Al-Risala · April 1995

منیجر الرسالہ

Al-Risala, April 1995, pp. 28–37

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامک سوسائٹی آف اورنج کاؤنٹی (کیلی فورنیا، امریکہ) کے زیر اہتمام چھٹی انٹرنیشنل سیرت کانفرنس کیلی فورنیا میں ۶۵ - ۲۶ دسمبر ۱۹۹۳ء کو ہوئی۔ اس میں خطاب کرنے کے لئے مجھے مدعو کیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں امریکہ کا سفر ہوا۔ ذیل میں اس سفر کی رو داد درج کی جاتی ہے۔ دہلی سے روانگی ۲۲ اور ۲۳ دسمبر کی درمیانی رات کو ہوئی۔ اب سے ۴۴ سال پہلے اسی تاریخ کی درمیانی رات میں اجودھیا کی بابری مسجد کے اندر رام کی مورتیاں رکھ دی گئی تھیں۔ اس کے بعد دونوں فرقوں کے درمیان مختلف واقعات پیش آتے رہے۔ یہاں تک کہ ۲ دسمبر ۱۹۹۲ء کو اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والی ایک بھیڑ اجودھیا میں اکٹھا ہوئی اور اس نے بابری مسجد کو ڈھا کر وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا۔

آج کے اردو اخبار میں دہلی کے ایک خود ساختہ مسلم لیڈر نے مسلمانوں سے یہ اپیل کی تھی کہ وہ ۲۳ دسمبر کو بابری مسجد پر غیر قانونی قبضہ کی یادگار منائیں۔ عملاً یہ اپیل غیر مسموع ہو کر تاہم میں نے سوچا کہ یہ نام نہاد مسلم لیڈر اگر ہوش مند ہوتے تو وہ مسلمانوں سے کہتے کہ اب تم "یوم احتجاج" منانا چھوڑ دو، اب تم "یوم شکر" مناؤ۔ کیوں کہ ملک کی انتہا پسند طاقتوں نے ۴۴ سال کے اندر اپنی تمام تخریبی طاقت استعمال کر ڈالی۔ اس کے باوجود ملت اسلامی کا قافلہ انڈیا میں اور ساری دنیا میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس قسم کے واقعات تو ہماری گاڑی کے لئے گویا راستہ کی وہ رکاوٹیں (frictions) ہیں جو گاڑی کو تیز دوڑنے میں مددگار کا کام کرتی ہیں۔

رات کو ساڑھے گیارہ بجے گھر سے نکلا تو میری زبان پر یہ دعا تھی : اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَةُ فِی الْاَهْلِ (اے اللہ، تو ہی میرے سفر کا ساتھی ہے اور تو ہی میرے اہل میں خلیفہ ہے)

میرے بچپن میں مولانا اسماعیل میرٹھی کی اردو ریڈریں پڑھائی جاتی تھیں۔ اگرچہ اس کے بعد سیکڑوں یا شاید ہزاروں درسی کتابیں لکھی گئی ہیں مگر ویسی اردو ریڈر آج بھی کوئی دوسری

موجود نہیں ۔

اس ریڈر میں دو کبوتروں کا قصہ تھا۔ ایک کا نام تھا با زندہ ، دوسرے کا بازندہ ۔ دوسرے سے کہا چلو، دنیا کی سیر کریں۔ اس نے ہچکچاہٹ ظاہر کی۔ اس پر پہلے والے نے کہا: سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو نوجوانی پھر کہاں میرا حال یہ ہے کہ " نوجوانی " کی عمر میں بھی سفر میرے لئے پسندیدہ چیز نہ تھا۔ اب بڑھاپے کی عمر میں تو اس کے پسندیدہ ہونے کا سوال ہی نہیں۔ پہلے اگر سفر میرے لئے غیر مرغوب تھا تو اب سفر میرے لئے مصیبت بن چکا ہے۔ تاہم ایک شخص جو کوئی مشن چلا رہا ہو اس کے لئے اس دنیا میں سفر کے بغیر چارہ بھی نہیں۔

