سفر نامہ امریکہ ۔ ۲
Al-Risala, May 1995, pp. 19–26
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے کہا کہ حیدر آباد میں تقسیم سے پہلے ایک بار ایسا ہوا کہ بہادر یار جنگ کے ایک عزیز کو ہندوؤں نے قتل کر دیا۔ اس کے بعد مسلمان تلوار لے کر نکل آئے۔ طرف سے ہندوؤں کو مارنا چاہتے تھے۔ مگر بہادر یار جنگ نے کہا کہ جس ہندو نے میرے عزیز کو قتل کیا ہے تم صرف اس کو مار سکتے ہو، سارے ہندوؤں کو نہیں مار سکتے۔ کیا آپ ہندوؤں میں ایسی کوئی ایک مثال بتا سکتے ہیں۔
میں نے کہا کہ آپ کو ایک نہیں، بہت سی مثالیں بتا سکتا ہوں، میرے خود اپنے وطن کا قصہ ایک مسلمان نے ایک ہندو (چھتر دھاری سنگھ) کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد سیکڑوں ہندو مقتول کے گھر پر جمع ہوگئے۔ انھوں نے چاہا کہ قاتل مسلمان کا تعلق جس گاؤں سے ہے اس گاؤں کے تمام مسلمانوں کو سخت سزا دیں۔ مگر مقتول کے بھائی نے زبردست مخالفت کی۔ ہندوؤں کی بھیڑ کو گاؤں میں داخل ہونے نہیں دیا۔ اس نے کہا کہ ہم دوسرے مسلمانوں کو نہیں ماریں گے اور نہ ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ ہم قاتل مسلمان کو عدالت سے سزا دلوائیں گے۔ چنانچہ اس نے عدالتی کارروائی کی۔ چند سال تک مقدمہ جاری رہا۔ آخر کار عدالت سے قاتل کو لمبی مدت کی قید کی سزا ملی۔ ہندو مقتول کے بھائی نے روکا نہ ہوتا تو یقیناً پھیری ہوئی بھیڑ مسلمان قاتل کے گاؤں کو جلا دیتی۔ مقتول کے بھائی چھتری سنگھ ابھی زندہ موجود ہیں۔ ۲۷ دسمبر کو فجر کی نماز اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں پڑھی۔ ایک عرب امامت کر رہے تھے۔ انھوں نے پہلی رکعت میں قرأت یہاں سے شروع کی : ان هذا القرآن يقص على بني إسرائيل اکثرالذی ھم فيه يختلفون (النمل ) اس آیت پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ ٹھیک یہی کام خود مسلمانوں میں بھی جاری رہتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ ہر سو سال میں ایک شخص اٹھاتا ہے جو دین کی تجدید کرتا ہے۔ یہ تجدید عین وہی چیز ہے جس کا مذکورہ آیت میں ذکر ہے۔ وقت گزرنے پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مختلف معاملات میں دینی نقطہ نظر کیا ہے، یہ گم ہو جاتا ہے۔ طرح طرح کے منحرف نقطہ نظر رائج ہوجاتے ہیں۔ اس وقت اللہ کی توفیق سے ایک آدمی فہم و بصیرت والا وہ ہر معاملہ میں صحیح دینی نقطہ نظر کا اعلان کرتا ہے۔ وہ تطہیر افکار کا کام انجام دیتا ہے۔ یہی کام بذریعہ قرآن اہل کتاب کے درمیان انجام پایا۔ اور یہی کام، ختم نبوت کے بعد، مجدد
کے ذریعہ امت محمدی میں جاری رہے گا۔
امام صاحب نے دوسری رکعت کے آخر میں لمبی قنوت نازلہ پڑھی۔ اس میں دوبار انھوں نے کہا: اللهم دمر دیار الکافرین - اسی قسم کے الفاظ انڈیا کی مسجدوں میں بھی سنائی دیتے ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے مسلمانوں کی اس دعا کو قبول نہیں کیا۔ اگر فی الواقع یہ دعا قبول ہو جاتی اور کافروں کی تدمیر دیار کر دی جاتی تو خود دعا کرنے والوں کا بھی خاتمہ ہو جاتا۔ کیوں کہ یہ حضرات خود بھی انہی کافروں کے درمیان رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعا ہجرت کے بعد ہے نہ کہ ہجرت سے پہلے۔
دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارے لئے یہ دعا جائز ہی نہیں۔ ہم دعوت کے مرحلہ میں ہیں نہ کہ برأت کے مرحلہ میں۔ دعوت کے مرحلہ میں صبر ہے نہ کہ بد دعا۔ داعی کو یک طرفہ طور پر مدعو کی زیا دتیوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے ، اس کے بغیر دعوت کے عمل کو انجام دینا ممکن نہیں۔
آرنچ کاؤنٹی کے روزنامہ رجسٹر ، (۲ دسمبر ۱۹۹۳) کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا صفحہ ہم جنگ (War) کی خبروں کے لئے تھا۔ اس صفحہ پر تین بڑے بڑے اشتہار تھے۔ صرف ایک خبر جنگ کی تھی اور وہ بوسنیا کے بارہ میں تھی۔ اس کی سرخی یہ تھی :
Muslim-led forces fight to win back lost territory. دوسری خبر صفحہ ۸ پر اختلاف (Dispute) کے زیر عنوان تھی۔ یہ پریس کے بارہ میں تھی ۔ اس کا خلاصہ اس کی سرخی میں اس طرح تھا :
Muslim leader criticized schools' anti-scarf rules. موجودہ زمانہ کے عالمی میڈیا میں مسلمان تشدد، اختلاف اور ٹکراؤ کا نشان بن گئے ہیں۔ مسلم دانشور اس کو غلط اطلاع (disinformation) کہتے ہیں۔ میں نے بہت غور کیا کہ یہ لوگ کیوں ایسا کہتے ہیں جب کہ بطور واقعہ ہر جگہ وہ یہی کر رہے ہیں۔ مسلم ملکوں میں نفاذ قانون کے نام پر، غیر مسلم ملکوں میں مداخلت فی الدین کے نام پر، اسی طرح کہیں جہاد حریت کے نام پر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لیڈر چاہتے ہیں کہ وہ خواہ جو کچھ کریں ہر حال میں ان کو اسلام کا کریڈٹ
وہ دنیا کے لئے رحمت بنیں اس کے باوجود دنیا ان کو رحمت کا خطاب دے۔ کی دنیا میں کبھی ایسا ہونے والا نہیں۔ ممسلمان کی تصویر ان کے اپنے اعمال کی بنیاد پر بنے گی نہ کہ ان کی خواہش کی بنیاد پر۔
کشمیر کے ڈاکٹر غلام نبی فائی بھی اس کانفرنس میں آئے تھے۔ ان کے خط کے جواب میں صدر کلنٹن کے خط (مورخہ ۲۷ دسمبر ۱۹۹۳) کا ہندوستانی اخباروں میں کافی چرچا ہوا۔ انہوں نے اس خط کی ایک کاپی مجھے دی۔ امریکہ کے شعبہ خارجہ کے ایک افسر مسٹر ایوجین پرائس جونیر (Eugene D. Price Jr) سے میں نے اس خط کی بابت پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا نے غیر ضروری طور پر اس خط کو اہمیت دے دی۔ اس طرح کاخط توروٹین کے طور پر ہمارے یہاں سے روزانہ جاتا رہتا ہے۔ دفتر خارجہ کے کارکنوں کو ایک عام پالیسی بتا دی جاتی ہے۔ اس کے تحت وہ خود اس طرح کے خطوط کے جوابات دیتے رہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ خود صدر کلنٹن ڈکٹٹ کرا کے اس خط کو لکھوائیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بارہ میں ہماری پالیسی وہی ہے جو پہلے تھی۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
