Ayodhya in American Press
Al-Risala, May 1995, pp. 35–41
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکی اخباروں میں اجودھیا کے واقعات پر جو کچھ چھپا تھا اس میں انھیں برا بھلا کہتے ہوئے مضمون میں بتایا گیا تھا کہ انڈیا کی خبریں اور خاص طور پر ہندوؤں کی خبریں امریکی پریس میں ہمیشہ غلط طور پر یا غلط رخ سے پیش کی جاتی ہیں:
The news dealing with India in general and Hindus in particular is, more often than not, misrepresented and misinterpreted in American press. مضمون نگار کو مثلاً یہ شکایت تھی کہ نیو یارک ٹائمس نے اپنے شمارہ ۷ دسمبر ۱۹۹۲ میں اجودھیا کے واقعہ کی رپورٹ دیتے ہوئے یہ لکھا کہ ہزاروں ہندو انتہا پسندوں نے اجودھیا میں گھس کر ۱۶ ویں صدی کی تعمیر شدہ مسجد کو ڈھا دیا۔ نیو یارک ٹائمس ایودھیا کے تنازعہ ڈھانچہ کو برابر مسجد بتاتا رہا: Consistently the New York Times had been describing the disputed structure as mosque. ٹھیک یہی ذہن مزید اضافہ کے ساتھ موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم دانشوروں میں ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ نفرت کی باتیں کریں مگر دنیا اس کو محبت کا عنوان دے۔ وہ تشدد کی کارروائی
کریں مگر دنیا اس کو امن کا اقدام بتائے۔ وہ لوگوں کے راستے میں کانٹے بکھیریں مگر دنیا یہ اعلان کرے کہ انھوں نے ہمارے راستہ کو پھولوں سے بھر دیا ہے۔ اور جب دنیا ایسا نہیں کرتی تو وہ پر جوش طور پر اعلان کرتے ہیں کہ ساری دنیا کا میڈیا مسلم دشمن ہے ، وہ گہری سازش کے تحت مسلمانوں کے بارہ میں غلط خبر رسانی (disinformation) کا فعل انجام دے رہا ہے۔ آرینج کاؤنٹی کی اسلامک سوسائٹی کی مسجد ایک متروکہ چرچ کو خرید کر بنائی گئی ہے۔ قسم کے واقعات امریکہ اور یورپ میں عام ہیں۔ متروکہ چرچ کی عمارت کو کہیں مسلمانوں نے خرید کر مسجد بنالی ہے اور کہیں ہندوؤں نے خرید کر اس کو مندر میں تبدیل کر لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسیحی تصور کے مطابق، چرچ کسی مقام یا عمارت کا نام نہیں ہے۔ قدیم لفظ اکلیسیا (ekklesia) کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ قدیم یونان میں اکلیسیا اجتماع (اسمبلی) کے معنی میں بولا جاتا تھا۔ اس کے بعد مسیحیوں نے اس کو مذہبی اجتماع کے معنی میں بولنا شروع کیا۔ یا چرچ ہم معنی طور پر مذہبی اجتماع یا مذہبی ایسوسی ایشن کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی مقام پر مسیحیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے چرچ کی بلڈنگ کا مذہبی استعمال باقی نہ رہے تو تو اس کی مذہبی حیثیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اور پھر اس کو بیچناایسا ہی بن جاتا ہے جیسے کسی خالی گھر کو بیچ دینا۔ تا ہم مسیحی حضرات اس کو پسند کرتے ہیں کہ ایک مذہبی عمارت دوبارہ مذہبی عمارت ہی کی حیثیت سے باقی رہے۔ اسی لئے اس قسم کے چرچ نہایت آسانی سے مسجد یا مندر والوں کو حاصل ہو جاتے ہیں۔
لاس اینجلس کے مسٹر عبد الحکیم نے اپنا ایک پیپر (Muslims of India) پڑھنے کو دیا۔ عنوان یہ تھا کہ ہوشیار دشمن بیوقوف دوست سے اچھا ہے۔ اس کی تشریح میں نیچے لکھا ہوا تھا کہ ہندوستان کی مسلم لیڈر شپ بھی جزئی طور پر ذمہ دار ہے:
A smart enemy is better than a foolish friend (Muslim leadership is also partly responsible)
میں نے کہا کہ جزئی طور پر نہیں، بلکہ کلی طور پر مسلمانوں کی نا اہل لیڈر شپ ہی ان کے تمام مسائل کی ذمہ دار ہے۔ مثلاً ڈنر رویشن کے دور میں اس نے مسلمانوں کے اندر رزرویشن کا فتنہ بنایا۔ ۳۶ الریاض مئی ۱۹۹۵
