Al-Risala · March 1995

اذا كان الفس آب رئیس قوم سيهديهم الى دار البوار

Al-Risala, March 1995, pp. 33–46

By Maulana Wahiduddin Khan

افغانستان کے بارہ میں سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ جنگجوئی افغانیوں کی قومی صفت ہے۔ یہی ان کے اس مزاج کا مظاہرہ اغیار کے خلاف ہوتا ہے اور کبھی خود اپنوں کے خلاف: و احيانا على بكر اخينا اذا لم نجد الا اخانا ۲۰ فروری کی شام کو شہر کے ایک ہوٹل نزل المارشی میں تعلیم یافتہ عرب نوجوانوں کا ایک اجتماع اس میں شرکت کی ڈھائی گھنٹہ تک ان کے سامنے دین کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی۔

اس اجتماع سے واپسی میں رات کے گیارہ بجے کا وقت ہو گیا ۔ جب میں مقامِ اجتماع سے نکل کر باہر آیا تو سڑک پر مردوں اور عورتوں کی زبردست بھیڑ نظر آئی ۔ میں نے پوچھا کہ آدھی رات کو آخر اتنے زیادہ لوگ کیوں چل رہے ہیں اور یہ کہاں جا رہے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ رمضان میں یہی عرب ملکوں کا دستور ہے ۔ رمضان کی رات کا زیادہ حصہ وہ بازاریں خرید و فروخت میں گزارتے ہیں ۔ کے مسلم محلوں میں بھی اسی قسم کی بھیڑ ہوتی ہے ۔ مگر وہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے ۔ ملکوں میں یہ بھیڑ رمضان کے پورے مہینہ میں جاری رہتی ہے ۔

ایک مجلس میں ایک عالم نے یہ مشہور مقولہ دہرایا : ان للہ عباد ۱۱ذا 11 اراد ۔ کہا کہ یہ بندے وہ ہیں جو اپنے آپ کو اتنا زیادہ مٹاتے ہیں کہ وہ ذاتی خواہش سے بلند ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ خود بھی وہی چاہنے لگتے ہیں جو خدا چاہتا ہے ۔ اور جب ان کی روحانی ترقی کا یہ درجہ آ جائے تو اس کے بعد وہی واقعہ رونما ہوتا ہے جس کا اوپر کے مقولہ میں ذکر ہے ۔ تاہم یہ ایک ایسا لطیف معاملہ ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔

۲۱ فروری کی صبح کو عرب نوجوانوں کا ایک اجتماع ہوا ۔ اس میں دور جدید میں اسلام کے احیاء کے مسائل پر گفتگو ہوئی ۔ ان میں سے ایک عرب ڈاکٹر بھی تھے ۔ انھوں نے کہا کہ میرے بھائی روسی زبان جانتے ہیں اور وہ ماسکو میں رہتے ہیں ۔ انھوں نے ایک روسی ادیب کی مدد سے الرسالہ مشن کی کئی کتابوں کا ترجمہ کیا ہے ۔ انسان اپنے آپ کو پہچان (انگریزی) کا ترجمہ روسی زبان میں وہ چھپوا چکے ہیں ۔ اسی طرح تمام کتابوں کو چھپوانا چاہتے ہیں ۔

دوپہر کو وزارت الاوقاف کے ہال میں مناقشہ ہوا ۔ یہ مناقشہ مجامع مکارم الاخلاق والے مقالہ پر تھا ۔ ڈاکٹر ابراہیم الرمانئی نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام پسندوں نے تشدد کے ذریعہ اسلامی انقلاب لانے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے اس سے رجوع کرنا ضروری ہے ۔ کے بجائے اسلامی تحریک کو دعوت کے اصول پر چلانا چاہئے ۔ اس رجوع کے بغیر اسلام کی تاریخ کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا ۔

شام کو 9 بجے ملک محمد الخامس کی تفریح پر الحفل الدینی" منعقد کیا گیا ۔ یہاں اعیان سلطنت اور اور شرکاء درس بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔ ملک محمد حسن الثانی بھی اس میں موجود تھے ۔

قرآن کی تلاوت ہوئی۔ پھر عربی نعت پڑھی گئی ۔ اس کے بعد دعا پر مجلس برخاست ہوئی۔ ایک گفتگو کے ذیل میں میں نے کچھ عرب حضرات سے کہا کہ عمر ابو ریشہ کی ایک مشہور نظم ہے ۔ وہ جذباتی انداز میں کہتے ہیں کہ اے میری قوم کیا دنیا کی قوموں کے درمیان تلوار یا قلم میں تیرا کوئی مقام

