سفرنامہ - ۵
Al-Risala, January 1995, pp. 5–27
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں تمام فیصلے خدا کی طرف سے کئے جاتے ہیں، اور جب خدا کا فیصلہ آتا ہے تو تمام انسانی نشانات اس طرح مٹ جاتے ہیں جیسے کہ وہ ایک تنکا تھا جو طوفان کی رو میں بہہ گیا۔ پروفیسر انیس قاری نے بتایا کہ یہاں لوگ مسلمان ہوتے رہتے ہیں۔ اور اکثر بظاہر معمولی سی چیز ان کے قبولِ اسلام کا سبب بن جاتی ہے۔ مثلاً ایک انگریز نے اسلام قبول کیا۔ نے اس سے پوچھا کہ تم نے کیوں اسلام قبول کیا۔ اس نے کہا کہ اسلام کی ایک چیز نے مجھ کو بہت متاثر کیا، اور وہ پانچ وقت وضو (5 time ablution) ہے ۔ میں نے سوچا کہ وہ مذہب کتنا اچھا ہوگا جو آدمی کو روزانہ پانچ وقت صفائی کرنا سکھائے۔ ایک اور نو مسلم سے انھوں نے پوچھا اس نے بتایا کہ میں نے قرآن کو دیکھا تو میں نے پایا کہ اس میں کوئی سورہ محمد کی (عائشہ، فاطمہ) کے نام پر نہیں ہے۔ جب کہ قرآن کی ایک پوری سورہ کا نام مریم ہے۔ یہ چیز مجھ کو قرآن کے دین کی طرف لانے کا سبب بنی۔
پارک روڈ کی مرکزی مسجد کے بورڈ پر انگریزی روز نامہ سن (The Sun) کے شمارہ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۲ کے ایک صفحہ کی فوٹو کاپی لگی ہوئی تھی ۔ اس تصویر رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ برطانی ایکٹریس میریا بیکر پالین (Maria Baker Pawline) کی ۲۸ سالہ لڑکی لوئی پا لین (Louise Pawline) نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ وہ حجاب کے ساتھ اسلامی لباس پہنتی ہے اور گھر کے اندر رہ کر اپنے گیارہ سالہ بچہ کی تربیت اور نگہداشت میں وقت گزارتی ہے۔ نے ایک مصری طالب علم ممدوح بريكه (۳۵ سال) سے نکاح کر لیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کے ایک چھوٹے مکان میں دونوں بالکل سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ دونوں پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں خبر کی سرخی ان الفاظ میں تھی کہ بیٹی نے اپنی ماں کا مذہب چھوڑ دیا؟ Louise turns her back on mum's faith. میں نے اس خبر کو پڑھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ وہ حدیث رسول موجودہ زمانہ میں واقعہ بن رہی ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ زمین کی سطح پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا مگر یہ کہ اللہ اسلام کے کلمہ کو اس میں داخل کر دے گا۔
دی سنڈے ٹیلی گراف (لندن) میں ایک مضمون پڑھا ۔ اس پر لکھنے والے کا نام فرانس ویش
(Frances Weich) درج تھا۔ یہ مضمون مسٹر زاد چودھری کے بارے میں تھا۔ ۱۸۹۷ میں بنگال میں پیدا ہوئے۔ ان کو انگریزی لٹریچر سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ ۱۹۵۵ میں وہ پہلی بار انگلینڈ گئے۔ پچھلے ۲۲ سال سے وہ مستقل طور پر یہاں ہیں اور آکسفورڈ کے قریب ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔ وہ ان چند ہندوستانیوں میں سے ایک ہیں جن کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ پرفیکٹ انگلش لکھتے ہیں۔ اپنے مضامین اور کتابوں کے ذریعہ ان کو جو محدود آمدنی ہوتی ہے ، اسی پر وہ گزر کرتے ہیں اور حد درجہ سادہ زندگی گزارتے ہیں۔
حال ہی میں انھوں نے آکسفورڈ میں ایک تقریر کی۔ تقریر کا موضوع تھا کہ برطانیہ میں تہذیب کے زوال کا سبب کیا ہے۔ وہ ڈائس پر کھڑے ہوئے۔ اپنے منہ سے اپنا مصنوعی دانت نکالا اور اس کے بعد حاضرین سے سوال کیا کہ اپنے یہ دانت میں نے کیوں کھودئے: