Al-Risala · April 1995

Gulbuddin Hekmatyar

Al-Risala, April 1995, pp. 15–19

By Maulana Wahiduddin Khan

Hezb-i-Islami (faction no. two)

Ahmed Shah Masood General Rashid Dostam Sibatullah Mojadeddo - head of Provincial government in Pakistan, not supported by Syed Amed Gilani Maulvi Mohammed Nadi Mohammedl Commander Abdul Haq Jammat-i-Islami - Burhanuddin Rabbani

نے قندھار کے ملا نقیب اللہ سے گفت گو کی۔ ان کا جواب یہ تھا کہ صدر نجیب اللہ کے چلے جانے کے بعد ہم ایک کونسل بنائیں گے تاکہ تمام افغانی مل کر یہ فیصلہ کریں کہ ملک کے اوپر کون حکومت کرے۔ جہاں دور جدید جہد میں اتحاد نہ ہو، وہاں دو ر اقتدار میں اتحاد اور بھی زیادہ نا ممکن ہو جاتا ہے۔ مگر افغانی لیڈروں کو اس کی خبر نہیں۔ (الرسالہ مارچ ۱۹۸۹ء، صفحہ ۳۲-۳۴) یہ بات راقم الحروف نے ۱۹۸۸ میں لکھی تھی جب کہ تمام دنیا کے مسلمان افغانی جنگ سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے۔ اب یہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ افغانستان میں آزادی حاصل ہو جانے کے بعد بھی تباہ کن لڑائی جاری ہے تو وہ سخت پریشان ہوتے ہیں۔ کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ اس کو اسلامی جہاد سمجھ رہے تھے۔ مگر راقم الحروف کے لئے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ کیوں کہ میرے نزدیک افغانستان کی جنگ ایک قبائلی جنگ تھی۔ یہ جنگ ان کے یہاں روسی فوجوں کے داخلہ کے بہت پہلے سے جاری ہے۔

مسلم فوجوں نے ۶۴۲ء میں ساسانی سلطنت کو شکست دی جس کی سرحدیں افغانستان تک پھیلی اس کے بعد انھوں نے افغانستان کا رخ کیا، مگر مخصوص حالات کی بنا پر ان کو صرف عارضی کامیابی جن شہروں نے مسلم فوجوں کے مقابلہ میں اطاعت قبول کی وہاں جلد ہی ان کے خلاف بغاوت ابھر آئی۔ نویں اور دسویں صدی میں کئی مقامی سلطنتیں وجود میں آگئیں۔ شروع میں وہ خلیفہ بغداد کے ماتحت تھے۔ میں انھوں نے بغداد سے علیحدگی اختیار کرلی۔ تا ہم بہت کم ایسا ہو اگر ان کے درمیان لڑائی جاری نہ ہو۔ کی حالت یہ رہی کہ یا تو باہر کی طاقت سے ٹکراؤ ، اور اگر باہر کی طاقت نہ ہو تو آپس میں ٹکراؤ۔ افغانی لوگ بیشتر جاہل ہیں۔ وہ اس کو فخر سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کی ماتحتی کو قبول نہ کریں۔ ان کی سب سے بڑی کم زوری ہے۔ ایک ہزار انسانوں میں ۹۹۹ آدمی جب ماتحت بننے پر راضی ہوتے ہیں، تب ایک شخص کی لیڈر شپ قائم ہوتی ہے۔ جہاں ہر آدمی کے اندر سرداری کا مزاج ہو وہاں نہ لیڈر شپ وجود میں آئے گی اور نہ اتحاد اور استحکام قائم ہوگا۔ دراز سے اپنے اسی مزاج کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ اگلے صفحہ پر ایک نقشہ دیا جا رہا ہے، اس سے اندازہ ہوگا کہ افغانستان میں اقتدار کی جنگ نے کس طرح عدم استحکام کی صورت پیدا کر رکھی ہے۔

