Al-Risala · April 1995

معاہدہ اسلام آباد کا مکمل متن

Al-Risala, April 1995, pp. 23–27

By Maulana Wahiduddin Khan

افغان رہنماؤں میں جو معاہدہ اسلام آباد میں ہوا ہے اس کا متن درج ذیل ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر سر تسلیم خم کرتے ہیں اور قرآن حکیم اور سنت سے رہنمائی حاصل کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

ہم اس موقع پر غیر ملکی تسلط کے خلاف افغان عوام کے عظیم الشان جہاد کی شاندار کامیابی یاد کرتے ہیں۔

ہم اس بات کے خواہشمند ہیں کہ افغان عوام کے لئے اس عظیم الشان جہاد کے ثمرات یعنی امن ، ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جائے۔

ہم مسلح جدوجہد ختم کرنے پر متفق ہیں۔

ہم وسیع البنیاد اسلامی حکومت کے قیام کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں، جن میں مسلم افغان معاشرہ کے تمام طبقوں، گروپوں اور پارٹیوں کی نمائندگی ہو تاکہ پر امن نظم و ضبط اور استحکام کے ماحول میں سیاسی عمل میں پیش رفت ہو سکے۔

ہم افغانستان کے اتحاد خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے پابند ہیں۔ ہم افغانستان کی تعمیر نو آبادکاری اور تمام افغان مہاجرین کی سہولت کے ساتھ واپسی کی فوری

ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں ۔

ہم علاقہ میں امن اور سلامتی کو فروغ دینے کے پابند ہیں۔ ہم نے خادم حرمین شریفین شاہ فہد بن عبد العزیز کی اس خواہش پر لبیک کہا ہے کہ افغان بھائی تمام اختلافات پر امن مذاکرات کے ذریعہ حل کریں۔

ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے تعمیری کردار اور افغانستان میں فروغ امن اور مفاہمت کے لئے ان کی مخلصانہ کوششوں کو سرا ہتے ہیں۔ ہم ان کوششوں کی خاطر مملکت سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مثبت حمایت کرتے ہیں جنھوں نے اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمت کے مذاکرات میں اپنے خصوصی نمائندے

انھوں نے عظیم الشان جہاد کے ثمرات کو مستحکم کرنے کے لئے ہم علیحدہ علیحدہ اور مشترکہ طور پر طویل مذاکرات کئے۔

تمام متعلقہ پارٹیاں اور گروپ حسب ذیل امور پر متفق ہیں۔

۱۸ ماہ کے لئے حکومت کی تشکیل جس میں برہان الدین ربانی صدر رہیں گے اور انجینئر گلبدین حکمت یار یا ان کے نمائندے سے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔ وزیر اعظم اور ان کی کا بینہ جو باہمی مشورے سے تشکیل دی جائے گی ، کے اختیارات اس معاہدہ کا ایک حصہ ہوں گے جو علیحدہ دئے گئے ہیں۔

وزیر اعظم اس معاہدہ پر دستخط ہونے کے دو ہفتے کے اندر صدر اور مجاہدین کی جماعتوں کے رہنماؤں کے مشورہ سے کا بینہ تشکیل دیں گے ۔

حسب ذیل انتخابی طریقہ کار پر سمجھوتہ ہو گیا ہے جس پر ۸ ماہ میں عملدرآمد کیا جائے گا۔ اور اس مدت کا آغاز ۲۹ دسمبر ۹۲ سے ہوگا۔

تمام جماعتیں باہم مل کر ایک آزاد اور با اختیار الیکشن کمیشن فوری طور پر تشکیل دیں گی ۔ الیکشن کمیشن کو اس معاہدہ پر دستخط کی تاریخ سے ۸ ماہ کے اندر دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے کا اختیار دیا جائے گا۔

ج - اس طرح منتخب شدہ عظیم دستور ساز اسمبلی ایک آئین مرتب کرے گی جس کے تحت مذکورہ ۱۸ ماہ کی مقررہ مدت میں صدر اور پارلیمنٹ کے لئے عام انتخابات ہوں گے۔

د - ہر پارٹی کے دو ارکان پر مشتمل دفاعی کونسل قائم کی جائے گی:

الف - جو قومی فوج تیار کرے گی۔

ب - جو تمام پارٹیوں اور ذرائع سے بھاری اسلحہ واپس لے گی اور یہ اسلحہ کابل اور دوسرے شہروں سے دور منتقل کیا جائے تاکہ دارالحکومت کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ ت - اس بات کو یقینی بنائے گی کہ افغانستان میں تمام سڑکیں عام استعمال کے قابل رہیں۔ ث - اس بات کو یقینی بنائے گی کہ نجی فوج یا مسلح افراد کو سرکاری فنڈ سے مالی امداد نہ دی جائے۔ ج - مسلح جدوجہد کے دوران حکومت اور مختلف جماعتوں نے جن افغان باشندوں کو گرفتار کیا ہے انہیں فوراً غیر مشروط طور پر رہا کر دیا جائے گا۔

ح - جنگ کے دوران مختلف مسلح گروہوں نے جن سرکاری اور نجی عمارتوں، رہائشی علاقوں اور جائداد وغیرہ پر قبضہ کیا ہے وہ ان کے اصل مالکان کو واپس کر دی جائیں گی۔ بے گھر ہونے والے افراد کی ان کے متعلقہ گھروں اور مقامات پر واپسی کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں گے۔ خ - مالیاتی نظام اور کرنسی کے قواعد و ضوابط کی نگرانی کے لئے ایک کل جماعتی کمیٹی قائم کی جائے گی تاکہ انہیں موجودہ افغان بنکنگ کے قوانین اور ضوابط کے ہم آہنگ بنایا جاسکے۔ م - کابل شہر میں خوراک، ایندھن اور ضروری اشیاء کی تقسیم کی نگرانی کے لئے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی۔

ن - جنگ بندی پر فوری طور پر عمل ہوگا۔ کابینہ کی تشکیل کے بعد جارحانہ کارروائیاں مستقل طور پر ختم ہو جائیں گی۔

و - جنگ بندی اور جارحانہ کارروائیوں کے خاتمہ کی نگرانی کے لئے اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) اور تمام افغان جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیشن قائم کیا جائے گا۔ مذکورہ معاہدہ کو منظور کرتے ہوئے حسب ذیل رہنماؤں نے ۷ مارچ ۱۹۹۳ بروز اتوار اسلام آباد پاکستان میں دستخط کئے ۔ پروفیسر برہان الدین ربانی، جمعیت اسلامی، صدر اسلامی مملکت

انجینئر گلبدین حکمت یار، حزب اسلامی۔ مولوی محمد نبی محمدی، حرکت انقلاب اسلامی۔ پروفیسر صبغت اللہ مجددی، جبہ نجات ملی۔ پیر سید احمد گیلانی، محاذ ملی۔ انجینئر احمد شاہ احمد زئی، شیخ آصف محسنی، حرکت اسلامی۔ آیت اللہ فاضل، حزب وحدت اسلامی۔

یہ معاہدہ امن افغانی قوم کے مزاج کے مطابق نہ تھا۔ وہ بس پکڑ دھکڑ کر کیا گیا تھا۔ کے جلد ہی بعد وہ خونیں لڑائی دوبارہ جاری ہو گئی جو اس معاہدہ سے پہلے جاری تھی۔ میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی اپیلیں غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ اپیلوں کے غیر مؤثر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مختلف ملکوں کے مسلمان خود بھی ان لوگوں سے لڑ رہے ہیں جن سے ان کو اختلاف ہے۔ پھر ان کی لفظی اپیل پر افغانی لوگ کیوں اپنی لڑائی بند کر دیں۔ دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کو پہلے اختلاف کے باوجود پرامن تعلقات کا نمونہ پیش کرنا ہوگا، اس کے بعد ہی ان کی اپیلوں میں کوئی وزن پیدا ہو سکتا ہے۔

