جدال احسن
Al-Risala, January 1995, pp. 22–24
By Maulana Wahiduddin Khan
گفتگو کے اسلامی آداب میں سے ایک وہ اصول ہے جس کو قرآن میں دفع احسن (المومنون ۹۶) یا جدال احسن (النحل ۱۲۵) کہا گیا ہے۔ یعنی مخالفانہ باتوں کے جواب میں رد عمل یا مناظرہ بازی کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ بلکہ احسن طریقہ سے اس کو ٹالنے یا اس سے گزر جانے کی کوشش کی اس طریقہ میں اللہ تعالی نے یہ طاقت رکھی ہے کہ وہ لوگوں کو مسخر کر لے۔ اس میں نہ صرف وقتی طور پر دفع شر کا فائدہ ہے، بلکہ قرآن کی شہادت کے مطابق، وہ شر کو خیر میں اور دشمن کو دوست میں تبدیل کرنے کا نہایت مؤثر ذریعہ ہے (حم السجدہ ۳۴)۔
جدال احسن کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک مثال لیجئے ۔ قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت توحید کا ذکر ہے اور اس مکالمہ کا تذکرہ ہے جو آنجناب کا وقت کے بادشاہ نمرود سے پیش آیا۔ اس مکالمہ کا ایک حصہ یہ ہے :
کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارہ میں حجت کی۔ کیوں کہ اللہ نے اس کو سلطنت دی تھی۔ جب ابراہیم نے اس سے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ وہ شخص بولا کہ میں بھی جلاتا ہوں اور مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ اللہ سورج کو پورب سے نکالتا ہے، تم اس کو پچھم سے نکال دو۔ تب وہ منکر حیران رہ گیا اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا (البقرہ ۲۵۸)
نمرود نے حضرت ابراہیم کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں بھی جلاتا ہوں اور مارتا ہوں اس لئے خود تمہارے معیار کے مطابق میں رب ہوں۔ یہ واضح طور پر سرکشی کا ایک جملہ تھا۔ ابراہیم اس پر بادشاہ سے نہیں الجھے۔ انھوں نے بات کو بدل کر یہ فرمایا کہ اچھا، اگر تم رب ہو تو یہاں صبح وشام، بالفاظ دیگر، گردش زمین کا جو آفاقی نظام قائم ہے اس کو تم بدل کر دکھا اس انداز کلام نے بادشاہ کو لاجواب کر دیا۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ نے عام طور پر اس اسلامی اصول کو بھلا دیا ہے۔ اس لئے وہ غیر ضروری طور پر اپنے آپ کو مشکلات میں پھنسا ہوا محسوس کرتے
اگر وہ اسلام کے اس اندازِ کلام کو اختیار کر لیں تو اچانک وہ اپنے آپ کو اقدامی پوزیشن میں محسوس کرنے لگیں گے، جب کہ آج وہ خلافِ واقعہ طور پر اپنے آپ کو دفاعی پوزیشن میں گھرا ہوا پا رہے ہیں۔
ہندوستان میں کچھ انتہا پسند لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہندوستانی کا شخص ہندو ہے۔ یعنی فرانس کے شہری کو جس طرح فرخ یا امریکہ کے شہری کو جس طرح امریکن کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان کے ہر شہری کو ہندو کہا جانا چاہئے۔ اس پر مسلمان غصہ ہوتے ہیں۔ مسلم دانشور اس کا حوالہ دے کر تیز و تند مضامین اخباروں اور رسالوں میں شائع کرتے ہیں۔
مگر یہ جدال غیر احسن ہے۔ اس معاملے میں جدالِ احسن کا طریقہ یہ ہے کہ نزاع کے بجائے اعراض کا انداز اختیار کیا جائے ۔ منفی جواب کے بجائے مثبت جواب دینے کی کوشش کی جائے۔ اگر سوچ کو قرآن کے بتائے ہوئے رخ پر چلایا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کا نہایت عمدہ اور مؤثر جواب یہاں موجود ہے۔
راقم الحروف کی گفتگو ایسے ہی ایک انتہا پسند ہندو سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اس دیش میں سب کی پہچان صرف ایک ہے، اور وہ ہندو ہے۔ ہندو، کوئی دھارمک شبد نہیں، وہ جغرافی شبد جو لوگ بھی بھارتی جغرافیہ میں بستے ہیں وہ سب کے سب ہندو ہیں۔