۱۹۱۹ امیر حبیب اللہ خاں اعتدال پسند پالیسی کی بنا پر انتہا پسند افغانوں نے انہیں قتل اس کے بعد ان کے لڑکے امان اللہ خاں افغانستان کے تخت پر بیٹھے۔ جنوری ۱۹۲۹ ملک میں خانہ جنگی۔ امان اللہ خاں کو جلا وطن ہو کر اٹلی جانا پڑا۔ اس کے بعد حبیب اللہ غازی نے افغانستان کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔

اکتوبر ۱۹۲۹ حبیب اللہ غازی کو اولاً تخت سے معزول اور اس کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بعد قبائل کے مشورہ پر محمد نادر شاہ کو افغانستان کا حکمران بنایا گیا۔ نومبر ۱۹۳۳ محمد نادر شاہ کو ناراض گروپ نے قتل کر دیا۔ اس کے بعد ان کے ۱۹ سالہ لڑکے محمد ظاہر شاہ کو افغانستان کے تخت پر بٹھایا گیا۔

جولائی ۱۹۷۳ وزیر دفاع سردار محمد داؤد خاں نے فوجی بغاوت کے ذریعہ محمد ظاہر شاہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اور افغانستان کی حکومت پر قابض ہو گئے۔ ظاہر شاہ کو روم بھیج دیا گیا۔ مئی ۱۹۷۸ کرنل عبدالقادر کی قیادت میں افغانی فوج نے سردار محمد داؤد کے خلاف بغاوت کر دی۔ ان کو مع اہل خاندان قتل کر دیا گیا ۔ اشتراکی لیڈر نور محمد ترکی افغانستان کے حکمران بن گئے۔ اگست ۱۹۷۸ کرنل عبدالقادر کو حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ اور اس کے بعد عمر قید کی سزا ہوئی۔

ستمبر ۱۹۷۹ محل کے اندر لڑائی میں نور محمد ترکی کو گولی لگی۔ بعد کو وہ ماسکو کے ایک اسپتال میں مر گئے۔ اس کے بعد حفیظ اللہ امین کو افغانستان کا صدر بنایا گیا۔

دسمبر ۱۹۷۹ افغانستان پر سوویت یونین کا حملہ ۔ حفیظ اللہ امین مار ڈالے گئے۔ ان کے کئی رشتہ داروں کو بھی قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد ببرک کار مال افغانستان کے صدر مقرر ہوئے۔ مئی ۱۹۸۶ ڈاکٹر نجیب اللہ نے فوجیوں کی مدد سے بغاوت کر کے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ ببرک کار مال کو اقتدار سے ہٹا دیا اور ان کو علاج کے نام پر جبراً ماسکو بھیج دیا۔ ۱۵ فروری ۱۹۸۹ کو سوویت یونین کا آخری فوجی دستہ افغانستان سے واپس چلا گیا۔

اپریل ۱۹۹۲ باغی مجاہدین نے کابل پر قبضہ کر کے ڈاکٹر نجیب اللہ کو گرفتار کر لیا۔ ڈاکٹر نجیب اللہ اقتدار سے بے دخل کر کے علیحدہ کر دئے گئے، جنرل نبی عظیمی کی قیادت میں مجاہدین کی کونسل کا قیام۔ جون ۱۹۹۲ ۲۸ اپریل کو صبغۃ اللہ مجددی نے افغانستان کے کارگزار صدر مقرر ہوئے تھے۔ ۱۹۹۲ کو انہوں نے استعفا دیدیا۔ اس کے بعد برہان الدین ربانی مجاہدین کی عارضی حکومت کے صدر بنے۔

