ایک آزمائش
Al-Risala, May 1995, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور اسی طرح ہم نے شریر آدمیوں کو اور شریر جنوں کو ہرنبی کا دشمن بنا دیا ۔ وہ ایک دوسرے کو پر فریب باتیں سکھاتے ہیں دھوکا دینے کے لئے ۔ اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کر سکتے ۔ پس تم انہیں چھوڑ دو کہ وہ جھوٹ باندھتے رہیں ۔ اور ایسا اس لئے ہے کہ اس کی طرف ان لوگوں کے دل مائل ہوں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ۔ اور تاکہ وہ اس کو پسند کریں ، اور تاکہ جو کمائی انہیں کرنی ہے وہ کر لیں (الانعام ۱۲ - ۱۱۳)
یہ معاملہ اس وقت پیش آتا ہے جب کہ حق کی دعوت اپنی بے آمیز صورت میں سامنے جو لوگ خود ساختہ مذہب کی بنیاد پر مقبولیت حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں ، وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ دعوت ان کو بے اعتبار ثابت کر رہی ہے ۔ چنا نچہ وہ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں ۔ چوں کہ دعوت حق کو دلیل سے رد کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہوتا ، اس لئے وہ عیب جوئی اور کردار کشی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔
یہ مخالفین اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے بے بنیاد شوشے نکالتے ہیں ۔ وہ داعی کے خلاف الزام بازی کی مہم چلاتے ہیں ۔ وہ اس کی ذات کو بد نام کرنے کے لئے پر فریب باتیں پھیلاتے ہیں ۔ یہ صور تحال ہر آدمی کو ہر ہنہ کر دیتی ہے ۔ ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو اللہ کے خوف نے آخری حد تک سنجیدہ بنا دیا ہے ۔ ان کی بڑھی ہوئی سنجیدگی اس بات کی ضمانت بن جاتی ہے کہ وہ دلیل اور عیب جوئی میں فرق کر سکیں ۔ مگر جن لوگوں کے دل خدا کی پکڑ کے احساس سے خالی ہو جاتے ہیں ، وہ سنجیدہ غور و فکر سے بھی محروم ہوتے ہیں ۔ یہ دوسری قسم کے لوگ آسانی سے اس پر فریب پروپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
یہ صور تحال امتحان کی غرض سے ہے ۔ اس لئے وہ لازماً باقی رہے گی ۔ اس دنیا میں بہر حال آدمی کو اس آزمائش میں کھڑا ہونا ہے کہ وہ سچی دلیل اور بے بنیاد بات میں فرق کرے ۔ وہ بے بنیاد بات کو رد کرکے سچی دلیل کو قبول کرلے ۔ الفاظ کی آزمائش سب سے بڑی آزمائش ہے کامیاب وہ ہے جو اس نازک آزمائش میں کامیاب رہے ۔