گھر سے تقریبا ساڑھے گیارہ بجے رات کو روانہ ہوا۔ دہلی ایئر پورٹ پہنچا تو گھڑی میں سوا بارہ کا وقت تھا۔ گویا کہ گھر سے میں ۲۲ دسمبر کو نکلا اور ایئر پورٹ پہنچا تو ۲۳ دسمبر کی تاریخ شروع ہو چکی ایئر پورٹ کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے آخری گیٹ پر پہنچا جہاں لوگوں کا سفری بیگ ایک خاص مشین سے گزارا جاتا ہے۔ یہاں پولیس کے دو آدمی بیٹھے ہوئے اسکرین پر اپنی نظر جمائے ہوئے تھے۔ اسکرین پر ہر آدمی کے بیگ کا اندر کا حصہ دکھائی دے رہا تھا۔ مثلا ایک بیگ کے اندر کالی لمبی سی چیز دکھائی دی۔ وہ بیگ فوراً روک لیا گیا ۔ مسافر سے پوچھ گچھ شروع ہو گئی ۔ معلوم ہوا کہ اس کے اندر ایک لمبی چھری رکھی ہوئی تھی۔

میں نے سوچا کہ اسی طرح خدا اپنے عالمی انتظام کے تحت ہر شخص کے اندرون کو دیکھ رہا اوپر سے آدمی خواہ جو بھی لبادہ اوڑھے ہوئے ہو، مگر خدا اندر کی حقیقتوں تک سے یہی وہ عقیدہ ہے جو آدمی کے اندر احتساب ذات کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ چاہنے لگتا ہے کہ خدا کے یہاں حساب کئے جانے سے پہلے وہ خود اپنا حساب کرلے۔ حقیقت ہے جو حدیث میں ان لفظوں میں بتائی گئی ہے ــــ حاسبو انفسکم قبل

ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں میرے پاس دو آدمی اجنبی زبان میں بات کر رہے تھے۔ لباس سے وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ معلوم ہوتے تھے۔ میں نے انگریزی میں پوچھا کہ آپ لوگ کون سی زبان

بول رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ تبتی زبان مزید گفت گو سے معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک تبتی ہے اور دوسرا بھوٹانی۔ دونوں کا تعلق بدھ مذہب سے تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ دلائی لاماکو ریلیجس ہیڈ سمجھتے ہیں یا گاڈ۔ مسٹر وانگچوک (Jigme Wangchuk) نے جواب دیا : He is everything for us. (وہ ہمارے لئے سب کچھ ہیں) یہ لوگ دلائی لاماکو خدا کی طرح مقدس سمجھتے ہیں۔ موجودہ دلائی لاما چودھویں دلائی لاماہیں ۔ ۱۹۳۰ء میں وہ تبت میں روحانی اور دنیوی حاکم مقرر ہوئے۔ پر چینی قبضہ کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد ۱۹۰۹ء میں وہ بھاگ کر انڈیا آ گئے ۔ تاہم تبتیوں کی نظر میں ان کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔

دہلی ایئر پورٹ پر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ مسلم عورتوں کے پچھڑے پن کی بات کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک چلی ہوئی بات ہے جس کو لوگ سوچے سمجھے بغیر دہراتے ہیں، ورنہ آج مسلم خواتین کا تعلیمی معیار چالیس سال پہلے کے مقابلے میں بہت بڑھ چکا ہے۔ اتفاق سے میرے پاس آج کا ٹائمز آف انڈیا (۲۲ دسمبر ) تھا۔ اس کے درمیانی صفحہ پر ایک رپورٹ مسلم خواتین کی تعلیمی حالت کے بارہ میں چھپی ہوئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ آج مسلم خواتین تعلیم کے میدان میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مثال کے طور پر اس میں بتایا گیا تھا کہ حال میں پٹنہ کی ایک لڑکی بہار پبلک سروس کمیشن کے انٹرویو میں شریک ہوئی۔ آیورویدک سسٹم کی ایک پوسٹ کے بارہ میں تھا۔ مسلم خاتون نے مقابلہ میں ٹاپ کیا۔ نے ویدوں کے اشلوک اتنی روانی کے ساتھ سنائے کہ انٹرویو لینے والے ماہرین حیرت زدہ رہ گئے :

A Muslim girl from Patna appeared for the Bihar Public Service Commission examination for a post in Ayurvedic system and topped the list. All the examiners which included Ayurvedic experts judged her to be the best candidate. She could, with great fluency, cite vedic slokas which surprised everyone. میں نے کہا کہ پچھلے پچاس سال کے دوران نا اہل مسلم لیڈروں نے مسائل کی اتنی رت

