رسالہ اپریل ۱۹۹۵ء
Al-Risala, April 1995, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسلامی زندگی کا جو نقشہ پیش کیا گیا ہے، وہ وسیع تر تقسیم میں صرف دو ہے۔ ایک وہ جو روحانی ماڈل پر مبنی ہے۔ دوسرا وہ جو نظامی ماڈل پر مبنی ہے۔ لفظوں میں ان کو ربانی ماڈل اور سیاسی ماڈل کہا جاسکتا ہے۔
ربانی ماڈل میں اسلام کے داخلی تقاضوں پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں انفرادی شخصیت کی تعمیر کو ساری اہمیت حاصل ہے۔ اس میں صدۂ البعد ہر بتہ کے پہلو کو سب سے زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔ میں معرفتِ خداوندی کی غذا ہے۔ اس میں حکمت کی روشنی ہے۔ اس میں اللہ سے ڈرنے اور اللہ سے محبت کرنے کے تجربات ہیں۔ اس میں جہنم سے بھاگنا اور جنت کی طرف دوڑنا ہے۔ اس میں آنکھوں سے آنسو نکلنا اور جسم کے رونگٹے کھڑے ہونا ہے۔ ربانی ماڈل میں اپنا احتساب ہے۔ بولنے سے زیادہ چپ رہنا ہے۔ حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں پر نظر رکھنا ہے۔ دنیا میں کھو کر آخرت میں پانا ہے۔ نفرت کے جواب میں محبت اور بدخواہی کے بدلے میں خیر خواہی ہے۔ لوگوں کی زیادتیوں پر معاف کرنا اور ستانے والوں کے حق میں دعا کرنا ہے۔
اس کے مقابلہ میں سیاسی ماڈل تمام تر خارجی نقشوں پر قائم ہے۔ وہ بظاہر داخلی الفاظ بھی بولتا ہے مگر عملاً اس کی ساری تو جہ زندگی کے بیرونی ڈھانچہ کے گرد گھومتی ہے۔ سیاسی ماڈل میں سماجی اور قانونی مسائل پر بحثیں ہیں۔ حکومتوں سے ٹکراؤ کرنا ہے۔ اقتدار پر قبضہ کرنے کے منصوبے ہیں۔ کے نام پر گن کلچر چلانا ہے۔ انسان کو دشمن اور دوست کے خانوں میں بانٹنا ہے۔ محبت کے بجائے نفرت کو فروغ دینا ہے۔ امن کے بجائے تشدد کے طریقہ کو رائج کرنا ہے۔ ربانی ماڈل کا فوکس اگر آخرت ہے تو سیاسی ماڈل کا فوکس صرف دُنیا۔
تاہم ربانی ماڈل ہی سچا اسلامی ماڈل ہے سیاسی ماڈل اسلام میں بالکل اجنبی ہے۔ کو اختیار کرنے والے لوگ وقتی طور پر کچھ دنیوی چیزیں حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر آخرت کی ابدی دنیا میں وہ بالکل بے قیمت ہو جائیں گے۔ آخرت میں انہیں لوگوں کو عزت اور مقام ملے گا جو اسلام کے ربانی ماڈل کو اختیار کریں۔