رجوع واعتراف
Al-Risala, May 1995, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
" المجلة " عربی کا مشہور میگزین ہے۔ وہ جدہ (سعودی عرب) میں چھپتا ہے اور لندن سے شائع ہوکر ساری دنیا میں پہنچتا ہے۔ اس میگزین کے شمارہ ۵- ۱۱ دسمبر ۱۹۹۳ (۲۲ - ۲۸ جمادی الآ خر۱۴۱۴ھ) میں لیبیا کے صدر معمر القذافی کا خصوصی انٹرویو اس عنوان کے تحت چھپا ہے: القذافی يعترف : الانقلابات والثورات لم تحقق المطلوب ۔ اس انٹرویو کا ایک سوال و جواب یہ ہے:
هل يمكن ان توضح لنا الفارق بين عهد الشباب الماضي ثم عهد النضج الحالي؟ - كنا في الماضي نحرص على الثورة من اجل اقامة الوحدة العربية مثلاً، وكنا نحرص على الدعوة الى الحرب من اجل تحرير فلسطين. لكن وضع الثورات في الوطن العربي في الماضي وبعده اثبت انه ليس من الضروري ان يقع انقلاب حتى تتحقق هذه الأهداف. عاصرت خمسة او ستة انقلابات في موريتانيا، ومثلها اليمن وكذلك السودان، وعاصرت تغييراً في الحكام. فقد مر على اليمن الشعبي وسالم البيض وصالح وعلي عنز وعبد الفتاح والغشمي والحمدي. كلهم عاصرتهم، والسودان مثلاً مر عليه النميري والصادق المهدي وسوار الذهب وسوار الفضة (ضاحكاً) وان شاء الله نقف عند الفضۃ، عاصرت انقلابات واغتيالات وتغييرات ولكنها لم تؤد الى حل. والذي يمكن تطويره هو هذه الأنظمة لتصبح مثل اوروبا، أي تصل الى الوحدة بالاقناع، يمكن الاقناع ان يوصلنا الى تغيير ميثاق الجامعة العربية واقامة وحدة اقتصادية ودفاعية، وكل يبقى في مكانه. فالملك ملك، والرئيس رئيس، والسلطان سلطان. فقد ثبت لنا ان تصفية الرموز ليست هي الحل. واما حرب فلسطين فانظر الى جنوب افريقيا صار فيها حل بدون حرب بعد ان كنت اقول انه يجب ابادة البيض. ليس ضروريا ان نشن الحرب لتحرير فلسطين) فلو برجع الشعب الفلسطيني الى ارضه ويكون هناك خمسة او ستة ملايين في دولة مع اليهود ضمن دیمو قراطیۃ لوجد الحل. سوال : کیا آپ وضاحت کے ساتھ ہمیں بتائیں گے کہ آپ کے گزشتہ عہد جوانی اور موجودہ پختگی کے دور میں کیا فرق ہے؟
جواب : پہلے ہم مثال کے طور پر عرب اتحاد قائم کرنے کے لئے انقلاب پر ابھارتے تھے۔ فلسطین کے بارے میں جنگ کی باتیں کیا کرتے تھے۔ لیکن عالم عربی میں ماضی و حال کے انقلابات کو
صور تمام نے ثابت کیا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ پہلے کوئی انقلاب برپا کیا جائے تب ہی مذکورہ مقاصد حاصل ہوں گے۔ میں اپنے زمانے میں موریتانیا کے اندر پانچ یا چھ انقلابات دیکھ چکا ہوں۔ یمن اور سوڈان کا ہے۔ میں نے حکمرانوں کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔ یمن میں الشعبی، سالم البیض، صالح، علی عنتر ، عبد الفتاح ، النغمی ، الحمدی ، یہ سب میرے معاصر رہے ہیں۔ اسی طرح سوڈان میں مثلاً نمیری تھے ان کے بعد صادق المھدی آئے، پھر سوار الذہب اور سوار الفضہ۔ میرے زمانے میں کئی انقلابات، حکمرانوں کے قتل اور حکومتوں کی تبدیلی کے واقعات ہوئے مگر وہ سب کے سب بے سود ثابت ہوئے۔ جس چیز کو بدلنا اور ترقی دینا ممکن ہے وہ ہمارا موجودہ طریقہ کار ہے تاکہ وہ یورپ کی طرح ہو جائے۔ یعنی اتحاد کے حصول کے لئے (بات چیت کے ذریعہ ) یقین دہانی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس طریقہ کو استعمال کرکے ہم عرب لیگ کے دستور کو بدل سکتے ہیں اور اپنے درمیان ایک اقتصادی اور دفاعی اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔ ہر شخص جہاں ہے وہ وہیں رہے ، بادشاہ اپنی جگہ صدر اپنی جگہ ، سلطان اپنی جگہ ۔ کیوں کہ تجربہ سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس قسم کی علامتوں کو ہٹانا ہمارے مسئلہ کا حل نہیں۔ جہاں تک جنگِ فلسطین کا معاملہ ہے تو اس سلسلہ میں جنوبی افریقہ کو دیکھئے جہاں جنگ کے بغیر اسی نوعیت کا مسئلہ حل کر لیا گیا۔ جب کہ اس سے پہلے میرا کہنا تھا کہ سفید فام نسل کو نابود کئے بغیر وہ حل ہونے والا نہیں۔ آزادی فلسطین کے لئے بھی ضروری نہیں کہ ہم جنگ چھیڑیں۔ اگر فلسطینی لوگ اپنی سرزمین میں واپس آجائیں اور ان کی ۵ یا ۶ ملین تعداد یہودیوں کے ساتھ ایک جمہوری نظام حکومت میں شرکت پر راضی ہو جائے تو بالآخر ان کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا۔ معمر قذافی نے لیبیا کے سابق شاہ ادریس کو ملک کی خرابیوں کا اصل سبب سمجھ اور فوجی انقلاب کے ذریعہ ، ۱۹۶۹ میں ان کا خاتمہ کر دیا۔ مگر انقلاب کے باوجود وہ نتائج حاصل نہ ہو سکے جو اس سے متوقع تھے۔ یہی حال اکثر مسلم ملکوں میں ہوا ہے۔ ہر انقلاب صرف افراد کی تبدیلی کے ہم معنی ثابت ہوا نہ کہ حالات کی تبدیلی کے ہم معنی۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی حکمراں کو برائی کی علامت قرار دے کر اس کے خلاف مہم چلانا ایک طفلانہ اس قسم کی تحریکیں اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف تخریبی تحریکیں ہیں، ان کو انقلابی اور اصلاحی تحریک وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کو نہ تاریخ کی خبر ہو اور نہ انسانی نفسیات کی۔