أمَّتى هَلْ لَكِ بَيْنَ الأُمَمِ مِنْبَرٌ لِلسَّيْفِ أَوْ لِلْقَلَمِ میں نے کہا کہ یہ شعر موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کی ترجمانی کر رہا ہے۔ وہ مسلمانوں کو صرف ان کی قومی تاریخ کے اعتبار سے دیکھتے ہیں ۔ قومی تاریخ کے اعتبار سے مسلمان بلند نظر آئیں تو وہ بلند ہیں اور قومی تاریخ کے اعتبار سے وہ پست نظر آئیں تو وہ پست ہیں ۔ یہ مسلم دانشور شعوری طور پر اس سے بے خبر ہو گئے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس ان کی قومی تاریخ کے علاوہ ایک اور چیز ہے ، اور وہ دین تاریخ پستی اور بلندی کا شکار ہوتی ہے ، مگر دین اسلام جو خدا کا محفوظ دین ہے ، وہ اپنی نظریاتی صداقت کے اعتبار سے ہمیشہ بلند رہتا ہے ، اس کے لئے پستی کا کوئی سوال نہیں۔ ۲۲ فروری کی صبح کو کوئی عرب نوجوان میرے کمرہ میں آ گئے ۔ ان سے کئی گھنٹہ تک دینی اور ملی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آخرت میں تین قسم کے لوگ ایک وہ جن کا بدن اور جن کی روح دونوں دنیا میں پاک رہی۔ وہ سیدھے جنت میں داخل کر دئے جائیں گے۔ دوسرے وہ جن کی روح گندی نہیں ہوئی تاہم ان کا جسم بعض اوقات گناہوں سے آلودہ ہوا۔ ایسے لوگوں پر خدا اپنی رحمت کا پانی بہا دے گا ۔ وہ پاک وصاف ہو کر جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو جائیں گے۔ تیسرے وہ لوگ جن کا جسم بھی گندا تھا اور جن کی روح بھی گندی تھی۔ یہ لوگ قابل تزکیہ نہیں ہوں گے۔ وہ جنت میں داخلہ کے لئے نااہل قرار دیدئے جائیں گے۔

آج دوپہر کو وزارة الاوقاف کے ہال میں مناقشہ کی مجلس ہوئی۔ یہ مناقشہ المسجد و دورھا فی الاسلام والے محاضرہ پر تھا۔ اسٹیج پر بولتے ہوئے ایک صاحب نے آیت پڑھی۔ اس کو انھوں نے اس طرح کہا : فلا تقربوا بعد عامهم هذا فوراً ہی حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا تقربو انہیں يقربوا ۔ اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے خدا نے اپنی کتاب کی حفاظت کے لئے

یہ غیر معمولی انتظام کیا ہے کہ ہر جگہ ایسے لوگ کھڑے ہوئے ہیں جو ایک لفظ کی غلطی کو بھی پکڑ لیں اور فوراً اس کی تصحیح کر دیں۔

سینگال کے ایک صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ آجکل المساجد قبل الساجد کے اصول پر عمل کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے ہم کو الساجد قبل المساجد کے اصول پر عمل کرنا یعنی پہلے عبادت کی روح لوگوں کے اندر پیدا کرنا چاہئے، اس کے بعد مسجدیں اپنے آپ بن جائیں گی۔

انڈونیشیا کے الاستاذ مسلم نے کہا کہ ادخال غیر المسلمین فی المسجد حرام۔ انھوں نے کہا کہ فقہاء اس معاملہ میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں : انما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا۔ مگر اس آیت سے یہ مسئلہ نہیں نکلتا۔ اس آیت میں "مشرکین" سے مراد ساری دنیا کی مشرک کمیونٹی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ مشرکین ہیں جن پر خدا کے پیغمبر نے اتمام حجت کی حد تک دعوت پہنچائی۔ اس کے باوجود انھوں نے حق کو نہیں مانا یہاں تک کہ سنت اللہ کے مطابق ان کے استیصال کا فیصلہ کیا گیا۔

ایک صاحب نے ایک عربی مقولہ سنایا: معرفة الرجال كنز (آدمیوں کو پہچاننا ایک خزانہ ہے)

رباط کے عربی ہفت روزہ الرائے کے مراسل المحیلہ لى مصدق نے بوسنیا کے صدر علی عزت بیگو فنتش کی کتاب کا عربی ترجمہ البیان الاسلامی دیا۔ اس تقریب سے ان سے جہاد اسلامی کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ آجکل مسلمان جگہ جگہ لڑ رہے ہیں اور اس کو جہاد کا نام مگر جہاد کی ایک لازمی شرط ہے، اس شرط کے بغیر جو حربی اقدام کیا جائے وہ شرعی اعتبار سے جہاد نہیں ہوگا۔ وہ شرط قرآن کی اس آیت میں ہے: واعد والهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل ترهبون به عدو الله وعدوكم ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد سے پہلے اعداد (تیاری) ضروری ہے۔ اس کا معیار ہے ۔ اعداد الى حد الارھاب۔ میں نے کہا کہ موجودہ مجاہدین نے کیا ارھاب کی حد تک تیاری کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں میں نے کہا کہ جب شرط ہی پوری نہ گئی ہو تو وہ جہاد کیسے ہو جائے گا۔ کیا وضو کی شرط پوری کئے بغیر

دئی نماز شرعی نماز ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر حسن محمد الفاتح قریب اللہ سوڈان کی جامعہ ام درمان میں استاد ہیں۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ آپ تو لیبیا میں رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں، میں تو دہلی میں رہتا ہوں۔ نے کہا کہ مجھ سے ایک شخص نے کہا کہ آپ لیبیا میں رہتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں کتنی غیر ذمہ داری لوگوں کے اندر آگئی ہے۔ کسی کے بارہ میں کوئی بھی الٹی بات کہنے میں کوئی ہرج نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ زبان کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ بعض باتیں آدمی کو جہنم میں پہنچا دیتی ہیں۔

۲ فروری کی شام کو تمام لوگ والی رباط (گورنر رباط) کی رہائش گاہ پر لے جائے گئے جہاں عالی کی طرف سے افطار کا انتظام تھا۔ ہم لوگ پہنچے تو افطار کے سامان سے میز بھری ہوئی تھی۔ کے بعد نماز با جماعت ادا کی گئی۔ اس کے بعد لوگ ایک کمرہ میں بیٹھ کر دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اس کے بعد تین بار کھاتے کے سامان سے میز لبریز کی گئی۔ حسب عادت میں نے چند سادہ چیزیں مقدار میں کھائیں، ہر ایک کی پلیٹ میں، بریڈ رکھی جانے لگی۔ میں نے دکتور ابراہیم الرفاعی سے کہا کہ نصف لی ونصف لك اور ان کی بریڈ میں سے آدھا لے لیا۔ اس کے بعد میں روٹی اور سلاد ملا کر دھیرے دھیرے کھاتا رہا۔ ڈاکٹر حسن محمد الفاتح قریب اللہ (سوڈان) مجھ سے نزدیک کی کرسی پر تھے، آخر میں انھوں نے کہا کہ آپ تو کھانے ہی نہیں۔

کھانے کی بڑی میز پر مختلف قسم کے کھانے جمع تھے۔ لوگ کھا رہے تھے اور تفریحی باتیں کر رہے تھے۔ میں نہ ان کی ہنسی میں شریک ہو سکا اور نہ ان کی باتوں میں۔ میں بس خاموش بیٹھا ہوا دکتور احمد علی الامام (مدیر جامعہ ام درمان ، سوڈان) بھی قریب ہی تھے۔ وہ دیر تک میری حالت دیکھتے رہے۔ اس کے بعد میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور یہ عربی شعر پڑھا : وحيد من الخلان فى كل مـهـمـه اذ اعظم المطلوب قل المساعد ایک بار کھانے سے فراغت کے بعد کچھ عرب علماء بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک مصری کو نعتیں یاد تھیں انھوں نے مختلف عربی نعتیں سنانا شروع کیا۔ میں سنتا رہا۔ آخر میں میں نے کہا کہ یہ نعتیں جو آپ نے سنائی ہیں وہ سب کی سب لفظی تعریف کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میں آپ کو ایک اور نعت سناتا ہوں

جو پیغمبر کی معنوی تعریف میں ہے ۔ یہ ایک برطانی مستشرق اسی کیفیت کی منشور نعت ہے۔ کم از کم ایا بارہ میں میں کہہ سکتا ہوں کہ اردو ، فارسی ، عربی میں نعتیہ اشعار کا جو ذخیرہ ہے ، یہ نعت ان سب پر یہ منشور نعت انگریزی میں ہے ، اس کا عربی ترجمہ یہ ہے : محمد و اجه الصعوبات بعزم ان يعصر الفوز من الفشل۔

ایک مجلس میں ایک عرب عالم نے کہا کہ آج کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ ہمارے درمیان عز الدین عبد السلام جیسے علماء موجود نہیں جن کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ : اذا خرج خرجت الامة كلها (جب وہ نکلے تو پوری امت ان کے ساتھ نکل پڑی)

میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ آج بھی ہمارے یہاں بہت سے علماء پیدا ہوئے۔ حسن البنا ۱۹۴۸ میں یہ کہہ کر اٹھے کہ لبيك يا فلسطين تو ان کے ساتھ مصری قوم سڑکوں پر انڈیا میں مولانا محمد علی جوہر نے خلافت کا نعرہ لگایا تو تمام مسلمان ان کے پیچھے چل پڑے الجزائرمیں کچھ علماء نے استعمار سے آزادی کا نعرہ دیا تو لاکھوں لوگ گولی کھانے کے لئے تیار

اصل یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں جب کوئی عالم ایک کام کے لئے اٹھتا تو اس کے عمل کا نتیجہ برآمد موجودہ زمانہ میں جو علماء اٹھے ان کی کوششیں مکمل طور پر بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔ لوگوں کی کمزوری یہ ہے کہ وہ نتیجہ عالم کے فقدان کو خود عالم کے فقدان پر محمول کر رہے ہیں۔ حالانکہ جو چیز مفقود ہے نتیجہ عالم ہے نہ کہ عالم۔

ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے اپنا نام العمرانی بتایا۔ وہ مرا کو ریڈیو کے دفتر سے بول انھوں نے کہا کہ روزانہ ہم ریڈیو پر آپ کی ٹاک رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ رمضان کے آخر مہینہ تک میں یہاں رہوں گا۔ میں نے معذرت کی۔ میں نے کہا کہ اب تو میرا جانے کا وقت اب میں آپ کی فرمائش پوری نہیں کر سکتا۔

۲۳ فروری کو کوئی پروگرام نہیں تھا۔ سارے دن ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ملاقاتیں زیادہ تر عرب نوجوانوں سے ہوئیں۔ ایک نوجوان نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے مسائل و مشکلات کے بارہ میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ موجودہ حالات کو دوسرے لوگ مشکلات کا نام

دیتے ہیں مگر میں ان کو چیلنج کہتا ہوں۔ اور چیلنج ہمیشہ فرد یا قوم کی صلاحیتوں کو ابھارنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ حالات مسلمانوں کے لئے نئی کامیابی کا زینہ ہیں۔ شام کو تمام شرکاء جنرل قادری کی رہائش گاہ پر لے جائے گئے۔ یہاں افطار کا انتظام تھا۔ تک افطار کا سلسلہ جاری رہا۔ لوگ ذوق وشوق کے ساتھ کھاتے رہے اور تفریحی باتیں کرتے یہاں تک کہ ایک شخص نے اعلان کیا کہ مغرب کی نماز پڑھنے کے لئے آجائیں۔ ایک عرب عالم نے اٹھتے ہوئے کہا: ما اكلنا لا یمضم الا بالصلاة ۔

ہندستان میں جہاں کہیں پڑھے لکھے لوگ جمع ہوتے ہیں تو زیادہ تر وہ تفریحی باتیں کرتے اگر کسی علمی نکتہ کا ذکر آتا ہے تو وہ بھی تفریح کے انداز میں۔ یہاں بھی تقریب یہی حال تھا، اس فرق کے ساتھ کہ ہندستان میں اردو میں تفریحی باتیں ہوتی ہیں اور یہاں عربی میں۔ میز پر کیلا یا تو ایک صاحب نے اس کو ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا : الامام مالک كان يحب الموز۔ صاحب نے کہا کہ وہ کیلے کو بھی پسند کرتے اور موت کو بھی۔

ایک لبنانی عالم تھے۔ انھوں نے کہا کہ و يحمل عرش ربك يومئذ ثمانية (الحاقه) میں ثمانیہ سے مراد آٹھ پہاڑ ہیں، ان میں سے ایک لبنان کا پہاڑ ہے۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ تفسیر غلط ہے۔ لبنانی بزرگ نے کہا کہ ہم تو کتابوں میں جو پڑھتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ راسخون في العلم يؤمنون بہ۔ تفریح کے موڈ میں ان کو یاد نہیں رہا کہ آیت میں ایمان سے مراد قرآن پر ایمان ہے نہ کہ تفسیری حاشیوں پر ایمان۔

ایک مجلس میں چند علماء بیٹھے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر ابراہیم الرفاعی نے ایک مراکشی عالم سے میرا تعارف کرانا چاہا۔ انھوں نے کہا: ان کو کون نہیں جانتا ان کی کتابیں تو اسلامی بیداری کی تمہید ہیں۔ (كتبه مقدمة الصحوة)

۲۴ فروری کی صبح کو فجر کی نماز ادا کی تو ذہن پر یہ خیال طاری تھا کہ کل صبح کو مجھ کو یہاں سے روانہ ہونا ہے۔ نماز کے بعد دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ زبان پر آگئے: رب ادخلنی مدخل صدق و اخرجنی مخرج صدق و اجعل لى من لدنك سلطانا نصيرا (اے میرے رب، مجھ کو داخل کر سچا داخل اور مجھ کو نکال سچا نکالنا۔ اور مجھ کو اپنے پاس سے مددگار قوت عطا فرما)، بنی اسرائیل ۸۰

۲۴ فروری کو استاذ التلمامی الراجی الہاشمی کا درس تھا۔ اس کا موضوع تھا : القرأت المتواترة والوقف القیروانی۔ انھوں نے الترمذی میں انس ابن مالک کی اس روایت کو عنوان بنایا تھا کہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قرأ أن النفس بالنفس والعین بالعين (المائدة) انھوں نے خالص فنی انداز میں قرآن میں اختلاف قرأت اور اختلاف وقف کے اوپر روشنی

درس کے فوراً بعد افطار کے لیے جانا تھا۔ یہ افطار قصر ملکی کے جنرل کی رہائش گاہ پر تھا۔ عرب کے عام دستور کے مطابق بے شمار قسم کے کھانے وافر مقدار میں میزوں پر سجائے ہوئے تھے۔ سوا چھ بجے افطار شروع ہوا۔ واپس فندق میں آئے تو رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے۔ سب سے پہلے انواع واقسام کی چیزوں سے افطار کیا گیا جو پورے کھانے کے برابر تھا۔ کھانے کے دوران لوگ طرح طرح کی تفریحی باتیں کرتے رہے۔ آدمی پانی کی ٹرے لے کر آیا تو ایک صاحب نے کہا : الماء لمن طلب۔ دوسرے نے کہا الحلیب لمن حلب۔ اس طرح تفریحی باتوں کے درمیان لوگ کھاتے رہے۔ اس کے بعد مغرب کی نماز کا اعلان ہوا تو ایک صاحب نے کہا : مااك لا یہضم الا بالصلاة۔

مغرب کی نماز کے بعد ایک بڑے کمرہ میں نشست ہوئی۔ یہاں لوگوں کے اوپر عطر چھڑکا گیا۔ مختلف قاریوں نے قرآن کی تلاوت کی۔ ایک قاری نے اقرأ باسم ربك الذي خلق۔ کو سات قرأتوں کے ساتھ پڑھ کر سنایا۔ ایک بار دو قاریوں نے مل کر کورس کی صورت میں قرآن کے کچھ حصے پڑھے۔ کسی نے یمن کی قرأت سنائی، کسی نے مغرب کی اور کسی نے مصر کی۔ اس کے بعد کھانے کا دور شروع ہوا۔ ایک کے بعد ایک تین بڑی بڑی ٹرے میں لا کر ہر میز پر گوشت رکھ دیا گیا۔ میں تو گوشت کا ایک ریزہ بھی نہ لے سکا۔ تاہم لوگ نہایت ذوق وشوق کے ساتھ کھاتے رہے۔ حمامہ (کبوتر) کی ٹرے آئی تو ہر شخص نے ایک ایک مسلم کبوتر اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھ لی۔ ایک صاحب نے کہا : كل د احد بجغام دوسرے صاحب نے کہا : فكل انسان طائره في عنقه میں اپنی کرسی پر بیٹھا ہوا صرف کھانے والوں کا منظر دیکھتا رہا۔ ہر بار گوشت اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ کافی کھانے کے بعد بھی بہت زیادہ بچ جاتا تھا۔

عربوں میں بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جن کو الرسالہ مشن سے گہری عرب نوجوانوں کا ایک حلقہ ہے جس نے ایک درجن سے زیادہ کتابوں کا عربی ترجمہ کرایا ہے۔ اور ان کو قاہرہ سے شائع کیا ہے۔ یہ لوگ ایک اردو داں عالم کی مدد سے ہر ماہ اردو الرسالہ کا مکمل ترجمہ عربی میں کراتے ہیں اور پھر اس کو اجتماعی طور پر پڑھتے ہیں۔ اس حلقہ کے کئی نوجوان رباط آئے۔ کئی دن تک ان سے اسلام اور الرسالہ مشن کے بارہ میں گفتگو ہوتی رہی۔

ڈاکٹر عبد الصبور شاہین (قاہرہ) نے ۲۴ فروری کی ملاقات میں کہا کہ جمال عبد الناصر اقتدار پانے سے پہلے ایک اخوانی تھا۔ اس کی پرورش اخوان کے اندر ہوئی، اس کے بعد اس نے خیانت کی جمال عبد الناصر رُباتی فی الاخوان ثم خان) انھوں نے بتایا کہ ناصر کے ساتھی حسن تہامی کی شہادت ہے کہ ناصر کافر تھا وہ منکر تھا۔ عبد الصبور شاہین نے کہا کہ ناصر بیسویں صدی کا سب سے بڑا دشمن اسلام تھا۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی باتوں کو پہلے میں اہمیت دیتا تھا، مگر اب میں ایسی باتیں سنتا ہوں تو میں اس کو اہمیت نہیں دے پاتا۔ اس کا سبب میرا ذاتی تجربہ ہے۔ میں نے کہا کہ یہی اسلام پسند لوگ میرے رہ میں کہتے ہیں کہ میں اسلام دشمنوں کا ایجنٹ ہوں۔ میں اسلام دشمن طاقتوں سے پیسے لیتا ہوں ۔ حالاں کہ یہ باتیں سراسر جھوٹ اور اتہام ہیں۔ میں جو کچھ کہتا ہوں صرف قرآن و سنت کے مطالعہ کی بنیاد پر کہتا ہوں، کسی بھی دوسرے شخص یا گروہ کے اشارہ پر ہرگز نہیں کہتا ہوں۔ اس ذاتی تجربہ سے میں نے جانا کہ لوگ اپنے مخالفین کے بارہ میں کتنی زیادہ بے بنیاد بات کہہ سکتے ہیں۔ اس لئے اب میں وہی بات مانتا ہوں جس کا مجھے خود براہ راست علم حاصل ہوا ہو۔

مراکو کے کچھ نوجوانوں نے ایک دینی اور اصلاحی تنظیم قائم کی ہے۔ اس کا نام ہے: حركة الإصلاح والتجديد المغربية - ایک نوجوان نے اس کا ۴ صفحہ کا میثاق دیا۔ اس کا دسواں قاعدہ التعاون مع الغير لمصلحة المسلمين - اس کے تحت درج تھا : ان التعاون على تحقيق الخير قد يتجاوز دائرة الإسلاميين ليشمل غيرهم من الطاقات الفاعلة في البلد على أن تحكم ذلك التعاون مصلحة راجحة للإسلام . وما لم يستلزم ذلك مفسدة أكبر مصداقا لقول الرسول صلى الله عليه وسلم - لقد شهدت في دار عبد الله بن جدعان حلفا ما أحب أن لي به حمر النعم - ولو دعيت به في الإسلام لأجبت )

۲۵ فروری کی صبح کور باط سے واپسی تھی۔ فجر کی نماز پڑھ کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا تو یہ الفاظ زبان پر آگئے : خدایا آپ ہی مجھ کو خیریت کے ساتھ دہلی سے مراکو لے آئے۔ اب آپ ہی مجھ کو خیریت کے ساتھ دوبارہ دہلی پہنچائیں گے۔ آپ ہی نے مجھ کو پیدا کر کے دنیا میں رکھا، آپ ہی مجھ کو آخرت میں خیریت کے ساتھ داخل کریں گے۔

روانہ ہوا تو خیال آیا کہ سفر میں روزہ رہ کیوں تاکہ ناغہ نہ ہو۔ پھر یہ حدیث یاد آئی کہ لیس من البر الصيام في السفر۔ چنانچہ میں نے ۲۵ فروری کو روزہ نہیں رکھا۔ البتہ ۲۶ فروری کی صبح آئی تو روزہ کی نیت کرلی۔

۲۵ فروری کی صبح کو واپسی تھی۔ ہوٹل سے ایئر پورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ ڈاکٹر نا براہیم الرفاعی کا ساتھ رہا۔ وہ بیک وقت علمی اور صوفیانہ مزاج کے آدمی ہیں۔ اتفاق سے یہی میرا مزاج بھی ہے۔ چنانچہ راستہ میں اسی قسم کی باتیں ہوتی رہیں۔ ایئر پورٹ پہنچے تو میرے ساتھ حسب معمول صرف ایک بیگ تھا۔ اس کو دیکھ کر انہوں نے کہا : فاز المخفقون۔

الدار البضاء (کیسابلانکا) سے پیرس کے لئے ایرماک، فلائٹ ۳۸۰ کے ذریعہ روانگی ہوئی راستہ میں مختلف چیزیں پڑھیں۔ نیوز ویک (۲۸ فروری ۱۹۹۴) کی کور اسٹوری کا عنوان تھا : A child's diary of war. ایک تیرہ سالہ لڑکی (Zlata Filipovic) بوسنیا کے شہر سراجیو (Sarajevo) میں رہتی تھی، اب وہ پیرس میں ہے۔ اس نے سراجیو میں ڈائری لکھنا شروع کیا۔ اس کی یہ ڈائری حال ہی میں امریکہ سے چھپی ہے۔ اس میں اس نے اپنے احساسات درج کئے ہیں جو پڑھنے کے قابل ہیں۔ کا ایک تاثر انگریزی میں اس طرح نقل کیا گیا تھا کہ سرب، کرواٹ اور مسلمان سب ایک قوم کے سیاست کیوں ہم کو الگ کر رہی ہے۔ یہ سیاست بڑی عمر کے لوگ چلا رہے ہیں۔ نو جوان اس کو زیادہ بہتر طور پر چلا سکتے ہیں :

Serbs, Croats and Muslims—they are all people. Why is politics separating us. Politics are conducted by grown-ups. We young would do it better. (12) اس ڈائری کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ بوسنیا میں اسی قسم کی سیاست چلائی گئی جو برصغیر ہند میں چلائی

کئی مسلم لیڈروں نے تقسیم ہند کی تحریک چلائی۔ اس کے جواب میں اکھنڈ بھارت کی تحریک چلی۔ کے نتیجہ میں جو گرمی پیدا ہوئی اس نے ہندوستان کو جھلس کر رکھ دیا۔ ٹھیک یہی بوسنیا میں بھی پیش آیا۔ راستہ میں ایئر انڈیا کا فلائٹ میگزین (جنوری۔ فروری ۱۹۹۴) دیکھا۔ اس کے صفحہ ۱۰ پر یہ جاذب سرخی تھی ـــــــــ سمائی ٹیلی فون (sky phone) اس سرخی کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ دنیا آپ کی انگلی کے تحت (The world at your tip) اس میں بتایا گیا تھا کہ ایئر انڈیا کے بوئنگ جہاز میں سفر کرتے ہوئے آپ سمائی ٹیلی فون کے ذریعہ دنیا کے کسی بھی مقام پر ٹیلی فون کر سکتے ہیں: On the Boeing 747-400, you can call anywhere around the globe, using ان سطروں کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ موجودہ زمانہ میں اس قسم کے مشینی واقعات گویا قدرت الہی کا ہمارا عقیدہ ہے کہ ساری کائنات خدا کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ ہر جگہ جو چاہتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے اپنے حکم کی تنفیذ کر رہا ہے۔ یہ عظیم واقعہ کیوں کر انجام پاتا ہے، موجودہ مشینی ترقیاں اسی کا ابتدائی سطح پر امکانی تعارف ہیں۔