لگائی کہ مسلمان وقتی طور پر بھول گئے کہ مسائل کے باوجود یہاں بے شمار مواقع بھی ان کے لئے موجود ہیں۔ اب تجربات کے بعد ہندوستانی مسلمان اپنے نااہل لیڈروں کی گرفت سے باہر آگئے ہیں۔ اب وہ مسائل کے خلاف چیخ پکار کے بجائے مواقع کو استعمال کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس تبدیلی نے اب مسلمانوں کو ایک نئے دور ترقی میں داخل کر دیا ہے۔

دہلی سے سوئس ایئر کی فلائٹ ۱۹۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ۲۳ دسمبر کو ٹھیک دو بجے جہاز آجکل سوئس ایئر اول درجہ کی ہوائی کمپنی سمجھی جاتی ہے۔ اس کا انتظام معیاری نظر آیا۔ میں نے مرطلی میں لکھوا دیا تھا کہ میرے لئے ایشیائی ویجیٹیرین کھانا (Asian Vegetarian meal) دیا چنانچہ مزید فرمائش کے بغیر میری سیٹ پر ویجیٹیرین کھانا پہنچا رہا۔ کچھ وقت سونے میں اور کچھ اخبار اور میگزین پڑھتے گزرا۔

انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹ্রিبیون (۲۲ دسمبر) میں ایڈورڈ ڈیمنگ (W.Edwards Deming) کے حالات شائع ہوئے تھے جن کا ابھی ۲۰ دسمبر ۱۹۹۳ کو ۹۳ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ ڈیمنگ ایک امریکی ماہر شماریات (statistician) تھے۔ جاپان پر امریکی قبضہ کے بعد، ۱۹۴۷ میں وہ امریکی حکومت کے مشیر کی حیثیت سے جاپان آئے۔ ۱۹۵۰ میں انھوں نے ٹوکیو میں ایک لیکچر یہ لیکچر کوالٹی کنٹرول کے بارہ میں تھا۔ انھوں نے جاپانیوں کو بتایا کہ کس طرح شماریاتی طریقہ کو اشیاء کے نقص کو دریافت کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ صرف نگرانی پر اعتماد کیا جائے :

He taught Japanese how to use statistical methods to discover the cause of product defects, instead of relying only on inspections. جاپانیوں نے بہت دلچسپی لی اور فورا اس کو پکڑ لیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ جاپان کے کارخانے جو پہلے خراب سامان کے لئے مشہور تھے، اب بے نقص سامان بنانے لگے۔ انھوں نے ڈیمنگ کو اتنی اہمیت دی کہ اس کے نام پر ایک ڈیمنگ انعام (Deming Prize) جاری کر دیا۔ میں مقبولیت کے ۳۰ سال بعد اپنے وطن امریکہ میں ڈیمنگ کا اعتراف کیا گیا جب کہ فورڈ کمپنی نے ۱۹۸۱ میں اس کو اپنا مشیر مقرر کیا۔ جاپان کے لوگ اس امریکی کو کوالٹی کنٹرول کا دیوتا

(god of quality control)

اعتراف کا یہ مزاج کسی بھی ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ جاپانی اگر اپنے آپ میں گم رہتے، وہ باہر سے نئی چیز لینے کی کوشش نہ کرتے تو وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتے تھے۔ جاپانیوں کے اسی مزاج کا نتیجہ ہے کہ فیکس کا طریقہ امریکہ میں دریافت ہوا مگر اس کو سب سے پہلے مارکیٹ میں لانے والے جاپانی تھے۔

جس وقت ہمارا جہاز یورپ کے اوپر سے پرواز کر رہا تھا، مجھے یاد آیا کہ یہی وہ سرزمین ہے جس کے بارہ میں مسلم دنیا میں روز سازش اور ظلم کی داستانیں چھپتی رہتی ہیں۔ مثلاً موجودہ سفر پر روانگی سے پہلے میں نے ایک پاکستانی اخبار "نوائے وقت ۳ دسمبر ۹۳ء) میں ایک رپورٹ پڑھی اس کا عنوان تھا "مغرب کا مسلم دشمن رویہ"۔