ساری دنیا کا مسلم پریس جو پہلے جہاد افغانستان کے پر فخر تذکرہ سے بھرا رہتا تھا۔ اس کے برعکس خبروں سے بھرارہنے لگا۔ ریاض کے ہفت روزہ الدعوۃ (۶ جنوری ۱۹۹۲) نے اپنی رپورٹ کی سرخی ان الفاظ میں قائم کی : ابناء افغانستان یدمرونها۔ یعنی افغانستان کے باشندے خود ہی اپنے ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔ نوائے وقت (۴ مارچ ۱۹۹۳) کی ایک سرخی یہ تھی: کابل میں جنگ کے شعلے پھر بھڑک اٹھے۔ ہندوستان ٹائمنس (۸ مئی ۱۹۹۲) کی ایک رپورٹ کی سرخی تھی: لاہور کے روزنامہ نوائے وقت (یکم نومبر ۱۹۹۲) نے افغانستان سے متعلق ایک رپورٹ میں لکھا تھا :

پشاور معاہدہ میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ اقتدار میں شامل حضرات ایک دوسرے کے خون کے انسانی، دینی اور قومی کسی بھی قسم کی قدروں کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ جو مجاہد اسلام کے نام پر جہاد کر رہے تھے، اب اسلام کے نام پر ہی مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں، کیا یہ بعد از جنگ مالِ غنیمت کی تقسیم کا جھگڑا ہے؟ سالہا سال کیا اسی امید پر لڑتے رہے؟

روسی تواب جاچکے۔ کمیونسٹ تواب اقتدار میں نہیں رہے۔ پھر یہ جنگ و جدال کس کے خلاف ہے جہاد تو کامیاب ہوگیا۔ ختم ہوگیا اب تو محض قتل و غارت گری ہے یا مالِ غنیمت کی ہوس۔ اصل یہ ہے کہ بشمول افغانستان، ساری دنیا کے مسلمانوں کی مشترک کمزوری یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اٹھنے والے رہنماؤں نے انھیں جنگ و قتال والے اسلام سے واقف کرایا۔ صبر و اعراض والا اسلام موجودہ مسلم نسلوں کو بتایا ہی نہیں گیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اکثریت اس طرح کی گئی ہے کہ وہ لڑنے بھڑنے کو جہاد سمجھتے ہیں۔ اور صبر کی پالیسی کو بزدلی سمجھنے لگے ہیں۔ اسی مزاج کی کا نتیجہ افغانستان کی خانہ جنگی ہے۔ اور اسی مزاج کی کا نتیجہ اس قسم کے دوسرے تمام مسائل۔

کشمیر سے لے کر بوسنیا تک اور برما سے لے کر الجزائر تک مسلمانوں کی تمام لڑائیاں اسی بگڑے ہوئے مزاج کا نتیجہ ہیں جن کو غلطی سے جہاد سمجھا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی نفسیات اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ جہاں گن پکھر چلانے کے مواقع موجود نہیں ہیں وہاں وہ اپنی زبان و قلم کو جارحیت کا آلہ بنائے ہوئے ناموافق باتوں کو برداشت کرتے ہوئے پرامن طور پر اپنے مقصد کے لئے جد و جہد کرنا ہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد ذریعہ ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے اپنی غلط رہنمائی کے ذریعہ مسلمانوں کو اس حکمت سے یکسر محروم کر دیا ہے۔

یہی واحد وجہ ہے جس نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو برباد کر رکھا ہے۔ جو لوگ مسلمانوں کی بربادی کو دشمنان اسلام کے خانہ میں ڈال رہے ہیں وہ صرف اپنی نادانی کا اعلان کر رہے ہیں۔ کی باتوں کا تعلق نہ قرآن سے اور نہ تاریخ سے۔

Printed page