I am proud to be a Muslim-American.
Al-Risala, May 1995, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ ہندوستان کے لیڈر ، خواہ بارئیس ہوں یا بے ریش، کبھی یہ نہیں کہتے کہ مجھے ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ ایسی حالت میں اگر اکثریتی فرقہ اور مسلمانوں کے درمیان معتدل تعلقات نہ پائے جائیں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ ڈبل اسٹینڈرڈ ہیں۔ آپ لوگ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے کچھ پسند کرتے ہیں اور خود اپنے لئے کچھ اور پسند کئے
جیسا کہ مشہور ہے، کرسٹوفر کولمبس نے امریکہ کو دریافت کیا تھا۔ وہ ۱۲ اکتوبر ۱۴۹۲ کو امریکہ کے ساحل پر پہنچا تھا۔ اس دن اس نے اپنی ڈائری کا جو صفحہ لکھا، اس میں اس نے ۱۳۹ بار سونا کا لفظ استعمال کیا۔ اس وقت کولمبس کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت سونے کی تھی۔ کولمبس کو معلوم نہ تھا کہ چند سو سال بعد امریکہ ایک ایسے فن کا مرکز بننے والا ہے جو سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے اور وہ جدید ٹکنالوجی ہے۔
دہلی سے ایک انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر شائع ہوتا ہے۔ یہ ریڈینس کاہندومثنیٰ ہے۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ آرگنائزر ہندوؤں کا ریڈینس ہے، اور ریڈینس مسلمانوں کا آرگنائزر۔ دونوں ہی منفی اصول صحافت پر چلائے جا رہے ہیں۔
آرگنائزر کے شمارہ ۵ دسمبر ۱۹۹۳ میں ایک مضمون اتل راوت کے قلم سے چھپا تھا۔ عنوان تھا ـــ اجودھیا امریکی پریس میں: