Al-Risala · March 1995

خبر نامه اسملامی مرکز - ۱۰۲

Al-Risala, March 1995, pp. 47–49

By Maulana Wahiduddin Khan

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کی طرف سے مظفر نگر میں مسلمانوں کے لئے ریویوشن اور ایجوکیشن کے موضوع پر ایک سیمینار ۲۳ اکتوبر ۱۹۹۴ کو ہوا، اس میں صدر اسلامی مرکز نے چیف گیسٹ کی حیثیت سے شرکت کی اور تعلیم کے موضوع پر خطاب کیا۔ مظفر نگر میں حاجی عقیل احمد صاحب کے مکان پر قیام تھا۔ یہاں متعدد تعلیم یافتہ اصحاب سے ملی مسائل پر

انگریزی اخبار ایشین ایج کی نمائندہ مسز مینل باگھیل نے ۲۵ اکتوبر ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا سوالات کا تعلق زیادہ تر بابری مسجد اجودھیا کے بارہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ ۲۳ اکتوبر سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ صدارتی ریفرنس کو واپس کر کے سپریم کورٹ نے اپنے آپ کو اس معاملہ میں شمولیت سے بچالیا اور معاملہ کو گویا دوبارہ حکومت کے حوالے کر دیا:

It is like throwing the ball back into the government's court. ہفت روزہ نئی دنیا کے نمائندہ مسٹر جمال فہمی نے ۲۷ اکتوبر ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا سوالات کا تعلق زیادہ تر بابری مسجد اشو پر صدارتی ریفرنس کے بارہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اس میں ضمنی امور پر تو فیصلہ دیا گیا مگر اصل مسئلہ بدستور برقرار ہے۔ یعنی یہ کہ کیا بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی۔ پروفیسر جیمز پسکاٹوری (James Piscatori) نیو یارک کی کونسل آن فارین ریلیشنز میں سینئر فیلو ہیں۔ وہ مسلم پالیٹکس پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ ۲۸ اکتوبر ۱۹۹۴ کو وہ مرکز میں آئے اور اس موضوع پر صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام مغرب کے لئے خطرہ نہیں ہے۔ البتہ کچھ پر جوش مسلمان اپنی نادان کارروائیوں سے مغرب کے لئے بعض مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ آپ کو چاہئے کہ اسلام اور مسلمانوں کو الگ کر کے دیکھیں ۔ موصوف کا ایک خط لا ہے جو اگلے صفحہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

I write to thank you ever so much for kindly seeing me when I was briefly in Delhi. It was an honour to have met you after having read so many of your important works. I learned a great deal from our discussion, and I was especially pleased to have your thoughts on my project. I do agree with you that a distinction ought to be drawn between "political Islam", which does not really exist, and "political Muslims", who do. I hope you will not mind if I stay in touch. I would very much like to meet you again n my next visit. With my warm thanks again for your hospitality and assistance, and very best wishes to you. With my warm than- wishes to you. ام الرسائل مارچ ۱۹۶۵

صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ، ۲۷۷ اکتوبر ۱۹۹۴ء کر آل انڈیا ریڈریو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔ تقریر کا عنوان تھا: تصوف اور تہذیب نفس۔

بڑودہ میں ۱۳ نومبر ۱۹۹۴ء کو ریلیجن اینڈ سوسائٹی کے موضوع پر ایک آل انڈیا سیمینار ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس سے خطاب کیا۔ روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔

محمد اقبال صاحب (اندور) لکھتے ہیں: الرسالہ اکتوبر ۱۹۹۴ء میں آپ نے اپنے دلائل، خصوصاً مولانا مودودی، مولانا علی میاں، مولانا حسین احمد مدنی کی جو تحریریں پیش کی ہیں ان کے بعد اگر کوئی نہ مانے تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ ورنہ بات تو پایہ تحقیق کو پہنچ چکی اور اتمام حجت ہو چکا۔ کچھ حضرات نے توجہ دلائی ہے کہ الرسالہ مشن کی مخالفت میں جو کتابیں چھاپی جارہی ہیں ان کا جواب دیا جائے ۔ مگر یہ کتابیں اتنی لغو ہیں کہ ان کا جواب دینا وقت ضائع کرنا ہے۔ مثال کے طور پر ایک کتاب چھپی ہے۔ "مولانا وحید الدین کی فکری قلابازیاں"۔ کے صفحہ ۷۰ پر "میوات کا سفر" نامی کتاب کا ذکر کرتے ہوئے درج ہے کہ "مولانا صاحب صاحب لکھتے ہیں کہ الجمعیۃ ویکلی کی ادارت کے زمانہ میں مجھے میوات جانے اور وہاں کے حالات کا قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ اس اقتباس کے بعد اس میں لکھا ہے کہ "بات پوری نہیں ہوتی۔ آگے کا جملہ یہ کہ .... :" آگے کا جملہ یہ ہے کہ "لکھ کو جو سطریں درج ہیں وہ سراسر جھوٹ ہیں۔ اصل کتاب (میوات کا سفر) میں ایسی کوئی بات سرے سے موجود

بھارتیہ ودیا بھون کے نمائندہ مسٹر پی ورڈ راجن ۱۰ نومبر ۱۹۹۴ء کو صدر اسلامی مرکز اور اسکول کے بچوں کے لئے ایک ایسی ریڈ تیار کرنے کی فرمائش کی جس میں اسلامی شخصیتوں کے پچیس اخلاقی واقعات سادہ انداز میں بیان کئے گئے ہوں۔ انگریزی زبان میں ہوگی۔

اسفار ہند کے نام سے ایک کتاب ترتیب کے آخری مرحلہ میں ہے۔ یہ کتاب گویا سفروں کی صورت میں ملک کے اندر دعوتی اور تعمیری امکانات کا ایک مطالعہ ہے۔

Printed page