افغانستان میں اصل تقسیم اسلام اور غیر اسلام کی نہیں ہے۔ بلکہ اصل تقسیم نسلی اور قبائلی ہے۔ لوگوں کی وفاداریاں اپنے اپنے نسلی گروپ سے وابستہ ہیں۔ اس وقت افغانستان میں چار بڑے نسلی گروہ ہیں ۔ پشتون، تاجک، ہزارہ، ازبک۔ موجودہ افغانستان عملاً انہیں چار گروہوں میں بٹا ہوا ہے۔ ملکی مفہوم میں وہاں کوئی افغانی حکومت موجود نہیں ہے۔ بلکہ ہر گروہ اپنے اپنے علاقے میں تسلط قائم کئے ہوئے ہے۔ ملاحظہ ہو نقشہ ذیل۔ ۲۶ اپریل ۱۹۹۲ کے اخبارات کی اہم ترین سرخی یہ تھی ۔ مجاہدین نے کابل پر قبضہ کرلیا (Mujahideen take over Kabul)

اس طرح بظاہر ۱۳ سالہ جنگ کا خاتمہ ہوگیا۔ مگر جنگ کا یہ خاتمہ مسائل کا خاتمہ نہیں۔ ایک مبصر کے الفاظ میں، یہاں بندوقیں تو بہت زیادہ ہیں۔ مگر زندگی کی ضرورت کی تمام چیزیں المناک حد تک کم ہیں :

(in this country) guns are plentiful but everything needed to support human existence is woefully short. اقتصادی کمزوری کسی قوم کو ہر اعتبار سے کمزور کر دیتی ہے۔ اقتصادی بدحالی کی دلدل سے نکلنے کا واحد ذریعہ دانش مند قیادت ہے۔ افغانستان کی تعمیر نو کے لئے افغانستان کو اسی حکمت کی

ضرورت تھی جس کو دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان کے لیڈروں نے معکوس عمل ( ریورس کورس ) کے عنوان سے اپنایا تھا۔ یعنی جنگ کا ذہن ختم کر کے کامل طور پر امن کا طریقہ اختیار کرنا۔ مگر افغانی قوم اپنے جنگ جوئی کے مزاج کی بنا پر ایسا نہ کر سکی۔ چنانچہ ملک بدستور امن سے محروم رہا۔ ڈاکٹر نجیب اللہ تقریبا چھ سال تک افغانستان کے حکمراں تھے۔ افغان مجاہدین کے مسلسل حملوں کے بعد آخر کار ۱۴ اپریل ۱۹۹۲ کو انھوں نے اقتدار کی کرسی مجاہدین کے لئے خالی کر دی اور کابل کے صدارتی محل کو چھوڑ کر چلے گئے۔ روسی فوجوں کے افغانستان میں داخلہ (دسمبر ۱۹۷۹) کے بعد پچھلے تقریبا ۴ا سال کی جنگ میں ۲۰ لاکھ افغانی ہلاک ہو گئے۔ اس دوران جو دوسرے نقصانات ہوئے ان کی مقدار اس سے بھی زیادہ ہے۔

ڈاکٹر نجیب اللہ کے ہٹنے کے بعد اقوام متحدہ کے نمائندہ بنان سیلون (Benon Seven) کا بل پہنچ گئے۔ وہ مسلسل کوشش کرتے رہے کہ کابل میں افغانی مجاہدین کے مختلف گروپ کی ایک مشترک کونسل بنائی جائے۔ وہ عارضی طور پر افغانستان کا اقتدار سنبھال لے۔ پھر اس کی رہنمائی میں الیکشن ہو اور جو لوگ عوام کی رائے سے چنے جائیں وہ اگلی مدت کے لئے افغانستان پر حکومت

مگر اقوام متحدہ کے نمائندہ اور دوسرے بہی خواہوں (بشمول پاکستان) کی کوششیں نا کام یہاں تک کہ ۲۷ اپریل ۱۹۹۲ کے اخبارات یہ خبر لائے کہ کابل میں خود مجاہدین کے دو گروپ گلبدین حکمت یار کی جمعیت اسلامی اور احمد شاہ مسعود کی حزب المجاہدین میں گھمسان کی لڑائی اسٹیشنین (۲۷ اپریل) نے با معنی طور پر اس کی یہ سرخی لگائی ــــــــــ کابل میں اقتدار کی جنگ :

Printed page