Battle for power in Kabul.
Al-Risala, April 1995, pp. 19–23
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ افغانی جنگ جوؤں کی لڑائی ان کے قبائلی مزاج کا نتیجہ تھی۔ تاہم یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ پچھلے تیرہ سال کے دوران روس کے براہ راست یا بالواسطہ تدخل نے انھیں یہ موقع دیدیا کہ وہ اپنی اس جنگ کو خالص اسلامی جہاد کا عنوان دے سکیں۔ مگر روسی فوجوں کی واپسی اور ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے خاتمہ کے بعد اب وہ حالات ختم ہو گئے۔ نئی صورتحال یہ ثابت کر رہی ہے کہ
ان کا معاملہ دراصل وہی معاملہ ہے جس کی تصویر قدیم عرب شاعر کے اس شعر میں ملتی ہے کہ کبھی ہم اپنے بھائی بکر پر حملہ کر دیتے ہیں جب کہ اپنے بھائی کے سوا کوئی اور موجود نہ ہو : واحيانا على بكر اخينا اذا مالم نجد الا اخانا حقیقی اسلامی جہاد فتح سے پہلے اگر ”اشداء علی الکفار“ کا نمونہ ہوتا ہے تو فتح کے بعد وہ ”رحماء بینہم“ کا نمونہ بن جاتا ہے۔ یہی صفت کسی جہاد کو تاریخ ساز عمل بناتی ہے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اصحاب رسول جو اغیار سے لڑائی کے مقابلہ میں بے لچک مجاہد بنے ہوئے تھے ، فتح کے بعد اپنوں کے لئے وہ سراپا نرم بن گئے۔
اس جہاد میں دو بڑے گروہ ، مہاجرین اور انصار شریک تھے۔ فتح کے بعد سیاسی اقتدار تمام تر مہاجرین کے قبضہ میں دیدیا گیا۔ انصار کو نہ امیر بنایا گیا اور نہ وزیر۔ مگر وہ اپنی اس ”سیاسی محرومی“ پر راضی رہے یہاں تک کہ ایک ایک کر کے اس دنیا سے چلے گئے اور کسی نے بغاوت نہیں کی۔ افغانستان کے ”مجاہدین“ میں اس کے برعکس منظر دکھائی دیتا ہے۔ اس سے پہلے وہ بیرونی دشمن سے لڑ رہے تھے۔ مگر جب بیرونی دشمن چلا گیا تو اب وہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی کر کے خود آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ہر افغان لیڈر سیاسی منصب پر فائز ہونا چاہتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی محرومی کے لئے راضی نہیں۔
۲۶ اپریل ۱۹۹۲ کو افغانی مجاہدین نے کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔ روسی فوجیں مکمل طور پر افغانستان سے واپس چلی گئی تھیں۔ اب پورا ملک افغانیوں کے اپنے قبضہ میں تھا۔ اب ملک کے اندر مکمل امن قائم ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ چوں کہ افغانستان میں کوئی واحد لیڈر شپ موجود نہ تھی، اس لئے بہت سے دعویدار پیدا ہو گئے جن کا خیال تھا کہ ان کو حق ہے کہ وہ افغانستان پر اپنی سرداری ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے حق میں دست بردار ہونے کے لئے تیار نہ تھا۔ خود افغانی لیڈروں کے درمیان اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی۔