اس میں بتایا گیا تھا کہ سارا مسیحی یورپ مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرا ہوا ہے۔ مسلم دشمنی یورپ کی رگ رگ میں سرایت کر چکی ہے۔ اس سلسلہ میں کہا گیا تھا: مغربی عیسائیوں میں یہ رجحان واضح ہے کہ یورپ میں کوئی مسلمان ممملکتت نہ ہو۔ اس پس منظر میں جب یورپ کے عین قلب میں بوسنیا کی مسلم مملکت ابھری تو سب عیسائی اُس پر چڑھ دوڑے اور مغربی ممالک نے ہر ممکن طریقے سے ان کی مدد کی تاکہ عین یورپ میں واقع اس مسلم ملک سے چھٹکارا حاصل ہو۔ اور امریکہ نے اپنے سیکولرزم کے تمام بلند بانگ نعروں کے باوجود بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام نہیں روکا۔ بلکہ بوسنیا کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کر کے اس قتل عام کو سہل بنا دیا تاکہ نہتے مسلمان کسی مزاحمت کے قابل ہی نہ رہیں (صفحه ۶)

آجکل تمام مسلم دانشور بوسنیا کے معاملہ کو اس طرح پیش کر رہے ہیں گویا کہ وہ یورپ کی مسلم دشمنی کی یقینی علامت ہے، حالاں کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ بوسنیا خود نام نہاد مسلم دانشوروں اور نا اہل مسلم رہنماؤں کی اپنی نادانی کی عبرت ناک مثال ہے۔

بوسنیا اور اس طرح کے دوسرے مقامات میں جو کچھ پیش آیا وہ دراصل شریعت کے اصول ترك المصلحة للمفسدة کی خلاف ورزی کا نتیجہ تھا۔ اس شرعی اصول کا مطلب یہ ہے کہ ہر اس اقدام سے پر ہیز کیا جائے جو نتیجہ کے اعتبار سے الٹا (counter-productive)

ثابت ہونے والا ہو۔ بوسنیا اور کشمیر اور فلپائن اور اراکان، اور اس طرح کے ہر دوسرے مقام پر نااہل مسلم لیڈروں نے وہی غلطی کی جس کو عوامی شکل میں بیل مجھے مار' کہا جاتا ہے۔ ہر جگہ وہ خود اپنے غیر دانشمندانہ اقدام کی سزا بھگت رہے ہیں اور اس کا الزام غلط طور پر وہ فریق ثانی کے اوپر ڈالنا چاہتے ہیں۔ مزید تعجب یہ ہے کہ انھیں لوگوں کو سروس آف اسلام کا خطاب دیا جا رہا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اگر یہ سروس آف اسلام ہے تو ڈس سروس آف اسلام آخر کس چیز کا نام ہوگا۔ ان کی زیادہ صحیح تصویر اس انگریزی مثل میں ہے: Fools rush in where angels fear to tread. سوئس کمپنی کا فلائٹ میگزین (Swissair Gazette) دسمبر ۱۹۹۳ دیکھا۔ اس میں سب کے سب اشتہار یا اشتہاری مضامین تھے۔ ایک اشتہار میں ایک مخصوص بریف کیس کی تصویر تھی۔ میں سٹلائٹ ٹیلیفون نصب تھا۔ اور یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ عالمی ٹیلیفون (global telephone) آپ اپنے ساتھ رکھئے اور پھر آپ کسی بھی مقام سے کسی بھی مقام پر ربط قائم کر سکتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں عوامی مواصلاتی انقلاب کہاں تک پہنچ گیا ہے۔

ساڑھے آٹھ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز زیورک (سوئزرلینڈ) میں اتر گیا۔ پورٹ کے اندر چلتے ہوئے ایک دیوار پر ایک روشن بورڈ نظر سے گزرا۔ یہ مقامی ہوٹل کا اشتہار اس کے الفاظ یہ تھے:

Another 10 minutes and you'll be at the Hilton singing in the shower. مزید دس منٹ، اور آپ ہلٹن ہوٹل کے غسل خانہ میں گا رہے ہوں گے) میں نے سوچا کہ کاش، دنیا کے لوگوں کو بتایا جا سکتا کہ اس سے بھی زیادہ بڑا ایک امکان ۱۰ منٹ بعد تمہارا انتظار کر رہا وہ ہے بالایمان موت اور اس کے بعد خدا کی جنت میں داخلہ۔

