Al-Risala · April 1995

Prophet Muhammad was not an intellectual.

Al-Risala, April 1995, pp. 25–47

By Maulana Wahiduddin Khan

اس پر بڑا ہنگامہ ہوا۔ میرا خیال ہے کہ مذکورہ لو مسلم کی نیت بخیر تھی۔ وہ جو بات کہنا چاہتا تھا اس کے لئے اس نے غلط لفظ کا استعمال کیا۔ غالباً وہ کہنا چاہتا تھا کہ پیغمبر اسلام آجکل کے رسمی تعلیمی تصور کے مطابق کوئی ڈگری یافتہ آدمی نہیں تھے۔ اسی بنا پر آپ کو امی کہا گیا ہے۔ مگر انٹلکچول ہونا اس سے الگ چیز ہے، اور اس اعتبار سے بلاشبہ آپ ایک سپر انٹلکچول انسان تھے۔ ۲۵ دسمبر کی شام کو نماز مغرب کے بعد اعزازی دعوت (banquet) کا انتظام تھا۔ پرنس محمد فیصل السعود بھی شریک ہوئے۔ وہ امریکہ کی سعودی ایمبیسی میں ڈپارٹمنٹ آف

اسلامک ایفرنس کے چیئرمین ہیں۔ چند خاص افراد ان کے ساتھ کھانے میں بٹھائے گئے تھے۔ مجھ کو بھی بلا کر اس میں شریک کیا گیا تھا۔ میں خاموشی سے آکر بیٹھ گیا۔ انھوں نے ابتدا مجھ کو پہچانا نہیں ۔ دوسرے لوگوں کے ساتھ گفت گو میں مشغول رہے۔ اس درمیان ایک عرب ڈاکٹر عبدالقادر النجار انھوں نے میرے بارے میں بتایا کہ یہ فلاں شخص ہیں اور ان کی سی کتابیں ہیں۔ فیصل اس سے پہلے رزرویشن کے ساتھ بات کر رہے تھے۔ مگر میرے بارہ میں جانتے ہی وہ بہت خوش ہوئے اور کھل کر باتیں کرنے لگے۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے آپ کی کتاب الاسلام تجدیدی اس وقت پڑھی جب کہ میری عمر 16 سال تھی۔ ہم لوگ اس کے بارہ میں مذاکرہ کیا کرتے تھے ۔ شیخ نجار نے میرے بارہ میں بہت بتایا کہ انھوں نے انگریزی میں انسائیکلو پیڈیا آف قرآن تیار کی ہے اور اب اس کو چھپوا رہے ہیں۔ پرنس نے بہت دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ چھپتے ہی ان کے نام ایک نسخہ روانہ کیا جائے۔

ان کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی وہاں بھی انھوں نے اپنی انگریزی تقریر میں سب سے پہلے یہی بات کہی کہ مجھے آکر جب معلوم ہوا کہ یہاں شیخ وحید الدین موجود ہیں تو مجھے تعجب انگیز خوشی (pleasant surprise) ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو یہ کتاب خاص طور پر پڑھنا چاہیے جو عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں موجود ہے۔

جلسہ کے خاتمہ پر جب پرنس محمد فیصل السعود باہر نکلے تو گیٹ پر تین مسلم نوجوان انگریزی میں ان کے خلاف زور زور سے بولنے لگے منتظمین جلسہ کے بارہ میں انھوں نے کہا کہ آپ لوگ ان کو ہزاکسی کہکر خطاب کرتے ہیں ، حالاں کہ سعودی تو ایسے اور ایسے ہوتے ہیں۔ پرنس تو فوراً مگر نوجوان بدستور زور زور سے چلاتے رہے۔

میں وہاں کھڑا ہو کر اس منظر کو خاموش دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں ہوٹل کے جنرل منیجر مسٹر جاوید اگچہ لڑکے نہایت اشتعال انگیز انداز اختیار کئے ہوئے تھے۔ مگر مسٹر جاوید نواز ذرا بھی مشتعل نہیں ہوئے۔ انتہائی ٹھنڈے انداز میں انھوں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ پرائیویٹ پراپرٹی ہے۔ آپ کو میں پانچ سکنڈ دیتا ہوں۔ آپ پانچ سکنڈ میں یہاں سے چلے جائیے ورنہ میں آپ کو پولیس کے حوالے کر دوں گا۔ یہ سنتے ہی ان نوجوانوں کا حال ایسا ہوگیا

یہ غبارے کی ہوا نکل جائے ۔ وہ خاموش ہو کر تیزی سے باہر چلے گئے ــــ میں نے سوچا کہ جھوٹی بہادری ہمیشہ جھوٹی بز دلی پر ختم ہوتی ہے۔

امریکہ میں مسلم نوجوانوں کی ایک انتہا پسند جماعت ہے۔ غالباً یہ لوگ اسی جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ ان مسلمانوں کو گمراہ سمجھتے ہیں جو "خلافت" کے لئے کوشش نہ کر رہے ہوں۔ وہ امریکہ میں اسلامی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیلی فورنیا در اصل خلیفر نیا ہے اور سب سے پہلے اسلامی خلافت یہیں قائم ہوگی۔

اس طرح کی کانفرنسوں میں عام طور پر اہل علم جمع ہوتے ہیں۔ اس لئے ان میں اسٹیج کی تقریریں ہی سب کچھ نہیں ہوتیں۔ یہاں کھانے کی میز پر یا دوسرے مواقع پر جو ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں ، ان میں بھی اکثر علمی باتیں جاری رہتی ہیں۔

ایک بار کھانے کی میز پر طرز تحریر کے بارہ میں باتیں ہونے لگیں۔ مختلف لوگوں نے مختلف ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی نے بتایا کہ ٹامس جیفرسن کی عادت تھی کہ وہ مختصر خط کسی نے اس سے کہا کہ آپ ہمیشہ مختصر خط لکھتے ہیں۔ ٹامس جیفرسن نے جواب دیا کہ اگر میرے پاس زیادہ وقت ہوتا تو میں اور بھی مختصر خط لکھتا:

If I had more time, I would have written even shorter letters. نیو یارک کے انگریزی سہ روزہ (The Minaret) کے ایڈیٹر مسٹر محمد عبدالمنعم نے ۲۶ دسمبر کی شام کو انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے حالات سے تھا ۔ اس سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ بہت سے لوگ انڈیا کا ذکر اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ کوئی استثنائی ملک ہو اور وہاں مسلمانوں کے لئے ظلم ہی ظلم ہو۔ میں اس قسم کے نظریہ کو بالکل بے بنیاد سمجھتا ہوں۔ انڈیا میں بھی مسلمانوں کے لئے ترقی کے وہی مواقع ہیں جو دوسرے لوگوں میں ان کے لئے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے سوسال میں بدقسمتی سے انڈیا میں ایسے مسلم لیڈر آئے جو مسلمانوں کو زندگی کی شاہراہ سے بھٹکاتے رہے۔ انھوں نے مسلمانوں کے ذہن کو مسائل میں الجھائے رکھا۔ جب کہ صحیح رہنمائی یہ ہے کہ لوگوں کو مواقع کو استعمال کرنے کی طرف متوجہ کیا جائے۔

Printed page