہے ہیں۔ یہ کام انھوں نے بنگلہ دیش کے ایک اور مسلمان کے ساتھ مل کر کیا ہے۔ ایک صاحب نے ترجمہ کیا ہے، دوسرے نے طباعت کے سلسلہ میں مالیاتی مدد کی ہے۔

ایک صاحب نے ایک عربی مثل بتائی : اذا اردت ان تعج کل و وکل ۔ اس مثل میں وکل کا لفظ فصیح عربی نہیں ہے بلکہ دارجہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو خود کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ یعنی لا تأكل وحدك افرو ری کو درس کا موضوع تھا : مهمات من قواعد الاسلام ۔ آج الاستاذ محمد الحبیب بلخوجہ نے درس دیا۔ انھوں نے اپنے درس کی بنیاد اس حدیث پر رکھی : الطهور شطر الايمان والحمد لله تملأ الميزان وسبحان الله والحمد لله تملأ ما بين السماوات و الارض و الصلاة نور و الصدقة برهان و الصبر ضياء والقرآن حجة لك او عليك كل الناس يغدو فبائع نفسه فمعتقها او موبقها یہ حدیث جس کو امام مسلم نے کتاب الطہارت ر باب فضل الوضوء) میں نقل کیا ہے ، اس میں صبر کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ وہ اہل ایمان کے لئے روشنی ہے۔ گویا کہ صبر ایک انتہائی اعلی درجہ کا مثبت رویہ ہے جو آنکھ کھولنے والا اور راستہ کو صاف کرنے والا ہے۔ ایسی حالت میں یہ بات کتنی زیادہ غلط ہوگی کہ صبر کو ایک سلبی رویہ یا مجبورانہ خاموشی کے ہم معنی سمجھ لیا جائے۔ آج درس سے پہلے وزارة الاوقاف کے ہال میں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے علماء جمع ہوئے۔ اور کل کے درس پر مناقشہ ہوا۔ سب سے پہلے کل کی تقریر اور مجلس کا پورا ٹائپ وہی سی آر پر دکھایا

گیا تاکہ اصل بحث لوگوں کے ذہن میں تازہ ہو جائے۔ جو واقعہ میں نے کل دیکھا اور سنا تھا، آج ٹھیک اسی طرح اس کوشینی سطح پر دہرایا جا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر مجھے قرآن کی آیت وهو يبدئ ويعيد۔ ایسا محسوس ہوا جیسے اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ عملی مشاہدہ بن کر آنکھوں کے سامنے آگئی ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ نسخ کی چار قسمیں ہیں: نسخ التلاوة والحكم، نسخ التلاوة و بقاء الحكم ، نسخ الحكم وبقاء التلاوة، نسخ الكتاب بالسنة ونسخ السنة ایک صاحب نے کہا کہ قرآن میں تقریباً ۴۰ نسخ ثابت ہوتے ہیں مگر افسوس ہے کہ علماء نے اس میں وسعت دی اور اس کی تعداد کو پانچ سو تک پہنچا دیا۔ (ان العلماء مع الاسف الشديد، توسعو ا فی الناسخ والمنسوخ) کسی نے کہا نسخ صرف فرع میں ہے، اصل میں نہیں۔ اسی لئے نسخ کی آیتیں مدینہ میں اتریں ، مکہ میں نسخ کی آیتیں نہیں اتریں۔ ایک صاحب نے کہا کہ قرآن اترنے کے بعد اور رسول اللہ کی وفات کے بعد اب کسی کو حق نہیں کہ وہ کسی حکم کو ناسخ یا منسوخ قرار میں نے کہا کہ نسخ کے معاملہ کو محض کچھ آیتوں یا حدیثوں کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ اصول (مبدأ) ہے نہ کہ محض کچھ آیتوں کی تفسیر کا مسئلہ۔ اگر آپ نسخ کو صرف کچھ آیتوں سے جوڑ دیں تو وہ انھیں آیتوں تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ مگر اس کو اصولِ شریعت ماننے کی صورت میں وہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ یہ دراصل عملی حالات کی رعایت کا مسئلہ ہے اور اس اعتبار سے وہ ایک حکیمانہ اصول کے طور پر ہمیشہ باقی رہے گا۔ مذکورہ آیتوں کی حیثیت اس معاملہ میں علامتی نمونہ کی ہے۔ یہ آیتیں برائے توضیح ہیں نہ کہ برائے تعیین۔ اس سفر میں حسب معمول میں اپنے ساتھ کوئی کتاب یا الرسالہ کا کوئی شمارہ نہیں لے گیا تھا۔ رباط پہنچا اور وہاں آنے والے علماء سے ملاقاتیں ہوئیں تو معلوم ہوا کہ اکثر لوگ الاسلام تجدیدی کا کا مطالعہ کئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اکثر لوگوں نے مزید عربی کتابوں کا مطالبہ کیا۔ اتفاق سے ایک نوجوان سید صالح الشوکات، قاہرہ سے آگئے تھے۔ وہ میری آمد کی خبر سن کر مجھ سے ملنے کے لئے آئے تھے کیوں کہ یہاں کے نظام کے مطابق الدروس الحسنیہ کا پروگرام ہر روز ساتھ ساتھ نشر کیا