زیورک میں مجھے اگلی فلائٹ کے لئے چھ گھنٹہ تک ٹھہرنا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ متعلقہ کاؤنٹر پر پہنچ کر معلومات حاصل کروں۔ مگر وسیع ایئر پورٹ میں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اتنے میں ایک سفید فام نوجوان نظر آیا جو ایک جگہ کھڑا ہوا تھا۔ اس سے میں نے کہا کہ میری مدد کیجئے ۔ کیوں کہ میں یہاں نووارد (new commer) ہوں ۔ وہ فوراً میرا ٹکٹ لے کر ساتھ ہو گیا۔ اور متعلقہ کاؤنٹر پر پہنچ کر

ساری معلومات حاصل کیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا تو اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں، میں بھی کہیں نووارد ہوں گا اور وہاں کوئی شخص اسی طرح میری مدد کرے گا۔ اس نے اپنا نام کلاؤس

اس سفر میں اپنے عجز کا احساس بہت زیادہ غالب رہا۔ ۲ دسمبر کی سہ پہر کو جبکہ میں نیویارک ایئر پورٹ پر بیٹھا ہوا تھا، غیر معمولی احساس عجز کے تحت یہ شعر سیدھی زبان پر آگیا: نہ گلے نہ برگِ سبزے نہ ثمر نہ سایہ دارم در حیرتم کہ دہقاں بچہ کار کشت مارا نیویارک ہی میں 1959ء میں ترکوں اور قبرص کے عیسائیوں کے درمیان وہ معاہدہ ہوا جس کو زیورک معاہدہ (Zurich Agreement) کہا جاتا ہے۔ عثمانی ترکوں نے ۱۵۷۱ء میں قبرص کو فتح کیا تھا۔ ۱۹۱۴ میں وہ برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جب برطانیہ کی طاقت کمزور ہوئی تو قبرص کے یونانیوں اور ترکوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا۔ ترک مسلمان قبرص کی تقسیم چاہتے تھے تاکہ مشرقی قبرص کے مسلم اکثریتی علاقہ کو علیحدہ ملک بنایا لمبے خونیں ٹکراؤ کے بعد آخر کار برطانیہ کے دباؤ کے تحت مذکورہ زیورک معاہدہ ہوا۔ اگر چہ اس کے بعد بھی امن قائم نہ ہو سکا۔ پرتشدد ٹکراؤ کے نتیجہ میں ترکوں نے بہت سی ملی ہوئی چیزیں بھی کھو دیں۔ اور اپنا سیاسی مقصود بھی حاصل نہ کرسکے۔

۲۳ دسمبر کی دوپہر کو زیورک سے لاس اینجلس کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر سوئس ایئر کی فلائٹ ۱۰۶ کے ذریعہ طے ہوا۔ راستہ میں روزنامہ فائنشئل ٹائمز ۲۳ دسمبر کا مطالعہ کیا۔ ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ ساؤتھ افریقہ کی آخری سفید فام پارلیمنٹ نے ۴۵ کے مقابلہ میں ۲۳۷ ووٹوں سے فیصلہ کیا کہ ایک عارضی دستور بنایا جائے جو اکثریت کی حکومت کی بنیاد پر ہو اور اپریل ۱۹۹۴ء میں تمام نسلوں کی شرکت کے ساتھ الیکشن کرایا جائے۔

South Africa's last white parliament voted by 237 to 45 to adopt an interim constitution leading to majority rule after all-race elections ساؤتھ افریقہ کے اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ ساؤتھ افریقہ میں سفید فام لوگوں نے اپنی حکومت قائم کر رکھی تھی۔ سیاہ فام لوگوں کو ہر قسم کے حقوق سے محروم کئے ہوئے تھے۔ ۲۴ الِ سال اپریل ۱۹۹۵

خلاف وہاں تحریک اٹھی۔ مگر انھوں نے اس تحریک کو پوری طرح پر امن طریق پر چلایا۔ حکومت نے ان کے خلاف تشدد کیا۔ مگر اس کا جواب انھوں نے گن کلچر سے نہیں دیا۔ وہ ہر حال میں عدم تشدد کے اصول پر قائم رہے۔ اس کا نتیجہ آخر کار سیاہ فام نسل کی کامیابی کی صورت

اس کے مقابلہ میں ان مسلم تحریکوں کی مثال لیجئے جو گن کلچر کے طریقہ پر چلائی گئیں۔ نے اپنی قوم کو یا ملک کو بربادی کے سوا کوئی اور تحفہ نہیں دیا۔

زیورک سے لاس اینجلس کا سفر ساڑھے گیارہ گھنٹہ کا تھا۔ یہ طوالت بہت زیادہ تھکا دینے مگر اللہ تعالی نے نیند کی صورت میں انسان کو بڑی عجیب نعمت عطا فرمائی ہے۔ کی زندگی میں وہی کام کرتی ہے جو آپریشن تھیٹر میں مخدرات۔ چنانچہ سفر کے دوران کئی بار گہری نیند آئی اور یہ لمبا گھبرا دینے والا سفر بہ آسانی طے ہو گیا۔

لاس اینجلس میں کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھے ہوئے سفید فام امریکی نے میرے پاسپورٹ کو چیک کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کا مقصد سفر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ کانفرنس میں شرکت۔ دوبارہ پوچھا کہ کونسی میں نے کہا کہ اسلامی کانفرنس۔ بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ وہ اب بھی نہیں سمجھا ہے۔ اس نے کہا: So it is business or pleasure. میں نے کہا کہ نہ بزنس اور نہ پلیز رز بلکہ مشن۔ اس نے مسکرا کر او کے کہا اور پاسپورٹ پر اسٹمپ لگا کر مجھے دیتے ہوئے کہا: تھینک یو۔

امریکی ذہن کے مطابق، باہر کا ایک شخص جب امریکہ آئے گا تو اس کا مقصد دو میں سے ایک ہوگا ___ تجارت یا تفریح۔ اس کے ذہنی سانچے میں "اسلامی کانفرنس" ایک اجنبی چیز ہے۔ چنانچہ ہوائی جہاز کے اندر جو فارم ہم کو دیا گیا، اس میں مقصد سفر کے خانہ میں یہی دو لفظ لکھے

لاس اینجلس ایئر پورٹ پر دو گیٹ ہیں۔ گیٹ اے، اور گیٹ بی۔ میں غلط طور پر گیٹ اے سے باہر آگیا۔ یہاں کوئی صاحب دکھائی نہیں دئے۔ میں کسی قدر پریشانی کے عالم میں کھڑا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اسلامک سوسائٹی کو ٹیلیفون کر کے معلوم کروں۔ اتنے میں ایئر پورٹ کے

دو صاحبان میرے انتظار میں موجود تھے۔

ایئر پورٹ سے ڈاکٹر سلمان ندوی اور عبدالحمید سیجی صاحب کے ساتھ روانگی ہوئی۔ راستہ میں دونوں صاحبان سے گفتگو ہوتی رہی۔ ڈاکٹر سلمان ندوی ساؤتھ افریقہ کی ایک یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل کا اپنے سابقہ موقف سے ہٹ کر فلسطینیوں سے صلح کرنا اور ساؤتھ افریقہ میں سفید فام لوگوں کا سیاہ فام لوگوں کو یکساں سیاسی حقوق دینا، دونوں کے پیچھے تشدد کا زور کام کر رہا ہے۔ اسرائیل انتفاضہ کی سرگرمیوں سے جھکا ہے اور ساؤتھ افریقہ میں جب ہم پھٹنے لگے تو ان لوگوں کو جھکنا پڑا۔ تاہم میں اس سوچ سے اتفاق

