Al-Risala · June 1995

ایک تنبیہہ

Al-Risala, June 1995

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ہے کہ کیا تم کتاب الہی کے ایک حصہ کو مانتے ہو اور ایک حصہ کا انکار کرتے پس تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ ان کو دنیا کی زندگی میں رسوائی ہو اور قیامت کے دن ان کو سخت عذاب میں ڈال دیا جائے ۔ اور اللہ اس چیز سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو (البقرہ ۸۵)

اس کا مطلب یہ ہے کہ دین میں جب ایک ہی نوعیت کا دو حکم ہو تو خدا پر ستوں کو چاہیے کہ وہ دونوں کو لیں۔ ایک ہی نوعیت کے دو حکم میں سے ایک کو لینا اور دوسرے کو نہ لینا تعمیل نہیں ہے بلکہ نافرمانی ہے۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں سزا کے مستحق ہیں نہ کہ انعام کے مستحق۔ حدیث میں ہے کہ مومن کی حرمت کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ ہے۔ اب اگر کچھ لوگ کعبہ کا تو خوب احترام کریں مگر جب مومن سے معاملہ پڑے تو اس کے ساتھ وہ بے احترامی سے پیش آئیں ، ایسے لوگ خدا کے نزدیک مجرم ہیں۔ کیوں کہ انھوں نے ایک ہی نوعیت کے دو حکموں میں سے ایک حکم کو لیا اور اسی نوعیت کے دوسرے حکم کا انکار کر دیا۔

اسی طرح جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ مسجد پر غاصبانہ قبضہ کی برائی کو جانیں مگر ایک مسلمان کی جائداد پر غاصبانہ قبضہ کی برائی کو نہ جانیں ۔ وہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی کو جرم سمجھیں مگر ایک مسلمان کے ساتھ گستاخی کو اپنے لیے جائز ٹھہرالیں ۔ ایک غیر مسلم کوئی قومی بے عزتی کی بات کہہ دے تو اس پر بھڑک اٹھیں ، لیکن ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو بے عزت کرے تو اس کا غلط ہونا انھیں معلوم نہ ہو۔ ایسے تمام لوگ بلاشبہ مجرم ہیں ۔ اللہ کے یہاں کوئی بھی چیز انھیں پکڑ سے بچانے والی نہیں۔

دائرہ اختیار کے اعتبار سے احکام میں ضرور فرق رکھا گیا ہے۔ یعنی جو حکم دائرہ اختیار سے تعلق رکھتا ہے اس پر پکڑ ہے اور جو حکم دائرہ اختیار سے باہر ہے اس کی پکڑ نہیں، مگر خود دائرہ اختیار کے دو حکم میں سے ایک کو لینا اور دوسرے کو نہ لینا صرف گمراہی ہے ، ماہ کسی بھی درجہ میں ہدایت کا اس قسم کی دو عملی دنیا میں بھی رسوائی کا سبب ہے اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب۔

Printed page