ایک کشمیری سلمان نے کہا کہ فلپ آئن کا ایک کھلاڑی ٹینس کا ماہر تھا۔ وہ شاندار کھیل دکھا رہا تھا کہ اچانک فیلڈ کے اندر ہی گر پڑا اور فورا مر گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس واقعہ کو اخبار میں پڑھا تو میں نے کہا کہ آج مجھے یقین ہو گیا کہ کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔ یہ صاحب اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ وہ کشمیری تحریک میں ایک لیڈر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ کشمیر کی پر تشدد تحریک چلا رہے ہیں وہ کتنے سادہ لوح لوگ ہیں۔ شکاگو کے الینوئی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (I.I.T) میں انڈین طلبہ اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ لوگ مذاق سے اس کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کہنے لگے ہیں۔ یہ بات عبد الحمید سیمی کھانے کی میز پر ایک صاحب نے کہا کہ یہودی مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ عبد الحمید سیمی نے کہا کہ ہم لوگوں کا یہی ذہن ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری لڑکی نیوجرسی کے اسپتال میں ڈاکٹر ہے۔ وہاں ایک یہودی جونیئر ڈاکٹر میری بیٹی کو آنٹی کہتا جو کام وہ کہتی ہے فورا بھاگ کر اس کو کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ ایک مسلم خاتون ہیں۔ ۲۱ الرسائل مئی ۱۹۹۵
صرف اس لئے ایسا کرتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنی تعلیمی ترقی جاری رکھ سکے گا۔ لوگوں کا اصل کنسرن ان کا اپنا انٹرسٹ ہے نہ کہ دوسروں کی دشمنی۔ عبد الحمید سیمی صاحب اس راز کوسمجھ گئے ہیں کہ اس دور میں ترقی کار از تعلیم ہے۔ اپنے سب بچوں کو انھوں نے اعلیٰ تعلیم پر لگایا ہے۔ ایک بچہ جو یہاں کے ایک اسلامی اسکول میں پڑھتا ہے، اس سے میں نے کہا کہ کوئی آپ سے یہ پوچھے کہ اسلام کیا ہے (What is Islam) تو آپ کیا جواب دیں گے۔ بچہ کچھ جواب نہ دے پھر میں نے کہا کہ اچھا یہ بتائیے کہ اسلام کے ارکان (Pillars) کتنے ہیں۔ اس نے فوراً جواب دیا: پانچ ، اور پھر شہادت دے لے کر حج تک پانچ ارکان گنا دئے۔ میں نے سوچا کہ اس طرح کے اسلامی اسکولوں سے بچہ ایک رٹے ہوئے اسلام کو تو جان لے گا مگر وہ اس اسلام کو نہیں سیکھ سکتا جو اس کے ذہن کا جزء بن گیا ہو۔ وہ رٹی ہوئی باتوں کا جواب دہرائے گا۔ مگر اپنی سمجھ کو کام میں لاکر کوئی جواب دینا ہو تو وہ ایسا جواب دینے سے عاجز ثابت ہوگا۔ ایک صاحب کی تقریر یہاں کی ایک مسجد میں سنی۔ وہ انگریزی میں بول رہے تھے۔ کہا کہ کیوں ایسا ہے کہ ساری دنیا اسلام کی مخالف ہو گئی ہے:
Why is it that the whole of the world is against Islam. اس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں تمام لوگ سیکولر حتی کہ مسلم ممالک بھی سیکولرزم کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ سوال اور یہ جواب دونوں ہی غلط ہیں۔ نہ تو ایسا ہے کہ ساری دنیا اسلام کے خلاف ہوگئی ہے، اور نہ ایسا ہے کہ سیکولرزم اسلام کا دشمن ہے۔
بالفرض اگر دنیا اسلام کی مخالف ہو گئی ہو اور بالفرض سیکولرزم اسلام کے دشمن کے طور پر ظاہر ہوا ہو تب بھی اس قسم کی تقریر کرنا درست نہیں۔ ایسی حالت میں بھی مقرر کو یہ کہنا چاہئے کہ اسلام کی مخالفت اسلام کے نئے دور کی تمہید ہے۔ کیوں کہ جس نظریہ کی زیادہ مخالفت کی جائے وہ ہمیشہ ابھر کر رہتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اسلام کی مخالفت کو اسلام کے چرچا کے معنی میں لیں اور اس کو اسلام کی دعوت کے لئے استعمال کریں۔