امریکہ نے تمام جنگجو گروہوں کو بڑی مقدار میں ہتھیار دئے تھے۔ یہ ہتھیار جو پہلے روسی فوجوں کے خلاف استعمال ہوتے تھے ، اب وہ آپس کی لڑائی میں استعمال ہونے لگے۔ کابل اور دوسرے مقامات پر راکٹوں کی بارش شروع ہوگئی۔ اس صورتحال کا اندازہ کرنے کے لئے اگلے صفحہ پر کچھ اخباری سرخیاں نقل کی جاتی ہیں :
احمد شاہ مسعود اور حکمت یار کے مجاہدین میں لڑائی چھڑ گئی، زبردست فائرنگ کابل فتح ہوگیا، حکمت یار اور احمد شاہ مسعود میں ٹھن گئی حکمت یار کی پوزیشنوں پر سعود فضائیہ کی بمباری، مشین گنیں گولیاں اگلتی رہیں کابل پر راکٹوں اور توپوں کے گولوں کی بارش، گزشتہ ہفتہ کی لڑائی سے زیادہ شدید کابل پر حملہ، حزب اسلامی شہر پر راکٹ اور گولے برسا رہی ہے کابل میں شدید لڑائی، ۹۰ منٹ کے اندر کابل پر ۶۵ سے زاید راکٹ برسائے گئے کابل میں دست بدست لڑائی، پرانا شہر ملبہ کا ڈھیر بن چکا ہے افغان طیاروں کی حزب اسلامی کے ٹھکانوں پر شدید بمباری، کابل پر تین ہزار راکٹ گرے راکٹوں اور کلسٹر بموں نے کابل کو خوں میں نہلا دیا، لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی ہیں کابل میں گھمسان کی جنگ، نصف شب تک راکٹوں کے شدید حملے کابل شہر اور ایئر پورٹ پر راکٹوں اور گولوں کی بارش، ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی کابل پر راکٹوں کی بارش، بھاری گولہ باری سے دور تک دھواں ہی دھواں سارا دن راکٹ اور میزائل آبادیوں پر بارش کی طرح برستے رہے، کابل میں عام لوٹ مار افغان قوم کا خود کشی کرنے کا عزم بالجزم (تجزیہ) کابل پر راکٹوں کی بارش، شدید جنگ اور انسانی جانوں کا ضیاع کابل میں رات بکھر شدید گولہ باری، سڑک پر نکلنا موت کے برابر کابل پر شدید گولہ باری، ہر طرف خون ہی خون بھر گیا کابل کی سڑکیں لہولہان ہوگئیں، ۱۲۰ ملی میٹر دہانے کی توپوں سے گولہ باری کابل پر راکٹوں کی بارش، سو افراد ہلاک و زخمی، عمارتوں کو کافی نقصان کابل پر ایک بار پھر راکٹوں اور توپوں سے حملہ کابل میں بدترین لڑائی، سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں، دو گھنٹے میں شہر پر تین سو راکٹ گرے کابل کی نئی لڑائی میں ایک ہزار افراد ہلاک و زخمی، بازاروں پر شدید گولہ باری کابل شہر پر راکٹوں کی بارش، جلتی ہوئی عمارتوں کے دھوئیں سے آسمان سیاہ ہو گیا حزب وحدت اور ربانی کی فوجوں میں شدید لڑائی، مغربی کابل میں پچاس راکٹ گرے حکمت یار اور ربانی کی فوجوں کے درمیان گھمسان کی جنگ اور خون ریزی نوائے وقت، ۲۱ اپریل ۱۹۹۲ نوائے وقت، ۲۶ اپریل ۱۹۹۲ نوائے وقت، ۲۸ اپریل ۱۹۹۲ نوائے وقت، ۵ مئی ۱۹۹۲ نوائے وقت، ۹ اگست ۱۹۹۲ نوائے وقت، ۱۱ اگست ۱۹۹۲ نوائے وقت، ۱۲ اگست ۱۹۹۲ نوائے وقت، ۱۳ اگست ۱۹۹۲ نوائے وقت، ۱۴ اگست ۱۹۹۲ نوائے وقت، ۱۸ اگست ۱۹۹۲ نوائے وقت، ۱۹ اگست ۱۹۹۲ جسارت، ۲۵ اگست ۱۹۹۲ نوائے وقت، ۲۸ اگست ۱۹۹۲ نوائے وقت، یکم ستمبر ۱۹۹۲ وفاق ہم فروری ۱۹۹۳ نوائے وقت، ۵ فروری ۱۹۹۳ نوائے وقت، یکم مارچ ۱۹۹۳ نوائے وقت، ۱۰ مارچ ۱۹۹۳ نوائے وقت، یکم اپریل ۱۹۹۲ نوائے وقت، ۴ مئی ۱۹۹۳ نوائے وقت، ۱۳ مئی ۱۹۹۳ نوائے وقت، ۱۴ مئی ۱۹۹۳ نوائے وقت، ۱۵ مئی ۱۹۹۳ نوائے وقت، ۲۶ جون ۱۹۹۳ قومی آواز، ۱ نومبر ۱۹۹۳