اگر آپ نقشہ پر دیکھیں تو کیسا بلانکا سے دہلی آنے کے لئے سیدھا راستہ اس طرح ہے ـــــــــ کیسا بلانکا ، طرابلس ، اسکندریہ ، کویت ، بندر عباس ، دہلی۔ مگر میں کیسا لنکا سے پیرس جا رہا ہوں۔ یہ گویا الٹی طرف سفر ہے۔ پھر پیرس سے میں دہلی کے لئے فلائٹ لوں گا۔ یہ مسلم دنیا کے بچھڑے پن کی قیمت ہے۔ کیوں کہ مناسب پرواز مجھے پیرس ہی سے مل سکتی ہے۔ کیسا بلانکا (الدار البیضاء) سے پیرس جاتے ہوئے ہمارا جہاز اسپین کے اوپر سے گزرا۔ اسپین کے تصور سے ماضی کی تاریخ کی بہت سی باتیں تازہ ہو گئیں۔ اسپین میں مسلمانوں کا دور ایک بے حد پر از واقعات دور تھا۔ شاید کسی بھی دوسرے مقام سے اتنے زیادہ اسلامی واقعات وابستہ نہیں ہیں جتنا کہ اسپین سے وابستہ ہیں۔ اسپین میں تقریباً ہر قسم کے واقعات موجود ہیں۔ وہ بذات خود ایک مکمل تاریخ ہے۔ تاہم اس وقت میں مسلم اسپین کے بارے میں کچھ نہیں لکھوں گا۔ کیوں کہ جلد ہی ان شاء اللہ اسپین کے لیے میرا ایک سفر ہوگا۔ اس وقت سفر نامہ اسپین کے تحت ان شاء اللہ اس کا تذکرہ کیا جائے گا۔

انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون (۲۵ فروری) دیکھا۔ اس کے ایڈورٹائزمنٹ سیکشن میں نصف صفحہ کویت کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ خلیج کی جنگ کے بعد کویت کس طرح دوبارہ معمول پر آ گیا ہے اور ترقی کی طرف اپنا سفر طے کر رہا ہے ۔ اس دنیا میں نقصانات پیش آتے ہیں، مگر اسی کے ساتھ دنیا میں یہ امکان بھی وافر مقدار میں موجود ہے کہ اگر ہمت اور منصوبہ بندی سے کام لیا جائے تو ہر نقصان نئے عظیم تر فائدہ کا زینہ بن جاتا ہے۔ اخبار میں نئے کویت کی جو تصویریں دی گئی تھیں ان میں سے ایک مسجد بھی تھی جو جدید کویت کے اوپر گویا خدائی نگراں کے طور پر کھڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔

مذکورہ ٹریبیون کی ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ بوسنیا کے مسلمان اور کرواٹ دونوں کے نمائندے واشنگٹن میں اس ہفتہ کے آخر میں ملنے والے ہیں تاکہ بوسنیا میں مشترکہ دو قومی ریاست (unified bi-national Bosnian state) کی تجویز پر گفتگو کر سکیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ بوسنیا کے لوگوں نے زندگی کا یہ راز پا لیا ہے — یک بعد از خرابی بسیار ۔

ہر زبان میں ایک مقام اور دوسرے مقام کے لہجے میں فرق ہوتا ہے۔ یہی معاملہ عربی زبان کا بھی مرا کو مغربی سمت میں عرب دنیا کا بعید ترین ملک ہے۔ چنانچہ یہاں آتے آتے لہجہ کا فرق آخری حد تک مختلف ہو گیا ہے۔ یہاں کے علماء ہم لوگوں سے فصیح زبان میں بولتے تھے۔ اس لئے ان کی بات تو بخوبی سمجھ میں آتی تھی۔ مگر عوام کی بولی سمجھنا میرے لئے سخت مشکل تھا۔ عوام کی سطح پر یہاں کا عربی لہجہ اتنا زیادہ مختلف ہے کہ جب ایک شخص بولتا ہے اگرچہ وہ عربی بول رہا ہوتا ہے مگر کتابی عربی جاننے والے کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی غیر زبان بول مثلاً میرے ساتھ جو سائق تھا، اس نے اپنا نام لبدوی محمد بتایا۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ لبدوی اصل میں البدوی ہے۔ سائق جب کچھ کہتا تو مشکل سے اس کا کوئی لفظ میری سمجھ میں میں صرف اندازہ سے سمجھتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ مثلاً ایک بار جب مجھے درس میں شرکت کے لئے شاہی قصر میں جانا تھا، میں نے ایک صاحب کی بابت پوچھا۔ سائق (ڈرائِیور) نے کہا: ماش کافی سوچنے کے بعد سمجھ میں آیا کہ وہ کہہ رہا ہے: منشی یعنی وہ چلے گئے۔ یہ قرآن کی طاقت تھی جس نے عربی زبان کو سابقہ حالت پر باقی رکھا۔ ورنہ اب تک عربی زبان بگڑ کر کچھ سے کچھ ہوگئی ہوتی۔ بلکہ لہجوں میں تقسیم ہوتے ہوتے وہ کئی الگ الگ زبان کی صورت اختیار

