افغانستان: ایک جائزہ
Al-Risala, April 1995, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
اکتوبر ۱۹۸۸ میں راقم الحروف نے افغانستان کا سفر کیا تھا۔ اس کے بعد میں نے ایک مفصل سفر نامہ لکھا تھا جو دو قسطوں میں الرساله فروری ۔ مارچ ۱۹۸۹ میں شائع ہو چکا ہے ۔ اس وقت افغانستان کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا: "مجھے اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ اگر بالفرض روسی اثر و نفوذ افغانستان سے ختم ہو جائے تب بھی یہاں کا اصل مسئلہ ختم ہونے والا نہیں۔ کیوں کہ افغانوں کا عدم برداشت کا مزاج جو اس وقت روسیوں یا روس نواز افغانی حکومت کے خلاف کام کر رہا ہے، وہی بعد کو خود اپنے لوگوں کے خلاف کام کرنے لگے گا۔ اس دنیا میں کامیابی کار از برداشت ہے، (اور وہ افغانوں کے اندر موجود نہیں)، افغانستان کے سر سبز علاقے اس وقت اجڑے ہوئے صحرا کا منظر پیش تمام قربانیوں کے باوجود افغانستان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ مجاہدین کا حال یہ ہے کہ وہ سات گروپ میں بٹے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے مستقبل کے نقشے کے بارہ میں ان کے درمیان اتفاق نہیں۔ افغانی مجاہدین کے پاس پولیٹیکل لیڈر شپ نام کی کوئی چیز موجود نہیں ۔ جیسا کہ ڈاکٹر نلسن منڈیلا کی صورت میں ساؤتھ افریقہ میں موجود تھی) اس سلسلہ میں ایک رپورٹر Mujahideen and other rebel groups based in Afghanistan, Pakistan (Peshawar) and Iran Hezb-i-Islami (faction no. one)