How to present Islam : A rational approach
Al-Risala, April 1995, pp. 41–25
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آرٹیکل میں اسلام کی مختلف تعلیمات کا مختصر تعارف تھا ۔ مگر اس کو پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ وہ بس عام روایتی انداز میں ہے۔ اس کا انداز مجھے ریشنل کے بجائے ٹریڈیشنل نظر آیا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ وہ انگریزی میں تھا۔
صبر کے بارہ میں اس میں بتایا گیا تھا کہ مسلمان کی زندگی مستقل جہاد کی زندگی ہے۔ اس جہاد میں مسلمان کو مخالفین کی طرف سے مختلف قسم کی مصیبتیں پیش آتی ہیں۔ ان مصیبتوں کو سہتے ہوئے جہاد جاری رکھنے کا نام صبر ہے (صفحہ ۱۹) ، پھر جہاد کے تعارف میں بتایا گیا تھا کہ جہاد اس کوشش کا نام ہے کہ خدا کے مکمل قانون کو زمین پر نافذ کیا جائے:
This is hardest of the struggles (jihad), that is, to implement the rule of God on earth. اصل حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک عبادت ہے۔ موجودہ دنیا آدمی کے لئے آزمائش گاہ ہے۔ اس آزمائش میں اترنے کے لئے مستقل صبر کی ضرورت ہے۔ مومن کا اصل مقصد زمین پر نفاذ قانون نہیں ہے بلکہ اپنی ذات کو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اس صابرانہ زندگی میں کبھی مخالفین سے مقابلہ بھی پیش آسکتا ہے۔ اس وقت بشرط استطاعت، مخالفین کے مقابلہ میں جمنے کا نام صبر ہوگا۔
میں نے ایک ہندوستانی بزرگ کا عربی مقالہ پڑھا۔ اس کا عنوان تھا : الأُمّة الإسلامية مُعَرَّضَةٌ للخطر (امت اسلامیہ خطرات کی زد میں) اسی طرح ایک ارد و ہفت روزہ میں ایک اور عالم کا مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا "امت اسلامیہ عالمی سازش کے نرغہ میں"۔ مقالات میں بتایا گیا تھا کہ مسلم ملت اس وقت ساری دنیا میں خطرات و مسائل میں گھری ہوئی ہر جگہ اس کے وجود کو چیلنج کیا جار ہا ہے۔ تمام قو میں اس کے خلاف سازش کا جال بچھانے میں مصروف ہیں۔
یہ بات میں نے ہندوستان میں پڑھی تھی۔ امریکہ کے مسلمانوں سے ملاقات اور گفت گو میں میں نے پایا کہ ان کا ذہن بھی ٹھیک یہی ہے۔ ایک صاحب جو امریکہ میں عزت اور خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں انھوں نے جب یہی بات دہرائی تو میں نے کہا کہ آپ اس " دشمن ملک " میں اتنی اچھی زندگی گزار رہے ہیں، پھر آپ اپنی سوچ کو خود اپنے آپ سے کیوں نہیں شروع کرتے۔ آپ اخباری خبروں کی بنیاد پر کیوں ملت مسلمہ کے بارہ میں تبصرہ کر رہے ہیں۔ آجکل کے تعلیم یافتہ مسلمان مغربی پریس پر مبنی خبر رسانی (disinformation) کا الزام دیتے
مگر یہ الزام خود مسلم پریس پر اس سے زیادہ بڑے پیمانے پر چسپاں ہوتا ہے۔ مسلم پریس اچھی خبروں کو نمایاں نہیں کرتا۔ وہ صرف ان خبروں کو مبالغہ آمیز انداز میں چھاپتا ہے جو منفی نوعیت کی ہیں۔ مسلم پریس کی اس منفی رپورٹنگ نے ساری دنیا میں مسلمانوں کے ذہن کو اس طرح بگڑاڑاہے کہ وہ مثبت طرزِ فکر سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔
اسلامی تاریخ کا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ صحابہ کرام ایک بار کسی علاقہ میں پیش قدمی کر رہے تھے ۔ اس دوران انھیں ایک قلعہ کا محاصرہ کرنا پڑا۔ مگر انھوں نے پایا کہ محاصرہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہا ہے۔ لمبی مدت تک قلعہ کا محاصرہ کرنے کے باوجود قلعہ فتح نہ ہو سکا۔
محاصرہ کی مدت جب غیر معمولی طور پر طویل ہو گئی تو ایک روز وہ لوگ مشورہ کے لئے بیٹھے۔ مشورہ میں جو بات خاص طور پر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات میں سے کوئی تعلیم ہم سے چھوٹ گئی ہے۔ اسی لئے قلعہ کی فتح میں ہم کامیاب نہیں ہو رہے ہیں۔ چنانچہ تمام لوگ بیٹھ کر یہ سوچنے لگے کہ وہ کون سی اسلامی تعلیم ہے جو ہم سے چھوٹی ہے تاکہ اس پر فوراً عمل شروع کر دیا جائے ۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج اگر مسلم دنیا کے نمائندہ افراد ایک مقام پر جمع ہوں اور اس اسوہ صحابہ کی روشنی میں یہ سوچیں کہ ہم سے کون سی سنت نبوی چھوٹ گئی ہے جس کی وجہ سے ہم پر موجودہ مصیبتیں آ رہی ہیں، تو مجھے یقین ہے کہ وہ اس رائے پر پہنچیں گے کہ ہم سے سنتِ دعوت چھوٹ گئی ہے۔ اس لئے کہ آج ہر سنت مسلمانوں میں دکھائی دیتی ہے مگر واحد سنت جس پر آج عمل مفقود ہے وہ سنتِ دعوت ہے۔ سیرت کانفرنس کا آغاز بوئنا ہوٹل (Buena Park Hotel) میں ۲۵ دسمبر ۱۹۹۳ء کو ہوا۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ ہال میں ڈیڑھ ہزار کے لئے کرسیاں تھیں، کھڑے ہوئے لوگوں کو ملا کر تقریبا سترہ سو آدمی موجود تھے۔ مختلف ملکوں سے آئے ہوئے لوگوں نے تقریریں کیں۔ مقررین کے نام یہ ہیں :
مسٹر منیر اسلم صدر اسلامک سوسائٹی، ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی، ڈاکٹر جعفر عبد السلام
ڈاکٹر سید مسلمان ندوی، ڈاکٹر حسن حتھوت، ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس، ڈاکٹر سلیمان نیا نگ، ڈاکٹر عبد اللہ غازی، ڈاکٹر اسلم عبد اللہ، ڈاکٹر فضل مرزا، ڈاکٹر احمد صقر، ڈاکٹر مدثر حسین صدیقی، ڈاکٹر یحییٰ عبد الرحمان، ڈاکٹر احسان باغی، ڈاکٹر نشار حق، ڈاکٹر نذیر خواجہ، ڈاکٹر حسن الدین ہاشمی، ڈاکٹر احمد النجار، ڈاکٹر محمد یونس، ڈاکٹر غلام نبی فائی، وغیرہ۔
میرے ساتھ عجیب قصہ ہوا۔ میں دہلی سے چلا تو میرے ذہن میں یہ تھا کہ کانفرنس میں زیادہ تر اردو داں لوگ ہوں گے اور میں زبانی تقریر کی صورت میں وہاں اپنے خیالات کا اظہار کر دوں گا۔ مگر یہاں آکر معلوم ہوا کہ اس میں سارا انگریزی کا ماحول ہوگا اور انگریزی ہی میں تمام تقریریں ہوں گی۔ میرے پاس وقت بہت کم تھا۔ ۲۳ دسمبر کی شام کو میں صغیر اسلم صاحب کے مکان میں اپنے کمرہ میں سو گیا۔ پہلی نیند کے بعد آنکھ کھلی تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور کل کے لئے انگریزی میں پیپر لکھنا شروع کر دیا۔ فجر کے وقت تک پانچ صفحہ کا ایک مضمون تیار ہو گیا۔ اس میں سیرت کی روشنی میں زندگی کی کامیابی کے دس اصول بتائے گئے تھے۔