جاتا ہے جو پوری عرب دنیا میں دیکھا جاتا ہے۔ وہ عربی کتابوں کا ایک بنڈل بھی اپنے ساتھ لائے تھے جو قاہرہ سے چھپی ہیں۔ یہ کتابیں یہاں کے بہت سے لوگوں کو دی گئیں۔ چند نام یہ ہیں : الملك المغربی الحسن الثانی ، الاستاذ عبد الكبير العلوى المدغری (وزیر الاوقاف والشئون الاسلاميه)، محمد الكبير العلوى (مدير وزارة الاوقاف)، دكتور ابراهيم السيد الرفاعي (چیئرمین ڈپارٹمنٹ آف جیالوجی، کویت یونیورسٹی)، الشيخ طه الولى (لبنان)، دكتور محمد يعقوبي (خبيرة، فاس، المغرب)، دكتور عبد الرحيم برقيه (رباط)، عبد السلام اديمی (ٹاکیو)، الحاج عبد الله المشری (موریتانیہ)، دكتور محمد السليماني (الجزائر) وغيره ۱۸ فروری کو الاستاذ احمد الغازی الحسینی (استاذ کرسی التوحيد: بجامع القرويين بفاس) کا درس اس کا عنوان تھا : مجامع مكارم الاخلاق۔ اپنے درس کے لئے انھوں نے اس آیت کو منتخب کیا : خذ العفو وأمر بالعرف واعرض عن الجاهلين۔ و اما ينزغنك من الشيطن نزغ فاستعذ بالله انه سميع عليم (الاعراف ۲۰۰)

درس زیادہ تر نحوی اور فنی انداز میں تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت میں اہم نکتہ یہ ہے کہ عفو " اور اعراض کا حکم دیتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر تمہارے دل میں شیطان کوئی وسوسہ ڈالے تو تم اس کے بارہ میں اللہ سے پناہ مانگو۔ اس سیاق میں شیطانی وسوسہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کوئی ایسا فعل کرتا ہے جس کے بارہ میں اللہ نے عفو اور اعراض کا حکم دیا ہے اور اس وقت تمہارے دل میں انتقامی جذبہ آجاتا ہے یا رفتار کا سوال تم کو اس سے روکنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے تو اس قسم کے جذبات و احساسات کو تم شیطانی وسوسہ سمجھو۔ تم کو چاہئے کہ غصہ اور انتقام کے جذبہ کو دباؤ اور رفتار کے سوال کو اس طرح کے سلوک میں رکاوٹ نہ بننے دو۔ انسانی زیادتی کو اللہ کے خانہ میں ڈالتے ہوئے ہر حال میں عفو اور اعراض کے مسلک پر قائم رہو۔

۱۸ فروری کو جمعہ کا دن تھا۔ دروس حسنیہ کے شرکاء کاروں پر رباط سے الدار البيضاء لے یہ سو کلو میٹر کا راستہ تھا جو ڈیڑھ گھنٹہ میں طے ہوا۔ میں نے سنا اور پڑھا تھا کہ الدار البيضاء کی مسجد حسن ثانی حرمین کے بعد دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے : واقعہ وہ ایسی ہی نظر آئی۔ اور بہت خوبصورت انداز میں بنائی گئی ہے۔ سمندر اٹلانٹک کے عین کنارے ہونے کی وجہ سے

اس کی خوبصورتی میں اور اضافہ ہو گیا ہے۔

نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ صف کے آگے مسلسل جوتوں کی قطار نظر آئی۔ زور سے قرآن پڑھ رہے تھے اس لئے مسجد کے اندر آواز کافی گونج رہی تھی۔ نمازیوں کو قرآن برائے تلاوت تقسیم کیا جا رہا تھا۔ مجھ کو بھی ایک مجلد قرآن دیا گیا۔ اس کو کھولا تو اندازہ ہوا کہ اس کے انداز تحریر کی وجہ سے اس کو پڑھنا مشکل ہو رہا ہے۔ آخر میں دیکھا تو ” وفقا للخط العثمانی“ لکھا ہوا تھا۔ ممکن ہے کہ یہاں کے لوگ اس کے عادی ہوں مگر عام مسلمانوں کے لئے اس کے ذریعہ تلاوت کرنا