عبدالحمید سیجی صاحب نے بتایا کہ آرنج کاؤنٹی میں ایشین ۵ فیصد ہیں۔ مگر یہاں کی یونیورسٹی میں ایشیائی طلبہ کی تعداد ۳۵ فیصد ہے۔ یہی حال امریکہ کی اکثر یونیورسٹیوں کا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ کی سب سے زیادہ پر سٹیج یونیورسٹی ہارورڈ میں وہاں کے ۲۰ ہزار طلبہ میں ایشیائی کافی ہیں۔ گیارہ سو کے اسٹاف میں ایک سو ایشیائی استاد ہیں۔ خود ان کے بھی دو لڑکے وہاں پڑھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں انتہائی سخت ڈسپلن ہے۔ مثلاً استاد، طلبہ یا کارکن کے سوا کوئی وہاں داخل نہیں ہو سکتا۔ حتی کہ والدین بھی نہیں۔ وہاں صرف آئیڈ نٹی کارڈ نہ پر کیمپس میں داخلہ ہوتا امریکہ کی یونیورسٹیوں میں لائبریریاں ۲۴ گھنٹہ کھلی رہتی ہیں۔ اور طلبہ کثرت سے اس میں مطالعہ کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ لائبریری میں فاصل بات تو در کنار ، کوئی شخص زور سے بول بھی نہیں سکتا۔ حال میں اسلام کے مطالعہ کے لئے ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک اسلامک ریسرچ کا شعبہ قائم ہوا ہے، اس شعبہ کو شاہ فہد کی طرف سے پانچ ملین ڈالر کا عطیہ دیا گیا ہے۔ یہاں میرا قیام جناب صغیر اسلم صاحب (پریذیڈنٹ اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی) کے مکان پر تھا۔ میں ان کے یہاں پہنچا تو مغرب بعد کا وقت ہو چکا تھا۔ اتفاق سے اسی وقت جناب تشبیہ سید اور ان کے ایک ساتھی آ گئے۔ ان لوگوں سے دیر تک بات ہوتی رہی۔

تشبیہ سید صاحب نے بتایا کہ ایک کمیونسٹ مسلمان کو ایک بار میں نے دیکھا کہ وہ ہاتھ اٹھا کر

مسجد میں دعا کر رہا ہے۔ میں نے کہا کہ تم کو تو لینن اور ماؤ سے دعا کرنا چاہئے۔ مگر تم اللہ سے دعا کر رہے انھوں نے کہا کہ یہ تو ہماری ذہنی کنڈیشننگ کی وجہ سے ہے۔ میں نے کہا کہ انھوں نے ایک صحیح بات غلط لفظ میں کہی۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہر آدمی مشکل اوقات میں اللہ سے دعا کرنے مگر اس کا سبب سماج کی طرف سے ہونے والی کنڈیشننگ نہیں ہے۔ اس کا اصل سبب اور نیچر پیدائش سے آتا ہے نہ کہ کسی خارجی قسم کی کنڈیشننگ سے۔ ۲۴ دسمبر کو عشاء کی نماز جناب صغیر اسلم صاحب کے مکان پر پڑھی۔ نماز کے بعد جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا تو زبان پر یہ الفاظ آگئے: خدایا، میرے سفر کو اور میرے قیام کو، میرے چلنے اور میرے ٹھہرنے کو، میرے بولنے اور میرے چپ رہنے کو میرے لئے خیر کا باعث بنا، مجھے تمام آفتوں سے اپنی پناہ میں لے لے۔

ایک تعلیم یافتہ پاکستانی سے گفتگو ہو رہی تھی۔ وہ میاں نواز شریف کے مداح تھے۔ انھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ایٹم بم بنانا نہیں چاہتی۔ میں نے کہا کہ نواز شریف کا بیان تو یہ ہے کہ بے نظیر نے تین سال پہلے ایٹمی عمل کو رول بیک کر دیا تھا۔ پھر اس کے بعد جب نواز شریف وزیر اعظم بنے تو انھوں نے کیوں نہیں اس کو دوبارہ جاری کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ یہ امریکہ کے اشارہ پر ہوا۔

میں نے بہت سے پاکستانیوں سے بات کی۔ تقریباً ہر شخص امریکی مخالف بات کرتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں امریکہ کا عمل دخل کیوں۔ انھوں نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کبھی بھی امریکہ کی مخالفت کو افورڈ نہیں کر سکتا۔ میں نے کہا کہ آخر کیوں۔ انھوں نے کہا: انڈیا میں نے کہا کہ یہ پاکستانی سیاست کی پہلی اینٹ ہے، اور یہ پہلی اینٹ ہی غلط ہے۔ پاکستان کا دشمن نہیں، انڈیا پاکستان کا ایک طاقت ور پڑوسی ہے۔ اگر آپ طاقتور امریکہ سے خود اس کے ٹرم پر دوستی کر سکتے ہیں تو انڈیا سے بھی آپ ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ ایک عرب نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ اخوانی فکر سے متاثر تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی کئی چیزیں پڑھی ہیں۔ العالم الاسلامی (۱۳ اکتوبر ۱۹۹۳ء) میں آپ کا مفصل انٹرویو بھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ مسلمانوں کو بس پر امن داعی بنا دینا چاہتے ہیں اور

Printed page