اب سوال ٹائپ کرانے کا تھا۔ صغیر اسلم صاحب نے اس کو اسلامک سوسائٹی کے ٹائپسٹ مگر وہ شروع کرنے کے بعد اس کو پورا نہ کر سکے۔ کیوں کہ آج ان کو غیر معمولی مصروفیت تھی۔ اس کے بعد اس کو ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی نے لے لیا۔ وہ اس کو اپنے گھر لے گئے۔ وہاں ان کے صاحبزادے نے اس کو کمپیوٹر پر ٹائپ کیا۔ پھر انھوں نے فیکس کے ذریعہ اس کو میری قیام گاہ پر بھیج یہ سب کام جمعہ کی رات تک ہو گیا۔ اگلے دن اجلاس میں میں نے اس کو پڑھا۔ لوگوں نے اس کو پسند کیا۔ بہت سے لوگوں نے اس کی کاپی طلب کی۔ ایک صاحب نے کہا کہ اس کو فریم کر کے ہر جگہ لٹکا دینا چاہئے۔ ڈاکٹر یحییٰ رحمان نے کہا: It is because of people like you, that Islam keeps growing. یہ مقالہ انشاء اللہ الرسالہ انگریزی میں شائع کر دیا جائے گا۔
اس کانفرنس میں امریکہ کے مختلف حصوں سے ڈیڑھ ہزار سلمان شریک ہوئے۔ تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان میں بہت سے الرسالہ پڑھنے والے بھی ملے۔ میں نے پایا کہ جو لوگ الرسالہ برابر پڑھتے ہیں انھیں کے اندر مثبت طرز فکر ہے۔ دوسرے لوگ عام طور پر منفی طرز فکر میں
مبتلا نظر آئے۔
قرآن وحدیث کا مطالعہ خالی الذہن ہو کر کیا جائے تو ان میں مثبت تفکیر کا پیغام ملے گا۔ مثلاً آپ قرآن کھولیں تو پہلی آیت شکر کی آیت ملے گی (الحمد للہ رب العالمین) گویا کہ قرآن وہ ذہن بنانا چاہتا ہے جو احساس یا فت سے سرشار ہو۔ مگر آج مسلمانوں کا ذہن احساس محرومی سے بھرا ہوا ہے۔ اسی طرح آپ صحیح بخاری کھولیں تو شروع ہی میں آپ کو یہ حدیث پڑھنے کو ملے گی کہ انما الاعمال بالنیات۔ گویا پیغمبر اسلام مسلمانوں میں وہ ذہن پیدا کرنا چاہتے ہیں جو اندرونی حقیقتوں کو اہمیت دے ، ظاہری باتوں کو وہ نظر انداز کر دے۔ مگر آج مسلمانوں کی پوری سوچ ظواہر پر اٹکی ہوئی ہے۔ حقائق کی انہیں سرے سے خبر ہی نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے فہم اسلامی کا ماخذ حقیقتہ قرآن وحدیث نہیں ہے۔ اس کا ماخذ ان مفکرین کی کتابیں ہیں جو رد عمل کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ اسی نفسیات کے تحت انھوں نے اسلام کی تعبیر پیش کی۔ اس تعبیری لٹریچر نے مسلمانوں کے اندر قرآن وسنت والا ذہن نہیں بنایا بلکہ رد عمل کا ذہن بنا دیا۔ یہی منفی ذہن ہے جس کا مظاہرہ آج ہر طرف نظر آتا ہے۔ اسی ذہن کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہر جگہ یا تو لفظی ٹکراؤ جاری ہے یا
ایک سیاہ نام نو مسلم نے تقریر کرتے ہوئے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی انٹلکچول نہیں تھے :