مغربی لہجہ میں لاؤڈ اسپیکر پر قرآن پڑھا جا رہا تھا۔ یہ بھی ہم لوگوں کے لہجے سے بہت مختلف تھا اس پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آیا کہ لہجوں کا فرق کیوں واقع ہوتا ہے۔ قرآن ابتداءً قریش کے لہجہ پر اترا۔ اس کے بعد وہ پھیلا یہاں تک کہ دور دور کے علاقوں میں پہنچ گیا۔ یہ لوگ اپنے اپنے لہجہ میں اپنی زبان بولتے تھے۔ اب انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد جب قرآن پڑھا تو اس کو انھوں نے اپنے لہجہ میں پڑھا۔ ہر ایک اپنے مقامی لہجہ میں قرآن کے عربی الفاظ دہرانے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مسلم قوموں کا مکتوب قرآن اگر چہ ایک ہے۔ مگر اس کو پڑھنے کے لئے ہر ایک کا لہجہ الگ الگ ہو گیا ہے۔ مسجد الحسن الثانی (الدار البیضاء) کے تعارف کے لئے جو تصویر کتاب چھاپی گئی ہے، اس کے آغاز میں یہ آیت درج ہے: وكان عرشه علی الماء ہود ۷)، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عظیم مسجد پانی کے اوپر بنائی گئی ہے۔ یعنی سمندر (اٹلانٹک) کے ساحل پر ہے اور پانی کو پاٹ کر اور اس کے اوپر ستون قائم کر کے اس کو تعمیر کیا گیا ہے۔ الملک الحسن الثانی، جن کو صوفی بادشاہ کہا جاتا ہے انھوں نے ۸ جولائی ۱۹۸۸ کو مسجد کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے اس کی مصلحت ان الفاظ میں بیان کی تھی: اردت أن ابنى هذا المسجد علی الماء، وكان عرشه علی الماء، كما اردت ان يكون المصلى فيه والداعي والذاكر والشاكر والراكع والساجد محمولا علی الارض ولكن اينما نظر يجد سماء ربه وبحر ربه۔

۸ فروری کو افطار کا انتظام ایک وزیر کی رہائش گاہ پر تھا۔ جس ہوٹل میں ہم لوگوں کا قیام ہے وہ ایک امریکی ہوٹل ہے۔ وہاں کھانے کا انتظام زیادہ تر مغربی انداز کا ہے۔ وزیر صاحب کا معاملہ

اس سے مختلف تھا۔ وہاں وہ انداز تھا جو عرب رؤساء کے یہاں رمضان کی دعوت میں اختیار کیا جاتا پہلے انواع واقسام کی چیزوں کے ساتھ افطار کرایا گیا۔ پھر مغرب کی نماز ہوئی۔ اس کے بعد تمام لوگ ایک بڑے کمرہ میں جمع ہوئے۔ یہاں دیر تک قرآن کی قرأت کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ نماز کا وقت ہو گیا اور عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی گئی۔ اس کے بعد تمام لوگ کھانے کے کمرہ میں آئے، جہاں دوبارہ قسم کے کھانوں سے میز بھرا ہوا تھا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک کھانے پینے کا دور یہ سلسلہ سوا چھ بجے افطار سے شروع ہوا تھا۔ جب ہم لوگ واپس لوٹے تو گھڑی میں ساڑھے آٹھ بج چکے تھے۔

لوگ خوش ہو کر کھا رہے تھے مگر میں غم سے نڈھال ہو رہا تھا۔ مجھے اس قسم کی دعوتوں سے کوئی رغبت نہیں۔ وہ چیز جس کو پر تکلف دعوت کہا جاتا ہے وہ میرے لئے صرف پر تکلیف دعوت ہے۔ مجھے سادہ اور مختصر کھانا پسند ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں بہت کم لوگ ہیں جو اس قسم کی دعوت کریں ، اور اس سے بھی کم وہ لوگ ہیں جو اس قسم کی دعوت کو دل سے پسند کریں۔