مئی ۱۹۹۲ کے تیسرے ہفتہ میں حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے درمیان کئی بار ملاقات کا پروگرام بنا مگر ملاقات نہ ہوسکی ۔ جنرل عبد الرشید دوستم کو صبغۃ اللہ مجددی کی حکومت نے ترقی دے کر مکمل جنرل (full general) بنا دیا۔ اب حکمت یار اور جنرل دوستم کے درمیان لڑائی چھڑ گئی ۔ چودہ سال کے سول وار کے بعد افغانستان میں دو ملین افغانی مر گئے ۔ تین ملین افغانی زخمی یا ناکارہ ہوگئے اور چھ ملین افغانی رفیوجی ہو گئے (ہندوستان ٹائمس ۲۴ مئی ۱۹۹۲) صبغۃ اللہ مجددی ۲۸ اپریل ۱۹۹۲ کو نئے افغانستان کے کار گزار (caretaker) صدر مقرر دو مہینہ بعد ۲۸ جون ۱۹۹۲ کو انھوں نے استعفا دے دیا۔ اس کے بعد برہان الدین ربانی عارضی حکومت کے صدر مقرر ہوئے ۔
المجلۃ ایک ممتاز عربی ہفت روزہ ہے ۔ وہ جدہ میں چھپتا ہے اور لندن سے شائع ہوتا ہے ۔ اس کے شمارہ ۵ - ۱۱ اگست ۱۹۹۲ (۲-۱۳ صفر ۱۴۱۳ھ) میں صفحہ ۳۰ - ۳۱ پر ایک رپورٹ افغانستان کے بارہ میں چھپی ہے ۔ اس کا عنوان ہے افغانی قوم سب سے زیادہ خسارہ میں (الشعب اکبر الخاسرین)، اس رپورٹ کا خلاصہ اس کے ان لفظوں میں بیان ہوا ہے : الحرب لم تتوقف أبداً فى أفغانستان افغانستان میں جنگ بالکل بند نہیں ہوئی ۔ و المعارك اليوم هي بين فصائل وہاں مجاہدین کی مختلف جماعتوں کے درمیان المجاهدين الذين يتقاتلون معرکے جاری ہیں جو کہ اقتدار کی کرسی کے على كرسى السلطة بعد أن سقطت لئے آپس میں لڑرہے ہیں ، جب کہ افغانستان عنها رموز النظام الشيوعى السابق میں سابق اشتراکیت نواز حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔
آزادی حاصل ہونے کے باوجود کابل پر راکٹوں کی بارش نے ہر جگہ مسلمانوں کو بے چین کر دیا۔ افغانی لیڈر پہلے عمرہ کے لئے مکہ لے جائے گئے اور وہاں ان کی ملاقات سعودی ذمہ داروں سے ہوئی۔ اس کے بعد اگست ۱۹۹۲ میں وہ لوگ اسلام آباد میں اکٹھا ہوئے۔ وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ کئی روز تک بات چیت ہوئی۔ مختلف افغانی لیڈروں کے درمیان وہ معاہدہ طے پایا جس کو معاہدہ اسلام آباد کہا جاتا ہے۔
لاہور کے اخبار نوائے وقت (۳۰ اگست ۱۹۹۲) کی صفحہ اول کی پہلی سرخی یہ تھی: ربانی اور حکمت یار میں معاہدہ ، جنگ بندی کر دی گئی۔ لاہور کے دوسرے اخبار وفاق (۳۰ اگست ۱۹۹۲) نے ان الفاظ میں سرخی قائم کی: کابل میں پائیدار امن کا معاہدہ طے پایا۔ وفاق (۳۰ اگست ۱۹۹۲) کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے ایک بیان میں کہا: افغانستان میں جنگ بندی پاکستان کا شاندار کارنامہ ہے۔
دنیا بھر کے مسلم پریس نے اس معاہدہ کو غیر معمولی اہمیت دی۔ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوة (۲۴ ذی الحجہ ۱۴۱۲ھ) نے ایک رپورٹ چھاپی جس کا عنوان یہ تھا کہ دنیا آج زمین پر ایک نئی اسلامی حکومت کے قیام کا مشاہدہ کر رہی ہے (العالم يشهد اليوم قيام دولة اسلامية حديثة على الارض)۔