عالی ظرفی
Al-Risala, January 1995, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا ابوالجلال ندوی (۱۸۸۱-۱۹۴۱) غیرمعمولی صلاحیت کے آدمی تھے۔ وہ اردو، عربی فارسی، انگریزی، ہندی، سنسکرت اور عبرانی زبانیں جانتے تھے۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ وہ کوئی کتاب مکمل نہ کرسکے۔ اس کی وجہ ان کے اندر استقلال کی کمی تھی۔
۱۹۲۸ میں اور اس کے بعد وہ مدراس کے مدرسہ جمالیہ کے پرنسپل تھے۔ صاحب کے دور میں ایک دفعہ دستار بندی کے جلسہ میں نواب حیدر آباد کو بھی یہاں مدعو کیا گیا تھا، وہ معائنہ کی غرض سے دو نوجوان لڑکیوں کے ہمراہ ہر درجہ میں تشریف لے گئے، جس درجہ میں پہنچے سب لوگ ان کے احترام میں ایستادہ ہوجاتے، مولانا ابوالجلال صاحب کے درجہ میں تشریف لائے تو وہ نہ خود کھڑے ہوئے اور نہ طلبہ کو کھڑے ہونے دیا بلکہ اپنا رخ بھی پھیر لیا۔ نواب صاحب نے دریافت کیا کہ آپ کیوں نہیں اٹھے، کیا میں ظل اللہ نہیں ہوں اور آپ نے رُخ پھیر کر میری توہین کی ، مولانا ابوالجلال صاحب نے فرمایا کہ میں آپ سے زیادہ برتر کتاب حدیث شریف کا درس دے رہا تھا اور آپ کے ساتھ نا محرم لڑکیاں تھیں اس لئے رخ پھیر لیا۔ نواب صاحب کو اس موقع پر گیارہ تولہ سونا کا ایک ہار پہنایا گیا تھا، انھوں نے اتار کر مولانا کو دے دیا اور مولانا نے اسے مدرسہ کے چندہ میں جمال صاحب کے حوالہ کر دیا۔
نواب صاحب نے مولانا سے یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ کو ضرورت ہو تو میرے پاس حیدر آباد یہ جب وہاں گئے تو نواب صاحب نے کوئی کتاب انھیں ترجمہ کے لئے دی۔ نے دو ماہ میں ترجمہ کرکے ان کے حوالے کر دیا، نواب صاحب کو ترجمہ بہت پسند آیا اور مولانا کی تنخواہ کے حساب سے نو سو روپے بھی مرحمت فرمائے جسے لے کر یہ واپس چلے آئے۔ اعظم گڑھ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۱۱۳-۱۱۲)
یہ واقعہ اس زمانہ کا ہے جب کہ نواب حیدر آباد کا شاہانہ جاہ و جلال تھا۔ ایک آدمی نے برسرعام ان کی توہین کی۔ مگر انھوں نے نہ صرف توہین کو برداشت کیا بلکہ اس آدمی کے جواب سے خوش ہو کر اس کو انعام واکرام بھی دیا۔ اسی کا نام عالی ظرفی ہے۔