ٹوکیو سے جاپان مسلم ایسوسی ایشن کے نمائندہ عبد السلام اریمی آئے تھے۔ وہ ایک نو مسلم انہوں نے اپنا قدیم نام جیرو اریمی (Jiro Arimi) بتایا۔ ان سے معلوم ہوا کہ جاپان کے مسلمان انوکھے قسم کے مسائل سے دوچار ہیں جن سے ہم لوگ اپنے ملک میں واقف نہیں۔ تدفین کا مسئلہ۔ تم کی معروف تدفین جاپان میں غیر قانونی ہے۔ تدفین کے لئے لاش کو مخصوص قسم کے تابوت میں بند کرنا ضروری ہے جو بہت مہنگا ہوتا ہے۔ اس کام کو بھی کوئی رجسٹرڈ ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ ابھی تک ان کے پاس کوئی باقاعدہ مقبرہ نہیں۔

ہندوستان میں مقامی کرنسی کے مقابلہ میں ڈالر کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ مگر جاپان میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ جاپان مسلم ایسوسی ایشن کو رابطہ العالم الاسلامی مکہ کی طرف سے مالی تعاون ملتا ہے جو ڈالر کی صورت میں ہوتا ہے۔ مگر اس وقت یہ صورتحال ہے کہ جب وہ اس تعاون کو جاپانی سکہ ین میں تبدیل کرتے ہیں تو وہ بہت کم ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ ین کے مقابلہ میں امریکی ڈالر کی شرح گھٹ گئی ہے۔ انہوں نے کہا: وبما ان الدعم المادي تقدمه رابطة العالم الاسلامي يُرسل بالد ولار فانہ تأثر كثيراً بارتفاع قيمة الين الياباني. وهكذا فهو يقدر

حالیا بعشرۃ آلاف ين ياباني فقط شهریا۔

19 فروری کو الاستاذ ذلطہ الول (لبنان) کا درس تھا۔ موضوع تھا: المسجد ودورة في حضارة الاسلام وتراث المسلمین۔ انھوں نے اپنے درس کے لئے اس آیت کو بنیاد بنایا؛ انما یعمر مساجد الله من آمن بالله والیوم الآخر واقام الصلاة وآتى الزکوة ولم يخش الا الله فعسى اولئك ان يكونو من المهتدين (التوبة )

مسجد کے بارہ میں انھوں نے مختلف تفصیلات بتائیں۔ انھوں نے بتایا کہ گستاولی بان نے لکھا ہے کہ مسجد مسلمانوں کے لئے مرکز حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ بات یقیناً درست ہے۔ مگر اکثر لوگ مرکز حیات کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد کے اندر ہر قسم کی سرگرمیاں جاری ہوں۔ حتی کہ مسجد کے اندر قید خا بھی موجود نہ ہو۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمام ظاہری نوعیت کی چیزیں ہیں۔ مسجد اصلاح خشیت الہی کی تربیت کا مرکز ہے۔ مسجد سے لوگوں کو سب سے زیادہ جو چیز ملنی چاہئے وہ یہی خشیت اور تقویٰ کی غذا ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم الرفاعی نہایت سلجھے ہوئے ذہن کے آدمی ہیں۔ انھوں نے مغربی دنیا اور مسلم دنیا کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے لوگوں کی طاقت یہ ہے کہ وہ تنقید کو برداشت کرتے ان کو ان کی غلطی بتائی جائے تو وہ اس کا اعتراف کر لیتے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ تنقید کو سننے کے لئے تیار نہیں۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے (هم يعترفون بخطاياهم ونحن لا نعترف بخطايا نا)، یہی وجہ ہے کہ ہر قسم کے امکانات کے باوجود مسلم دنیا خائب و خاسر بنی ہوئی ہے۔

رباط سے ایک عربی اخبار العلم (جاری شده 1946) نکلتا ہے۔ یہ حزب الاستقلال کا اس کا شمارہ 19 فروری 1994 دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک رپورٹ چھپی ہوئی تھی جس کا عنوان تھا ـــــــــ مصر : حرب بين السلطة والاسلامیین۔ یعنی مصر میں ارباب اقتدار اور اسلام پسندوں کے درمیان جنگ۔ ایک اور خبر میں بتایا گیا تھا کہ حکومت الجزائر نے پاکستان اور ایران پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ الجزائر کے اسلام پسندوں کو مسلح کر رہے ہیں (الجزائر: اتهام باكستان و ايران بتسليح الاسلاميين )

میں سمجھتا ہوں کہ جو مسلمان نفاذِ اسلام کے نام پر حکمرانوں سے مسلح جنگ چھیڑے ہوئے ہیں