موجودہ زمانہ میں صحافت ایک انڈسٹری ہے۔ اس کو جو لوگ چلاتے ہیں وہ اظہار حق کے لئے اس کو نہیں چلاتے بلکہ خالص تجارتی مصلحت کے تحت چلاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اخبارات ہمیشہ گرماگرم خبروں کو اہمیت دیتے ہیں، کیوں کہ عوام ایسی خبروں کو پڑھنے میں خاص دلچسپی لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان اخبارات میں زیادہ تر انتہا پسند مسلمانوں کی باتیں نمایاں کی جاتی ہیں۔ مثلاً کچھ مسلمانوں نے جب امریکہ کے ٹریڈ سنٹر پر بم مارا تو یہ خبر فورا تمام اخباروں میں چھپ گئی۔ جب کہ دوسری اچھی خبریں ان اخباروں کے صفحات میں بہت کم جگہ پاتی ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہے کہ جو امریکی اخبار کی خبروں سے اسلام کے بارہ میں واقف ہوتے ہیں وہ اسلام کو ایک دہشت گرد مذہب سمجھتے ہیں، کیوں کہ اسلام کی نسبت سے وہ ہمیشہ اسی قسم کی خبریں اپنے اخباروں میں دیکھتے ہیں۔
اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ ہم امریکی صحافت کی مذمت کریں۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ ان مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو منفی طرز ِفکر میں مبتلا ہیں اور متشددانہ قسم کے واقعات بر پا کر کے اہل صحافت کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ اسلام کی تصویر کو خراب کریں۔ ایک جائزے کے مطابق، ۴۰ فیصد امریکی اسلام کے بارہ میں کچھ نہیں جانتے۔ ۳۰ فیصد کا یہ کہنا ہے کہ وہ اسلام کے ساتھ موافقت کر کے رہ سکتے ہیں۔ ۳۰ فیصد امریکیوں نے واضح طور پر اسلام سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا۔
لاہور کے اردو روزنامہ نوائے وقت (۱۰ جنوری ۱۹۹۴) میں ایک رپورٹ نظر سے گزری۔ یہ ایک پاکستانی نژاد مقیم امریکہ ڈاکٹر مقبول راشد کا انٹرویو تھا جو انہوں نے نوائے وقت کے نمائندہ کو دیا تھا۔ انھوں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ "امریکہ میں نقل مکانی کرنے والے غیر سفید فام باشندوں میں بھارتی نژاد ہندو سب سے زیادہ طاقت ور اور دولت مند بھارتی افراد میں اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی نژاد شہری امریکہ میں کلیدی سرکاری عہدوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ امریکی معیشت کا بھی بہت بڑا حصہ بھارتی نژاد باشندوں کے ہاتھ میں ہے۔ امریکہ میں یہ بھارتی باشندے تعداد، وسائل اور اثر ورسوخ میں پاکستانی مسلمانوں سے بہت آگے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے۔ میں نے خود بھی اپنے سفر امریکہ کے دوران اس فرق کا مشاہدہ اب اگر پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کو ملا لیا جائے تو امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد اور ہندوؤں کی تعداد برابر ہے۔ ہر ایک کی تعداد پانچ اور چھ لاکھ کے درمیان ہے۔ دوسری طرف خود نوائے وقت کے شمارہ ۱۷ جنوری ۱۹۹۴ میں ایک پاکستانی نژاد امریکی خاتون سائره چودھری کا انٹرویو اس کے مخصوص کالم مہمانِ شہر گیسٹ ان ٹاؤن میں چھپا ہے۔ زور دے کر بتایا کہ امریکہ میں کسی قسم کا تعصب یا طرفداری نہیں۔ وہاں ہر شخص کو یکساں طور پر ترقی کے مواقع حاصل ہیں (صفحہ ۳)
مسٹر محمد علی جناح تقسیم کی تائید میں کہتے تھے کہ غیر منقسم ہندوستان میں ہندوؤں کا تعصب مستقل طور پر مسلمانوں کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ اب موجودہ انڈیا میں نام نہاد مسلم لیڈروں کے بیان کے مطابق دوبارہ ہندوؤں کا تعصب مسلمانوں کا راستہ روکے ہوئے ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو سوال یہ ہے کہ امریکہ جیسے آزاد ملک میں مسلمان کیوں ہندوؤں سے پیچھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قدیم جناح سے لے کر جدید جناح تک جن لوگوں نے مسلمانوں میں اس قسم کا ذہن بنایا وہ مسلمانوں کے نادان دوست تھے، اور مشہور مقولہ کے مطابق ، نادان دوست دشمن سے بھی زیادہ خطرناک
مسٹر صغیر اسلم صاحب نے بتایا کہ ۱۹۸۸ میں اسلامک سوسائٹی میں عید کے دن تقریر کی۔
تقریبا پانچ ہزار مسلمان تھے۔ انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امریکی ہونے پر فخر ہے۔ ہم کو اس سے محبت کرنا چاہئے۔ اس کے بعد ہی اس ملک میں اسلام انشاءاللہ پھیل
لوگوں نے ان الفاظ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ لوگوں نے کہا کہ امریکہ تو ایک اسلام دشمن ملک پھر ہم اس سے محبت کیسے کر سکتے ہیں۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ اگر آپ سچ مچ ایسا ہی سمجھتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو چاہئے کہ امریکہ میں اپنی شہریت کو ختم کر کے یہاں سے واپس چلے جائیں۔ امریکی شہریت کے دستاویز پر دستخط کرنا اور امریکہ کے ساتھ وطنی تعلق قائم نہ کرنا دومتضادروش یہ دوہرا معیار ہے، اور دوہرے معیار کا آدمی کبھی کسی ملک میں اسلامی دعوت کا کام نہیں کر سکتا۔ صغیر اسلم صاحب کے دادا چودھری محمد عیسی (م ۱۹۴۸) بہت سمجھدار آدمی تھے۔ صاحب نے بتایا کہ ان کے دادا کہا کرتے تھے کہ دوسروں کی اچھائی اور اپنی برائی کو دیکھو۔ یہ دو لفظ میں نہایت اعلیٰ اصول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر صرف یہی دو لفظ کا اصول لوگ پکڑ لیں تو سارے جھگڑے اپنے آپ ختم ہوجائیں۔ آج ہر طرف جو جھگڑے ہیں اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ آج لوگوں کا مزاج اس کے برعکس ہو گیا ہے۔ آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنا معاملہ ہو تو وہ صرف اچھائی کو دیکھیں گے اور دوسرے کا معاملہ ہو تو صرف برائی کو۔
موجودہ سفر میں میری ملاقات ایک امریکی مسلمان سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں ہم لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی آزادی ہے۔ مثلا انھوں نے بتایا کہ پچھلی رات کو اچھے میرے لڑکے کے پاس اس کے ساتھی کا ٹیلی فون ۔ وہ اس کو ایک پارٹی میں بلا رہا تھا۔ میرے لڑکے نے فوراً گاڑی اٹھائی اور روانہ ہو گیا۔ میں جانتا ہوں کہ وہاں لڑکے اور لڑکیاں مل کر تفریح کرتے ہیں، شراب پیتے ہیں، وغیرہ۔ یہاں کے نظام کی وجہ سے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ میرا خون کھول رہا۔ لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ بے بسی کے ساتھ اس کو برداشت کروں۔
میں نے کہا کہ آپ ایسا کیجئے کہ ہر سال اپنے بچوں کو مہینہ دو مہینہ کے لئے اپنے سابقہ وطن میں
وہاں وہ اردو سیکھیں گے اور اسلامی ماحول میں رہیں گے۔ اس طرح ان کی اصلاح ہوتی انھوں نے بتایا کہ یہ بھی سخت مشکل ہے۔ پچھلے سال میں اپنے بچوں کو لے کر وطن گیا۔ وہاں کے ماحول میں وہ رہ نہیں سکے۔ وہاں کا پانی پی کر ان کا پیٹ خراب ہوگیا۔ وہاں کے بیت الخلا میں انھوں نے جانے سے انکار کر دیا۔ اس طرح کے مختلف مسئلے پیش آئے۔ وہاں جب تک میں تھا ان کو لے کر بس ڈاکٹروں کے یہاں دوڑتا رہا۔
اس قسم کے عجیب عجیب مسائل ہیں، جن میں یہاں کے مسلمان مبتلا ہیں۔ ان مسائل کی کم از کم ایک وجہ ان کا مصنوعی معیار زندگی ہے۔ یہاں ہر شخص مصنوعی طور پر اپنا معیار زندگی بڑھا لیتا ہے اس کے نتیجہ میں وہ طرح طرح کے مصنوعی مسائل میں مبتلا رہتا ہے۔