کیسابلانکا سے آنے والے جہاز نے مجھ کو اور لی مقامی ایئرپورٹ، پر اتارا تھا۔ اس کے بعد مجھ کو چارلس ڈیگال انٹرنیشنل ایئرپورٹ، پر جانا تھا۔ دونوں ایئرپورٹ کے درمیان کافی فاصلہ تاہم ایئر فرانس کی طرف سے ہر وقت بس آتی جاتی رہتی ہے۔ ایئرپورٹ کے باہر آکر میں نے یہ بس پکڑی اور اس کے بعد چارلس ڈیگال ایئرپورٹ آگیا۔ یہاں سے ایئر انڈیا کی فلائٹ ۱۴ کے ذریعہ دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ نان اسٹاپ فلائٹ تھی۔ پیرس سے دہلی تک ۲۹۵ ۴ کلومیٹر کا سفر تقریباً ۸ اٹھ گھنٹہ میں طے ہوا۔

پیرس ایئرپورٹ پر فرانسیسی پولیس نے میرا پاسپورٹ لے لیا اور مجھ کو انٹروگیشن کے کمرہ میں لے گئی۔ وہاں پہنچا تو ایک اور داڑھی والے مسلمان کو پولیس نے بٹھا رکھا تھا۔ بعد معلوم ہوا کہ وہ مرا کو کے بن حماد مولای عمر ہیں جو کہ کلیته الآداب والعلوم الانسانيه (المحمدیه) میں

تعارف کے بعد وہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس الاسلام تجدی کے دو نسخے ہیں۔ میں نے اس کو بار بار پڑھا ہے اور اپنی تقریروں میں اس سے بہت کام لیتا ہوں۔ فرانسیسی پولیس نے میری ایک ایک چیز کی نہایت مکمل جانچ کی۔ اور دیر تک مجھے ائیر پورٹ پر روکے رکھا۔ مذکورہ مراکشی عالم سے میں نے پوچھا کہ آخر یہ لوگ اتنی سخت جانچ کیوں کر رہے ہیں۔ پہلے تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ خود اپنے کچھ لوگوں کی نادانی کے نتیجہ میں ایسا پیش آیا ہے۔ مسلمان ان کے ملکوں میں تخریبی کارروائی کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو وہ مشتبہ سمجھ لیتے ہیں۔ اسی کی قیمت ادا کر رہے ہیں (نحن نؤدی الثمن)

پیرس سے دہلی کے راستہ میں مختلف پرچے دیکھے۔ الشرق الاوسط (۲۵ فروری) میں صفحہ پر ایک مضمون کا عنوان تھا : الاخرون تعلموا من مصائبنا، فمتى نتعلم دو سروں نے ہماری مصیبتوں سے سبق لیا، پھر ہم کب سبق لیں گے، اسی طرح ادارتی نوٹ کا عنوان ان لفظوں میں تھا: الحرب الباردة وهبا تھاما الساخنة (سرد جنگ اور اس کے گرم جھونکے) اس کو پڑھ کر خیال آیا کہ آجکل ہر مسلم اخبار ، خواہ وہ کسی زبان میں ہو، اسی قسم کی شکایتی باتوں کا مجموعہ ہو۔ موجودہ زمانہ کی مسلم صحافت فریاد اور احتجاج کی صحافت بن کر رہ گئی ہے۔ یہ پیرس سے دہلی تک کی نان اسٹاپ فلائٹ تھی۔ تقریبا آٹھ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد ۲۶ فروری ۱۹۹۴ کی صبح کو جہاز دہلی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ جہاز سے باہر آیا تو کسٹم کے ہال میں بہت بڑی تعداد میں لوگ اپنے بھاری سامانوس کے ساتھ مختلف کھڑکیوں پر کھڑے میرے ساتھ دستی بیگ کے سوا کوئی سامان نہ تھا۔ چنانچہ میں کسی حساب کتاب کے بغیر چلتا ہوا ائیر پورٹ کے باہر آگیا۔

Printed page