وہ دور جدید کا سب سے بڑا جرم کر رہے ہیں۔ یہی وہ نادانی ہے جس نے موجودہ زمانہ میں اسلام کی دعوت کا راستہ روک رکھا ہے۔ یہ برائی جس دن ختم ہوگی اسی دن اسلام کی اشاعت کے دروازے کھل جائیں گے۔

۲۰ فروری کو ایک نوجوان ملاقات کے لئے آئے۔ ان کا نام الهیله لی مصدق ہے۔ الحیله لی ان کا خاندانی نام ہے جو عام رواج کے خلاف شروع میں لکھا جاتا ہے۔ یہ نوجوان جدیدہ الھائے (رباط) کے نمائندہ تھے۔ انھوں نے الرائے کے لئے انٹرویو لیا۔ سوالات زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے دینی اور سیاسی مسائل سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک سوال یہ تھا کہ : ماھی نصيحتكم الى الشباب المسلم (مسلم نوجوانوں کے لئے آپ کی نصیحت کیا ہے)۔ میں نے کہا کہ میری نصیحت صرف ایک ہے۔ وہ سیاست سے دور رہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔

الحیله لی مصدق نے الاسلام یتحدی اور بعض دوسری عربی کتابیں پڑھی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مغرب (مراکو) میں خاص طور پر الاسلام یتحدی بہت پھیلی ہے۔ انھوں نے کہا کہ رباط میں ہم مسلم نوجوانوں کو اکٹھا کریں گے، آپ وہاں چل کر انھیں خطاب کریں۔ مگر بعض وجوہ سے میں اس کے لئے وقت نہ

مجھے یہ دیکھ کر تعجب تھا کہ مراکو کے بیشتر تعلیم یافتہ حضرات الاسلام یتحدی سے واقف ہیں اور اس کو پڑھے ہوئے ہیں۔ اس کا راز استاذ محمد مقرر وزارت الاوقاف کے ذریعہ معلوم ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ الاسلام یتحدی مراکو کے ثانوی مرحلہ کے نصاب میں عرصہ سے داخل ہے۔ اس بنا پر وہ بہت بڑی تعداد میں یہاں بار بار منگوائی گئی اور کثرت سے پھیلی۔ رباط کے ایک نوجوان الحبشی علال نے کہا: حتی لا يكاد یخلو منه بيت . اس طرح کے احساسات بہت سے لوگوں نے بیان کئے ۔ ڈاکٹر محمد فتحی عثمان نے کہا کہ امریکہ میں لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے اور مسیحیت محبت کا مذہب (ان دين الاسلام دين تشدد ودين المسيحية دين حب)

انھوں نے اس غلطی کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ برداشت سے کام لیں اور جذبات میں آکر ایسی کارروائی نہ کریں جس سے خدا کے دین کی تصویر اغیار کی نظر میں بگڑ جائے۔ انھوں نے ایک تقریر میں واضح طور پر کہا کہ آجکل کے اسلام پسند

سلامیین، بدقسمتی سے تشدد کو اسلام کی اقامت کا ذریعہ سمجھ بیٹھے ہیں، اسی کی وجہ سے یہ ساری غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔

یہی بات ڈاکٹر ابراہیم الرفاعی نے کہی۔ انھوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ ہم دوبارہ نبوی اصول کی طرف واپس لوٹیں (لابد من الرجوع الى القاعدة النبوية)

اخوانی فکر کے ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ سلمان رشدی کے قتل کے فتوے کو غلط سمجھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں میری رائے کوئی نئی یا منفرد رائے ایک رائے بلاشبہ وہ ہے جس کو امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں بیان کیا ہے۔ مگر علماء کے درمیان ایک اور رائے بھی موجود ہے۔ چنانچہ مرتد کے بارہ میں اور اس پر قیاس کرتے ہوئے شاتم کے بارہ میں بھی، ابراہیم النخعی اور سفیان الثوری کی رائے یہ ہے کہ اس سے ہمیشہ صرف تو بہ کا تقاضا کیا جائے گا، اس کو قتل نہیں کیا جائے گا (يستتاب ابداً

عمر عبد السلام رباط میں عربی اخبار الشرق الاوسط کے نمائندہ ہیں۔ انھوں نے ۱۹ فروری کو انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے حالات اور معاملات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان جن مسائل سے دوچار ہیں عام طور پر اس کی ذمہ داری ہندوستان کے غیر مسلم فرقہ پر ڈالی جاتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کے واحد ذمہ دار خود مسلمانوں کے نااہل لیڈر ہیں۔ یہ نام نہاد لیڈر اس عربی مثل کے مصداق ثابت ہوئے ہیں :

Printed page