Al-Risala · January 1995

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالنَّبْحُ

Al-Risala, January 1995, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

عالم یہ سن کر ہنس پڑنے اور کئی روز تک اس کو سوچ سوچ کر ہنستے رہے۔

یہ صرف ایک دیہاتی کا قصہ نہیں ہے۔ یہی بہت سے پڑھے لکھے لوگوں کا قصہ بھی ہے۔ ساتھ بار بار ایسا پیش آتا ہے کہ ایک شخص خط کے ذریعہ یا زبانی یہ کہے گا کہ میں نے اسلام پر بہت سی کتابیں پڑھی ہیں اور بہت سی تقریریں سنی ہیں۔ بس ایک معاملہ میں میرا ذہن اٹکا ہوا ہے۔ اس کے بعد وہ کچھ عجیب و غریب قسم کے مسائل بیان کرے گا جن کا تعلق نہ دنیا کی فلاح سے ہوگا نہ دین کی فلاح سے۔ مثلا ایک صاحب نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے، تو خدا ہر جگہ اپنے علم کے ذریعہ حاضر ہے یا اپنی ذات کے ذریعہ۔ ایک صاحب نے فرمایا کہ کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ موجود ہیں اور وہاں نماز پڑھتے ہیں تو آپ روزہ اور حج بھی ادا کرتے ہیں یا نہیں۔ نے فرمایا کہ میں نے پورے قرآن کا ترجمہ پڑھ لیا۔ کہا جاتا ہے کہ قرآن آسمان دنیا پر بیک وقت نازل کر دیا گیا۔ پھر جزو جزو کر کے ۲۳ سال میں اترا تو قرآن آسمان دنیا پر کتاب کی صورت میں تھا یا آواز کی صورت قرآن کو پڑھنے والا وہ ہے جس کو قرآن پڑھ کر عاقبت کی فکر لگ جائے ۔ جو ہمہ تن اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جائے ۔ جو اپنی ذات کا احتساب کرنے لگے۔ جو لوگ مذکورہ قسم کے مسائل میں الجھے ہوئے ہوں انھوں نے ابھی قرآن کو پڑھا ہی نہیں۔

قرآن حقائق کی کتاب ہے نہ کہ کسی قسم کے طلسمات کی کتاب۔

Printed page