یہاں آپ کسی سے ملاقات کے لئے جائیں تو وہ ایک شاندار گھر میں آپ کا استقبال کریگا۔ لیکن یہ گھر سودی قرض پر ہوگا۔ یہاں تمام لوگ سودی قرض پر مکان خریدتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے لائف اسٹائل کے مطابق، کوئی آدمی اپنا جو اسٹیٹس سمجھتا ہے، اس سے مطابقت رکھنے والا گھر وہ نقد رقم دے کر خرید نہیں سکتا۔ اس لئے وہ سودی قرض لے کر مکان خریدتا ہے جو بہت آسانی سے اس کو مل جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ کما کما کر ساری زندگی اس کی قسط مع سود ادا کرتا رہتا ہے۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جو گھر یا زندگی کا جو ڈھانچہ سارا کا سارا سود کے اوپر بنا ہو اس کے اندر رہنے والے بچوں میں صالح مزاج کیوں کر پرورش پاسکتا ہے۔ اس مسئلہ کا حل کیا ہے، وہ اس وقت میری سمجھ میں آیا جب کہ میں نے جانا کہ جناب منیر اسلم صاحب ان انتہائی چند مستثنیات میں سے ہیں جو ایسے گھر میں رہتے ہیں، جو انھوں نے نقد ادائیگی کی بنیاد پر حاصل کیا ہے، اس میں سود کی آمیزش شامل نہیں۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ اس طرح کہ اپنے اسٹیٹس کے اعتبار سے انھیں ۲۰ لاکھ ڈالر کے مکان میں رہنا چاہئے تھا مگر وہ صرف دو لاکھ ڈالر قیمت کے مکان میں رہتے ہیں۔
امریکی نظام میں سود سے بچنے کی قیمت یہ ہے کہ آدمی کے اندر یہ جرات ہو کہ وہ بظاہر کم تر معیار حیات پر اپنے کو راضی کرے ۔ وہ اس کی پروا نہ کرے کہ لوگ اس کے بارہ میں کیا کہیں گے۔ کے اندر یہ بلند نگاہی ہو کہ وہ اپنے آپ کو خود اپنی نظر سے دیکھے نہ کہ دوسروں کی نظر سے۔
کچھ لوگ جوانڈیا اور پاکستان سے آئے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہم اپنی اگلی جنریشن کو کھو رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ عربی کا ایک مثل ہے کہ تعرف الاشیاء باضدادھا (چیزیں اپنے ضد سے پہچانی جاتی ہیں) اس حیثیت سے غور کیجئے تو یہاں بھی ایک ضد موجود ہے اور ان دونوں کا تقابلی مطالعہ کر کے آپ معاملہ کو سمجھ سکتے ہیں۔
یہ ضد آپ لوگ خود ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم اپنی اگلی جنریشن کو کھو رہے ہیں۔ مگر آپ لوگ پچھلی جنریشن تو پھر بھی ضائع ہونے سے بچی ہوئی ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اگلی نسل ضائع ہو رہی ہے تو پچھلی نسل کس طرح محفوظ ہے۔ اس تقابلی مطالعہ کی ضرورت اس لئے ہے کہ آپ محفوظ نسل کے کیس کو سمجھ کر اس کو ضائع ہونے والی نسل پر استعمال کر سکتے ہیں۔
اس بات کو سادہ طور پر اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ پچھلی نسل کی پرورش ”اردو کلچر“ میں ہوئی تھی اور نئی نسل کی پرورش ”انگلش کلچر میں ہو رہی ہے۔ ہر زبان الگ الگ مذہب اور روایات کی نمائندہ ہوتی ہے۔ انگلش اگر مادی تہذیب میں رچی بسی ہے تو اردو روحانی تہذیب میں رچی بسی ہوئی ہے۔ اگر آپ اپنی اگلی نسل کو اپنے جیسا دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ انتظام کرنا ہوگا کہ ان کی پرورش بھی آپ والے کلچر میں ہو۔ اس کے بغیر اگلی نسلوں کی حفاظت ممکن نہیں۔ ۲۸ دسمبر کو کیلی فورنیا کے انگریزی میگزین آور ٹائمس (Our Times) کے ایڈیٹر مسر تشبیہ سید نے تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر موجودہ زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے دانشور یہ کہتے ہیں کہ مسلم ملکوں میں جو لوگ حکومت کے عہدہ پر ہیں وہ سب اسلام کے مخالف ہیں اور مغربی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ یہ نظریہ سید جمال الدین افغانی کے زمانہ سے چل رہا ہے۔ مگر میں اس کو سراسر بے معنی سمجھتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ موجودہ مسلم حکمران کچھ مسلم تنظیموں پر تشدد کر رہے ہیں، مگر اس کی ذمہ داری خود ان مسلم تنظیموں پر ہے۔ یہ لوگ مسلم حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔ اور جب بھی کسی کے اقتدار کے خلاف تحریک چلائی جائے تو وہ یہی کرتا ہے۔ اداروں میں لوگوں کو چھوٹے چھوٹے اقتدار حاصل ہیں۔ اگر آپ ان کو ان کے مقام سے ہٹانے کی تحریک چلائیں تو وہاں بھی آپ کا وہی انجام ہوگا جس کی شکایت آپ سیاسی حکمرانوں سے کر رہے ہیں۔