ایک مسلم ملک کے خطیب قائد امریکہ آئے۔ یہاں انھوں نے اردو داں مسلمانوں کے
سامنے ایک تقریر کی۔ یہ تقریر چھپی ہوئی مجھ کو ملی جس کو میں نے پڑھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ اسلامی تحریک، خواہ وہ امریکہ میں ہو یا اور کسی ملک میں، وہ کوئی تبلیغی تحریک نہیں، وہ اسلامی نظام قائم کرنے کی انقلابی مہم ہے۔ ہم اللہ کے دین کو ایک کامل سماجی، سیاسی، سماجی، اقتصادی نظام کی حیثیت سے قائم و نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اس قیام (politico-socio-economic system) و نفاذ کے لئے ہم مسلح ٹکراؤ تک جانے کے لئے تیار ہیں! اسلام کی یہ تشریح سراسر بے بنیاد ہے۔ اسلامی تحریک اصلا تبلیغی تحریک ہی ہے۔ امریکہ میں یہ اعلان لغویت کی حد تک بے معنی ہے کہ تم اپنے ملک میں اسلام کا سیاسی، سماجی، معاشی قانون نافذ کرو، ورنہ ہم تم سے مسلح جہاد شروع کر دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ان کو ہم توحید اور آخرت کی حقیقت سے آگاہ کریں۔ اسلام کے اجتماعی قانون کا نفاذ نشانہ دعوت نہیں ہے۔ وہ کسی خطۂ ارض میں مسلم معاشرہ بن جانے کے بعد اس معاشرہ کی ذمہ داری ہے۔
انڈو اسلامک فاؤنڈیشن آف امریکہ (شکاگو) نے 48 صفحہ کی ایک کتاب بابری مسجد کے موضوع پر ۱۹۹۳ء میں چھاپی ہے۔ اس کے مؤلف ڈاکٹر عبد اللہ غازی ہیں۔ اس انگریزی کتاب کے آغاز میں اقبال کی اردو نظم ”رام“ ایک صفحہ پر نمایاں انداز میں چھاپی گئی ہے اور اگلے صفحہ پر اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں پہلی بار میں نے اقبال کی یہ پوری وہ اس طرح تھی:
لبریز ہے شرابِ حقیقت سے جامِ ہند سب فلسفی ہیں خطۂ مغرب کے رام ہند یہ ہندیوں کے فکرِ فلک رس کا ہے اثر رفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بامِ ہند اس دیس میں ہوئے ہیں ہزاروں ملک سرشت مشہور جن کے دم سے ہے دنیا میں نام ہند ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز اہلِ نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند اعجاز اس چراغِ ہدایت کا ہے یہی روشن تر از سحر ہے زمانے میں شامِ ہند تلوار کا دھنی تھا، شجاعت میں مرد تھا پاکیزگی میں، جوشِ محبت میں فرد تھا ایک پاکستانی مسلمان( (مسٹر ریاض احمد۔ مقیم نیو یارک) نے کہا کہ میں آپ کے الرسالہ کا قاری اس میں شک نہیں کہ آپ کی تحریریں دور حاضر کے لئے بے حد مفید ہیں۔ مگر ایک چیز مجھے
وہ یہ کہ آپ کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ تقسیم ہند کے خلاف ہیں۔ کی یہ رائے درست نہیں۔ جب سے میں امریکہ آیا ہوں مجھے یقین ہو گیا کہ جناح صاحب نے پاکستان بنو آکر بہت اچھا کیا۔ کیوں کہ ہم مسلمانوں کا اپنا ایک دیش تو ہے جو ہماری قومی پہچان ہے۔ میں نے کہا کہ جب آپ اور آپ جیسے لاکھوں پاکستانی مسلمان علیحدہ دیش کو اتنا زیادہ ضروری سمجھتے ہیں تو اپنا الگ دیش بنو انے کے بعد وہ دوبارہ یورپ اور امریکہ میں آکر بے دیش کیوں ہو رہے ہیں۔ آپ لوگوں کا پاکستان چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں آباد ہونا خود آپ کے بیان کی اگر پاکستان بننے کے بعد بھی آپ لوگوں کو غیر پاکستان میں رہنا تھا تو ایسی حالت میں پاکستان بنو انے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ آپ لوگ علیحدہ ملک بنوانے کے بعد دوبارہ مشترک ملک میں رہ رہے ہیں۔ مزید یہ کہ اس تقسیمی سیاست نے مسلمانوں کو اتنا زیادہ نقصان پہنچایا ہے جس کی تلافی صدیوں میں بھی نہیں ہو سکتی۔
واشنگٹن کے سعودی سفارت خانہ کی طرف سے ایک عربی پمفلٹ تقسیم کیا گیا۔ شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز کے کچھ فتاوی جمع کئے گئے تھے۔ ایک سوال و جواب یہ تھا: س هل يجوز أن يُعطى الكافر نسخة من معاني القرآن الكريم علماً أنها تحتوى على القرآن الكريم كلاً على الصفحة المقابلة۔
ج لا حرج في إعطاء الكافر نسخة من معاني القرآن الكريم لان الحكم للترجمة ولما في ذالك من البلاغ والدعوة الى الاسلام۔
یعنی ایک کافر کو با ترجمہ قرآن دیا جا سکتا ہے۔ اس میں اگرچہ متن شامل ہے مگر وہ ترجمہ کے حکم میں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تبلیغ و دعوت کا فائدہ مضمر ہے۔ یہ بلاشبہ صحیح فتوی ہے۔ لوگ غیر مسلموں کو با ترجمہ قرآن دینے سے منع کرتے ہیں وہ دعوت و تبلیغ کے احساس سے خالی وہ اسلام کی اسپرٹ کو سمجھنے سے محروم ہیں۔
ایک امریکی خاتون نے اسلام قبول کر لیا۔ اب وہ ایک پاکستانی مسلمان نصیر احمد مرزا سے نکاح کرکے اوٹا (Utah) میں رہتی ہیں۔ ان کا نام ہے اے مرزا (Jeanine Aisha Mirza) ان کا ایک انٹرویو میں نے پڑھا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ اکثر امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم بیویاں
زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ مگر ان کے نزدیک یہ خیال درست نہیں۔ یہ تو محض ایک تقسیم ہے گھر کے باہر میرا شوہر باس ہے۔ لیکن گھر کے اندر میں باس ہوں :
While most Americans are under the impression that Muslim wives are oppressed, Mirza said, she hasn't found that to be true. "It's just a different division. Outside the home, my husband's the boss. But in my house, I'm the boss."
اس طرح کے متعدد واقعات میرے علم میں آئے ۔ امریکہ کی لڑکیاں سفید فام نسل کے لڑکوں سے شادی کرکےنے میں متردد رہتی ہیں ۔ کیوں کہ انہیں ہر وقت طلاق کا ڈر لگا رہتا ہے ۔ اس بنا پر اکثر سنجیدہ لڑکیاں مسلمان لڑکوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیں۔ یہ وہ لڑکے ہیں جو تعلیم وغیرہ کے مقصد سے امریکہ آتے ہیں ۔ اس طرح کی شادیاں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ اخبار کے لوگ ان امریکی لڑکیوں سے سوالات کرتے ہیں ۔ اور وہ نہایت عمدہ انداز میں اسلام کی طرف سے دفاع کرتی ہیں ۔ جس کی ایک مثال اوپر نقل ہوئی۔
امریکہ میں انڈیا کے مظلوم مسلمانوں “ کے نام پر بہت سی تنظیمیں قائم ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو انڈیا سے براستہ یا براہ راست پاکستان امریکہ گئے اور پھر وہاں کے شہروں میں آباد ہو گئے ۔ اپنی معاشی سرگرمیوں کے ساتھ انھوں نے انڈین مسلمانوں کی ہمدردی میں مختلف ناموں سے ادارے قائم کر رکھے ہیں ۔
اس قسم کے ایک مسلمان نے مجھے ۸۰ صفحہ کی ایک انگریزی کتاب دی۔ اس میں مختلف اخبارات سے انڈیا کے مسلمانوں کے بارہ میں خبروں اور رپورٹوں کو جمع کیا گیا تھا۔ اس کا نام تھا: Oppression in India: A Case Study of Human Rights Violations میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگوں کو اگر انڈیا کے مسلمانوں سے واقعی ہمدردی ہے تو آپ ان کو چھوڑ کر یہاں کیوں چلے آئے ۔ میں نے کہا کہ اس قسم کے مضامین اور کتابیں چھاپ کر آپ انڈیا کے مسلمانوں کی کوئی خدمت نہیں کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈیا کے مسلمانوں کے جو مسائل ہیں اس کے ذمہ دار خود آپ جیسے مسلم دانش ور ہیں۔ آپ لوگ خود تو امریکہ میں آخری حد تک ایڈجسٹ کر رہتے ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کویہ سکھاتے ہیں کہ وہاں وہ ٹکراؤ کر کے رہنے کی کوشش کریں ۔
امریکہ میں آپ لوگوں کو جو پیس حاصل ہے وہ ایڈجسٹمنٹ کی قیمت ہے ، اور انڈیا کے مسلمانوں کو جو مسائل درپیش ہیں وہ ایڈجسٹمنٹ نہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔
انھوں نے کچھ جواب دینے کی کوشش کی۔ مگر ان کے ایک ساتھی نے یہ کہہ کر انھیں چپ کرا کہ مولانا صاحب صحیح کہہ رہے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ لوگ انڈیا اور پاکستان میں گاڑی چلاتے ہیں تو بار بار ہارن بجاتے ہیں مگر آپ ہی لوگ جب امریکہ کی سڑکوں پر گاڑی چلاتے ہیں تو کبھی ہارن نہیں بجاتے۔ یہی تو وہ کہہ رہے ہیں۔ آپ کو اگر ہمت ہے تو یہاں اسی طرح ہارن بجاکر دیکھ لیجئے۔
۲۷ دسمبر کی شام کو میں صغیر اسلم صاحب کے دفتر میں تھا۔ انھوں نے ایک پیکٹ نکالا۔ اور اس کو مجھے دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیلی فورنیا کی کھجور ہے۔ میں نے ایک کھجور ہاتھ میں لی۔ نے صغیر اسلم صاحب سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ایک بار بھوک کی حالت میں ایک انصاری آپ کو اور چند صحابہ کو اپنے ساتھ لے کر اپنے باغ میں گئے۔ وہاں وہ درخت سے کھجوروں کا ایک خوشہ توڑ کر لائے اور پانی پیش کیا۔ آپ نے کھجور کھاکر پانی پیا۔ نے فرمایا : یہ بھی ان نعمتوں میں سے ہے جس کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ تم سے سوال کیا جائے گا۔ وَ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ میں نے کہا کہ ایک صورت یہ ہے کہ آدمی کھجور کو بس امریکہ کی کھجور سمجھے۔ ایسی حالت میں اس نے اس کھجور کو صرف پیدا وار امریکہ کے طور پر پایا ، اس نے اسے تخلیق خداوندی کے طور پر نہیں پایا ۔ گویا کہ وہ امریکی صنعت کو دیکھ سکا مگر وہ خدائی صنعت کو دیکھنے سے محروم رہا۔ لوگوں کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ : من کان في ھذہ اَعمى فھوفی الآ خرۃ اعمى (الا سراء ۷۲)خدا خدا اس دنیا میں اپنی صفات کے ساتھ ظاہر ہوا ہے۔ آخرت میں وہ اپنی ذات کے ساتھ ظاہر جو آدمی صفات کی صورت میں خدا کو نہ دیکھ سکے وہ ذات کی صورت میں بھی خدا کو دیکھنے سے محروم رہے گا۔ اور بلا شبہ اس سے بڑی محرومی اور کوئی نہیں۔
میں نے کہا کہ میکسیکو کا ایک سیاح اسپین گیا۔ وہاں وہ قصرالحمراء دیکھ رہاتھا۔ اتنے میں ایک اندھا فقیر وہاں آکر کھڑا ہو گیا۔ سیاح نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس فقیر کو بہت زیادہ دے دو۔