میں نے نرمی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہریت کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جس کا فیصلہ کانسٹی کرتا ہے۔ مثلاً اس دیش کا نام کیا ہو، اس کو کوئی پارٹی طے نہیں کر سکتی۔ نے دیش کا جو نام مقرر کیا ہے وہی دیش کا نام ہوگا۔ اسی طرح دیش کے شہری کو کیا کہا جائے، یہ بھی ساری دنیا کے مانے ہوئے اصول کے مطابق، کانسٹی کے دائرہ کی چیز ہے۔ ٹیوشن ہی اس کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہمارا موجودہ کانسٹی اس دیش کے باشندوں کو انڈین‘ آدمی کے پاسپورٹ میں، اس کے قانونی کاغذات میں ہر جگہ اس کی شہریت انڈین ہی بتائی اس لئے کوئی چاہے یا نہ چاہے، اس ملک کے ہر آدمی کو انڈین ہی کہا جائے گا اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب کہ خود کانسٹی ہی تبدیل کر دیا جائے۔
پھر میں نے کہا کہ اگر کچھ لوگ ہندوستان کے کانسٹی میں اس قسم کی تبدیلی لانا چاہیں تو
یقینی طور پر خود ہندوؤں کی اکثریت اس کی مخالفت کرے گی۔ کیوں کہ یہ بات انٹرنیشنل معیار کے کانسٹی ٹیوشن ہمیشہ پڑھے لکھے لوگ بناتے ہیں، اور پڑھے لکھے لوگ اس طرح کے معاملات میں انٹرنیشنل معیار سے باہر جانے کی بات سوچ بھی نہیں سکتے۔ کیوں کہ ایسا کرنا اپنے آپ کو عالمی اچھوت بنانے کے ہم معنی ہے۔
یہی معاملہ کامن سول کوڈ کا ہے۔ مسلم دانشور اکثر اس کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ حالاں کہ یہاں بھی جدال احسن کے اصول پر ہمارے پاس نہایت مؤثر جواب موجود ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں مجھ سے اس کی بابت پوچھا گیا۔ میں نے کہا کہ کامن سول کوڈ ہمارے ملک میں صرف اخباری اشو ہے، وہ کوئی حقیقی اشو نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کا سماج مکمل طور پر ایک روایت پسند (tradition-based) سماج ہے۔ جب تک سماجی روایتیں نہ بدلیں، محض قانون بنا دینے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوگا۔ اس قسم کی چیزیں کبھی قانون کے ذریعہ نافذ نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر ہمارے یہاں اینٹی ڈاؤری قانون موجود ہے۔ مگر اس قانون کے باوجود ڈاؤری بڑھ رہی ہے اور قانون اس کو روکنے سے مکمل طور پر عاجز ہے۔ اگر کامن سول کوڈ کے نام پر کوئی سخت قانون بنا دیا جائے اور اس کے مطابق اس کو لازمی قرار دے دیا جائے کہ تمام فرقوں کے نکاح سرکاری شادی خانہ میں انجام دیے جائیں تو عملی طور پر اس کا کوئی نتیجہ نہیں ہوگا۔ تمام لوگ پھر بھی اپنے آبائی رواج کے مطابق ہی نکاح کریں گے۔ اگر انھیں سرکاری شادی خانوں میں جانے پر مجبور کر دیا جائے تب بھی وہاں سے لوٹنے کے بعد ہند و فوراً پنڈت کو بلا کر پھیر اکروائے گا اور مسلمان قاضی کو بلا کر اس سے نکاح پڑھوائے گا۔ میں قانون بنانے سے کیا فائدہ۔
میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ ملک کے کانسٹی ٹیوشن میں ایک دفعہ کامن سول کوڈ کی موجود ہے۔ یہ کوئی دلیل نہیں۔ کانسٹی ٹیوشن میں اور بھی کئی غیر حقیقی دفعات تھیں (مثلاً پریوی پرس، لیکن آپ جانتے ہیں کہ ترمیم کر کے ان دفعات کو نکال دیا گیا یا بدل دیا گیا۔ اس طرح اب تک کانسٹی ٹیوشن میں ۷۰ سے زیادہ ترمیمات ہو چکی ہیں۔
جدال احسن نزاع کو گھٹاتا ہے اور جدال غیر احسن صرف نزاع کو بڑھانے میں مددگار ہے۔